Monday, January 16, 2012

بہنوئی کے لنڈ کی دیوانی سالی



یہ کہانی ہے میری اور میری سالی کی۔اس کہانی میں سارے نام فرضی ہیں۔ کیونکہ یہ کہانی بالکل حقیقت ہے۔میری شادی کو دو سال ہوئے تھے اور میرا ایک خوبصورت سا بیٹا تھا، ایک بار میری بیوی نے فرمائش کی کہ پکنک پر چلتے ہیں سمندر کے کنارے میں نے حامی بھر لی کافی دن سے باہر کا کوئی پروگرام نہیں بنا تھا اس لیے اور میری دو دن کی چھٹی آرہی تھی۔ میری بیوی نے کہا ہم لوگ جیا کو بھی ساتھ لے کر چلینگے جیا میری اکلوتی سالی ہے میرے سسر کے دو ہی بچے تھے ایک میری بیوی اور ایک میری سالی۔ میری سالی کی عمر بیس سال ہے اور وہ خوبصورت تو ہے ہی مگر سیکسی بھی بہت ہے اچھے اچھوں کا ایمان خراب کرسکتی ہے۔خیر پروگرام طے ہو گیا سالی کو بھی مطلع کردیا گیا۔ وہ ایکدن پہلے ہی ہمارے گھر آگئی۔صبح ہم کو نکلنا تھا۔ جلدی جلدی ہم نے ناشتہ وغیرہ کر کے سامان گاڑی میں رکھا اور نکل پڑے 2 گھنٹے کی ڈرایونگ کے بعد ہم لوگ اپنے ہٹ پر پہنچ گئے ہٹ مجھے آفس کی جانب سے ملتا تھا سال ، یہ ہٹ کیا تھا اچھا خاصہ بنگلہ تھا۔ یہ صرف آفیسرز کی عیاشی کے لیے مخصوص تھا مگر میں چکر چلا کر لے لیا کرتا تھا۔ میری بیوی میری سالی سے بہت پیار کرتی ہے اور اسکی ہر بات مانتی ہے اسی وجہ سے مجھے بھی اپنی بیوی کا دل رکھنے کو جیا کی باتیں ماننا پڑتی ہیں۔ خیر ہم لوگ اپنے ہٹ تک پہنچ گئے وہاں کچھ ایسا ہے کہ ہر ہٹ کا کافی بڑا ایریا مخصوص ہے جہاں کسی دوسرے فرد کی آمد نہیں ہوسکتی۔ اسکا راستہ ایک ہی ہے جس سے ہم لوگ آئے تھے اب وہاں دروازے پر گارڈ بیٹھا تھا جو کسی کو بھی بغیر اجازت نامے کے اندر نہیں جانے دے گا۔ اس لئے کافی محفوظ قسم کا ہٹ تھا۔ خیر ہم لوگ وہاں پہنچے اور پہنچتے ہی سمندر میں اتر گئے سمندر بڑا پرسکون تھا۔ موسم بھی بڑا رومانٹیک تھا۔ ہم لوگوں نے کافی دیر تک انجوائے کیا میرا بیٹا اس دوران مزے سے سوتا رہا۔خیر اب دوپہر کے کھانے کا وقت ہو چکا تھا اور میں تو کافی تھک چکا تھا مگر جیا کو ابھی مستی چڑھی تھی اسنے جینز کی پینٹ اور ٹی شرٹ پہنی تھی اور وہ پانی سے نکلنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔میری بیوی نے اس کو آواز دے کر بلایا اور کھانا کھانے کو کہا۔ خیر ہم پھر ہم سب لوگ کھانے سے فارغ ہوئے تو میری بیوی اور جیا نے دوبارہ سے پلان کیا کہ سمندر میں جایا جائے مگر میں نے انکار کردیا۔ پھر یہ لوگ چلے گئے اور میں لیٹ کر آرام کرتارہا۔ میرا بیٹا اسی دوران اٹھ گیا میں نے اپنی بیوی کو آواز دی وہ جلدی جلدی سمندر سے باہر آئی اور میرے بیٹے کو دیکھنے لگی۔ تھوڑی دیر بعد جیا بھی واپس آگئی۔ پھر ہم لوگ باتیں کرتے رہے۔ جیا کافی تھک چکی تھی سو وہ لیٹی اور لیٹتے ہی سو گئی۔ میں اور میری بیوی باتیں کرتے رہے۔ کافی دیر اسی طرح گذر گئی تو پھر شام ہوئی اور پھر رات بھی ہوگئی اسی دوران جیا جاگ گئی اور اس نے غصے سے میری بیوی سے کہا آپی تم نے مجھے جگایا کیوں نہیں مجھے سورج غروب ہونے کا منظر دیکھنا تھا۔ میری بیوی نے کہا تم اتنا تھک گئی تھی اس لیے نہیں جگایا۔ خیر تھوڑی دیر میں جیا نارمل ہوگئی ۔ پھر رات کے کھانے کا انتظام کیا گیا اور ہم لوگوں نے خوب مست ہو کر کھایا۔ اب مجھ پر نیند کا غلبہ طاری ہونے لگا تھا اور میری بیوی تو کھانا کھانے کے بعد اور بیٹے کو فیڈ کروانے کے بعد مزے سے سو گئی تھی میں نے جیا سے کہا تم بھی سو جاؤ اس نے کہا جی جو اب کہاں نیند آئے گی اتنی دیر تو سو چکی ہوں۔ میں نے کہا اکیلی کیا کروگی مجھے بھی نیند آرہی ہے۔ تمہاری آپی بھی سو چکی ہے۔ اس نے کہا جی جو ابھی نہ سوئیں نا میرے ساتھ سمندر تک چلیں میں نے کہا پاگل ہوگئ ہو کیا میں بہت تھک گیا ہوں تو یہ سن کر اسکا منہ بن گیا۔ خیر میں نے فیصلہ کیا کے اسکی بات مان لیتا ہوں۔میں نے کہا چلو چلتے ہیں باہر، یہ سن کو وہ خوش ہوگئی۔ میں نے اپنی بیوی سے کو جگایا اور اسکو بتایا کہ ہم دونوں ذرا باہر چہل قدمی کرنے جارہے ہیں تم چلنا چاہو گی ہمارے ساتھ تو اس نے کہا نہیں مجھے بہت سخت نیند آرہی ہے آپ لوگ چلے جائیں۔ یہ کہہ کر وہ تو واپس سو گئی میں یہ بتاتا چلو میری بیوی نیند کی بہت پکی ہے۔ اسکو نیند بھی جلدی آتی ہے اور سو جائے تو اسکو جگانا بہت مشکل کام ہے۔ خیر جیا اور میں ہٹ سے باہر نکلے اور سمندر کے کنارے جا کر بیٹھ گئے ۔ جیا نے کہا جی جو سمندر میں جانے کا دل کر رہا ہے میں نے کہا یہ موسم ٹھیک نہیں سمندر میں جانے کے لیے مگر پھر وہ بچوں کی طرح ضدکرنے لگی میں نے ہار مانتے ہوئے کہا اچھا جو کپڑے تم نے پہنے ہوئے ہیں ان میں سمندر میں نہ اترو یہ سوکھنے میں بہت وقت لینگے اور رات بھر میں ٹھنڈ لگنے سے تم بیمار ہوسکتی ہو۔ تم کپڑے دوسرے پہن کر آجاؤ۔اس نے ذرا دیر سوچا اور پھر ٹھیک ہے کہتی ہوئی ہٹ میں چلی گئی جبکہ میں سمندر کے کنارے ہی بیٹھا رہا چاند نکلا ہوا تھا اسکی چاندنی کافی دور تک سمندر کو روشن کیے ہوئے تھی اتنا کہ ہر منظر کافی صاف دیکھا جا سکتا تھا۔ کچھ ہی دیر میں جیا واپس آگئی میں نے اسکو دیکھا تو دیکھتا ہی رہ گیا وہ ایک پتلی سی ٹی شرٹ اور نیچے ٹائڈ پہنے ہوئے تھی جو کہ اسکی پنڈلیوں سے تھوڑا نیچے تک تھا۔ جبکہ ٹی شرٹ اسکی کمر تک ہی تھی اسکی بڑے بڑے کولہے صاف ابل رہے تھے اس ٹائڈ میں سے۔ میں تو اسکو دیکھ کر پاگل سا ہوگیا۔ میں نے کہا اب تم میرا انتظار کرو میں بھی کپڑے تبدیل کر کے آتا ہوں ۔ یہ کہہ کر میں بھی ہٹ میں چلا گیا اور جاکر میں نے ایک بھی ایک ٹائڈ نکالا اور ایک سینڈوز نکالا اور پہن کر جیا کے پاس پہنچ گیا اور اس سے کہا چلو اب چلتے ہیں اس نے مجھے اوپر سے نیچے تک دیکھا اور ایک تعریفی نظر مجھ پر ڈالی۔ سینڈوز بنیان کی طرح تھا کالے رنگ کا جبکہ ٹائڈ میرے گھٹنوں سے اوپر تک تھا میں نے اسکے نیچے کوئی انڈروئیر نہیں پہنا تھا جس سے میرے لنڈ کی پوزیشن کسی حد تک پتہ چل رہی تھی کہ کس پوزیشن میں ہے۔ خیر ہم دونوں آہستہ آہستہ چلتے ہوئے سمند رمیں چلے گئے پانی ہم دونوں کی کمر تک آرہا تھا تھوڑی دیر ہم پانی سے کھیلتے رہے پھر میں نے جیا سے کہا چلو اور آگے چلتے ہیں اس نے کہا نہیں جی جو دل تو بہت کرتا ہے مگر ڈر بھی لگتا ہے میں نے کہا میں بھی تو چل رہا ہوں تمہارے ساتھ کچھ نہیں ہوگا یہ کہہ کر میں آگے بڑھا تو جیا کو بھی مجبوراً میرا ساتھ دینا پڑا۔پھر ہم آہستہ آہستہ چلتے ہوئے گہرے پانی میں پہنچ گئے سمندر بہت پرسکون تھا اس لیے گھبرانے والی کوئی بات نہیں تھی۔ وہاں پہنچ کر پانی کے دباؤ سے جیا کو سانس لینے میں دشواری ہو رہی تھی اس نے کہا جی جو میرا ہاتھ پکڑ لیں مجھے ڈر لگ رہا ہے میں تو موقعے کی تلاش میں تھا فوراً اسکا ہاتھ پکڑ لیا اور کافی نزدیک ہو کر کھڑا ہوگیا۔ اب وہ کافی پرسکون لگ رہی تھی۔ کہ اچانک اسکا پاؤں پھسلا اور وہ گرنے لگی کہ میں نے اسکو پکڑااور گرنے سے بچا لیا اسکو پکڑنے کے چکر میں میرا ایک ہاتھ تو اسکے ہاتھ میں تھ دوسرا میں نے اسکی کمر میں ڈالا اوپر پھر اسکو اوپر اٹھاتے اٹھاتے میں نے وہ ہاتھ جو اسکے ہاتھ میں تھا اسکو چھوڑ کر اسکے ایک ممے کو پکڑ لیا اور اسکو دباتا ہوا جیا کو ایک ہی ہاتھ کے بل پر پورا اوپر اٹھایااور اپنے سینے سے لگا لیا۔ وہ تھوڑی دیر تو کچھ نہ سمجھ پائی پھر کہنے لگی جی جو واپس چلیں میں نے کہا تھا مجھے ڈر لگتا ہے۔ میں نے کہا چلو واپس چلتے ہیں یہ کہہ کر میں نے ایک ہاتھ اسکی کمر میں ڈالا اور ایک ہاتھ سے اسکا ہاتھ پکڑ لیا۔ پھر ہم چلتے ہوئے واپس آرہے تھے کہ اچانک میں نے سلپ ہونے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے اسکا وہ ہاتھ جو میرے ہاتھ میں تھا زور سے کھینچتے ہوئے اپنے لنڈ پر لگایا اور تقریباً زور سے اپنا لنڈ اسکے ہاتھ سے دبا دیا۔ میرا لنڈ جیا کی قربت کی وجہ سے تھوڑا کروٹیں تو لے ہی رہا تھا۔ اسکا ہاتھ لگا تو اسے بھی کرنٹ لگا اور جیا کو بھی مگر اس نے خود کو سنبھالتے ہوئے کہا جی جو کیا ہو ا سنبھل کے چلیں۔ میں نے کہا ہاں ایسا ہو جاتا ہے جب بغل میں ایک خوبصورت لڑکی ہو یہ کہتے ہوئے میں اسکی آنکھوں میں دیکھ کر مسکرایا ۔ تو اس نے شرما کر نظریں نیچے کر لیں۔ میرا اس سے کافی مذاق چلتا رہتا تھا۔ اس لیے اس نے شاید اس بات کو بھی ویسے ہی لیا ہوگا۔ مگر اسکی آنکھوں کی ایک دم پیدا ہو جانے والی سرخی کچھ اور کہہ رہی تھی۔ خیر ہم لوگ ساحل پر واپس آگئے میں نے جیا سے کہا کپڑے گیلے ہیں چلو تھوڑی دور تک چلتے ہیں کپڑے سوکھ جائیں تو واپس ہٹ میں چلیں گے۔ یہ کہہ کر ہم دونوں چلتے ہو ئے ہٹ سے دور جانے لگے اسی دوران میں نے جیا کا ہاتھ پکڑ لیا۔ اس نے چونک کر میری جانب دیکھا اور پھر مسکرا کر سامنے دیکھنے لگی۔ میں نے اسکا ہاتھ پکڑاہوا تو تھا ہی ذرا دیر بعد اسکو ہلکے سے دبایا تو وہ منہ نیچے کر کے مسکرانے لگی ، مجھے لگ رہا تھا کہ اگر میں مزید آگے بڑھا تو وہ روکے گی نہیں مگر میں محتاط رہنا چاہتا تھا ہم دونوں خاموشی سے ساتھ ساتھ چل رہے تھے۔ میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو ہم لوگ ہٹ سے کافی دور آچکے تھے۔ یہاں ساحل تھا دور تک اور کوئی بندہ نہ بندے کی ذات دوسرے ہٹ بھی کافی دور تھے جہاں سے کوئی ہمیں دیکھ نہیں سکتا تھا کچھ کچھ فاصے پر بیٹھنے کے لیے سیمنٹ کی بنچز بنی ہوئی تھیں۔ جن پر ٹائلز لگے ہوئے تھے میں نے جیا سے کہا چلو ادھر بیٹھتے ہیں تھوڑی دیر یہ کہہ کر میں اسکے جواب کا انتظار کیئے بغیر اسکو کھینچتا ہوابنچ تک لے گیا۔ پھر ہم دونوں بنچ پربیٹھ گئے میں اسکے بلکل نزدیک چپک کر بیٹھا تھا اور اسکا ہاتھ ابھی تک میرے ہاتھ میں تھا۔میں نے جیا سے کہا ایک بات کہوں ؟ اس نے میری جانب سوالیہ نظروں سے دیکھا اور کہا جی کہیں جی جو۔ میں نے کہا پہلے وعدہ کرو تم برا نہیں مناؤ گی۔ اس نے کہا آپ کی کسی بات کا برا نہیں مناتی میں آپ یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں۔ میں نے جیا سے کہا تم بہت خوبصورت ہو جیا۔ میرا دل چاہتا ہے تمکو پیار کرنے کو۔ یہ سن کر اسکا چہرہ سرخ ہوگیا۔پھر میں نے ایک ہاتھ اس کے گال پر رکھ کر اسکا چہرہ اپنی جانب کیا تو اسکی آنکھیں سرخ ہورہی تھیں شاید وہ آنے والے لمحات کا اندازہ کر رہی تھی اسی وجہ سے انکی شدت سے اسکی یہ حالت تھی۔ میں نے وقت ضائع کئے بغیر اسکے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے پہلے تو وہ ذرا کسمسائی مگر پھر خود کو تقریباً میرے حوالے کردیا۔ میں نے ایک لمبی کس کی اسکے ہونٹوں پر اور پھر اسکی جانب دیکھتا ہوا اسکا ہاتھ جو میرے ہاتھ میں تھا وہ اپنے لنڈ پر رکھ دیا اور ذرا سا دبایا۔ جیا کو ایکدم کرنٹ سا لگا مگر شاید اسے اچھا بھی لگا ہوگا اسی وجہ سے اس نے اپنا ہاتھ نہیں ہٹایا۔ پھر میں نے محسوس کیا کہ جیا میرے لنڈ کو اپنے ہاتھ میں بند کرنے کی کوشش کر رہی ہے اوہ اب تو میری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا میں نے جیا کے ہاتھ سے ہاتھ ہٹا لیا کیونکہ اب وہ ہاتھ خود کام کر رہا تھا میں نے وہ ہاتھ جیا کے ایک ممے پر رکھ کر اسکو زور سے دبایا اور اسکا پورا بدن ایک دم کپکپا اٹھا۔ وہ میری جانب ہراساں نظروں سے دیکھ رہی تھی۔ پھر میں نے مزید انتظار نہ کیا جہاں اتنا کچھ ہو گیا وہاں مزید ہونا بھی مشکل نہ تھا، میں نے اسکی ٹی شرٹ میں ہاتھ ڈال دیا اور بریزر پر سے ہی اسکے ممے کو دبانے لگا۔ اب جیا کا سانس تیز چلنے لگا تھا۔ جی جو یہ کیا کر رہے ہیں آپ کوئی آجائے گا میں بدنام ہو جاؤں گی ۔ میں نے کہا یہاں اس وقت کوئی نہیں آئے گا۔ اور تمہاری آپ مست ہو کر سو رہی ہے۔ تم بس انجوئے کرو، میری بات سن کر اس نے چاروں طرف نظریں دوڑائیں تو ہمارا ہٹ اور باقی دوسرے ہٹ کافی دور دور تھے اور پورے ساحل پر ہم دونوں کے سوا کوئی تھا بھی نہیں۔ اسکے چہرے پر اب سکون کے آثار آگئے تھے میں سمجھ گیا کہ اب اسکو کوئی فکر نہیں ہے لہٰذا میں جو چاہے کر سکتا ہوں۔ میں نے دونوں ہاتھوں سے اسکی ٹی شرٹ کو اوپر اٹھایا تو اس نے مزاحمت کی مگر میں نے اسکی جانب دیکھا تو اسکی آنکھوں میں عجیب طرح کی مستی سی تھی۔ میں نے دوبارہ کوشش کی اور اسکی ٹی شرٹ کو اتار دیا اس بار اس نے کوئی مزاحمت نہیں کی۔ کالے رنگ کے بریزر میں جکڑے ہوئے اسکے گورے گورے بڑے بڑے ممے میرا دماغ ابال رہے تھے۔ میں نے اسکو اپنے سینے سے لگایا اور پیچھے ہاتھ لے جا کر اسکے بریزر کے ہک کھول کر اسکے خوبصورت مموں کو بریزر کی قید سے آزاد کر دیا اس نے شرما کر دونوں ہاتھوں سے اپنے ممے چھپا لیے میں نے مسکرا کر اسکی جانب دیکھااور کھڑا ہو کر اپنا سینڈوز اور ٹائڈ ایک ہی لمحے میں اتار دیا۔ وہ مجھے پور ننگا دیکھ کر عجیب سے ہوگئی میرا لنڈ اسکے ممے دیکھ کر پورا تن کر اپنے فل سائز میں آچکا تھا۔ وہ اسے دیکھ کر حیران ہو رہی تھی۔ اور پھٹی پھٹی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔ اب میں اسکے نزدیک بیٹھا اور اس سے کہا کھڑی ہو جاؤ وہ سوچتے سوچتے کھڑی ہوئی تو میں نے دونوں ہاتھوں سے اسکا ٹائڈ اسکے گھٹنوں تک کھینچ کر اتار دیااب اسکی کنواری چوت میری نظروں کے سامنے تھی۔ میں نے اسکی چوت پر ایک کس کیا تو وہ ایک بار پھر سے کپکپا اٹھی۔ اور میں نے دیکھا کہ اس نے باقی ٹائڈ خود ہی میرے کہے بغیر اتار دیا تھا شاید وہ بھی اب یہ چانس ضائع نہیں کرنا چاہتی تھی۔ پھر میں نے اسکو بینچ پرلٹا دیا اور اسکے ممے چوسنے لگا وہ پاگل سی ہور ہی تھی اور اس کے منہ سے آہیں نکل رہی تھیں اسکا بدن گرم ہونے لگا تھا۔ خود میرا بھی حال کچھ اس سے مختلف نہیں تھا بس فرق اتنا تھا کہ اسکا پہلا موقع تھا اور میں کئی بار اپنی بیوی سے یہ سب کر چکا تھا۔ پھر میں نے مزید آگے بڑھنے کا سوچا اور اسکی چوت پر انگلی رکھی تو پہلے سے گیلی ہو چکی تھی بس اب کیا تھا میں نے اپنا لنڈ اس کی چوت کے منہ پر رکھا۔ اور اسکو دبایا تو میرے لنڈ کا ہیڈ اسکی چوت میں چلا گیا وہ تکلیف سے اچھلنے لگی ۔ جی جو بہت تکلیف ہو رہی ہے پلیز یہ سب نہ کریں میں نے کہا ابھی تکلیف ختم ہو جائے گی بس پھر مزے کرنا۔ یہ کہتے ہوئے میں نے اپنا لنڈ واپس باہر نکالا صرف اتنا کے وہ اسکی چوت سے الگ نہ ہو اسکے بعد دوباہ پہلے سے زیادہ طاقت کے ساتھ میں نے اسے اندر ڈالا اوروہ اسکی چوت کو پھاڑتا ہو کافی اندر تک چلا گیا اب وہ درد سے کراہ رہی تھی چیخ اس لیے نہیں رہی تھی کہ اسکو ابھی بھی ڈر تھا کہ کوئی اسکی آواز سن کر آ نہ جائے۔ پھر میں نے ایک بار پھر وہ ہی عمل کیا اور لنڈ کو تھوڑا باہر نکال کر پھر پہلے سے زیادہ طاقت کے ساتھ اندر گھسیڑا میرا پورا لنڈ اس کی چوت میں داخل ہو چکا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اوہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا بتاؤں اسکی چوت کتنی ٹائٹ اور کتنی گرم تھی۔ مزے کے ساتوں آسمان پر پہنچ گیا تھا میں میرا دل کر رہا تھا اسی طرح زندگی ختم ہو جائے میرالنڈ اسکی چوت میں ہی رہے۔ پھر میں نے تھوڑا لنڈ باہر نکالا اور پھر اندر کیا اور یہ عمل بار بار کرتا رہا اسکی تکلیف کافی حد تک کم ہو چکی تھی اور وہ تیز سانسوں کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔میں نے پورا لنڈ اسکی چوت میں ڈال کر اسکے اوپر لیٹ گیا اب وہ بھی میرا ساتھ دے رہی تھی اس نے مجھے اپنی بانہوں میں جکڑ لیا تھا میں سمجھ گیا اب وہ بالکل تیار ہے چدنے کے لیے میں نے اپنا کام شروع کردیا اور تیز تیز لنڈ کو اندر باہر کرنے لگا ۔ ایک تو سمندر، دوسرے چاندنی رات اور پھر جیا جیسے خوبصورت لڑکی میرا تو دماغ جنت کی سیر کر رہا تھا۔ میں نے بھی زیادہ سے زیادہ وقت کھینچنے کے لیے کوشش کی اور تقریباً دس منٹ تک اسکی زبردست چدائی کی اس دوران وہ دو بار فارغ ہوچکی تھی اور ہر بار زور دار آہیں بھرنے کے بعد کہتی تھی جی جو بس کرو اب میں تھک گئی مگر میرا لنڈ تو جیسے دیوانہ ہوگیا تھا وہ کہاں رکنے والا تھا جب تک اسکا لاوا نہ نکل جاتا۔ خیر پھر میں نے بھی فارغ ہونے کا فیصلہ کر لیا اور لنڈ کو تیز تیز اندر باہر کرتا رہا۔ اور آخر کار زبردست جھٹکوں کے ساتھ میرا لنڈ اسکی چوت کو اپنے لاوے سے بھرنے لگا۔ اب کی بار اسکا پورا بدن ایسے کپکپا رہا تھا جیسے کسی مشین پر لیٹی ہو۔ خیر میں تھوڑی دیر اسکے اوپر ہی لیٹا رہا اور اسکے بدن کو چومتا رہا۔ پھر ہم دونوں اٹھے اور کپڑے پہن کر واپس سمندر میں چلے گئے تاکہ خود کو صاف کرسکیں وہاں بھی میں نے اسکو خوب مساج کیا اور اسکی چوت میں انگلی ڈالی۔ پھر ہم واپس ہٹ میں آگئے اور سو گئے اسکے بعد بھی کئی بار میں نے اسکو چودا جب جب موقع ملا وہ بھی میرے لنڈ کی دیوانی ہو چکی تھی۔


