Showing posts with label Masala. Show all posts
Showing posts with label Masala. Show all posts

Thursday, November 3, 2011

چوت چُدا چُدا کر پُوری بھوںسڑا بن گئی

۔ فِر میرے پاس اؤر کوئی چارا نہیں تھا سِواے اُسکی بات مانّے کے، میں نے چُپ چاپ سر ہِلا کر ہاں کہ دی ۔۔ّ۔ اُسنے کہا- واہ میری بہنا ! آج تو مجا آ جاّیگا ۔۔ّ۔ آج تک بس برا اؤر پیںٹی ہی مِلی تھی مُجھے تُمہاری آج تو پُوری کی پُوری رُوبی میرے سامنے کھڑی ہے ۔۔ّ۔ فِر اُسنے مُجھے اُسکا پایجاما نیچے کرنے کو کہا، میںنے ویسا ہی کِیا ۔۔ وو اَںڈروِیر نہیں پہنا تھا ۔۔ میں اُسکے لںڈ سے پہلے ہی رُک گئی ۔۔ اِسپر وو چِلّا کر بولا ۔۔ سالی رُک کیُوں گئی ۔۔ تیرے باس کا لںڈ بہُت پسںد ہے تُجھے ۔۔ میرا لںڈ نہیں لیگی کیا ۔۔ چل اُتر جلدی سے پایجاما میرا ۔۔ فِر میںنے اُسکا پُورا پایجاما اُتار دِیا اَب وو پُورا نںگا لیٹا تھا مُجھے اُسے دیکھنے میں شرم آ رہی تھی۔

۔۔ پر اُسکا تنا ہُآ لںڈ دیکھ کر میں بھی تھوڈی گرم ہو گئی تھی ۔۔ ویسے تو اُسکا لنڈ میرے باس کے لنڈ سے کم لںبا اؤر موٹا تھا ۔۔۔ اُسنے مُجھسے کہا جلدی سے چُوسنا
فِر میںنے کہا تُجھسے نہیں میرے باس آ رہے ہے نا ! تو ۔۔۔ فِر بِنا کُچھ کہے میں اُسکا لنڈ چُوسنے لگی ۔۔ وو میرے سِر کو پکڑ کر جور جور سے لنڈ میں دھکّا دینے لگا ۔۔ ایک ترہ سے وو میرا مُںہ چودنے لگا ۔۔۔ ۔۔۔ میں بہُت گرم ہو چُکی تھی ۔۔۔ میرا مُںہ پُوری ترہ سے چِپچِپا ہو گیا تھا اُسکے پتلے رس سے۔ّفِر تھوڑی دیر باد اُسنے مُجھے نیچے لِٹا لِیا اؤر میرے ستنوں سے کھیلنے لگا۔ وو اُنہیں جور جور سے دبانے لگا۔ مُجھے درد ہو رہا تھا مگر مزا بھی بہُت آ رہا تھا۔ یہ سوچ کر جیادا مزا آنے لگا کِ میرا سگا بھائی مُجھے چودنے والا ہے۔۔

واऽऽऽ ! اَب بھائی میرے دونوں ستنوں کو باری باری چُوسنے لگا۔ وو میرے چُوچکوں کو جور سے کاٹنے لگا۔۔ درد سے میں کراہنے لگی، بیچ بیچ میں میں چِلّا بھی پڑتی تھی مگر اُسے کُچھ فرک نہیں پڑ رہا تھا۔ اُسنے تو آج اَپنی بہن کی چُوت فاڑنے کا سوچ ہی لِیا تھا ۔۔ّ۔ّوو میرے نِپّل چبانے لگا، میں مدہوش ہو چُکی تھی پُوری ترہ۔۔ میرے مُںہ سے گںدے شبد جو کِ میں مدہوش ہونے کے باد بولتی ہُوں اَپنے باس کے ساتھ ۔۔ نِکلنے لگے بھائی کے بھی سامنے !۔۔۔ میںنے کہنا شُرُو کِیا ۔۔ آہ اَب چودو نا راہُل ۔۔۔ چود دو مُجھے ۔۔ اَپنی بہن کی پیاس بُجھاّو ۔۔ چودو ۔۔ پھاڑ ڈالو میری چُوت ۔۔۔

فِر وو دھیرے دھیرے نیچے گیا ۔۔ اؤر میری چُوت چاٹنے لگا اُسکی یے اَدا مُجھے بہُت پسںد آئی کیُوںکِ میرے باس نے اَپنا لنڈ مُجھسے بہُت بار چُسوایا تھا مگر میری چُوت چاٹنے سے منا کرتے تھے ۔۔ وو بِلکُل کُتّے کِ ترہ پُوری جیبھ باہر نِکال کر میری چُوت چاٹنے لگا ۔۔ وو جیبھ کو چُوت کے اَںدر باہر کرنے لگا ۔۔ مُجھسے اَب رہا نہیں جا رہا تھا ۔۔۔ میںنے کہا پلیز راہُل مُجھے اَب لنڈ چاہِئے تُمہارا ۔۔۔ اَپنا لنڈ ڈالو میری بُر میں ۔۔ اُسنے کہا بُر تو تیری میں جرُر چودُوںگا پہلے باکِ سب کا بھی تو مجا لے لُوں ۔۔

فِر اُسنے مُجھے پلٹ دِیا اؤر پیٹ کے بل لِٹا دِیا ۔۔ اَب اُسکے سامنے میری گاںڈ تھی۔۔ وو میری دونوں چُوتڈوں کو مسل رہا تھا اؤر میں اِتنی اُتّیجِت تھی کِ اَپنی اُوںگلی اَپنی چُوت میں ڈالے جا رہی تھی ۔۔ّ۔فِر اُسنے میرے چُوتڈوں کو چاٹنا شُرُو کِیا ۔۔۔ کسم سے میںنے بہُت بار چُدوایا بہُت بار ! ہاے ! مگر اِتنا مجا مُجھے پہلی بار آ رہا تھا وو بھی میرے بھائی سے ۔۔۔ میں آہ آہ آ اؤچ ۔۔۔ کی آواجیں نِکالے جا رہی تھی ۔۔ وو پُورا مست ہوکر میری گاںڈ چاٹتا جا رہا تھا ۔۔۔ فِر اُسنے میری گاںڈ میں اَپنی اُوںگلی ڈالی ۔۔ میں چِہُںک اُٹھی ۔۔ میںنے کہا کیا کر رہے ہو راہُل ۔۔۔ گاںڈ مروگے کیا میری ؟ ! ؟ !۔۔۔ اُسنے کہا - رُوبی ! آج تو تیرے شریر کے ہر چھید میں اَپنا لنڈ ڈالُوںگا میں ۔۔۔ تُجھے چود چود کے نِڈھال کر دُوںگا ۔۔ّ۔ میں کھُشی سے پاگل ہو رہی تھی ۔۔۔