EMail : PkMasti@aol.com
Yahoo : Jan3y.J4na@yahoo.com

By Unknown with No comments

چودو چوہدری چدائی کا شوقین



چوہدری بختیار جدی پشتی رئیس تھا اور اس کے شوق بھی وہی تھے جو عام طور پر رہیسوں کے ہوتے تھے۔ اس کا باپ اس کے ترکے میں 50 مربعے زمین چھوڑ کر مرا تھا۔
اس کی بہنیں شادی کی عمر گزار کر گھر میں بیٹھی تھیں،جائداد کے حصے بخرے نہ ہوں اسی لئے وہ کبھی بیاہی ہی نہ گئی تھیں۔
بلقیس اس کی بیوی بھی ایک زمیندار خاندان سے تھی جو صرف اسی وقت کام آتی تھی جب چوہدری کو اپنا غصہ کسی عورت پر نکالنا ہوتا تھا۔ وہ بیچاری چوہدری کی مار کھاتی اور اسے اپنا فرض سمجھ کر چپ ہو رہتی۔
چوہدری عیاش طبع تو تھا ہی ساتھ میں ظالم بھی تھا۔
آئے روز لاہور اور گوجرانوالا کے بدنام کوچوں سے رنڈیاں آتیں اور ہزار بار کے بکے ہوئے سکوں کو کسی نئے سکے سے بھی زیادہ دام میں بیچتیں۔
اس کی رعایا میں سو کے قریب کمی خاندان تھے جو کئی نسلوں سے اس کے خاندان کی چاکری کر رہے تھے۔ چوہدری ان کو بس ان دیتا کہ وہ زندہ رہیں اور اتنا دباتا کہ بس جان اٹکی رہے۔
یہ کمی اپنی بہو بیٹیاں چوہدری کے بستر پر سلانا اپنے لئے خوش بختی سمجھتے۔
ادھر کسی کی بیٹی تیرہواں سن پار کرتی اور اس کی شلوار میں خون کی پہلی بوند پڑتی تو پاکی نہاتے ہی اس کا باپ اسے چوہدری کے بستر تک چھوڑ آتا۔
اگر کوئی ایسا نہ کرتا تو اس کی شامت آ جاتی، اس کی بہو بیٹیوں پر چوہدری کے کتے سب کے سامنے ٹوٹ پڑتے۔
اگر کوئی اور چوہدری سے پہلے کسی لڑکی کو جھوٹا کر دیتا تو اس لڑکی پر سارا گاؤں باری باری سوار ہوتا، اس وقت تک جب تک وہ زندگی سے آزاد نہ ہو جاتی۔
گاؤں کے لوگوں میں غیرت اور عزت جیسے لفظ صرف چوہدریوں کے لئے تھے۔
چوہدری کبھی بھی کسی کو طلب کر لیتا اور کسی کو اپنے بستر پر لے جاتا۔
یہ سب کرنے کے لئے اسے کسی سے چھپنے کی ضرورت نہ تھی بلکہ اسے رعایا پر حکومت کرنے کا گر سمجھا جاتا تھا۔
بلقیس اسے اپنی قسمت کا لکھا سمجھ کر چپ تھی،اس نے یہی سب اپنے گھر بھی دیکھا تھا۔
چوہدری ایک دن ایک غریب لڑکی کو لایا اور ایک کمرے میں اسے زبردستی چودنے لگا۔ لڑکی کی چیخوں سے پورا گھر گونج رہا تھا۔
بلقیس اٹھ کر کمرے کے دروازے پر آ گئی، لڑکی چوہدری کے بھاری وجود کے سامنے کچھ بھی نہ تھی۔ کم خوراک اور سخت محنت نے اسے اتنا موقع ہی نہ دیا تھا کہ اس کے جسم پر کوئی گوشت آتا۔ چوہدری شراب کے نشے میں اس کی چوت پھاڑنے حد تک مار رہاتھا۔ بلقیس کچھ لمحے تو یہ ننگا ناچ دیکھتی رہی پھر آ گئی۔
لڑکی کی چیخیں اب بند ہو گئی تھیں، شاید وہ درد سے بیگانہ گئی تھی یا ہوش سے۔ ایک ملازمہ اندر گئی اور ادھ مری لڑکی کو ایک چادر میں لپیٹ کر اس کے باپ کے حوالے کر دیا۔
اس لڑکی کا باپ اپنی بیٹی کے کنوارے خون سے سنے چند لال نوٹوں پر جھپٹا،نیم بےہوش بیٹی باپ کی آنکھوں میں چمک دیکھ کر اپنی پہلی کمائی پر دل ہی دل میں نازاں ہوئی۔

بلقیس کو اپنی بڑی نند نصرت جو تیس کا ہندسہ عبور کر چکی تھی وہ اپنے کمرے ہی مل گئی۔ اس نے بلقیس کو
بلا لیا۔
نصرت بولی: کی ہویا بھرجائی، آج تجھے نیند نہیں آئی۔
بلقیس : نیند تو شاید آ جاتی مگر اس نمانی کی چیخوں نے سونے نہ دیا۔
نصرت ہنسی: وے جھلی نہ ہو تو یہ کوئی نویں گل ہے کیا۔
بلقیس: نویں تو نہیں بس آج عجیب سا درد ہوا تھا مجھے۔
نصرت بولی: کیسا درد بھرجائی کھل کے بول۔
بلقیس: رہن دے وڈی باجی تو میری چنتا نہ کر سو جا۔
نصرت: وے بھلیے لوکے میں نے سو کے کیا کر لینا تو بیٹھ اور بتا۔
بلقیس: باجی مجھے اج ایک عجیب سا درد ہویا کہ چوہدری صیب میرے ساتھ ایسا کیوں نہیں کرتا۔
نصرت: تیرے ساتھ مطلب، تو تو اس کی زنانی ہے، تیرے ساتھ ایسا کیوں کرے گا۔
بلقیس: کنا ویلے ہو گیا چوہدری نے مجھے ھاتھ نہیں لگایا ویاہ کے بعد تو بس وہی کمی کمیں عورتیں یا رنڈیاں ہی اس کے ساتھ سوتی ہیں۔ اج میرے من میں ہوک اٹھی کہ کنا چنگا ہوتا کہ اس نمانی کے بدلے میں چیخ رہی ہوتی۔چوہدری بھلے درد دیتا پر دیتا تو صحیح۔
نصرت نے گہری سانس لی اور بولی: بھرجائی یہ جو مرد ہوتا ہے نا اسے اپنا نالہ تو کھلا پسند ہے مگر گھر کی عورتوں کا نالہ اسے کسا ہوا چاہئیے۔ اپنے لئے تو سارے عورتیں جائز ہیں پر اپنی عورت کے لئے سب حرام۔ جس آگ میں تو سال سے جل رہی ہے میں اٹھارہ سال سے جل رہی ہوں۔
جو درد تجھے اج ہویا ہے وہ مجھے اٹھارہ سال پہلے ہوتا تھا جب کسی نمانی کی چیخیں نکلتی تو میں سوچتی کہ کوئی میری بھی یوں چیخیں نکالے۔ جب کسی کو جھوٹا چوہدری کو کھلانے کی سزا ملتی تو میں روتی کاش اس گاؤں کا ہر مرد میرے اوپر چڑھ ڈورے، میں مرد کی نیچے سے ہی مر جاؤں۔
بلقیس یہ سب سن کے حیران تھی کہ اس کی نند اسی دور سے گزر چکی ہے۔
نصرت بولی: میری اگ تو بجھ گئی ہے تجھے تو اٹھارواں لگا ہے تیری شلوار تو ابھی تر ہے تو اس اگ میں کیوں جلے۔
بلقیس: کیا مطلب وڈی باجی۔
نصرت: ویکھ میرا ویاہ ہوتا تو اج تیرے جتنی میری دھی ہوتی، مرد کی اگ پہ تو قطرے گرتے رہتے ہیں عورت کی اگ اسے آپ بجھانی پڑتی ہے۔ اگلا بوہا(دروازہ) بند ہوے تے پچھلی کھڑکی کھول لینی چاہی دی ہے۔
بلقیس:مگر۔۔ ۔ ۔
نصرت: اگر تو اس اگ کو پالتی رہی تو اک دن یہ تجھے ساڑ دے گی، چوہدری کا کیا ہے نویں زنانی آ جائے گی، تجھے مرجھانا نہیں ہے بلکہ ایس کو نال نال بجھانا بھی ہے۔ بانی گرتا رہے تے زمین بنجر نہیں ہوندی۔
بلقیس: لیکن اگر کسی کو پتہ لگ فیر۔
نصرت: فیر کی روز روز مرنے سے اک واری چنگا۔
بلقیس کسی حد تک مطمئن ہو گئی تھی مگر ڈر بھی رہی تھی۔
بلقیس: پر یہ ہو گا کیسے۔
نصرت: ویسے جیسے چوہدری کڑی لاتا ہے تو منڈے لے ائے گی۔
بلقیس: مگر کیسے
نصرت: تو مجھ پہ چھوڑ دے، پرسوں کی رات چوہدری کے ڈیرے پہ کنجریاں ناچیں گی، چوہدری ویلے سے نہیں مڑے گا، تو بس تیار رہنا۔
بلقیس جو شاید پچھلے سوا سالہ شادی شدہ زندگی میں ایک دو بار چدی تھی اب اس آگ کے ھاتھوں بے چین ہو گئی تھی۔