فِر تھوڈی دیر باد اُسنے مُجھے اُٹھایا اؤر اَپنی جاںگھوں پر بیٹھا دِیا وو لیتا ہُآ تھا میں اُسکی جاںگھوں پر بیٹھی تھی وو میرے بُوبس دبا رہا تھا ۔۔ فِر اُسنے کہا - اَب میرا لنڈ پکڑ کر خُد اَپنی بُر میں ڈالو ۔۔ میںنے ویسا ہی کِیا ۔۔۔ میری بُر سے بہُت پانی نِکل چُکا تھا اِس وجہ سے میری بُر پُوری گیلی تھی اؤر اُسکا لنڈ بھی ۔۔۔ میںنے اُسکا سُپاڑا اَپنی بُر پے رکھا اؤر فِر دھیرے دھیرے اُسپے بیٹھ گئی جِسّے کی اُسکا پُورا لنڈ میری بُر میں گھُس گیا ۔۔ اَب مُجھے بہُت مجا آ رہا تھا ۔۔ فِر میں خُد اُوپر نیچے کرنے لگی ۔۔ مُجھے ایسا لگ رہا تھا کی راہُل مُجھے نہیں میں راہُل کو چود رہی ہُوں ۔۔۔ میںنے ہِلنا تیج کِیا ۔۔۔ وو بھی نیچے سے اَپنی گاںڈ اُچھال اُچھال کر مُجھے چود رہا تھا۔

تھوڈی دیر تک اِس پوسِشن میں چودنے کے باد اُسنے کہا - اَب تُم نیچے آاو ۔۔۔ میں بیڈ پے لیٹ گئی ۔۔ وو میرے اُوپر آ گیا اؤر میری دونوں ٹاںگوں کو اَپنے کںدھے پے رکھ دِیا اِسّے میری بُر اُسے ساپھ ساپھ دِکھائی دے رہی تھی۔۔ ۔۔ّفِر اُسنے میری بُر پے اَپنا لنڈ لگایا اؤر ایک ہی جھٹکے میں جور سے پُورا اَںدر ڈال دِیا ۔۔۔ میں لگاتار سیتکار کر رہی تھی آہ ۔۔اُوںہ ہہہ ہ ۔اوہ ہ ہہ کم ऑن راہُل ۔۔۔ پھک می ۔۔۔ چودو ۔۔۔ آہ ہ ہہ ہہہ ۔۔ اؤر جور سے چودو ۔۔۔ اَ آ آیا اَہ ہہ ہہ ۔۔ّ۔۔

اُسکی سپیڈ بڈھتی جا رہی تھی اَب مُجھسے کںٹرول نہیں ہو رہا تھا اؤر میری بُر سے سر سر کرتا ہُآ سارا پانی باہر آ گیا ۔۔ّ۔ راہُل رُکنے کا نام نہیں لے رہا تھا ۔۔۔ میری بُر کے پانی کی وجہ سے اُسکے ہر دھکّے سے کمرے میں پھتچ پھچ کی آواز آنے لگی ۔۔ وو میری بُر پیلتا ہی جا رہا تھا ۔۔۔ میں بھی اُسکا ساتھ دے رہی تھی ۔۔ میں اُسکے دونوں چُوتڑوں کو پکڑ کر دھکّے لگا رہی تھی اَپنی ترف۔ ۔۔۔

فِر میںنے اُسے کہا - راہُل اَپنا رس اَںدر مت گِرانا، نہیں تو تُم ماما اؤر پاپا دونوں بن جاّوگے اِس پے وو ہںس پڑا اؤر اَپنی سپیڈ اؤر بڑھا دی ۔۔ّ۔ اَب وو گِرنے والا تھا

۔۔۔ وو میری بُر، جو کِ چُدا چُدا کر پُوری بھوںسڑا بن گئی تھی، اُسّے لںڈ باہر نِکالا اؤر مُجھسے کہا کِ اَپنے دونوں بُوبس کو سائیڈ سے دبا کر رکھنے کو۔ فِر میرے دونوں بُوبس کے بیچ اُسنے اَپنا لںڈ ڈال کر میری پیلائی شُرُو کر دی تھوڈی دیر ایسے ہی وو مُجھے پیلتا رہا اُسکے باد اُسکے لںڈ سے پھچ پھچا کر سارا رس نِکل گیا جو کِ میرے پُورے مُںہ میں اؤر چُوچِیوں پے گِرا۔ّ۔ میں اَپنی جیبھ سے اؤر ہوٹھوں سے اُسکا رس چاٹ رہی تھی ۔۔ّ۔ّ۔۔

فِر اُسنے اَپنا لںڈ ہی میرے مُںہ میں دے دِیا میںنے اُسکا لںڈ تھوڑی دیر چُوسا ۔۔۔ مُجھے ایسا لگنے لگا کِ وو فِر سے اُتّیجِت ہو رہا ہے ۔۔۔ کیُوںکِ وو مُںہ کے ہی اَںدر دھکّے لگانے لگا ۔۔۔ اِتنے میں درواجے کی گھںٹی بجی ۔۔ ٹِںگ ٹوںگ !۔۔ّ۔ وو اُٹھ گیا میں بھی اُٹھ گئی وو بولا میں دیکھ کر آتا ہُوں ۔۔ اُسنے بِنا درواجا کھولے آئی-ہول سے دیکھا تو میرے باس باہر کھڑے تھے ۔۔۔ وو سمجھ گیا کی یے بھی یہاں رُوبی کو پیلنے آئے ہیں ۔۔۔ فِر اُسنے آکر مُجھ سے کہا- تیرے باس ہیں ۔۔ّ۔ ۔۔۔ ۔۔۔

فِر آگے کیسے میرے باس نے مُجھے چودا اؤر راہُل نے کیسے اُنکا ساتھ دِیا ۔۔۔ کیسے میرا اَگلی ترکّی ہُئی اَگلے مہینے میں اؤر راہُل نے کیسے میری بُر کا سؤدا کر کے ترکّی لی پڑھِیے اَگلے ہِسّے میں ۔۔۔