EMail : PkMasti@aol.com
Yahoo : Jan3y.J4na@yahoo.com

By Unknown with 1 comment

ﮔﮭﺮیلو چودائی کی مست داستان ﺣﺼہ 4 ‬



ﺣﺼہ ٤‬ 
‫ 
ﺑﺎپ - ﺑﯿﭩﮯ‬ 
‫ﻣﺠﮭﮯ اﭘﻨﮯ ﺧﺎﻧﺪان ﮐﮯ ﺑﺎرے ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﮔﻨﺪی ﺑﺎﺗﯿﮟ ﮐﺮﻧﺎ ﺑﮩﺖ ﭘﺴﻨﺪ ﮨﮯ ﭘﺮ ﺻﺮف اﯾﺴﮯ ﻟﻮﮔﻮں ﺳﮯ ﺟﻮ ﺧﻮد ﺑﮭﯽ اﭘﻨﮯ‬ ‫ﺧﺎﻧﺪان ﮐﮯ ﺑﺎرے ﻣﯿﮟ ﮐﺮﯾﮟ ۔ ﺟﻮ ﺑﮭﯽ ﭼﺎﮨﮯ ، ﻣﺠﮭﮯ ﺑﻼ ﻟﮯ.. ﻇﺎﮨﺮ ﮨﮯ ﯾہ ﻏﯿﺮ ﻓﻄﺮی ﻋﻤﻞ ﮨﮯ ۔ اس ﻟﺌﮯ ﻧﺌﮯ ﭘﮍھﻨﮯ‬ ‫واﻟﻮں ﮐﻮ ﺑﺘﺎﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﻮں ﮐہ ۔ ﯾہ ﺧﺎﻟﺼﺘً ﻓﺮﺿﯽ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﮨﮯ ۔ ﻣﯿﺮی ﮐﮩﺎﻧﯿﻮں ﻣﯿﮟ ﮔﻮ ، ﻣﻮت اور دﯾﮕﺮ ﻏﻼﻇﺘﻮں ﺳﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ‬ ‫ﺎ‬ ‫ﺟﻨﺴﯽ اﻓﻌﺎل ﮐﺎ ﺑﮑﺜﺮت ذﮐﺮ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ۔ اﮔﺮ آپ ﻧﻔﺎﺳﺖ ﭘﺴﻨﺪ واﻗﻊ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﭘﮍھﻨﮯ ﮐﯽ زﺣﻤﺖ ﻧہ ﮐﺮﯾﮟ ۔ دﯾﮕﺮ ﺧﻮاﺗﯿﻦ و‬ ‫ﺣﻀﺮات ﺳﮯ درﺧﻮاﺳﺖ ﮨﮯ ﮐہ آﮔﮯ ﺑﮍھﯿﮟ ۔‬ ‫ﭘﮩﻠﮯ ﻣﯿﮟ اﭘﻨﮯ ﺧﺎﻧﺪان ﮐﯽ ﺗﮭﻮڑی اور ﺗﻔﺼﯿﻞ ﺑﺘﺎ دﯾﺘﺎ ﮨﻮں ۔ ﻣﯿﮟ اس ﺳﺎل ﺑﯽ۔اﯾﺲ۔ﺳﯽ)ﺳﺎل اول( ﻣﯿﮟ ﮨﻮں اور اﭘﻨﮯ ﺷﮩﺮ ،‬ ‫ﭘﻮﻧﺎ ﮐﮯ اﯾﺲ۔ﭘﯽ۔ ﮐﺎﻟﺞ ﻣﯿﮟ اﻧﺠﻨﺌﯿﺮﻧﮓ ﮐﺮ رﮨﺎ ﮨﻮں ۔ ﺟﺐ ﺳﮯ ﻣﯿﺮا ﻟﻨﮉ ﮐﮭﮍا ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﺎ ، ﻣﯿﺮے ﮔﮭﺮ واﻟﻮں ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ‬ ‫ﭼﻮدﻧﺎ ِﮑﮭﺎ دﯾﺎ اور ﺗﺒﮭﯽ ﺳﮯ ﮨﯽ ﻣﯿﮟ اﭘﻨﯽ ﻣﺎں اور ﺑﮩﻦ ﮐﻮ ﭼﻮدﺗﺎ ﮨﻮں ۔ ﻣﯿﺮی ﺑﮩﻦ ٢٢ ﺳﺎل ﮐﯽ ﮨﮯ ۔ وﮦ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﺮے ﮨﯽ‬ ‫ﺳ‬ ‫ﮐﺎﻟﺞ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺴﺮے ﺳﺎل ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ۔ اس ﮐﯽ ﭘﯿﻤﺎﺋﯿﺶ ﮨﮯ ٤٣-٠٣-٦٣ ۔ وﮦ ﺑﮭﯽ ﻟﻨﮉ ﮐﯽ دﯾﻮاﻧﯽ ﮨﮯ ۔ اﺳﯽ ﻟﺌﮯ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﭼﺪاﻧﮯ‬ ‫ﮐﮯ ﺑﺎوﺟﻮد وﮦ ﺑﺎﮨﺮ اﭘﻨﮯ ﯾﺎروں ﺳﮯ ﭘﯿﺴﮯ ﻟﮯ ﮐﺮ ﭼﺪاﺗﯽ ﮨﮯ ۔ ﻣﯿﺮی ﻣﺎں ﮔﮭﺮﯾﻠﻮ رﻧﮉی ﮨﮯ ۔ وﮦ ﺑﮩﺖ ﻣﻮﭨﯽ ﮨﮯ ۔ اس ﮐﯽ‬ ‫ﭘﯿﻤﺎﺋﯿﺶ ٦٤-٠٤-٢٤ ﮨﮯ ۔ ﭘﺮ وﮦ ﺻﺮف ﻣﺠﮫ ﺳﮯ اور ﻣﯿﺮے ِﺘﺎ ﺟﯽ ﺳﮯ ﭼﺪاﺗﯽ ﮨﮯ ۔ اﺳﮯ اور ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﮐﯿﻒ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﺘﺎ‬ ‫ﭘ‬ ‫۔ ﻣﯿﺮے ِﺘﺎ ﺟﯽ ١ ﺑﯿﻮﭘﺎری ﮨﯿﮟ ۔ وﮦ ﻧﻘﻞ و ﺣﻤﻞ ﮐﺎ ﮐﺎروﺑﺎر ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔ وﮦ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﺮی ﻣﺎں اور ﺑﮩﻦ ﮐﻮ ﭼﻮدﺗﮯ ۔ اور‬ ‫ﭘ‬ ‫ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮭﯽ ۔ ﮨﺎں ، ﮨﻢ ﺟﻨﺲ ﻣﻮاﻓﻖ اور ﺟﻨﺲ ﻣﺨﺎﻟﻒ دوﻧﻮں ﮐﮯ رﺳﯿﮯ ﺑﮭﯽ ﮨﯿﮟ ۔ ﺗﻮ ﮐﺌﯽ ﺑﺎر ﻣﯿﮟ اور ﻣﯿﺮے ِﺘﺎ ﺟﯽ ﺑﮭﯽ‬ ‫ﭘ‬ ‫آﭘﺲ ﻣﯿﮟ ﮔﺎﻧﮉو ﮔﯿﺮی ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔ ﮐﯿﻮﻧﮑہ اﻧﮩﯿﮟ ﺟﻮ ﭘﺴﻨﺪ ﮨﮯ وﮦ ﺻﺮف ﮨﻤﺎرے ﺧﺎﻧﺪان ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ۔ اس ﻃﺮح ﮨﻢ ﺑﺎ‬ ‫ﺟﻤﺎﻋﺖ ﭼﺪا ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔ اب ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﺷﺮوع ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮں ۔‬ ‫ﺻﺒﺢ ﮐﺎ وﻗﺖ ﺗﮭﺎ ۔ ﻣﯿﮟ ﺑﺴﺘﺮ ﺳﮯ اﭨﮭﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﺮے آس ﭘﺎس ﺑﺴﺘﺮ ﮔﯿﻼ ﺗﮭﺎ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﭘﯿﺸﺎب ﮐﯽ ﺑﺪﺑﻮ آ رﮨﯽ ﺗﮭﯽ ۔ 

ﺗﺐ‬ ‫ﻣﺠﮭﮯ ﯾﺎد آﯾﺎ ﮐﺲ ﻃﺮح ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭘﭽﮭﻠﯽ رات اﭘﻨﯽ ﺑﮩﻦ ﮐﻮ ﭼﻮدﺗﮯ وﻗﺖ اﺳﮯ اﭘﻨﮯ ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺗﻨﮯ ﮐﻮ ﺑﻮﻻ ، ﭘﺮ اس ﻣﯿﮟ‬ ﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﻣﯿﺮے ﻣﻨہ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﮔﺮ ﮔﯿﺎ ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﯿﭽﮯ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ دﯾﮑﮭﺎ ﮐہ ِﺘﺎ ﺟﯽ اﮐﯿﻠﮯ ﭨﯿﻠﯿﻮژن ﭘﺮ ﺧﺒﺮﯾﮟ دﯾﮑﮫ رﮨﮯ ﮨﯿﮟ ۔ ﻣﯿﮟ‬ ‫ﭘ‬ ‫ﻧﮯ ِﺘﺎ ﺟﯽ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ‬ ‫ﭘ‬ ‫ﻣﯿﮟ: ﯾہ ﺳﺎﻟﯽ دوﻧﻮں رﻧﮉﯾﺎں ﺻﺒﺢ ﺻﺒﺢ ﮐﮩﺎں ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺮواﻧﮯ ﭼﻠﯽ ﮔﺌﯿﮟ ؟ ان ﮐﻮ ﭘﺘہ ﮨﮯ ﻧﺎ ﮐہ ﮨﻢ دوﻧﻮں ﮐﻮ ﺻﺒﺢ ﺻﺒﺢ ان‬ ‫ﺳﮯ اﭘﻨﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﭼﭩﻮاﻧﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ اور ان ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺎرﻧﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ۔‬ ‫ِﺘﺎ ﺟﯽ: ارے ﺑﯿﭩﺎ ، ﺗﯿﺮی ﺑﮩﻦ ﮐﻮ اﭼﺎﻧﮏ ﻣﺎﮨﻮاری اﯾﺎم ﺷﺮوع ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ، ﺗﻮ دوﻧﻮں ﭘﻮﺗﮍے ﺧﺮﯾﺪﻧﮯ ﮔﺌﯽ ﮨﯿﮟ ۔ ﭘﺮ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ‬ ‫ﭘ‬ ‫اب رﮨﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎ رﮨﺎ ۔ دﯾﮑﮫ ﻣﯿﺮا ﻟﻨﮉ ﮐﯿﺴﮯ ﺗﻦ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ۔ ﯾہ ﺑﻮل ﮐﺮ ِﺘﺎ ﺟﯽ ﻧﮯ اﭘﻨﮯ ﭘﺎﺟﺎﻣﮯ ﮐﻮ ﻧﯿﭽﮯ ﮐﯿﺎ اور ﻣﺠﮭﮯ اﭘﻨﺎ‬ ‫ﭘ‬ ‫ﺗﻨﺎ ﻟﻨﮉ دﮐﮭﺎﯾﺎ ۔‬ ‫ﻣﯿﮟ: ِﺘﺎ ﺟﯽ ، ﮐﯿﺎ آج ﮐﻞ آپ ﮐﻮ ﻣﯿﺮی ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺎرﻧﮯ ﮐﯽ ِﭼ ّﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ ۔ ﺑﮩﺖ دن ﺳﮯ آپ ﻧﮯ ﻣﯿﺮی ﮔﺎﻧﮉ ﮐﻮ ﮨﺎﺗﮫ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ‬ ‫ا ﮭ‬ ‫ﭘ‬ ‫ﻟﮕﺎﯾﺎ ۔‬ ‫ِﺘﺎ ﺟﯽ: ِﭼ ّﺎ ﺗﻮ ﺑﮩﺖ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺑﯿﭩﺎ ۔ ﭘﺮ ﮐﯿﺎ ﮐﺮوں ، ﯾہ ﺳﺎﻟﯽ دوﻧﻮں ﭼﻨﺎل رﻧﮉﯾﺎں ، ﻣﺠﮭﮯ ﻣﻮﻗﻊ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ دﯾﺘﯿﮟ ۔ ﭘﺮ آج‬ ‫ا ﮭ‬ ‫ﭘ‬ ‫ﮔﮭﺮ ﭘﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ۔ آ ﺟﺎ ، ﮨﻢ ﮐﭽﮫ ﻣﺴﺘﯽ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔‬ ‫ﻣﯿﮟ ِﺘﺎ ﺟﯽ ‪ k‬ﭘﺎس ﮔﯿﺎ اور ﮔﮭﭩﻨﻮں ﮐﮯ ﺑﻞ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﯿﺎ ۔ ِﺘﺎ ﺟﯽ ﻧﮯ اﭘﻨﺎ ﻟﻨﮉ ﮐﮭﻮﻻ اور ﻣﯿﺮے ﻣﻨہ ﮐﮯ ﭘﺎس ﻻﺋﮯ ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻣﻨہ‬ ‫ﭘ‬ ‫ﭘ‬ ‫ﮐﮭﻮﻻ اور ﭘﻮرا ﻟﻨﮉ اﭘﻨﮯ ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﻟﯿﺎ ۔ وﮦ زور زور ﺳﮯ ﻣﯿﺮے ﻣﻨہ ﮐﻮ ﭼﻮدﻧﮯ ﻟﮕﮯ ۔ ان ﮐﺎ ﻟﻨﮉ ﺑﮩﺖ ﺑﮍا ﮨﮯ ۔ وﮦ‬ ‫ﻣﯿﺮے ﻣﻨہ ﮐﮯ ﮐﺎﻓﯽ اﻧﺪر ﺗﮏ ﺟﺎ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ ۔ ﻣﺠﮭﮯ اﻟﭩﯽ )ﻗﮯ( ﺟﯿﺴﺎ ﻟﮓ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ ۔ ﭘﺮ اﻧﮩﯿﮟ ان ﺳﺐ ﭼﯿﺰوں ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﻓﺮق‬ ‫ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮍﺗﺎ ۔ ﯾہ ﮐﺎﻓﯽ دﯾﺮ ﺗﮏ ﭼﻼ ۔ ﭘﮭﺮ اﻧﮩﻮں ﻧﮯ اﭘﻨﺎ ﻟﻨﮉ ﻣﯿﺮے ﻣﻨہ ﺳﮯ ﻧﮑﺎل ﻟﯿﺎ ۔‬ ‫اب ﻣﯿﮟ ﮐﮭﮍا ﮨﻮ ﮔﯿﺎ اور وﮦ ﺳﻮﻓﮯ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﺌﮯ ۔ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﻣﮍا اور اﭘﻨﺎ ﭘﺎﺟﺎﻣہ ١ ﮨﯽ ﺟﮭﭩﮑﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮑﺎل دﯾﺎ ۔ ﻣﯿﺮی ﺑﺎﻟﻮں‬ ‫ﺳﮯ ﺑﮭﺮی ﮔﺎﻧﮉ ان ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺗﮭﯽ ۔ اﻧﮩﻮں ﻧﮯ دوﻧﻮں ﮨﺎﺗﮭﻮں ﺳﮯ ﻣﯿﺮی ﮔﺎﻧﮉ ﮐﻮ ﭘﮭﯿﻼﯾﺎ اور ﻣﯿﺮی ﭨّﯽ ﮐﮯ ﭼﮭﯿﺪ ﮐﻮ‬ ‫ﭩ‬ ‫ﭼﺎﭨﻨﮯ ﻟﮕﮯ ۔ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮩﺖ ﻣﺰا آ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ ۔ ان ﮐﯽ ﺟﯿﺒﮫ ﻣﯿﺮے ﭼﮭﯿﺪ ﮐﮯ اﻧﺪر ﺗﮏ ﺟﺎ رﮨﯽ ﺗﮭﯽ ۔ ﭘﮭﺮ اﻧﮩﻮں ﻧﮯ ﻣﯿﺮی ﮔﺎﻧﮉ‬ ‫ﮐﻮ ﭼﻮﺳﻨﺎ ﺷﺮوع ﮐﯿﺎ ۔ ﺗﮭﻮڑی دﯾﺮ ﺑﻌﺪ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ رﮨﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮔﯿﺎ اور ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ١ ﻟﻤﺒﺎ ﺳﺎ ﭘﺎد ان ﮐﮯ ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﻮڑ دﯾﺎ ۔ ﻣﺠﮭﮯ‬ ‫ﮐﺎﻓﯽ ﮨﻠﮑﺎ ﻟﮓ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮔﺮدن ﮔﮭﻤﺎﺋﯽ ﺗﻮ دﯾﮑﮭﺎ ﻣﯿﺮا ﭘﻮرا ﭘﺎد ﻣﯿﺮے ﺑﺎپ ﮐﮯ ﻣﻨہ ﮐﮯ اﻧﺪر ﭼﻠﯽ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ اور وﮦ‬ ‫اﺳﮯ اﯾﺴﮯ ﺳﻮاد ﻟﮯ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﺟﯿﺴﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﭩﮭﺎﺋﯽ ۔ ﺗﮭﻮڑی ﮨﯽ دﯾﺮ ﻣﯿﮟ ﭘﻮرے ﮐﻤﺮے ﻣﯿﮟ ﺑﺪﺑﻮ ﭘﮭﯿﻞ ﮔﺌﯽ ۔‬ ‫ِﺘﺎ ﺟﯽ: آج ﺳﻨﺪاس ﻧﮩﯿﮟ ﮔﯿﺎ ﮐﯿﺎ ﺗﻮ ؟‬ ‫ﭘ‬ ‫ﻣﯿﮟ: ﻧﮩﯿﮟ ۔ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﺎں ﺳﻨﺪاس ﻟﮯ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ اور ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﭼﺎٹ ﮐﺮ ﺻﺎف ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ ۔‬ ‫ِﺘﺎ ﺟﯽ: ﺳﺎﻟﮯ ﭼﻨﺎل ﮐﯽ اوﻻد ۔ ﯾﮩﯽ ﺳﻨﺴﮑﺎر دﯾﮯ ﺗﯿﺮی رﻧﮉی ﻣﺎں ﻧﮯ ﺗﺠﮭﮯ ۔ ﭼﻞ ﺳﻨﺪاس ۔ ﺻﺒﺢ اﭨﮭﺘﮯ ﮨﯽ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﮕﻨﮯ‬ ‫ﭘ‬ ‫ﺟﺎﻧﺎ ﭼﺎﮨﺌﯿﮯ ۔ آج ﻣﯿﮟ ﺗﺠﮭﮯ ﭨّﯽ ﮐﺮاﺗﺎ ﮨﻮں ۔ ﮨﻢ دوﻧﻮں ﺑﯿﺖ اﻟﺨﻼ ﻣﯿﮟ ﮔﺌﮯ ۔ ﻣﯿﮟ ﮐﻤﻮڈ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﯿﺎ ۔ ﻣﯿﮟ ﮨﮓ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ ،‬ ‫ﭩ‬ ‫ﺗﺐ ﺗﮏ ﻣﯿﺮا ﺑﺎپ ﻣﯿﺮے ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮐﮭﮍا ﮨﻮ ﮔﯿﺎ اور اﭘﻨﮯ ﻟﻨﮉ ﺳﮯ ﻣﯿﺮا ﻣﻨہ ﭼﻮدﻧﮯ ﻟﮕﺎ ۔ اﯾﺴﺎ ﺑﮩﺖ دﯾﺮ ﺗﮏ ﭼﻼ ۔ ٠١ – ٥١‬ ‫ﻣﻨﭧ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﺮی ﭨّﯽ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ۔‬ ‫ﭩ‬ ‫ﻣﯿﮟ: ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﻣﯿﺮی ﺳﻨﺪاس ۔‬ ‫ِﺘﺎ ﺟﯽ: ﺗﻮ اﭨﮫ ﺟﺎ اور ﭘﯿﭽﮭﮯ ﻣﮍ ۔ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﮍا ﮨﻮ ﮔﯿﺎ اور ﭘﯿﭽﮭﮯ ﻣﮍا ۔ ﻣﯿﺮا ﺑﺎپ ﻧﯿﭽﮯ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﯿﺎ اور دوﻧﻮں ﮨﺎﺗﮭﻮں ﺳﮯ‬ ‫ﭘ‬ ‫ﻣﯿﺮی ﮔﺎﻧﮉ ﭘﮭﯿﻼﺋﯽ اور اس ﭘﺮ ﻟﮕﯽ ﺳﺎری ﭨّﯽ ﭼﺎٹ ﮐﺮ ﺻﺎف ﮐﺮ دی ۔ ﭨّﯽ ﺻﺎف ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺑﮭﯽ وﮦ ﮐﺎﻓﯽ دﯾﺮ ﺗﮏ‬ ‫ﭩ‬ ‫ﭩ‬ ‫ﻣﯿﺮی ﮔﺎﻧﮉ ﭼﺎﭨﺘﺎ رﮨﺎ ۔ ﺗﮭﻮڑی دﯾﺮ ﺑﻌﺪ اس ﮐﺎ ﻣﻦ ﺑﮭﺮ ﮔﯿﺎ ۔‬ 