By Unknown with No comments

میری ان لمٹیڈ چودائی کی کہانی

میری زندگی میں آنے والا پہلا مرد میرا کلاس فیلو، پڑوسی اور بچپن کا دوست شکیل تھا۔ ہم دسویں جماعت میں ساتھ پڑھتے تھے۔ میں میتھ اور فزکس میں بہت ویک تھی۔ شکیل ہماری کلاس میں میتھ کا ایکسپرٹ تھا۔ امتحان میں چند دن باقی تھے اور میری میتھ کی کچھ تیاری نہیں تھی۔ ایک دن امی نے کہا کہ مجھے شکیل سے ایک دو گھنٹے پڑھ لینا چاہئیے۔ میں نے شکیل سے بات کی اور وہ راضی ہوگیا۔ اگلے دن سے میں اس کے گھر ٹیوشن پڑھنے جانے لگی۔

وہ ہفتے کی شام تھی جب میں شکیل کے گھر پہنچی۔ میں نے کافی دیر تک بیل بچائی تب شکیل نے دروازہ کھولا اسکے چہرے پر گھبراہٹ کے آثار تھے۔ میں اندر ڈرائنگ روم میں جاکر بیٹھ گئی اور شکیل میرے سامنے بیٹھ گیا۔ اس نے کہا سبین ایسا کرو آج چھٹی کرو کل پڑھیں گے تم گھر جاؤ۔ میں نے کہا نہیں شکیل اب امتحان اتنے قریب ہیں اور تم کیوں خواہ مخواہ مجھے بھگارہے ہو۔ شکیل بولا دراصل میرا ایک دوست آیا ہوا ہے اوپر میرے کمرے میں ہے اور تم جانتی ہو دنیا کو اگر کسی نے تمہیں دو جوان لڑکوں کے ساتھ گھر میں اکیلے دیکھ لیا تو باتیں بنیں گی۔

کوئی باتیں واتیں نہیں بنتیں کہاں ہے تمہارا دوست میں بھی ملوں گی اس سے۔ شکیل کہنے لگا وہ اوپر ہے ٹی وی دیکھ رہا ہے۔ تم جاؤ پلیز میں تمہیں بعد میں ملوادوں گا۔ میں ضد کرنے لگی کہ نہیں میں ابھی ملوں گی۔ اور پھر ایسے ہی شکیل کو تنگ کرنے کے لئیے میں اوپر کی طرف بھاگ پڑی شکیل میرے پیچھے دوڑا۔ اس کے کمرے کا بند دروازہ کھولا تو میں دھک سے رہ گئی۔

اس کے ٹی وی پر ایک ٹرپل ایکس فلم پوز ہوئی تھی۔ ایک لڑکا اپنا بڑا سا لنڈ ایک چوت میں ڈال رہا تھا۔ میں پہلے بھی ایک دو ٹرپل ایکس فلمز اہنی ایک سہیلی کے ساتھ دیکھ چکی تھی۔ شکیل بھی پیچھے سے آگیا۔ اس کے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔ اور میرے ذہن میں ایک منصوبہ طے پارہا تھا۔

آئی ایم سوری سبین۔ اس نے کہا۔ کوئی بات نہیں شکیل میں نے کہا۔ اگر تم یہ فلم دیکھ رہے تھے تو مجھے پہلے بتادیتے۔ تم کیا مجھے اتنا بیک وارڈ سمجھتے ہو؟ وہ بولا نہیں یار مگر تم ایک لڑکی ہو اور۔ لڑکی لڑکا کچھ نہیں ہوتا پہلے میں تمہاری دوست ہوں۔ اب میں بھی تمہارے ساتھ بیٹھ کر یہ مووی دیکھوں گی۔ شکیل کے ذہن میں بھی فورا وہ شیطانی خیال آگیا جو میرے ذہن میں تھا۔

فلم دیکھتے ہوئے میں شکیل کی پینٹ میں تنے ہوئے ٹینٹ کو دیکھ کر اسے مشورہ دیا کہ وہ اپنی پینٹ اتار دے۔ وہ بولا میں اتار دوں گا مگر تم بھی اپنی شلوار اتارو۔ میں مان گئی۔ پھر میں نے آہستہ سے اسکے لنڈ کو اپنے ہاتھ میں لیا۔ اس کا لنڈ چھ انچ کے قریب تھا اور جیسا میں نے فلموں میں دیکھا تھا ویسا ہی موٹا تھا۔ شکیل نے مجھے اپنی بانہوں میں دبوچ لیا۔ میرے ممے مسلتے ہوئے وہ مجھے ہونٹوں پر کس کرتا رہا۔ پھر اس نے میری قمیض اتاری میری بریزر کھولی اور میرے مموں کو اپنے منہ سے چوسنے اور کانٹنے لگا۔ میرے جسم میں بجلی کی لہریں دوڑ رہی تھیں اور میری چوت میں آگ لگی ہوئی تھی۔ پھر اس نے میری چوت کو اپنی زبان سے چودا۔ اب بس میری برداشت سے باہر ہوگیا تھا۔ "پلیز شکیل مجھے چودو میری کنواری چوت کو پھاڑ دو مجھے عورت بنادو۔

میں تھوڑا ڈری ہوئی تھی کہ کہیں میں پریگنینٹ نہ ہوجاؤں مگر میرا ڈر تب دور ہوگیا جب شکیل نے اپنی الماری سے کنڈم نکالا۔ اس نے اپنے لنڈ پر کنڈم چڑھا کر مجھے بیڈ پر لٹایا اور اپنا لنڈ میری چوت پر رکھ دیا۔ پھر ہلکے ہلکے اندر ڈالنے لگا اور ایکدم جھٹکا مار کر اندر ڈال دیا جس سے میری ہلکی سی چیخ نکل گئی۔ اس کے بعد اس نے آہستہ آہستہ مجھے چودنا شروع کیا۔ جیسے جیسے اس کے لنڈ آگے پیچھے ہوتا ویسے ویسے میری چوت اور لنڈ کے لئیے آگے بڑھتی اور آہستہ آہستہ اس نے اپنی اسپیڈ بڑھانا شروع کردی۔ ساتھ ہی وہ میری ممے بھی دبارہا تھا اور مجھے کس بھی کر رہا تھا۔ پھر آہستہ آہستہ وہ سلو ہوگیا اور رک گیا میں سمجھ گئی کہ وہ فارغ ہوگیا ہے۔ پھر اسے نے اپنا لنڈ میری چوت میں سے نکالا اور کنڈم اتارا اس میں موجود منی اسنے میرے مموں پر ڈال کر مسلنا شروع کردیا اور اپنی انکلی سے میری چوت بھی چودتا رہا۔ اس سے میں بھی جلد ہی فارغ ہوگئی۔

اس کے بعد کئی مرتبہ شکیل نے مجھے چودا گروپ سیکس
شکیل کے ساتھ ایک بار سیکس کرنے سے تو جیسے آگ بھڑک گئی اب شکیل روز ہی پڑھائی کے دوران میرے ممے دباتا چوت سہلاتا۔ میں بھی اس کے لنڈ پر ہاتھ پھیرتی۔ کبھی اس کے گھر والے کہیں گئے ہوئے ہوتے تو پھر ہم اور سیکس کرتے۔ اسی نے مجھے لنڈ چوسنا سکھایا۔ پہلے تو مجھے بہت گندا لگا مگر بعد میں اچھا لگنے لگا۔ ایک لڑکے کا لنڈ میرے منہ میں۔

ایک دن شکیل کہنے لگا کہ میرے دو دوست ہیں وہ بھی تمہیں چودنا چاہتے ہیں پہلے تو میں غصہ ہوئی مگر بعد میں میں نے سوچا کہ کیوں نہیں؟

پھر ایک دن شکیل مجھے ٹیوشن سینٹر میں داخلہ دلانے کے بہانے گھر سے لے آیا اور ہم اس کے دوست کے گھر پہنچے۔ شکیل کا ایک دوست اسی کی عمر کا تھا سترہ سال کا دوسرا لڑکا تھوڑی بڑی عمر کا تھا کوئی چوبیس سال کا۔ کم عمر لڑکے کا نام کاشف تھا اور بڑے لڑکے نام عمران۔ عمران مجھے بہت اچھا لگا۔ لمبا قد اور چوڑا چکلا باڈی بلڈر ٹائپ کا جسم تھا اس کا اور اس کی شرٹ مین سے سینے کے بال بھی جھانک رہے تھے ۔

بیڈ روم میں پہنچ کر ان تینوں نے مجھے ادھر ادھر سے چومنا چاٹنا شروع کردیا۔ پھر کاشف نے میری قمیض اتاری اور عمران نے میرا بریزر کھول کر میری چوچی منہ میں لے لی۔ اس کی شیو میرے مموں پر چبھ رہی تھی۔ اتنے میں عمران نے میری شلوار اتاری اور میری چوت چاٹنے لگا اب میں بہت گرم ہوچکی تھی۔ عمران بیڈ پر کھڑا ہوگیا اب اس کا لنڈ میرے منہ کے سامنے تھا اور وہ سارے کپڑے اتار چکا تھا۔ اس کا لنڈ بہت بڑا تھا آٹھ انچ لمبا اور بہت موٹا۔ اس نے اپنا لنڈ میرے ہونٹوں پر رکھا اور میں نے خوشی خوشی اس کا لنڈ چوسنا شروع کردیا۔ اس کا لنڈ چونکہ بہت بڑا تھا اسلئیے مجھے چوسنے میں دشواری ہورہی تھی۔ میں آہستہ آہستہ عمران کا لنڈ چوس رہی تھی اور کاشف میری چوچیاں اپنے دانتوں سے کاٹ رہا تھا اور شکیل میری چوت اپنی زبان سے چود رہا تھا۔ زبان سے چودتے چودتے وہ اپنی انگلی میری گانڈ کے سوراخ پر سہلانے لگا اور پھر اس نے اپنی انگلی پر تھوک کر میری گانڈ کے سوراخ پر لگایا۔ اور آہستہ آہستہ مسلنے لگا۔ جیسے ہی اس نے اپنی انگلی میری گانڈ میں ڈالی مجھے درد کا احساس ہوا۔ شکیل رک گیا اور مین اسی طرح عمران کا لنڈ چوستی رہی۔