‫ِﺘﺎ ﺟﯽ: ﭼﻞ ﺑﮭﮍوے ، اب ﺗﯿﺮی ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺎرﺗﺎ ﮨﻮں ۔ ﺑﮩﺖ دن ﺳﮯ ﺗﯿﺮی ﮔﺎﻧﮉ ﻣﯿﮟ ﻟﻨﮉ ﻧﮩﯿﮟ ڈاﻻ ۔‬ ‫ﭘ‬ ‫ﮨﻢ دوﻧﻮں ﻣﯿﺮے ﻣﺎں – ﺑﺎپ ﮐﮯ ﺳﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﮐﻤﺮے ﻣﯿﮟ ﮔﺌﮯ ۔ ﻣﯿﮟ ﺑﺴﺘﺮ ﭘﺮ اﻟﭩﺎ ﮔﺎﻧﮉ اﭨﮭﺎ ﮐﺮ ﻟﯿﭧ ﮔﯿﺎ ۔ ﻣﯿﺮے ﺑﺎپ ﮐﺎ ﻟﻨﮉ‬ ‫ﺑﮩﺖ ﺗﻦ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ۔ اس ﻧﮯ ﻣﯿﺮی ﮔﺎﻧﮉ ﭘﮭﯿﻼﺋﯽ اور اﭘﻨﺎ ﻟﻨﮉ ﻣﯿﺮی ﮔﺎﻧﮉ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﺴﺎ دﯾﺎ ۔ ﻣﺠﮭﮯ زﯾﺎدﮦ درد ﻧﮩﯿﮟ ﮨﺆا ۔ ﻣﯿﺮی ﮔﺎﻧﮉ‬ ‫ﮐﻮ ﺑﮍے ﺑﮍے ﻟﻨﮉ ﻟﯿﻨﮯ ﮐﯽ ﻋﺎدت ﮨﮯ ۔ ﻣﯿﺮا ﺑﺎپ ﺑﻮﻟﻨﮯ ﻟﮕﺎ ، “ ﺳﺎﻟﮯ ﻣﺎدر ﭼﻮد ، ﻟﮯ ﻣﯿﺮا ﻟﻨﮉ ﺗﯿﺮی ﮔﺎﻧﮉ ﻣﯿﮟ ۔ ﺗﯿﺮی‬ ‫ﻣﺎں اور ﺑﮩﻦ ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺎرﻧﮯ ﺟﺘﻨﺎ ﻣﺰا آﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﯿﺮی ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺎرﻧﮯ ﻣﯿﮟ ۔ ﺳﺎﻟﮯ رﻧﮉی ﮐﯽ اوﻻد”.‬ ‫ﻣﯿﮟ: ﺗﻮ ﻣﺎر ﻧﺎ ﺑﮭﮍوے ۔ ﺗﻮ اﭘﻨﯽ ﺳﮕﯽ ﻣﺎں ﮐﻮ ﺑﮭﯽ اﯾﺴﮯ ﮨﯽ ﭨﮭﻮﻧﮑﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﯿﺎ ؟‬ ‫ِﺘﺎ ﺟﯽ: ِﭼ ّﺎ ﺗﻮ ﺑﮩﺖ ﺗﮭﯽ ﻣﯿﺮی ۔ ﺑﭽﭙﻦ ﺳﮯ ﮨﯽ ﻣﺠﮭﮯ اﭘﻨﯽ ﻣﺎں ﮐﻮ دﯾﮑﮭﻨﺎ ﭘﺴﻨﺪ ﺗﮭﺎ ﭘﺮ ڈر ﻟﮕﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﮐہ ﺳﺎﻟﯽ ﮨﺎں ﺑﻮﻟﮯ ﮔﯽ‬ ‫ا ﮭ‬ ‫ﭘ‬ ‫ﯾﺎ ﻧﮩﯿﮟ ۔ اﺳﯽ ﻟﺌﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﻧﮩﯿﮟ ۔ ﭘﺮ ﺗﮭﯽ ﻣﺴﺖ ﺳﺎﻟﯽ رﻧﮉی ۔‬ ‫ﮨﻢ دوﻧﻮں ﮨﻨﺲ ﭘﮍے ۔ ﭘﺮ ﯾہ ﺳﺐ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ وﻗﺖ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﺮی ﮔﺎﻧﮉ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮے ﺑﺎپ ﮐﺎ ﻟﻮڑا ﮔﮭﺴﺎ ﮨﺆا ﮨﯽ ﺗﮭﺎ ۔ وﮦ زور زور‬ ‫ﺳﮯ ﺟﮭﭩﮑﮯ ﻣﺎر رﮨﺎ ﺗﮭﺎ ۔ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﺰا آ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ ۔‬ ‫ﭘﮭﺮ اس ﻧﮯ اﭘﻨﺎ ﻟﻨﮉ ﻧﮑﺎل ﻟﯿﺎ اور ﺑﺴﺘﺮ ﭘﺮ ﻟﯿﭧ ﮔﯿﺎ ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ اﭘﻨﮯ دوﻧﻮں ﭘﯿﺮ اس ﮐﮯ دوﻧﻮں اور رﮐﮭﮯ اور اس ﮐﮯ ﻟﻨﮉ ﮐﻮ‬ ‫اﭘﻨﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﯿﮟ ﮔ ُﺴﺎﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﯿﺎ ۔‬ ‫ﮭ‬ ‫ِﺘﺎ ﺟﯽ: ُوﮦ!!!! ﻣﺎدر ﭼﻮد ۔ ﺑﮭﮍوے ۔ ﻣﺰا آ ﮔﯿﺎ ۔ اﺗﻨﺎ ﻣﺰا ﺗﻮ ﺗﯿﺮی ﻣﺎں ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺎرﺗﮯ وﻗﺖ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ آﺗﺎ ۔‬ ‫ا‬ ‫ﭘ‬ ‫ﻣﯿﮟ اوﭘﺮ – ﻧﯿﭽﮯ ﮨﻠﻨﮯ ﻟﮕﺎ ۔ ﻣﯿﺮا ﺑﺎپ ﭼّﺎ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ ۔ ﺷﺎﯾﺪ ﻣﯿﺮے ﺑﺎپ ﮐﻮ درد ﮨﻮ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ ۔ ﺗﻮ وﮦ ﭼّﺎ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ اور ﮔﻨﺪی ﮔﺎﻟﯿﺎں‬ ‫ﻠ‬ ‫ﻠ‬ ‫دے رﮨﺎ ﺗﮭﺎ ۔ ﮨﺮ ﺑﺎر ﺟﺐ اس ﮐﺎ ﻟﻨﮉ ﻣﯿﺮے اﻧﺪر ﺗﮏ ﺟﺎ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ ، ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮩﺖ اﭼﮭﺎ ﻟﮓ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ ۔ ﺟﺲ ﻟﻨﮉ ﮐﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﻣﯿﮟ‬ ‫ﭘﯿﺪا ﮨﺆا ﺗﮭﺎ ، وﮨﯽ ﻟﻨﮉ ﻣﯿﺮی ﮔﺎﻧﮉ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ، ﯾہ ﺳﻮچ ﮐﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮩﺖ ﻣﺰا آﺗﺎ ﺗﮭﺎ ۔‬ ‫ِﺘﺎ ﺟﯽ: آﮦ!!! ﺗﯿﺮی ﻣﺎں ﮐﯽ ﭼﻮت ۔ رﻧﮉی ﮐﯽ اوﻻد ۔ ﻣﯿﮟ ﺟﮭﮍﻧﮯ واﻻ ﮨﻮں ۔‬ ‫ﭘ‬ ‫ﻣﯿﮟ: ﻧﮩﯿﮟ ۔ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﯿﮟ ﻣﺖ ﺟﮭﮍﻧﺎ ۔ ﻣﺠﮭﮯ ﺗﯿﺮا رس ﭘﯿﻨﺎ ﮨﮯ ۔‬ ‫ِﺘﺎ ﺟﯽ: ﺗﻮ ﻧﮑﺎل ﻟﮯ اﭘﻨﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﺳﮯ ﻣﯿﺮا ﻟﻨﮉ اور ﻟﮯ ﻟﮯ اﭘﻨﮯ ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺗﺮﻧﺖ اﺳﮯ اﭘﻨﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﺳﮯ ﻧﮑﺎﻻ اور اﭘﻨﮯ‬ ‫ﭘ‬ ‫ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ رﮐﮫ ﻟﯿﺎ اور اﺳﮯ اﭘﻨﮯ ﻣﻨہ ﮐﮯ اﻧﺪر ﺑﺎﮨﺮ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﺎ ۔ ﺗﮭﻮڑی ﮨﯽ دﯾﺮ ﻣﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ اﭘﻨﮯ ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ ﮔﯿﻼ اور ﭼﭗ ﭼﭙﺎ‬ ‫ﭘﺎﻧﯽ ﻣﺤﺴﻮس ﮨﺆا ۔ ﻣﺠﮭﮯ ﭘﺘہ ﭼﻞ ﮔﯿﺎ ﮐہ ﻣﯿﺮی ﺑﮩﻦ ﭼﻮد ﺑﺎپ ﺟﮭﮍ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ۔ ﻣﺠﮭﮯ ﮨﺮ ﻣﺮد ﮐﮯ ﻟﻨﮉ ﮐﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﺎ ﺳﻮاد ﺑﮩﺖ‬ ‫ﭘﺴﻨﺪ ﮨﮯ ۔ ﻣﯿﮟ ﮨﻤﯿﺸہ اﺳﮯ اﭘﻨﮯ ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﻮں ۔ ١ ﺑﻮﻧﺪ ﺑﮭﯽ ﺿﺎﺋﻊ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ ۔‬ ‫اس ﻃﺮح ﻣﯿﮟ ﻧﮯ اﭘﻨﮯ ﺑﺎپ ﺳﮯ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺮواﺋﯽ اور ﮨﻤﯿﺸہ ﻣﺮواﺗﺎ ﮨﻮں ۔ ﺑﮩﺖ ﺳﺎرے ﻟﻮﮔﻮں ﮐﮯ ﻟﻨﮉ ﻟﮯ ﻟﮯ ﮐﺮ ﻣﯿﺮی ﮔﺎﻧﮉ‬ ‫ﮐﺎﻓﯽ ﺑﮍی ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ ۔ ﭘﺮ ﻣﯿﺮا ﻟﻨﮉ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﮨﯽ ﮨﮯ ۔ وﮦ زﯾﺎدﮦ ﺑﮍا ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ۔ ﺟﯿﺴﺎ ﺑﮭﯽ ﮨﻮ ، ﻣﯿﺮی ﻣﺎں اور ﺑﮩﻦ ﮐﯽ ﭼﺪاﺋﯽ‬ ‫ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﮐﺎﻓﯽ ﮨﮯ ۔‬ ‫۔ ﻣﯿﮟ آپ ﮐﮯ ﻣﺮاﺳﻠﮯ ﮐﺎ ﻣﻨﺘﻈﺮ رﮨﻮں ﮔﺎ ۔ ﻣﺠﮭﮯ اﭘﻨﮯ ﺧﺎﻧﺪان ﮐﮯ ﺑﺎرے ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﮔﻨﺪی ﺑﺎﺗﯿﮟ ﮐﺮﻧﺎ ﺑﮩﺖ ﭘﺴﻨﺪ ﮨﮯ ﭘﺮ‬ ‫ﺻﺮف اﯾﺴﮯ ﻟﻮﮔﻮں ﺳﮯ ﺟﻮ ﺧﻮد ﺑﮭﯽ اﭘﻨﮯ ﺧﺎﻧﺪان ﮐﮯ ﺑﺎرے ﻣﯿﮟ ﮐﺮﯾﮟ ۔ ﺟﻮ ﺑﮭﯽ ﭼﺎﮨﮯ ، ﻣﺠﮭﮯ ﺑﻼ ﻟﮯ ۔‬ 