اتنے میں کاشف نے اپنے کپڑے اتارے اس کا لنڈ شکیل جیسا تھا ساڑھے چھ انچ کا پر بہت موٹا تھا۔ کاشف نے کنڈم چڑھا کر مجھے بیڈ پر لٹا دیا اب عمران میرے منہ پر بیٹھ کر اپنا لنڈ میرے منہ میں دے رہا تھا اور اور میری ٹانگیں کاشف کے کندھوں پر رکھی ہوئی تھیں اور شکیل میری چوچیاں کے بیچ میں اپنا لنڈ رگڑ رہا تھا۔ پھر کاشف نے دھیرے سے اپنا لنڈ میری چوت میں ڈالا اور آہستہ آہستہ جھٹکے مارنے لگا۔ کاشف کے دھکوں سے میری چوچیاں آگے پیچھے ہوتیں تو شکیل کے منہ سے نکل جاتیں۔ میری چوچیوں پر اب شکیل عمران اور کاشف تینوں کے دانتوں کے نشان موجود تھے۔ عمران کا بڑا لنڈ چونکہ میرے منہ میں صحیح فٹ نہیں آراہا تھا اسلئے اس نے شکیل کو موقع دیا اور شکیل نے اپنا لوڑا میرے منہ میں دے دیا۔ میں شکیل کا لوڑا لالی پوپ کی طرح چوس رہی تھی عمران میری گانڈ میں اپنی انگلی ڈال کر آگے پیچھے کرنے لگا اور کاشف مجھے دھواں دار چود رہا تھا۔ اس کے بعد عمران بولا کہ کیا کبھی تم نے تین لنڈ ایک ساتھ لئیے ہیں؟ میں بولی نہیں اس نے کہا لوگی؟ میں نے کہا ہاں۔ وہ جلدی سے ایک بوتل لایا جس میں جیل جیسا کوئی لوشن تھا۔ کاشف نے اپنا لنڈ میری چوت سے نکال لیا۔ عمران نے ڈھیر سارا لوشن میری گانڈ اور چوت پر ڈالا اور میری گانڈ میں آہستہ آہستہ انگلی کرنے لگا۔ پہلے تو تھوڑا درد ہوا بعد میں مزہ آنا لگا۔ پھر اس نے دونوں انگلیاں میری گانڈ میں ڈال دیں۔ جب میرا سوراخ دو انگلیاں برداشت کرنے کا قابل ہوگیا تو اس نے شکیل کو کہا کہ وہ میری گانڈ مارے۔ کیونکہ اس کا لنڈ سب سے چھوٹا ہے۔ شکیل نے ڈوگی پوزیشن میں آہستہ سے اپنا لنڈ میری گانڈ میں ڈالنا شروع کیا۔ جب اس کا ٹوپا اندر پہنچا تو اس نے ایک جھٹکے سے پورا اندر گھسیڑ دیا۔ میں زور سے چیخی اور کاشف نے میرے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور عمران نے میرے ہاتھ مضبوطی سے پکڑ لئیے اور شکیل جلدی جلدی جھٹکے مارنے لگا۔ درد ہوا اور میری آنکھوں سے آنسو نکل گئے۔ لیکن تھوڑی دیر بعد مزہ آنے لگا۔ میرے ممے شکیل کے جھٹکوں سے آگے پیچے ہورہے تھے کہ عمران نے شکیل کو اشارہ کیا اور شکیل سلو ہوگیا اور پھر اپنا لنڈ میری گانڈ میں ڈالے کھڑا رہا عمران میرے نیچے آکر لیٹ گیا اور اس نے اپنے لنڈ سے میری چوت کا نشانہ لیا۔ اس نے میرے کولہوں پر ہاتھ رکھا جن کے بیچ میں پہلے ہی شکیل کا لنڈ تھا اور آہستہ سے مجھے اپنے لنڈ کی طرف گھسیٹا میری چوت سے پہلے ہو جوس بہہ رہے تھے اور لوشن لگا تھا جس کی وجہ سے اس کا آٹھ انچ لمبا لنڈ آرام سے میری چوت میں چلا گیا۔ اس کا لنڈ اتنا بڑا اور موٹا تھا کہ مجھے لگا میری چوت فل پھٹ جائے گی۔ اس اوپر نیچے ہونا شروع کیا اور پھر شکیل نے میری گانڈ مارنا شروع کردی اب شکیل مجھے گانڈ میں جھٹکا مارتا تو میری چوت میں عمران کا لنڈ فل گھس جاتا پھر وہ لنڈ نکالتا تو عمران کا لنڈ بھی پیچھے ہوتا۔ اتنے میں کاشف نے اپنا لنڈ میرے منہ میں دے دیا۔ تین لڑکے ایک ساتھ مجھے چود رہے تھے اور میرے جسم کا فائدہ اٹھا رہے تھے اور میرے جسم میں آگ لگی ہوئی تھی۔ اتنے میں شکیل نے زور پکڑا اور جلدی جلدی میری گانڈ مارنے لگا میں سمجھ گئی کہ وہ فارغ ہونے والا ہے۔ اس کے فارغ ہوتے ہی کاشف نے میری گانڈ ماری اور فارغ ہوگیا جبکہ عمران ابھی تک مجھے چود رہا تھا اور فارغ نہیں ہوا تھا۔ پھر اس نے اپنا لنڈ میری چوت سے نکالا اور ڈوگی پوزیشن میں میری گانڈ ماری۔ آدھے گھنٹے تک گانڈ مارتا رہا یہاں تک کہ کاشف اور شکیل کے لنڈ دوبارہ کھڑے ہوگئے۔ پھر اس نے اپنا لنڈ میری گانڈ سے نکالا اور مجھے بیڈ پر لٹایا اور اپنا ہاتھ چلاتے ہوئے اپنی منی میرے مموں پر ڈال دی۔ اس کے فارغ ہونے کے بعد کاشف نے ایک بار پھر مجھے چودا اور شکیل نے میری گانڈ ماری۔
جس کے بعد ہم سب نے ایک ساتھ شاور لیا جہاں اکیلے عمران نے مجھے بیس منٹ تک لگاتار چودا۔ اتنی چدائی کے بعد مجھے کھڑا نہیں ہوا جارہا تھا اور میں بڑی مشکل سے گھر پہنچی۔

By Unknown with No comments

لنڈ کی پیاسی دیدی کی چدائی

رکشابںدھن یا سُہاگراتپریشک : پرمود سِںہمیری دیدی کا نام نیتُو ہے، وو مُجھسے تین سال بڑی ہے، اُنکا رںگ گورا چِٹّا ہے اؤر ہاں اُنکے ہوںٹوں کے نیچے ایک کالا تِل ہے، جِسکی وجہ سے وو بہُت سیکسی لگتی ہے! اُنکی شادی ایک اَنِواسی بھارتیے لڑکے سے یانِ کِ میرے جیجا جی سے ہو گئی، جو کِ دُبئی میں نؤکری کرتے ہیں !

دیدی اُنہیں کے ساتھ رہتی ہے۔ ویسے تو وو دونوں بہُت کھُش رہتے ہیں مگر شادی کے دو سال گُجر جانے کے باد بھی اُنکی کوئی اؤلاد ن ہونے سے دیدی اُداس سی رہتی ہے!میرا نام راج ہے میں بھی ایک اَنِواسی بھارتیے ہُوں اؤر کناڈا میں ایک کمپنی میں جاب کرتا ہُوں۔ یہاں آنے سے پہلے میرے ماں-باپ کا سورگواس ہو گیا تھا اِسلِئے دیدی، جیجاجی کے سِوا میرا اؤر کوئی نہیں ہے!ایک دِن میں اَپنے جیجا جی کے ساتھ فون پر بات کر رہا تھا تو باتوں ہی باتوں میں میںنے جیجا جی کو دیدی کے ساتھ اَپنے پاس گھُومنے آنے کا نِمںترن دے دِیا۔ تبھی جیجاجی نے یہ کہ کر ٹال دِیا کِ اُنکو اَبھی چھُٹّی نہیں مِل سکتی، اُن پر کمپنی کے کام کا بہُت بھار ہے۔تھوڑا رُکنے کے باد جیجا جی نے کہا- میں کُچھ دِنوں کے لِئے تیری دیدی کو تیرے پاس بھیج دیتا ہُوں، اُسکی نؤکری بھی چھُٹ گئی ہے، سارے دِن بھر گھر میں بور ہو جاتی ہے، وو پہلے سے کاپھی اُداس سی رہنے لگی ہے، کُچھ دِن پہلے تُجھے ہی یاد کر رہی تھی، شاید وو تُجھکو دیکھنا-مِلنا چاہتی ہے۔ ویسے بھی راکھی کا تیؤہار نجدیک آ رہا ہے، دونوں بھائی-بہن مِل بھی لینا اؤر اُسکو کہیں گھُما بھی دینا، شاید اِسی بہانے اُسکا من ہی بہل جائے !

میںنے کہا- ٹھیک ہے جیجا جی ! جیسا آپ کہیں !اؤر کُچھ دِن باد وو دِن بھی آ گیا جب دیدی میرے پاس آنے کے لِئے دُبئی سے روانا ہُئی۔ میں بھی دیدی کو لینے کے لِئے ٹھیک سمے پر ایّرپورٹ پہُںچ چُکا تھا۔ کُچھ سمے باد دیدی کی پھلائیٹ لینڈ ہونے کی گھوشنا ہُئی۔ میںنے اَپنی آںکھیں ایگجِٹ-گیٹ پر جما دی۔کُچھ سمے باد میںنے دیدی کو لوگوں کے ساتھ باہر آتے دیکھا تو میں دیدی کو دیکھتا ہی رہ گیا۔ سچ کیا لگ رہی تھی دیدی ! میںنے کبھی بھی دیدی کو اِس رُوپ میں نہیں دیکھا تھا۔ اُنہوںنے اُوںچی ایڑی کی سیںڈل پہنی ہُئی تھی اؤر کالے رںگ کی پھیںسی ساڑی اؤر ہاپھ کٹ والا بلیک بلاُّز پہنا ہُآ تھا۔ بلاُّز کا گلا کاپھی کھُلا اؤر بڑا ہونے سے اُنکے آدھے نںگے ستن اُوپر سے ساپھ دِکھائی دے رہے تھے۔ اُنکے وکش کے اُوپر ایک کالا تِل تھا جو اَلگ ہی چمک رہا تھا جیسے دُودھ میں مکّھی !تبھی دیدی کی نزر مُجھ پر پڑی تو میںنے ہاتھ ہِلا کر اُنکو اَپنے ہونے کا اِشارا کِیا اؤر دیدی نے ایک ہلکی سی مُسکان دیکر میری اور بڑھی اؤر میرے نجدیک آکر میرے گلے لگنے لگی۔

میںنے بھی موکے کا فایدا اُٹھایا اؤر دیدی کی نںگی گوری چِکنی کمر کو اَپنے دونوں ہاتھوں سے سہلاتے ہُئے جکڑ لِیا۔ وہاں کھڑے سارے لوگ شاید یہی سوچ رہے ہوںگے کِ ہم پتِ پتنی ہیں۔ پھِر میںنے دیدی کا سامان اُٹھایا اؤر ہم دونوں گھر کی اور چل دِئے !گھر پہُںچ کر دیدی پھریش ہونے کے لِئے باتھرُوم میں چلی گئی ( کیُوںکِ گرمی کے دِن تھے اؤر میری دیدی کو بہُت پسینا آتا ہے اؤر وو تو اُس دِن پسینے سے بہُت بھیگ چُکی تھی) میںنے دیدی جی کا سامان سیٹ کر دِیا اؤر تھوڑی دیر باد دیدی بھی پھریش ہو کر باتھرُوم سے باہر آ گئی !جیسے ہی میںنے اُنکو دیکھا تو میری آںکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی۔ دیدی سِرپھ پیٹیکوٹ-بلاُّز میں ہی باتھرُوم سے باہر آ گئی تھی۔ کالے پیٹیکوٹ اؤر بلاُّج میں اُنکا گورا-گورا اَںگ ایکدم سونے کی ترہ چمک رہا تھا۔ دیدی کو دیکھ کر میرے اَںدر تھوڑی اَجیب سی گھبراہٹ ہونی شُرُ ہو گئی۔ میں دیدی کو ن چاہ کر بھی دیکھنا چاہتا تھا ! میں کبھی دیدی کے وکش کے اُوپر وِراجمان کالے تِل کو دیکھتا تو کبھی اُنکی نںگی کمر کو، تو کبھی اُنکے ناڑے والے نںگے ہِسّے کو !تبھی دیدی نے میرے پاس آکر میرے سر میں پیار سے ہاتھ پھیر کر پُوچھا- کِیا ہُآ بھئیّا؟ کہاں کھو گئے ؟میں تھوڑا گھبرا کر اؤر شرما کر بولا- کُچھ نہیں دیدی !

بس میں۔ّ۔ّ۔ آپ کالے کپڑوں میں بہُت سُںدر لگتی ہو !دیدی سمجھ گئی کِ میں کیوں ایسے بول رہا ہُوں۔ دیدی شرما کر بولی- بھائی میں کیا کرُوں، بہُت گرمی ہے اؤر ساڑی میں بہُت گھُٹن ہو رہی تھی، اِسلِئے میںنے ساڑی اَلگ نِکال دی!میں بولا- دیدی کوئی بات نہیں، ہم دونوں کے سِوا اؤر کوئی بھی نہیں ہے یہاں پر ! اؤر میں بِلکُل پھریںک لڑکا ہُوں، تُم نِشچِںت رہو، میں تالِبانی جیسا بھی نہیں ہُوں کِ جو اَپنی اِتنی سُندر دیدی کو بُرکے میں پسںد کرے !دیدی ہںس دی اؤر بولی- بھئیّا، تُو تو بہُت شیتان ہو گیا ہے ! چل جلدی سے تُو بھی نہا دھو لے ! آج راکھی ہے راکھی نہیں بںدھوانی کیا !پھِر میں بھی باتھرُوم میں نہانے چلے گیا۔ باتھرُوم میں بہُت ہی اَچّھی کھُشبُو آ رہی تھی۔ آج سے پہلے کبھی ایسی کھُشبُو باتھرُوم میں نہیں تھی ! میں سمجھ گیا کِ یہ کھُشبُو دیدی کے بدن کی ہے!

آج میں اِس کھُشبُو میں سماں جانا چاہتا تھا اؤر میںنے پہلی بار اَپنی دیدی کے بارے میں کر اُنکے نام کی مُٹھ مار دی۔ اِسکا ایک اَلگ ہی آنںد آیا اؤر جب میں باتھرُوم سے نہا دھو کر باہر آیا تو دیدی بولی- کیا بات ہے، بڑی دیر لگا دی تُونے؟میں بولا- کیا کرُوں دیدی جی ! آج میرا تو باتھرُوم سے باہر آنے کا من ہی نہیں کر رہا تھا !دیدی بولی- کیوں ؟میں چُپ رہا اؤر میںنے دیدی کو ایک سمائیل دی ! دیدی بھی شاید میرا اِشارا سمجھ گئی تھی اؤر وو شرماکر بولی- لگتا ہے اَب جلد سے جلد تیرے لِئے ایک لڑکی تلاشنی پڑیگی ! بول میرے راجا بھئیّا، تُجھکو کیسی لڑکی پسںد ہے، میں اَپنے راجا بھئیّا کے لِئے ویسی ہی لڑکی لاُّںگی !میں دیدی سے بولا- سچ !