EMail : PkMasti@aol.com
Yahoo : Jan3y.J4na@yahoo.com

By Unknown with No comments

ﮔﮭﺮیلو چودائی کی مست داستان ﺣﺼہ 3 ‬



ﺣﺼہ ٣‬

ﻣﺎں ﮐﯽ ﺑﺎﺗﯿﮟ‬
‫ﭘﯿﺎرے دوﺳﺘﻮ ۔ راﮨﻮل اﯾﮏ ﻧﺌﯽ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺣﺎﺿﺮ ﮨﮯ ۔ ﯾہ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﮐﭽﮫ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﮨﮯ ۔ اس ﻣﯿﮟ ﻣﺮدوں ﮐﮯ ﺗﻌﻠﻘﺎت ﮐﺎ‬ ‫ذﮐﺮ ﮨﮯ ۔ ﻇﺎﮨﺮ ﮨﮯ ﯾہ ﻏﯿﺮ ﻓﻄﺮی ﻋﻤﻞ ﮨﮯ ۔ اس ﻟﺌﮯ ﻧﺌﮯ ﭘﮍھﻨﮯ واﻟﻮں ﮐﻮ ﺑﺘﺎﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﻮں ﮐہ ﯾہ ﺧﺎﻟﺼﺘً ﻓﺮﺿﯽ ﮐﮩﺎﻧﯽ‬ ‫ﺎ‬ ‫ﮨﮯ ۔ ﻣﯿﺮی ﮐﮩﺎﻧﯿﻮں ﻣﯿﮟ ﮔﻮ ، ﻣﻮت اور دﯾﮕﺮ ﻏﻼﻇﺘﻮں ﺳﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ ﺟﻨﺴﯽ اﻓﻌﺎل ﮐﺎ ﺑﮑﺜﺮت ذﮐﺮ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ۔ اﮔﺮ آپ ﻧﻔﺎﺳﺖ‬ ‫ﭘﺴﻨﺪ واﻗﻊ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﭘﮍھﻨﮯ ﮐﯽ زﺣﻤﺖ ﻧہ ﮐﺮﯾﮟ ۔ دﯾﮕﺮ ﺧﻮاﺗﯿﻦ و ﺣﻀﺮات ﺳﮯ درﺧﻮاﺳﺖ ﮨﮯ ﮐہ آﮔﮯ ﺑﮍھﯿﮟ ۔ ﭘﮩﻠﮯ‬ ‫ﻣﯿﮟ اﭘﻨﮯ ﺧﺎﻧﺪان ﮐﯽ ﺗﮭﻮڑی اور ﺗﻔﺼﯿﻞ ﺑﺘﺎ دﯾﺘﺎ ﮨﻮں ۔ ﻣﯿﮟ اس ﺳﺎل ﺑﯽ۔اﯾﺲ۔ﺳﯽ)ﺳﺎل اول( ﻣﯿﮟ ﮨﻮں اور اﭘﻨﮯ ﺷﮩﺮ ، ﭘﻮﻧﺎ‬ ‫ﮐﮯ اﯾﺲ۔ﭘﯽ۔ ﮐﺎﻟﺞ ﻣﯿﮟ اﻧﺠﻨﺌﯿﺮﻧﮓ ﮐﺮ رﮨﺎ ﮨﻮں ۔ ﺟﺐ ﺳﮯ ﻣﯿﺮا ﻟﻨﮉ ﮐﮭﮍا ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﺎ ، ﻣﯿﺮے ﮔﮭﺮ واﻟﻮں ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﭼﻮدﻧﺎ‬ ‫ِﮑﮭﺎ دﯾﺎ اور ﺗﺒﮭﯽ ﺳﮯ ﮨﯽ ﻣﯿﮟ اﭘﻨﯽ ﻣﺎں اور ﺑﮩﻦ ﮐﻮ ﭼﻮدﺗﺎ ﮨﻮں ۔ ﻣﯿﺮی ﺑﮩﻦ ٢٢ ﺳﺎل ﮐﯽ ﮨﮯ ۔ وﮦ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﺮے ﮨﯽ ﮐﺎﻟﺞ ﻣﯿﮟ‬ ‫ﺳ‬ ‫ﺗﯿﺴﺮے ﺳﺎل ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ۔ اس ﮐﯽ ﭘﯿﻤﺎﺋﯿﺶ ﮨﮯ ٤٣-٠٣-٦٣ ۔ وﮦ ﺑﮭﯽ ﻟﻨﮉ ﮐﯽ دﯾﻮاﻧﯽ ﮨﮯ ۔ اﺳﯽ ﻟﺌﮯ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﭼﺪاﻧﮯ ﮐﮯ‬ ‫ﺑﺎوﺟﻮد وﮦ ﺑﺎﮨﺮ اﭘﻨﮯ ﯾﺎروں ﺳﮯ ﭘﯿﺴﮯ ﻟﮯ ﮐﺮ ﭼﺪاﺗﯽ ﮨﮯ ۔ ﻣﯿﺮی ﻣﺎں ﮔﮭﺮﯾﻠﻮ رﻧﮉی ﮨﮯ ۔ وﮦ ﺑﮩﺖ ﻣﻮﭨﯽ ﮨﮯ ۔ اس ﮐﯽ‬ ‫ﭘﯿﻤﺎﺋﯿﺶ ٦٤-٠٤-٢٤ ﮨﮯ ۔ ﭘﺮ وﮦ ﺻﺮف ﻣﺠﮫ ﺳﮯ اور ﻣﯿﺮے ِﺘﺎ ﺟﯽ ﺳﮯ ﭼﺪاﺗﯽ ﮨﮯ ۔ اﺳﮯ اور ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﮐﯿﻒ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﺘﺎ‬ ‫ﭘ‬ ‫۔ ﻣﯿﺮے ِﺘﺎ ﺟﯽ ١ ﺑﯿﻮﭘﺎری ﮨﯿﮟ ۔ وﮦ ﻧﻘﻞ و ﺣﻤﻞ ﮐﺎ ﮐﺎروﺑﺎر ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔ وﮦ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﺮی ﻣﺎں اور ﺑﮩﻦ ﮐﻮ ﭼﻮدﺗﮯ ۔ اور‬ ‫ﭘ‬ ‫ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮭﯽ ۔ ﮨﺎں ، ﮨﻢ ﺟﻨﺲ ﻣﻮاﻓﻖ اور ﺟﻨﺲ ﻣﺨﺎﻟﻒ دوﻧﻮں ﮐﮯ رﺳﯿﮯ ﺑﮭﯽ ﮨﯿﮟ ۔ ﺗﻮ ﮐﺌﯽ ﺑﺎر ﻣﯿﮟ اور ﻣﯿﺮے ِﺘﺎ ﺟﯽ ﺑﮭﯽ‬ ‫ﭘ‬ ‫آﭘﺲ ﻣﯿﮟ ﮔﺎﻧﮉو ﮔﯿﺮی ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔ ﮐﯿﻮﻧﮑہ اﻧﮩﯿﮟ ﺟﻮ ﭘﺴﻨﺪ ﮨﮯ وﮦ ﺻﺮف ﮨﻤﺎرے ﺧﺎﻧﺪان ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ۔ اس ﻃﺮح ﮨﻢ ﺑﺎ‬ ‫ﺟﻤﺎﻋﺖ ﭼﺪا ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔ اب ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﺷﺮوع ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮں ۔ اﯾﮏ ﺑﺎر ﻣﯿﮟ اﭘﻨﮯ ﮐﻤﺮے ﻣﯿﮟ ﭘﮍھﺎﺋﯽ ﮐﺮ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ ۔ اﭼﺎﻧﮏ‬ ‫ﻣﺠﮭﮯ ﯾﺎد آﯾﺎ ﮐہ ﻣﺠﮭﮯ اﭘﻨﮯ دوﺳﺖ ﮐﻮ ﮐﭽﮫ ﭘﻮﭼﮭﻨﺎ ﮨﮯ ۔ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻣﯿﺰ ﭘﺮ ﭘﮍا ﮔﺸﺘﯽ ﻓﻮن اﭨﮭﺎﯾﺎ اور آواز ﮐﺎ ﺑﭩﻦ دﺑﺎﯾﺎ ﺗﻮ‬ ‫ﻣﺠﮭﮯ دھﯿﺎن ﻣﯿﮟ آﯾﺎ ﮐہ ﮐﻮﺋﯽ اور ﻧﯿﭽﮯ ﮐﮯ ﻓﻮن ﺳﮯ ﺑﺎت ﮐﺮ رﮨﺎ ﮨﮯ ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭨﮭﯿﮏ ﺳﮯ ﺳﻨﺎ ﺗﻮ ﺳﻤﺠﮫ ﻣﯿﮟ آﯾﺎ ﮐہ‬ ‫ﻣﯿﺮی ﻣﺎں ﻣﯿﺮی ﻣﺎﺳﯽ ﺳﮯ ﺑﺎت ﮐﺮ رﮨﯽ ﺗﮭﯽ ۔ ﻣﯿﺮی ﻣﺎﺳﯽ ﺑﮭﯽ ﻣﺴﺖ ﻣﺎل ﮨﮯ ۔ ﭘﺮ وﮦ ﻗﺪ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﮨﮯ اور ﺑﮩﺖ ﭘﺘﻠﯽ‬ ‫ﮨﮯ ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ان دوﻧﻮں ﮐﻮ ﻣﺤﺴﻮس ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﻧﮯ دﯾﺎ ﮐہ ﻣﯿﮟ ﺳﻦ رﮨﺎ ﮨﻮں ۔ اب ان دوﻧﻮں ﮐﯽ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﺳﻨﻮ ۔‬ ‫ﻣﺎں: ﻧﻤﺴﺘﮯ ۔‬ ‫ﻣﺎﺳﯽ: ﻧﻤﺴﺘﮯ ۔ ﮐﯿﺴﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ؟‬ ‫ﻣﺎں: ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﭨﮭﯿﮏ ﮨﻮں ، ﺗﻮ ﮐﯿﺴﯽ ﮨﮯ ؟‬ ‫ﻣﺎﺳﯽ: ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ اﯾﮏ دم ﻣﺴﺖ ﮨﻮں ، ﺟﯿﺠﻮ ﮐﯿﺴﮯ ﮨﯿﮟ ؟‬ ‫

ﻣﺎں: وﮦ ﺗﻮ ﮨﻤﯿﺸہ ﮨﯽ ﭨﮭﯿﮏ رﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ۔ ﻣﯿﮟ اﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﮨﻮﻧﮯ ﻧﮩﯿﮟ دﯾﺘﯽ ۔‬ ‫ﻣﺎﺳﯽ: ﮨﺎں ۔ اس ﮐﮯ ﮐﭽﮫ ﮨﺆا ﺗﻮ ﺗﯿﺮی ﭼﺪاﺋﯽ ﮐﻮن ﮐﺮے ﮔﺎ!‬ ‫ﻣﺎں: اﯾﺴﯽ ﺑﺎت ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ۔ ﭼﺪاﺋﯽ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﻮ ﺗﻮ ﺑﮩﺖ ﻟﻮگ ﮨﯿﮟ ۔ ﻣﯿﺮا ﺑﯿﭩﺎ راﮨﻮل ، ﺷﯿﺎم ﺑﮭﺌﯿﺎ ، اور ﺿﺮورت ﭘﮍی ﺗﻮ ﻣﯿﺮی‬ ‫ﺑﯿﭩﯽ ﺑﮭﯽ ﮨﮯ ﻧﺎ ۔‬ ‫ﻣﺎﺳﯽ: ﮨﺎں ، ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﺑﮭﻮل ﮨﯽ ﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ ﮐہ ﺗﯿﺮا ﺧﺎﻧﺪان ﮐﺘﻨﺎ ﭼﺪ ّﮍ ﮨﮯ ۔‬ ‫ﮐ‬ ‫ﻣﺎں: ﮨﺎں ۔ ﻣﯿﺮے ﺧﺎﻧﺪان ﮐﺎ ﻣﺰا ﮨﯽ ﮐﭽﮫ اور ﮨﮯ۔ ﮨﻢ ﮔﮭﺮ ﭘﺮ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﮐﭙﮍے ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮩﻨﺘﮯ ۔ ﺳﺐ دن ﺑﮭﺮ ﻧﻨﮕﮯ ﮔﮭﻮم رﮨﮯ‬ ‫ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔ ﺟﺐ ﺟﺲ ﺳﮯ ﻣﻦ ﮐﺮے ، ﺟﺲ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﻦ ﮐﺮے ، ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ۔ ﮐﺒﮭﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﺎورﭼﯽ ﺧﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ‬ ‫ﮨﻮﺗﯽ ﮨﻮں ﺗﻮ ﻣﯿﺮا ﺑﯿﭩﺎ آ ﮐﺮ اﭼﺎﻧﮏ ﻣﯿﺮی ﮔﺎﻧﮉ ﻣﯿﮟ اﭘﻨﺎ ﻣﻨہ ڈال دﯾﺘﺎ ﮨﮯ اور اﺳﮯ ﭼﺎﭨﻨﮯ اور ﭼﻮﺳﻨﮯ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ ۔ ﮐﺒﮭﯽ ﻣﯿﺮا‬ ‫ﭘﺘﯽ اﭼﺎﻧﮏ ﮨﯽ ﺳﻮﻓﮯ ﭘﺮ ﺳﮯ اﭨﮭﺘﺎ ﮨﮯ اور ﻣﯿﺮی ﺑﯿﭩﯽ ﮐﮯ ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ اﭘﻨﺎ ﻟﻨﮉ دے دﯾﺘﺎ ﮨﮯ ۔ ﺑﮩﺖ اﭼﮭﺎ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ ﯾہ ﺳﺐ دﯾﮑﮫ‬ ‫ﮐﺮ ۔‬ ‫ﻣﺎﺳﯽ: ﯾہ ﺳﺐ ﺳﻦ ﮐﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮩﺖ دﮐﮫ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ۔ ﻣﺠﮭﮯ ﺗﻮ ﺳﺎﻟﻮں ﺳﮯ ﺻﺮف اﭘﻨﮯ ﭘﺘﯽ ﮐﮯ ﻟﻨﮉ ﺳﮯ ﮨﯽ اﭘﻨﯽ ﭼﻮت ﮐﯽ‬ ‫ﭘﯿﺎس ﺑﺠﮭﺎﻧﯽ ﭘﮍ رﮨﯽ ﮨﮯ ۔ اس ﮐﮯ ﻟﻨﮉ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ اﺑﮭﯽ دم ﻧﮩﯿﮟ رﮨﺎ ۔ ﻣﯿﺮے آدھﺎ ﮔﮭﻨﭩﮯ ﺗﮏ ﭼﻮﺳﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ وﮦ ﮐﮭﮍا ﮨﻮﺗﺎ‬ ‫ﮨﮯ ۔ اور وﮦ ﺻﺮف ﻣﯿﺮی ﭼﻮت ﻣﺎرﺗﺎ ﮨﮯ ۔ ﻧﺎ ﮔﺎﻧﮉ ﮐﻮ ﮨﺎﺗﮫ ﻟﮕﺎﺗﺎ ﮨﮯ ، ﻧہ ﻣﯿﺮے ﻣ ّﻮں ﮐﻮ ۔ ﻧﺎ ﮨﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﯿﭩﺎ ﮨﮯ ،‬ ‫ﻤ‬ ‫ﺟﺲ ﺳﮯ ﻣﯿﮟ اﭘﻨﯽ ﭘﯿﺎس ﺑﺠﮭﺎؤں ۔‬ ‫ﻣﺎں: ﮨﺎں اﻟﮑﺎ ۔ ﻣﺠﮭﮯ ﺗﻮ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ُﺆرگ ﻣﯿﮟ ﮨﻮں ۔ ﻣﯿﺮا ﺑﯿﭩﺎ راﮨﻮل ﻣﺠﮭﮯ اور ﻣﯿﺮی ﺑﯿﭩﯽ ﮐﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﻤﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮍﻧﮯ‬ ‫ﺳ‬ ‫دﯾﺘﺎ ۔ اس ﺳﮯ ﺟﻮ ﺑﮭﯽ ﮐﮩﻮ ، ﮐﺮ دﯾﺘﺎ ﮨﮯ ۔ ﯾﮩﺎں ﺗﮏ ﮐہ وﮦ اﭘﻨﮯ ﺑﺎپ ﺳﮯ ﮔﺎﻧﮉ ﺑﮭﯽ ﻣﺮواﺗﺎ ﮨﮯ ۔‬ ‫ﻣﺎﺳﯽ: ﮐﯿﺎ ؟ راﮨﻮل ﮔﺎﻧﮉو ﮨﮯ ؟‬ ‫ﻣﺎں: ﮨﺎں ۔ اﺳﮯ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺮواﻧﺎ ﺑﮭﯽ ﺑﮩﺖ ﭘﺴﻨﺪ ﮨﮯ ۔ اﺳﯽ ﻟﺌﮯ ﺗﻮ اس ﮐﺎ ﻟﻨﮉ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﮨﮯ ﭘﺮ ﮔﺎﻧﮉ ﺑﮍی ﮨﮯ ۔ اس ﻧﮯ ﺑﮩﺖ ﻟﻮﮔﻮں‬ ‫ﺳﮯ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺮواﺋﯽ ﮨﮯ ۔ ﮐﺌﯽ ﺑﺎر ﺟﺐ ﻣﯿﮟ اور ﻣﯿﺮی ﺑﯿﭩﯽ ﻣﯿﺮے ﭘﺘﯽ ﮐﮯ دوﺳﺘﻮں ﮐﻮ ﺧﻮش ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﭘﺎﺗﮯ ، ﺗﻮ راﮨﻮل ﮨﯽ‬ ‫ان ﺳﮯ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺮوا ﮐﺮ اﻧﮩﯿﮟ ﺧﻮش ﮐﺮ دﯾﺘﺎ ﮨﮯ ۔‬ ‫ﻣﺎﺳﯽ: واﮦ ِﻠﭙﺎ ۔ ﺗﻮ ﻧﮯ ﺗﻮ ﭘﻮرے ﮔﮭﺮ ﮐﻮ رﻧﮉی ﺧﺎﻧہ ﺑﻨﺎ دﯾﺎ ﮨﮯ ۔ ﮐﺎش ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺗﯿﺮے ﮨﯽ ﮔﮭﺮ آ ﺳﮑﺘﯽ ۔ ﻣﯿﺮا ﭘﺘﯽ ﺗﻮ‬ ‫ﺷ‬ ‫ﺻﺮف ﭼﻮت ﻣﯿﮟ ﻟﻨﮉ ڈاﻟﺘﺎ ﮨﮯ ۔ ﺑﺎﻗﯽ ﮐﭽﮫ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ۔ ﺗﺠﮭﮯ ﺗﻮ ﭘﺘہ ﮨﮯ ﻧﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﯿﺴﯽ ﮔﻨﺪی ﮔﻨﺪی ﭼﯿﺰﯾﮟ ﭘﺴﻨﺪ ﮨﯿﮟ ۔‬ ‫ﯾﺎد ﮨﮯ ﺑﭽﭙﻦ ﻣﯿﮟ ﮨﻢ ﮐﯿﺎ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ۔ ﮔﺎؤں ﮐﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﺟﺎ ﮐﺮ ﭼﭙﮑﮯ ﺳﮯ ﻣﺮدوں ﮐﻮ ﺳﻨﺪاس ﮐﺮﺗﮯ دﯾﮑﮭﺘﯽ ﺗﮭﮯ ۔ ان‬ ‫ﮐﮯ ﭘﺎد ﮐﯽ ﺑﺪﺑﻮ ﺳﻮﻧﮕﮭﺘﮯ ﺗﮭﮯ ۔ اور ﮐﺌﯽ ﺑﺎر ﺗﻮ ﺷﺎم ﮐﻮ ﺟﺎ ﮐﺮ ﮨﻢ ﭨّﯽ ﮐﻮ ﭼﮑﮭﺘﮯ ﺑﮭﯽ ﺗﮭﮯ ۔‬ ‫ﭩ‬ ‫ﻣﺎں: ﮨﺎں ، ﯾﺎد ﮨﮯ ۔ اور ﺗﺠﮭﮯ ﯾﺎد ﮨﮯ ﮐﯿﺴﮯ ﮨﻢ ﺟﺎن ﺑﻮﺟﮫ ﮐﺮ اﯾﺴﯽ ﺟﮕہ ﺳﻨﺪاس ﮐﺮﻧﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺟﮩﺎں ﺳﮯ ﮔﺎؤں ﮐﮯ‬ ‫ﻟﮍﮐﮯ ﮨﻤﯿﮟ دﯾﮑﮭﺘﯽ ﺗﮭﮯ ۔‬ ‫ﻣﺎﺳﯽ: ﮨﺎں رے ۔ ﭘﺮ وﮦ دن ﮨﯽ اﻟﮓ ﺗﮭﮯ ۔ اب ﮐﮩﺎں وﯾﺴﯽ ﻣﺴﺘﯽ ۔‬ ‫ﻣﺎں: ﻧﮩﯿﮟ اﻟﮑﺎ ۔ ﻣﯿﺮے وﮦ دن ﮐﮩﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﮔﺌﮯ ۔ ﻣﯿﺮے ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﯾہ ﺳﺐ ﺑﮩﺖ ﭼﻠﺘﺎ ﮨﮯ ۔ ﻣﯿﺮے ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺳﺒﮭﯽ ﮔﻨﺪی‬ ‫ﭼﯿﺰوں ﮐﮯ ﺑﮩﺖ ﺷﻮﻗﯿﻦ ﮨﯿﮟ۔ ﮨﻢ اﯾﮏ دوﺳﺮے ﮐﯽ ﭨّﯽ ﮐﮭﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ، ﭘﯿﺸﺎب ﭘﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ ۔ ﯾﮩﺎں ﺗﮏ ﮐہ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ اور ﻣﯿﺮی ﺑﯿﭩﯽ‬ ‫ﭩ‬ ‫ﻧﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﻐﻞ ﮐﮯ ﺑﺎل ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺎﭨﮯ ۔

ﮐﯿﻮﻧﮑہ ﺟﺐ اس ﭘﺮ ﭘﺴﯿﻨہ آﺗﺎ ﮨﮯ اور ﻣﯿﺮا ﺑﻼؤز ﮔﯿﻼ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ، ﺗﻮ ﻣﯿﺮے ﭘﺘﯽ اور‬ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﻮ اﺳﮯ دﯾﮑﮭﻨﺎ ﺑﮩﺖ ﭘﺴﻨﺪ ﮨﮯ ۔ ﻣﯿﺮی ﺑﻐﻞ ﮐﮯ ﺑﺎل اﺗﻨﮯ ﻟﻤﺒﮯ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ ﮐہ ان ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺑﮩﺖ ﺑﺪﺑﻮ آﺗﯽ ﮨﮯ ، ﺟﻮ‬ ‫ﻣﯿﺮے ﭘﺘﯽ اور ﺑﯿﭩﮯ ﮐﻮ ﻣﺪﮨﻮش ﮐﺮ دﯾﺘﯽ ﮨﮯ ۔‬ ‫ﻣﺎﺳﯽ: ﮐﯿﺎ ﺳﭻ ﻣﯿﮟ ؟‬ ‫ﻣﺎں: ﮨﺎں ۔ اور ﺗﺠﮭﮯ ﮐﯿﺎ ﺑﺘﺎؤں ۔ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﺒﮭﯽ رات ﮐﻮ ﭘﯿﺸﺎب ﯾﺎ ﭨّﯽ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺑﯿﺖ اﻟﺨﻼ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﻧﺎ ﭘﮍﺗﺎ ۔ ﻣﯿﺮا ﭘﺘﯽ‬ ‫ﭩ‬ ‫ﯾﺎ ﺑﯿﭩﺎ ، ﺟﺲ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﮟ رات ﮐﻮ ﺳﻮﺋﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﻮں ، وﮨﯽ ﻣﯿﺮی ﭼﻮت ﺳﮯ ﭘﯿﺸﺎب اور ﮔﺎﻧﮉ ﺳﮯ ﭨّﯽ ﺑﺮاﮦ راﺳﺖ‬ ‫ﭩ‬ ‫اﭘﻨﮯ ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﮯ ۔ ﻣﯿﮟ ﺻﺮف اس ﮐﮯ ﻣﻨہ ﭘﺮ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﻮں ، اور ﺟﻮ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﮯ ، ﮐﺮ دﯾﺘﯽ ﮨﻮں ۔‬ ‫ﻣﺎﺳﯽ: ﺳﺎﻟﯽ ﭼﻨﺎل ۔ ﺗﻮ ﺑﮭﯽ ﺗﯿﺮی ﻣﺎں ﮐﯽ ﻃﺮح رﻧﮉی ﺑﻦ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ ۔ ﺗﯿﺮی ﻣﺎں ، ﻣﻄﻠﺐ ﻣﯿﺮی ﻣﺎﺳﯽ ﺑﮭﯽ ان ﺳﺐ ﭼﯿﺰوں‬ ‫ﻣﯿﮟ ﻣﺎﮨﺮ ﺗﮭﯽ ۔‬ ‫ﻣﺎں: ﭘﺘہ ﮨﮯ ۔ اس ﻟﺌﮯ ﺗﻮ اﻧﮩﻮں ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ان ﺳﮯ ﺷﺎدی ﮐﺮواﺋﯽ ۔ ﻣﯿﺮا ﭘﺘﯽ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﻣﯿﺮی ﻣﺎں ﮐﻮ ﭼﻮدﺗﺎ ﺗﮭﺎ ۔‬ ‫اور اﺑﮭﯽ ﺑﮭﯽ ﺟﺐ ﻣﺎں ﯾﮩﺎں آﺗﯽ ﮨﮯ ﯾﺎ ﮨﻢ وﮨﺎں ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ، ﺗﻮ ﺧﻮب ﭼﺪاﺋﯽ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔ ِﺘﺎ ﺟﯽ ﮐﮯ ﮔﺰر ﺟﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ‬ ‫ﭘ‬ ‫ﻣﯿﺮے ﭘﺘﯽ ﻧﮯ ﮨﯽ ﻣﯿﺮی ﻣﺎں ﮐﯽ ﭼﻮت ﮐﻮ ﭨﮭﻨﮉا رﮐﮭﺎ ﮨﮯ ۔ اور اب ﻣﯿﺮا ﺑﯿﭩﺎ ﺑﮭﯽ اﭘﻨﯽ دادی ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ اور ﭼﻮت ﻣﺎرﻧﮯ ﻣﯿﮟ‬ ‫ﮐﻮﺋﯽ ﮐﺴﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﮭﻮڑﺗﺎ ۔‬ ‫ﻣﺎﺳﯽ: ﺗﯿﺮا ﺗﻮ ﺳﺐ ﭨﮭﯿﮏ ﮨﮯ ، ﭘﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﮐﺮوں ۔ ﻣﯿﺮا ﭘﺘﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﭨﮭﯿﮏ ﺳﮯ ﭼﻮدﺗﺎ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ۔ ﻣﯿﺮی ﭼﻮت ﭘﯿﺎﺳﯽ ﮨﯽ رﮦ‬ ‫ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ۔ اور ﮔﺎﻧﮉ ﮐﻮ ﺗﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﮨﺎﺗﮫ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﮕﺎﺗﺎ وﮦ ۔ ﺟﺐ ﮐہ ﺗﺠﮭﮯ ﭘﺘہ ﮨﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﭼﻮت ﺳﮯ زﯾﺎدﮦ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﺴﻮاﻧﺎ‬ ‫ﭘﺴﻨﺪ ﮨﮯ ۔ ﯾﺎد ﮨﮯ ﮐﯿﺴﮯ ﻣﯿﮟ ﭨّﯽ ﮐﺮﺗﮯ وﻗﺖ ﮐﺲ ﻃﺮح آس ﭘﺎس ﮐﯽ ﻟﮑﮍﯾﺎں ﻟﮯ ﮐﺮ ﻣﯿﺮی ﮔﺎﻧﮉ ﻣﯿﮟ ڈاﻟﺘﯽ ﺗﮭﯽ ۔ اب‬ ‫ﭩ‬ ‫ﻣﺠﮭﮯ اﭘﻨﯽ اﻧﮕﻠﯽ ﺳﮯ ﮐﺎم ﭼﻼﻧﺎ ﭘﮍﺗﺎ ﮨﮯ ، ﭘﺮ وﮦ ﮐﺎﻓﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ۔‬ ‫ﻣﺎں: ﺗﻮ ﮐﺴﯽ ﭘﮍوﺳﯽ ﺳﮯ ﮐﯿﻮں ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮩﺘﯽ ؟ ﮐﻮﺋﯽ اﭼﮭﺎ ﻣﺮد ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﮐﯿﺎ ﺗﯿﺮے ﭘﮍوس ﻣﯿﮟ ۔‬ ‫ﻣﺎﺳﯽ: ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﮐﺌﯽ ۔ ﺟﻨﮩﯿﮟ دﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ ﮐہ ان ﮐﺎ ﻟﻨﮉ وﮨﯿﮟ ﮐﮭﻮل ﮐﺮ ﭼﻮﺳﻨﮯ ﻟﮓ ﺟﺎؤں ۔ ﭘﺮ اﮔﺮ ﭘﮍوس ﻣﯿﮟ ﺑﺎت ﮐﺴﯽ‬ ‫ﮐﻮ ﭘﺘہ ﭼﻞ ﮔﺌﯽ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﯾﮩﺎں رﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﺎؤں ﮔﯽ ۔‬ ‫ﻣﺎں: ﺗﻮ اﭘﻨﮯ ﺑﮍے ﺑﮭﺎﺋﯽ ، راﺟﯿﺶ ﺑﮭﺌﯿﺎ ﺳﮯ ﮐﯿﻮں ﻧﮩﯿﮟ ﭼﺪواﺗﯽ ۔ ﻣﺴﺖ ﮨﮯ ﺳﺎﻻ وﮦ ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ١ ﺑﺎر اﺳﮯ ﻧﮩﺎﺗﮯ دﯾﮑﮭﺎ‬ ‫ﺗﮭﺎ ۔ ﮐﯿﺎ ﻣﺴﺖ ﻟﻨﮉ ﺗﮭﺎ اس ﮐﺎ ۔ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﺲ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﮔﺎﻧﮉ ﭘﮭﭧ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ ۔‬ ‫ﻣﺎﺳﯽ: ﭘﺮ اس ﮐﯽ ﺗﻮ ﺷﺎدی ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ ۔ اور وﮦ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺑﮩﺖ ﭘﯿﺎر ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ۔ ﺑﺎت ﺑﮕﮍ ﮔﺌﯽ ﺗﻮ ؟‬ ‫ﻣﺎں: ﺷﺎدی ﮨﻮﺋﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﮨﺆا ؟ دﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﮨﺮ ﻣﺮد ﮐﻮ اﻟﮓ اﻟﮓ ﭼﻮت اور ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺎرﻧﮯ ﮐﯽ ِﭼ ّﺎ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ۔ ﺗﻮ ﭼﮭﻮﭨﯽ اور‬ ‫ا ﮭ‬ ‫ﭘﺘﻠﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﮨﺆا ؟ اﺳﮯ ﺑﺘﺎ دے ﮐہ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﮐﯿﺎ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ ۔ اﺳﮯ دﮐﮭﺎ دے ﮐہ ﺗﻮ اس ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﺑﮭﯽ ﭼﺎٹ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ ۔‬ ‫ﻟﻨﮉ ﮐﺎ ﺳﻔﯿﺪ ﭘﺎﻧﯽ ﺑﮭﯽ ﭘﯽ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ اور ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ ۔‬ ‫ﻣﺎﺳﯽ: ﮨﺎں ۔ ﯾہ ﺗﻮ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ۔ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ اس ﺳﮯ ﮐﮩﯿﮟ زﯾﺎدﮦ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﻮں ۔ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ اس ﮐﯽ ﭘﯿﺸﺎب اور ﭨّﯽ ﺑﮭﯽ اﭘﻨﮯ‬ ‫ﭩ‬ ‫ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﻮں ۔ اس ﮐﮯ ﺷﺮﯾﺮ ﺳﮯ ﻧﮑﻠﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﯿﺰ ﻣﯿﮟ ﺿﺎﺋﻊ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﻧﮯ دوں ﮔﯽ ۔‬ ‫ﻣﺎں; ﺗﻮ ﭨﮭﯿﮏ ﮨﮯ ، اس ﺑﺎر ﺟﺐ ﺑﮭﺌﯿﺎ ﺗﯿﺮے ﮔﮭﺮ آﺋﯿﮟ ﮔﮯ ، اور ﺟﯿﺠﻮ ﮐﺎم ﮐﻮ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ، ﺗﻮ دﮐﮭﺎ دﯾﻨﺎ اﺳﮯ اﭘﻨﺎ ﺟﻠﻮﮦ ۔‬ ‫دﮐﮭﺎ دے ﮐہ ﺗﻮ ﮐﺘﻨﯽ ﺑﮍی ﭼﻨﺎل رﻧﮉی ﮨﮯ ۔‬