دیدی ہںس کر بولی- مُچ !میںنے تُںرت ہی دیدی کا ہاتھ پکڑا اؤر اُنکو شیشے کے آگے لے جا کر بولا- مُجھے ایسی لڑکی چاہِئے !دیدی تھوڑی شرما کر بولی- پاگل ایسی لڑکی لایّگا تو سُہاگرات کے بدلے رکشا بںدھن منانا پڑیگا تُجھے !اؤر جور جور سے ہںسنے لگی!میں دیدی کے پیچھے کی ترپھ کھڑا تھا اؤر دیدی میرے آگے تھی۔ ہم دونوں بھائی بہن ایک دُوسرے کو شیشے میں دیکھ کر باتیں کر رہے تھے !میں بولا- دیدی اَگر آپ جیسی سُںدر لڑکی مُجھے مِل جائے تو میں اُسّے راکھی بھی بںدھوانے کے لِئے تیّار ہُوں !دیدی بولی- ایسا کیا ہے مُجھمیں جو تُو اَپنی دیدی کا اِتنا دیوانا ہُآ پڑا ہے ! کیا دیکھا تُونے مُجھمیں ؟میں بولا- دیدی آپ گُسّا تو نہیں ہوںگی نا !دیدی بولی- میں آج تک اَپنے راجا بھئیّا سے گُسّا ہُئی ہُوں جو اَب ہوںاُوگی !میں بولا- دیدی ! میں سچ میں تُمہارا دیوانا ہُوں !جب سے میںنے تُمہیں ایّر پورٹ پر دیکھا ہے، میں تُمہارا دیوانا ہو گیا ہُوں۔ پتا نہیں کیوں میں تُمہیں پانا چاہتا ہُوں، تُمہیں چھُونا چاہتا ہُوں، تُمہیں تُمہارے نازُک ہوٹوں کے نیچے کالے تِل کا اَہساس دِلانا چاہتا ہُوں !

اؤر میںنے آو دیکھا ن تاو ! اؤر دیدی کی گردن کے نیچے پیار سے ایک کِس کر دِیا۔ دیدی مُجھے شیشے میں دیکھ رہی تھی اؤر وو ویسے ہی کھڑے رہ کر میرے گال پر پیار سے ہاتھ پھیرنے لگی ! میںنے بھی دیدی کو اَپنے دونوں ہاتھوں سے آگے سے جکڑ لِیا اؤر دیدی نے اَپنی دونوں آںکھیں بںد کر لی جِسّے میرا تھوڑا اؤر ساہس بڑھا اؤر دیدی کے کان میں میںنے ہلکی سی آواج میں ' آئی لو یُو دیدی ' بول دِیا اؤر بولا- اَگر آپ میری بہن ن ہوتی تو میں آپ کو زرُور پرپوز کرتا ! آپ کِتنی سُںدر ہو ! میںنے آپ سی سُںدر کوئی لڑکی نہیں دیکھی ! ہم بھائی بہن کیوں ہیں ؟

دیدی نے اَبھی تک اَپنی آںکھیں بںد کر رکھی تھی کیوںکِ میں اُنکے پیٹ پر، نابھِ پر ہلکا-ہلکا ہاتھ پھیر رہا تھا۔ اَچانک میںنے دیدی کے پیٹیکوٹ کے ناڑے کی ترپھ ہاتھ بڑھایا تو دیدی نے میرا ہاتھ پکڑ لِیا اؤر گردن ہِلا کر منا کرنے لگی اؤر بولی- بھئیّا میں تُمہاری بہن ہُوں !میںنے بولا- میں جانتا ہُوں ! آج میں سارے رِشتوں کو بھُلا دینا چاہتا ہُوں، تُم میری ہو اؤر میں آج اَپنی بہن کی باںہوں میں سما جانا چاہتا ہُوں !دیدی بولی- کِسی کو مالُوم چل گیا تو سماج میں ہماری تھُو-تھُو ہو جایّگی !میںنے کہا- ہمیں سماج دیکھنے تھوڑے نا آ رہا ہے !دیدی چُپ ہو گئی اؤر کُچھ سوچنے کے باد میرے سے لِپٹ گئی اؤر رونے لگی۔میںنے پُوچھا- دیدی کیا ہُآ؟ کیوں رو رہی ہو ؟تو بولی- میں بہُت پیاسی ہُوں ! تیرے جیجاجی سے مُجھے وو کھُشی نہیں مِلی جو ہر اؤرت کو شادی کے باد اَپنے پتِ سے مِلتی ہے !

میں بولا- دیدی ساپھ ساپھ بتاّو نا ! میں سمجھ نہیں پا رہا ہُوں !وو بولی- تیرے جیجا جی مرد نہیں ہیں !یہ سُنکر مُجھے تو پسینا آ گیاّؤر میں اَںدر ہی اَںدر سوچنے لگا- یانِ کِ دیدی اَبھی کُںواری ہیں اؤر اُنکی سیل بھی نہیں ٹُوٹی !میںنے دیدی کے آںسُو کو اَپنی جیبھ سے چاٹ کر ساپھ کِیا اؤر بولا- دیدی ! تُم چِںتا مت کرو میں ہُوں نا ! تُم بس مُجھکو یہ بتاّو کِ تُم مُجھکو پسںد کرتی ہو؟دیدی بولی- جان سے بھی جیادا !کیا تُم مُجھے بھائی کی جگہ اَپنا پتِ مانوگی؟

میں تُمہیں ہر وو کھُشی دُوںگا جو تُم چاہتی ہو !دیدی نے فؤرن میرے ہوٹوں پر کِس کر دِیا اؤر بولی- آج سے تُم ہی میرے پتِ ہو ! میرا تن-من سب تُمہارا ہے ! جو تُم بولوگے، وو میں کرُوںگی !میںنے دیدی کو بولا- آج میں تُمسے شادی کرُوںگا !یہ سُن کر دیدی جلدی سے سِںدُور اؤر اَپنا مںگل سُوتر لے کر میرے پاس آ گئی۔ میںنے اُنکی ماںگ بھر کر مںگل سُوتر اُنکے گلے میں پہنا دِیا۔دیدی بولی- بھئیّا ! میں اَپنے کمرے میں جا رہی ہُوں، تُم تھوڑی دیر باد کمرے کے اَںدر آ جانا !

میں تُمہارا اِنتجار کرُوںگی !اؤر جب میں تھوڑی دیر باد دیدی کے کمرے میں گیا تو دیدی سج-سںور کے اَپنے شادی کے جوڑے میں گھُوںگھٹ اوڑھے پلںگ پر بیٹھی میرا بیسبری سے اِںتجار کر رہی تھی۔ میں دیدی کے پاس گیا اؤر پیار سے اُنکا گھُوںگھٹ اُٹھایا اؤر اُنکی ٹھُڈی کو اَپنے ہاتھ سے اُوپر اُٹھانے کے ساتھ ہی اُنکے ہوٹوں کا چُمبن لے کر بولا- اوہ دیدی ! آئی لو یُو ! میںنے آج تک تُم جیسی سیکسی لڑکی نہیں دیکھی !اؤر اُنکے ہوٹوں کے نیچے والے کالے تِل کو اَپنے داںتوں میں بُری ترہ دبوچ لِیا اؤر چُوسنے لگا۔ دیدی کو درد ہو رہا تھا مگر دیدی مُجھ سے بھی جیادا پیاسی تھی، اُسے درد میں بھی مزا آ رہا تھا۔تبھی میںنے دیدی کے بلاُّز کو اَپنے دونوں ہاتھوں سے پھاڑ دِیا اؤر اُنکے گورے گورے آم کے جیسے بُوبس باہر آ گیے۔ میں اُنکو چُوسنے لگا۔ تھوڑی دیر باد دیدی نے میری پینٹ کی زِپ کھول کر میرے لںڈ کو باہر نِکالا اؤر اَپنے کومل گورے ہاتھوں سے اُسے سہلانے لگی۔ کُچھ دیر باد جب میرا لںڈ لؤڑا بن گیا تو اُسکو اَپنی جیبھ سے چاٹنے، سہلانے لگی اؤر ہوٹوں سے رگڑ کر اُسے کھڑا کر دِیا !ہم دونوں بھائی بہن نںگے تھے، میںنے دیدی کو بِستر میں لِٹا دِیا اؤر اُنکی چُوت کو اَپنی جیبھ سے چاٹنے لگا۔دیدی اوہ ماے بھئیّا ڈارلِںگ !

آئی لو یُو ! بول رہی تھی۔میںنے اَپنی دیدی کو گیدھ کی ترہ نؤچنا شُرُ کر دِیا۔ کُچھ دیر باد جب میںنے اَپنی بہن کی چُوت میں اَپنا لؤڑا ڈالا تو دیدی نے اُئی ماں ! بول کر مُجھکو جور سے جکڑ لِیا اؤر مُجھکو پھریںچ کِس کرنے لگی اؤر اَپنے دونوں ہاتھوں کو میرے چُوتڑوں پر رکھ کر بھئیّا اؤر جور سے ! اؤر جور سے ! بولنے لگی۔کُچھ دیر باد میںنے دیدی کو ڈؤگی سٹائیل میں چودنا شُرُو کِیا۔ دیدی کے گدّیدار چُوتڑ کو دیکھ میں للچا گیا اؤر اُنکے چُوتڑ چاٹنے لگا۔ دیدی کو میںنے ساری رات چودا !سُبہ جب میں جاگا تو دیدی میرے لںڈ کو چُوس رہی تھی، مُجھکو پیاسی آںکھوں سے دیکھ رہی تھی اؤر میرا لؤڑا کھڑا کرکے اُسکے اُوپر بیٹھ گئی اؤر پھِر دُبارا سے میںنے دیدی کو چودنا شُرُ کر دِیا۔ہم دونوں چار سال بیت جانے کے باد بھی ہمیشا ایک دُوسرے کے ساتھ سیکس میں ڈُوبے رہتے ہیں۔سچ اَپنی بہن کے ساتھ کِتنا مجا آتا ہے، میں کیا بتاُّوں !اَب ہم دونوں بھائی بہن ایک پتِ پتنی کی ترہں جِندگی جی رہے ہیں۔ میری دیدی سے میری ایک لڑکی ہُئی ہے ۔۔ّ۔۔

By Unknown with No comments

Tuesday, January 25, 2011

Hotel ka staff

Ek hotel me naye shaadi shuda couple ke liay notice likha tha - 
KHIDKHI PAR PARDE DAAL KAR RAKHE,
AAPKA PIYAR ANDHA HO SAKTA HAI,
MAGAR HEMARA STAFF NAHI.

By Unknown with No comments

wasim bhai !! pani lao

Ek din ek larki dukan se parrot kharidne gayi....
Usne dukandar se kaha, Wasim bhai ek tota chahiye....
Dukandar ne use ek tota dikhaya...
Larki ne pucha is tote ki khas bat kya hai Wasim bhai...
Dukan dar bola ye tota bolta hai
Lady ne kaha acha..
Usne tote se pucha main tumhain kesi lagti hun ?
tote ne kaha:Bahen ki laudi randi lagti hai
Larki ne kaha Wasim bhai ye to bahut badtameez tota hai, gali deta hai.
Wasim bhai tote ko ander le gaya aur pani mein dubaya aur pucha...
Gali dega....?
Tota: Haan dunga
Wasim ne tote ko phir dubaya aur pucha .gali dega ?
Tota bola... haan dunga.....
Wasim ne phir pani me dubaya aur kaha .gali dega..
Is bar tota maan gaya aur kaha nahi ab gali nahi dunga
wasim bhai use bahar le gaya aur larki se kaha behen ji ye ab gali nahi dega..
Tab larki ne tote se dubara pucha ...
Agar mere ghar par mere sath ek aadmi aye to tum kya sochoge?
Tote ne kaha..wo tumhara shohar hoga..
Larki..agar do aadmi aye to kya socho ge ?
Tota. Tumhara shohar aur devar,
Larki. Agar tin aadmi ?
Tota. Tumhara shohar ,devar, aur shoahr ka dost
Larki ...agar chaar aadmi aye to?
Tota cheekh kar bola ..
Wasim bhai pani lao...
Maine to pehle hi kaha tha

"behen ki laudi randi hai".

By Unknown with No comments

    • Popular
    • Categories
    • Archives