‫ﻣﺎﺳﯽ: ﮨﺎں ِﻠﭙﺎ ۔ ﭨﮭﯿﮏ ﮨﮯ ۔ ﻣﯿﮟ اب اﯾﺴﺎ ﮨﯽ ﮐﺮوں ﮔﯽ ۔ ﺷﮑﺮﯾہ ﺗﯿﺮی ﺗﺠﻮﯾﺰ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ۔‬ ‫ﺷ‬ ‫ﻣﺎں: ارے ﺷﮑﺮﯾہ ﮐﺲ ﺑﺎت ﮐﺎ ۔ ﺧﺎﻟہ زاد ﮨﮯ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﮨﺆا ، ﻣﯿﮟ ﺗﺠﮭﮯ ﺳﮕﯽ ﺑﮩﻦ ﺟﺘﻨﺎ ﮨﯽ ﭘﯿﺎر ﮐﺮﺗﯽ ﮨﻮں ۔ ﺑﮭﻮل ﮔﺌﯽ وﮦ دن‬ ‫ﺟﺐ ﮨﻢ دوﻧﻮں ﮐﺎﻟﺞ ﮐﯽ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍی رﻧﮉﯾﺎں ﺗﮭﯿﮟ ۔ اﯾﺴﺎ ﮐﻮﺋﯽ اﺳﺘﺎد ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ ، ﺟﺲ ﮐﺎ ﻟﻨﮉ ﮨﻢ ﻧﮯ اﭘﻨﯽ ﮔﺎﻧﮉ اور ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ ﻧہ‬ ‫ﻟﯿﺎ ﮨﻮ ۔‬ ‫ﻣﺎﺳﯽ: ﮨﺎں ، اور اس ﻟﺌﮯ ﺗﻮ ﮨﻤﯿﮟ ﮨﻤﯿﺸہ ﭘﻮرے ﻧﻤﺒﺮ ﻣﻠﺘﮯ ﺗﮭﮯ ۔‬ ‫ﻣﺎں: ﺻﺤﯿﺢ ﮨﮯ ۔ ﭼﻞ آ ﻣﯿﮟ ﻓﻮن رﮐﮭﺘﯽ ﮨﻮں ۔ ﻣﯿﺮے ﺑﯿﭩﮯ ﮐﺎ ﻟﻨﮉ ﮐﮭﮍا ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﮨﻮ ﮔﺎ ، اﺳﮯ ﺷﺎﻧﺖ ﮐﺮاﻧﺎ ﮨﮯ ۔‬ ‫ﻣﺎﺳﯽ: ﭨﮭﯿﮏ ﮨﮯ ۔ اﮔﻠﯽ ﺑﺎر ﻓﻮن ﮐﺮوں ﮔﯽ ﺗﻮ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺧﻮش ﺧﺒﺮی ﺿﺮور ﺳﻨﺎؤں ﮔﯽ ۔‬ ‫ﻣﺎں: ﺿﺮور ۔ ﻣﯿﮟ اﻧﺘﻈﺎر ﮐﺮوں ﮔﯽ ۔ ﻧﻤﺴﺘﮯ‬ ‫ﻣﺎﺳﯽ: ﻧﻤﺴﺘﮯ ۔ ﯾہ ﺳﺐ ﺳﻦ ﮐﺮ ﻣﯿﺮا ﻟﻨﮉ ﮨﻮا ﻣﯿﮟ اڑﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﺗﮭﺎ ۔ ﻣﯿﺮی ﻣﺎں ﻣﯿﺮے ﮐﻤﺮے ﻣﯿﮟ آﺋﯽ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ اﺳﮯ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮐہ‬ ‫ﻣﯿﮟ ﺳﺐ ﺳﻦ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ ۔ وﮦ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻮﻟﯽ اور ﺳﯿﺪھﯽ ﻣﯿﺮے ﻟﻨﮉ ﮐﻮ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﮐﺮ ﮨﻼﻧﮯ ﻟﮕﯽ ۔ ﭘﮭﺮ ﺗﻮ آپ ﺳﻤﺠﮫ ﮨﯽ ﮔﺌﮯ‬ ‫ﮨﻮں ﮔﮯ آﮔﮯ ﮐﯿﺎ ﮨﺆا ۔‬ 


EMail : PkMasti@aol.com
Yahoo : Jan3y.J4na@yahoo.com

By Unknown with No comments

ﮔﮭﺮیلو چودائی کی مست داستان ﺣﺼہ 2 ‬



ﺣﺼہ ٢‬

ﭘﯿﺎرے دوﺳﺘﻮ ، اﻣﯿﺪ ﮨﮯ ﮐہ آپ ﮐﻮ ﭘﭽﮭﻠﯽ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﭘﺴﻨﺪ آﺋﯽ ﮨﻮ ﮔﯽ ۔ اب ﻣﯿﮟ اﯾﮏ ﻧﺌﯽ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺣﺎﺿﺮ ﮨﻮں ۔ ﺟﻦ‬ ‫ﻟﻮﮔﻮں ﻧﮯ ﻣﯿﺮی ﭘﭽﮭﻠﯽ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮍھﯽ ، اﻧﮩﯿﮟ ﯾہ ﺑﺘﺎﻧﺎ ﺿﺮوری ﮨﮯ ﮐہ ﯾہ ﺧﺎﻟﺼﺘً ﻓﺮﺿﯽ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﮨﮯ ۔ ﻣﯿﺮی ﮐﮩﺎﻧﯿﻮں‬ ‫ﺎ‬ ‫ﻣﯿﮟ ﮔﻮ ، ﻣﻮت اور دﯾﮕﺮ ﻏﻼﻇﺘﻮں ﺳﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ ﺟﻨﺴﯽ اﻓﻌﺎل ﮐﺎ ﺑﮑﺜﺮت ذﮐﺮ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ۔ اﮔﺮ آپ ﻧﻔﺎﺳﺖ ﭘﺴﻨﺪ واﻗﻊ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ‬ ‫ﭘﮍھﻨﮯ ﮐﯽ زﺣﻤﺖ ﻧہ ﮐﺮﯾﮟ ۔ دﯾﮕﺮ ﺧﻮاﺗﯿﻦ و ﺣﻀﺮات ﺳﮯ درﺧﻮاﺳﺖ ﮨﮯ ﮐہ آﮔﮯ ﺑﮍھﯿﮟ ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ اﭘﻨﯽ آﻧﮑﮫ ﮐﮭﻮﻟﯽ ﺗﻮ‬ ‫دﯾﮑﮭﺎ ﮐہ ﻣﯿﺮی ﻣﺎں ﻣﯿﺮے ﺑﺎزو ﻣﯿﮟ ﻧﻨﮕﯽ ﺳﻮﺋﯽ ﭘﮍی ﮨﮯ ۔ ﻣﺠﮭﮯ ﯾﺎد آﯾﺎ ﮐﯿﺴﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ اﺳﮯ ﮐﺘﯿﺎ ﮐﯽ ﻃﺮح رات ﮐﻮ‬ ‫ﭼﻮدا ﺗﮭﺎ ۔ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻧﻨﮕﺎ ﮨﯽ ﺳﻮ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ۔ ﻣﯿﮟ ﺑﺴﺘﺮ ﺳﮯ اﭨﮭﺎ اور ﮨﮕﻨﮯ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ ۔ ﮨﻤﺎرے ﮔﮭﺮ ﭘﺮ ﮨﻢ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ دروازﮦ ﮐﮭﻼ‬ ‫رﮐﮫ ﮐﺮ ﮨﯽ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔ ﻣﯿﮟ ﺳﻨﺪاس ﮐﺮ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ ، ﺗﻮ ﻣﯿﺮی ﻣﺎں ، ﺟﻮ ﭘﻮری ﻧﻨﮕﯽ ﺗﮭﯽ ، اﻧﺪر آ ﮔﺌﯽ ۔ ﺗﺐ ﺗﮏ ﻣﯿﺮی ﭨّﯽ‬ ‫ﭩ‬ ‫ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ ۔ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ اﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﮐہ وﮦ اﺳﮯ ﭼﺎٹ ﮐﺮ ﺻﺎف ﮐﺮ دے ۔ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﻮم ﮔﯿﺎ اور اس ﻧﮯ ﻣﯿﺮے ﭼﮭﯿﺪ ﭘﺮ ﺟﯿﺒﮫ‬ ‫رﮐﮫ ﮐﺮ ﭘﻮری ﮔﺎﻧﮉ ﺻﺎف ﮐﺮ دی ۔ ﭘﮭﺮ ﮨﻢ دوﻧﻮں ﻧﯿﭽﮯ ﮔﺌﮯ ۔ وﮨﺎں ِﺘﺎ ﺟﯽ اور دﯾﺪی ﻧﻨﮕﮯ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺗﮭﮯ ۔ ﭘﮩﻠﮯ ﻣﯿﮟ اﭘﻨﮯ‬ ‫ﭘ‬ ‫ﺧﺎﻧﺪان ﮐﯽ ﺗﮭﻮڑی اور ﺗﻔﺼﯿﻞ ﺑﺘﺎ دﯾﺘﺎ ﮨﻮں ۔ ﻣﯿﮟ اس ﺳﺎل ﺑﯽ۔اﯾﺲ۔ﺳﯽ)ﺳﺎل اول( ﻣﯿﮟ ﮨﻮں اور اﭘﻨﮯ ﺷﮩﺮ ، ﭘﻮﻧﺎ ﮐﮯ‬ ‫اﯾﺲ۔ﭘﯽ۔ ﮐﺎﻟﺞ ﻣﯿﮟ اﻧﺠﻨﺌﯿﺮﻧﮓ ﮐﺮ رﮨﺎ ﮨﻮں ۔ ﺟﺐ ﺳﮯ ﻣﯿﺮا ﻟﻨﮉ ﮐﮭﮍا ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﺎ ، ﻣﯿﺮے ﮔﮭﺮ واﻟﻮں ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﭼﻮدﻧﺎ ِﮑﮭﺎ‬ ‫ﺳ‬ ‫دﯾﺎ اور ﺗﺒﮭﯽ ﺳﮯ ﮨﯽ ﻣﯿﮟ اﭘﻨﯽ ﻣﺎں اور ﺑﮩﻦ ﮐﻮ ﭼﻮدﺗﺎ ﮨﻮں ۔ ﻣﯿﺮی ﺑﮩﻦ ٢٢ ﺳﺎل ﮐﯽ ﮨﮯ ۔ وﮦ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﺮے ﮨﯽ ﮐﺎﻟﺞ ﻣﯿﮟ‬ ‫ﺗﯿﺴﺮے ﺳﺎل ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ۔ اس ﮐﯽ ﭘﯿﻤﺎﺋﯿﺶ ﮨﮯ ٤٣-٠٣-٦٣ ۔ وﮦ ﺑﮭﯽ ﻟﻨﮉ ﮐﯽ دﯾﻮاﻧﯽ ﮨﮯ ۔ اﺳﯽ ﻟﺌﮯ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﭼﺪاﻧﮯ ﮐﮯ‬ ‫ﺑﺎوﺟﻮد وﮦ ﺑﺎﮨﺮ اﭘﻨﮯ ﯾﺎروں ﺳﮯ ﭘﯿﺴﮯ ﻟﮯ ﮐﺮ ﭼﺪاﺗﯽ ﮨﮯ ۔ ﻣﯿﺮی ﻣﺎں ﮔﮭﺮﯾﻠﻮ ﻋﻮرت ﮨﮯ ۔ وﮦ ﺑﮩﺖ ﻣﻮﭨﯽ ﮨﮯ ۔ اس ﮐﯽ‬ ‫ﭘﯿﻤﺎﺋﯿﺶ ﺗﻘﺮﯾﺒً ٦٤-٠٤-٢٤ ﮨﮯ ۔ ﭘﺮ وﮦ ﺻﺮف ﻣﺠﮫ ﺳﮯ اور ﻣﯿﺮے ِﺘﺎ ﺟﯽ ﺳﮯ ﭼﺪاﺗﯽ ﮨﮯ ۔ اﺳﮯ اور ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﮐﯿﻒ‬ ‫ﭘ‬ ‫ﺎ‬ ‫ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﺘﺎ ۔ ﻣﯿﺮے ِﺘﺎ ﺟﯽ ١ ﺑﯿﻮﭘﺎری ﮨﯿﮟ ۔ وﮦ ﻧﻘﻞ و ﺣﻤﻞ ﮐﺎ ﮐﺎروﺑﺎر ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔ وﮦ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﺮی ﻣﺎں اور ﺑﮩﻦ ﮐﮯ ﺳﻮا‬ ‫ﭘ‬ ‫ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﻮدﺗﮯ ۔ ﮐﯿﻮﻧﮑہ اﻧﮩﯿﮟ ﺟﻮ ﭘﺴﻨﺪ ﮨﮯ وﮦ ﺻﺮف ﮨﻤﺎرے ﺧﺎﻧﺪان ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ۔ اس ﻃﺮح ﮨﻢ ﺑﺎ ﺟﻤﺎﻋﺖ ﭼﺪا‬ ‫ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔

اب ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﺷﺮوع ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮں ۔ ﻣﯿﮟ اور ﻣﺎں ﻧﯿﭽﮯ ﮔﺌﮯ ﺗﻮ دﯾﮑﮭﺎ ﻣﯿﺮی دﯾﺪی ِﺘﺎ ﺟﯽ ﮐﺎ ﻟﻨﮉ ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ‬ ‫ﭘ‬ ‫رﮨﯽ ﮨﮯ ۔ وﮦ اﺳﮯ زور زور ﺳﮯ ﭼﻮس رﮨﯽ ﺗﮭﯽ ۔ ﻣﯿﮟ ِﺘﺎ ﺟﯽ ﮐﮯ ﺑﺎزو ﻣﯿﮟ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﯿﺎ ۔ ﺗﻮ دﯾﺪی ﻧﮯ ِﺘﺎ ﺟﯽ ﮐﮯ‬ ‫ﭘ‬ ‫ﭘ‬ ‫ﻟﻨﮉ ﺳﮯ اﭘﻨﺎ ﻣﻨہ ﻧﮑﺎﻻ اور ﻣﯿﺮا ﻟﻨﮉ ﭼﻮﺳﻨﮯ ﻟﮕﯽ ۔ ﺗﺒﮭﯽ ﻣﯿﺮے ِﺘﺎ ﺟﯽ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﮔﺌﮯ اور اس ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﯿﮟ اﭘﻨﺎ ﻟﻨﮉ ڈال دﯾﺎ ۔‬ ‫ﭘ‬ ‫ِﺘﺎ ﺟﯽ ﺟﯿﺴﮯ ﺟﯿﺴﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﺳﮯ ﺟﮭﭩﮑﺎ ﻣﺎر رﮨﮯ ﺗﮭﮯ ، ﻣﯿﺮا ﻟﻨﮉ دﯾﺪی ﮐﮯ ﻣﻨہ ﺳﮯ اﻧﺪر-ﺑﺎﮨﺮ ﮨﻮ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ ۔ ﺗﮭﻮڑی دﯾﺮ‬ ‫ﭘ‬ ‫ﺗﮏ ﯾﮩﯽ ﭼﻠﺘﺎ رﮨﺎ ۔ ﺗﮭﻮڑی دﯾﺮ ﺑﻌﺪ وﮨﺎں ﻣﯿﺮی ﻣﺎں آﺋﯽ ، اور ﺑﻮﻟﯽ ، “ﮐﯿﺎ ﺳﺐ اﺳﯽ ﭼﻨﺎل ﮐﻮ ﭼﻮدﯾﮟ ﮔﮯ ۔ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ‬ ‫ﮐﻮﺋﯽ ﭼﻮدو” ﻣﯿﮟ ﻧﮯ دﯾﺪی ﮐﮯ ﻣﻨہ ﺳﮯ اﭘﻨﺎ ﻟﻨﮉ ﻧﮑﺎﻻ اور ﺑﻮﻻ ، ﻣﯿﮟ: “ آ ﻣﯿﺮی رﻧﮉی ﻣﺎں ، ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺮی ﭼﻮت اور ﮔﺎﻧﮉ‬ ‫ﭘﮭﺎڑﺗﺎ ﮨﻮں” ﻣﺎں: “ اﯾﺴﮯ ﻧﮩﯿﮟ ، ﭘﮩﻠﮯ ﺗﺠﮭﮯ ﻣﯿﺮی ﭼﻮت اور ﮔﺎﻧﮉ ﮐﻮ ﭼﺎٹ ﮐﺮ ﮔﯿﻼ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﻮ ﮔﺎ” ﯾہ ﺑﻮل ﮐﺮ ﻣﺎں ﺳﻮﻓﮯ ﭘﺮ‬ ‫ﭘﯿﺮ اوﭘﺮ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﺌﯽ ۔ ﭘﮭﺮ ﻣﯿﮟ اﯾﮏ-اﯾﮏ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻣﺎں ﮐﯽ ﭼﻮت اور ﮔﺎﻧﮉ دوﻧﻮں ﺑﮩﺖ دﯾﺮ ﺗﮏ ﭼﺎﭨﯽ ۔ ﭘﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ‬ ‫اﭘﻨﺎ ﻟﻨﮉ ﻧﮑﺎﻻ اور ﻣﺎں ﮐﯽ ﭼﻮت ﻣﯿﮟ ڈال دﯾﺎ ۔ اس ﻃﺮح ﻣﯿﮟ ﻣﺎں ﮐﯽ ﭼﻮت ﭘﮭﺎڑ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ اور ﻣﯿﺮا ﺑﺎپ ﻣﯿﺮی ﺑﮩﻦ ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ‬ ‫ﻣﺎر رﮨﺎ ﺗﮭﺎ ۔ ﯾہ ﺑﮩﺖ دﯾﺮ ﺗﮏ ﭼﻼ ۔ ﺗﮭﻮڑی دﯾﺮ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ اور ِﺘﺎ ﺟﯽ ﻧﮯ ادﻻ ﺑﺪﻟﯽ ﮐﺮ ﻟﯽ ۔ ِﺘﺎ ﺟﯽ ﻧﮯ ﻣﺎں ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺎرﻧﺎ‬ ‫ﭘ‬ ‫ﭘ‬ ‫ﺷﺮوع ﮐﯿﺎ ۔ ﻣﯿﮟ ﻣﺎں ﮐﮯ ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ اﭘﻨﺎ ﻟﻨﮉ دﯾﺎ ۔ ﻣﺎں اﺳﮯ زور زور ﺳﮯ ﭼﻮس رﮨﯽ ﺗﮭﯽ ۔ ﮨﻤﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﻣﺰا آ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ ۔ دﯾﺪی‬ ‫ﮨﻤﯿﮟ دﯾﮑﮫ ﮐﺮ اﭘﻨﯽ ﭼﻮت ﻣﯿﮟ اﻧﮕﻠﯿﺎں ڈال رﮨﯽ ﺗﮭﯽ ۔ ﯾہ ﺳﺐ ﭼﻞ ﮨﯽ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐہ دروازے ﮐﯽ ﮔﮭﻨﭩﯽ ﺑﺠﯽ ۔ دﯾﺪی ﻧﮯ ﭼﺎﺑﯽ‬ ‫ﮐﮯ ﭼﮭﯿﺪ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ دﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﭘﺘہ ﭼﻼ ﮐہ دودھ واﻻ آﯾﺎ ﮨﮯ ۔ ﻣﺎں ﺑﻮﻟﯽ ، “ ﭼﻠﻮ ، آج اﺳﮯ ﺑﮭﯽ اﭘﻨﮯ ﮐﮭﯿﻞ ﻣﯿﮟ ﺷﺮﯾﮏ ﮐﺮ‬ ‫ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ”‬

دﯾﺪی: “ ﮨﺎں ، ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﯿﺎ ﻟﻨﮉ ﭼﺎﮨﺌﯿﮯ” ﺳﺐ ﻧﮯ ﮐﭙﮍے ﭘﮩﻦ ﻟﯿﮯ اور دﯾﺪی ﻧﮯ دروازﮦ ﮐﮭﻮﻻ ۔ دودھ واﻻ دﯾﺪی‬ ‫ﮐﻮ دﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﭼﻮﻧﮏ ﮔﯿﺎ ۔ دﯾﺪی ﻧﮯ اﯾﮏ ﺑﮩﺖ ﻣﺨﺘﺼﺮ ﮔﮭﺎﮔﮭﺮا اور اوﭘﺮ ﺻﺮف ﭼﻮﻟﯽ ﭘﮩﻦ ﻟﯽ ﺗﮭﯽ ۔ دﯾﺪی ﻧﮯ اﺳﮯ اﻧﺪر‬ ‫ﺑﻼ ﻟﯿﺎ ۔ ﺗﺐ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭼ ّا اور ِﺘﺎ ﺟﯽ ﻧﮯ ﻟﻨﮕﯽ ﭘﮩﻦ ﻟﯽ ۔ اور ﻣﺎں ﻧﮯ ﺻﺮف ﭼﻮﻏہ اور اﻧﺪر ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮩﻨﺎ ﺗﮭﺎ ۔‬ ‫ﭘ‬ ‫ﮉ‬ ‫دﯾﺪی ﻧﮯ دودھ واﻟﮯ ﮐﻮ اﻧﺪر ﺑﻼ ﻟﯿﺎ ۔ اس ﻧﮯ دودھ واﻟﮯ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﮐہ وﮦ ﺑﺮﺗﻦ ﻟﮯ آﺗﯽ ﮨﮯ ، ﺗﺐ ﺗﮏ اﺳﮯ ﺳﻮﻓﮯ ﭘﺮ ﺑﭩﮭﺎ‬ ‫دﯾﺎ ۔ ﻣﺎں اس ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ واﻟﮯ ﺳﻮﻓﮯ ﭘﺮ ﭘﯿﺮ ﭘﮭﯿﻼ ﮐﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﺌﯽ ۔ اﺳﮯ ﻣﺎں ﮐﯽ ﭼﻮت ﺻﺎف دﮐﮫ رﮨﯽ ﺗﮭﯽ ۔ دودھ واﻻ‬ ‫ﻣﺎں ﮐﯽ ﭼﻮت ﮐﻮ دﯾﮑﮫ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ ۔ ﻣﺎں ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ، “ﮐﯿﺎ دﯾﮑﮫ رﮨﮯ ﮨﻮ ﺑﮭﺌﯿﺎ”. دودھ واﻻ ﺑﻮﻻ “ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ”. ﻣﺎں اﺳﮯ ﺑﻮﻟﯽ‬ ‫، “ ﮐﭽﮫ ﭘﺴﻨﺪ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﻮﻟﻮ ، ﻣﯿﮟ ﺧﻮد ﺑﺘﺎ دوں ﮔﯽ”. ﺗﺒﮭﯽ دﯾﺪی دودھ ﮐﺎ ﺑﺮﺗﻦ ﻟﮯ ﮐﺮ آﺋﯽ ۔ دﯾﺪی دودھ ﻟﯿﻨﮯ ﮐﮯ‬ ‫ﻟﺌﮯ ﺟﮭﮑﯽ اور دودھ واﻟﮯ ﮐﻮ دﯾﺪی ﮐﮯ ﭘﻮرے ﻣ ّﮯ دﮐﮫ ﮔﺌﮯ ۔ اب ﺗﮏ دودھ واﻟﮯ ﮐﺎ ﻟﻨﮉ ﭘﻮری ﻃﺮح ﺗﻦ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ اور اس‬ ‫ﻤ‬ ‫ﮐﯽ ﭘﺘﻠﻮن ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ آﻧﮯ ﮐﻮ ﺗﯿﺎر ﺗﮭﺎ ۔ آﮔﮯ ﮐﯽ ﮐﮩﺎﻧﯽ اﮔﻠﮯ ﺣﺼﮯ ﻣﯿﮟ ۔ ۔‬ ‫اﮔﺮ آپ ﮐﯽ ﺑﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﮨﻮ ﺗﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﺳﻨﺎﺋﯿﮟ ۔‬ 


EMail : PkMasti@aol.com
Yahoo : Jan3y.J4na@yahoo.com

By Unknown with No comments

ﮔﮭﺮیلو چودائی کی مست داستان ﺣﺼہ 1 ‬



ﻣﺼﻨﻒ : راﮨﻮل‬

‫دوﺳﺘﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﭼﺪاﺋﯽ ﮐﯽ ﮐﮩﺎﻧﯿﺎں ﺗﻮ ﺑﮩﺖ ﭘﮍھﯽ ﮨﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﻟﮑﮫ ﭘﮩﻠﯽ ﺑﺎر رﮨﺎ ﮨﻮں ۔ ﯾہ اﯾﮏ ﻋﺎم ﮐﮩﺎﻧﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ۔ ﯾہ اﯾﮏ‬ ‫ﻏﻼﻇﺖ ﺳﮯ ﺑﮭﺮﭘﻮر داﺳﺘﺎن ﮨﮯ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﻧﺎ ﻣﺤﺮﻣﺎت ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻓﻄﺮی اور ﻏﯿﺮ ﻓﻄﺮی ﺟﻨﺴﯽ اﻓﻌﺎل ﮐﺎ ﺑﮑﺜﺮت ذﮐﺮ ﮨﮯ ۔‬ ‫ﻋﺪم دﻟﭽﺴﭙﯽ رﮐﮭﻨﮯ واﻟﻮں ﺳﮯ درﺧﻮاﺳﺖ ﮨﮯ ﮐہ اﭘﻨﺎ ﻗﯿﻤﺘﯽ وﻗﺖ ﺿﺎﺋﻊ ﻧہ ﮐﺮﯾﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﮨﻢ ﺧﯿﺎل ﻗﺎرﺋﯿﻦ ﺳﮯ اﻟﺘﻤﺎس ﮨﮯ ﮐہ‬ ‫اس ﻃﻮﯾﻞ ﺳﻠﺴﮯ ﮐﮯ ﺑﺎرے ﻣﯿﮟ اﭘﻨﯽ راﺋﮯ ﺳﮯ ﻧﻮازﯾﮟ ۔ اب ﺷﮑﺮﯾﮯ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﮐﺎ آﻏﺎز ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔۔۔ ﻣﯿﺮا ﻧﺎم‬ ‫راﮨﻮل ﮨﮯ اور ﻣﯿﮟ ٩١ ﺳﺎل ﮐﺎ ﮨﻮں ۔ ﻣﯿﺮے ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮے ﻋﻼوﮦ ، ﻣﯿﺮی ﺑﮍی ﺑﮩﻦ راد ِﮑﺎ ، ﻣﯿﺮی ﻣﺎں ِﻠﭙﺎ اور ﻣﯿﺮے‬ ‫ﺷ‬ ‫ھ‬ ‫ِﺘﺎ ﺟﯽ راﺟﯿﺶ ﺑﮭﯽ رﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ۔ ﮨﻢ ﭘﮩﻠﮯ ﺳﮯ ﮨﯽ اﯾﮏ دوﺳﺮے ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﮩﺖ ﺑﮯﺗﮑّﻒ رﮨﮯ ﮨﯿﮟ ۔ ﺟﺐ ﺟﻮ ﭼﺎﮨﮯ ،‬ ‫ﻠ‬ ‫ﭘ‬ ‫ﺟﺴﮯ ﭼﺎﮨﮯ ، ﭼﻮد ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ۔ اﮐﺜﺮ ﮨﻢ ﮔﮭﺮ ﭘﺮ اﮐﯿﻠﮯ ﮨﯽ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ اور ﮐﭙﮍے ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮩﻨﺘﮯ۔ ﮨﻢ ﺳﺐ ﺟﻨﺲ ﻣﻮاﻓﻖ اور ﺟﻨﺲ‬ ‫ﻣﺨﺎﻟﻒ دوﻧﻮں ﮐﮯ رﺳﯿﮯ ﺑﮭﯽ ﮨﯿﮟ ۔ ﻣﻄﻠﺐ ﮨﻢ ﺑﺎپ۔ﺑﯿﭩﮯ اور ﻣﺎں۔ﺑﯿﭩﯽ ﺑﮭﯽ اﯾﮏ-دوﺳﺮے ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﻮج ﻣﺴﺘﯽ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ‬ ‫۔ ﭘﮩﻠﮯ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ اﭘﻨﮯ ﺧﺎﻧﺪان ﮐﺎ ﺗﻌﺎرف دے دﯾﺘﺎ ﮨﻮں ۔ ﻣﯿﮟ اس ﺳﺎل ﺑﯽ۔اﯾﺲ۔ﺳﯽ)ﺳﺎل اول( ﻣﯿﮟ ﮨﻮں اور اﭘﻨﮯ ﺷﮩﺮ ، ﭘﻮﻧﺎ‬ ‫ﮐﮯ اﯾﺲ۔ﭘﯽ۔ ﮐﺎﻟﺞ ﻣﯿﮟ اﻧﺠﻨﺌﯿﺮﻧﮓ ﮐﺮ رﮨﺎ ﮨﻮں ۔ ﺟﺐ ﺳﮯ ﻣﯿﺮا ﻟﻨﮉ ﮐﮭﮍا ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﺎ ، ﻣﯿﺮے ﮔﮭﺮ واﻟﻮں ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﭼﻮدﻧﺎ‬ ‫ِﮑﮭﺎ دﯾﺎ اور ﺗﺒﮭﯽ ﺳﮯ ﮨﯽ ﻣﯿﮟ اﭘﻨﯽ ﻣﺎں اور ﺑﮩﻦ ﮐﻮ ﭼﻮدﺗﺎ ﮨﻮں ۔ ﻣﯿﺮی ﺑﮩﻦ ٢٢ ﺳﺎل ﮐﯽ ﮨﮯ ۔ وﮦ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﺮے ﮨﯽ ﮐﺎﻟﺞ ﻣﯿﮟ‬ ‫ﺳ‬ ‫ﺗﯿﺴﺮے ﺳﺎل ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ۔ اس ﮐﯽ ﭘﯿﻤﺎﺋﯿﺶ ﮨﮯ ٤٣-٠٣-٦٣ ۔ وﮦ ﺑﮭﯽ ﻟﻨﮉ ﮐﯽ دﯾﻮاﻧﯽ ﮨﮯ ۔ اﺳﯽ ﻟﺌﮯ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﭼﺪاﻧﮯ ﮐﮯ‬ ‫ﺑﺎوﺟﻮد وﮦ ﺑﺎﮨﺮ اﭘﻨﮯ ﯾﺎروں ﺳﮯ ﭘﯿﺴﮯ ﻟﮯ ﮐﺮ ﭼﺪاﺗﯽ ﮨﮯ ۔ ﻣﯿﺮی ﻣﺎں ﮔﮭﺮﯾﻠﻮ ﻋﻮرت ﮨﮯ ۔ وﮦ ﺑﮩﺖ ﻣﻮﭨﯽ ﮨﮯ ۔ اس ﮐﯽ‬ ‫ﭘﯿﻤﺎﺋﯿﺶ ﺗﻘﺮﯾﺒً ٦٤-٠٤-٢٤ ﮨﮯ ۔ ﭘﺮ وﮦ ﺻﺮف ﻣﺠﮫ ﺳﮯ اور ﻣﯿﺮے ِﺘﺎ ﺟﯽ ﺳﮯ ﭼﺪاﺗﯽ ﮨﮯ ۔ اﺳﮯ اور ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﮐﯿﻒ‬ ‫ﭘ‬ ‫ﺎ‬ ‫ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻠﺘﺎ ۔ ﻣﯿﺮے ِﺘﺎ ﺟﯽ ١ ﺑﯿﻮﭘﺎری ﮨﯿﮟ ۔ وﮦ ﻧﻘﻞ و ﺣﻤﻞ ﮐﺎ ﮐﺎروﺑﺎر ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔ وﮦ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﺮی ﻣﺎں اور ﺑﮩﻦ ﮐﮯ ﺳﻮا‬ ‫ﭘ‬ ‫ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﻮدﺗﮯ ۔ ﮐﯿﻮﻧﮑہ اﻧﮩﯿﮟ ﺟﻮ ﭘﺴﻨﺪ ﮨﮯ وﮦ ﺻﺮف ﮨﻤﺎرے ﺧﺎﻧﺪان ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ۔ اس ﻃﺮح ﮨﻢ ﺑﺎ ﺟﻤﺎﻋﺖ ﭼﺪا‬ ‫ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔ اب ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺎﻧﯽ ﺷﺮوع ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮں ۔ ﻣﯿﺮی آﻧﮑﮫ ﮐﮭﻠﯽ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ دﯾﮑﮭﺎ ﮐہ ﻣﯿﺮی ﻣﺎں ﻣﯿﺮے ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻧﻨﮕﯽ ﮐﮭﮍی‬ ‫ﺗﮭﯽ اور ﻣﺠﮭﮯ اﭨﮭﺎ رﮨﯽ ﮨﮯ ۔ وﮦ ﺑﻮل رﮨﯽ ﺗﮭﯽ ، “اﭨﮭﻮ ﺑﯿﭩﺎ ، دﯾﺪی ﮐﺐ ﺳﮯ ﺗﻤﮩﺎرا اﻧﺘﻈﺎر ﮐﺮ رﮨﯽ ﮨﮯ.” ﻣﯿﮟ اﭨﮭﺎ ۔‬ ‫ﻣﯿﺮی ﻧﯿﻨﺪ ﭘﻮری ﮐﮭﻠﯽ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ ﺗﻮ ﻣﯿﺮی ﻣﺎں ﻣﺠﮭﮯ ﺑﯿﺖ اﻟﺨﻼ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﮔﺌﯽ ﺟﮩﺎں ﻣﯿﺮی ﺑﮩﻦ ﮐﻤﻮڈ ﭘﺮ ﭨﺎﻧﮓ ﭘﮭﯿﻼ ﮐﺮ‬ ‫ﺑﯿﭩﮭﯽ ﺗﮭﯽ ۔ ﻣﯿﮟ ﺳﻤﺠﮫ ﮔﯿﺎ ﮐہ اس ﮐﯽ ﭨّﯽ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ اور وﮦ ﭼﺎﮨﺘﯽ ﮨﮯ ﮐہ ﻣﯿﮟ اﺳﮯ ﭼﺎٹ ﮐﺮ ﺻﺎف ﮐﺮوں ۔ ﻣﯿﮟ ﮔﮭﭩﻨﻮں‬ ‫ﭩ‬ ‫ﮐﮯ ﺑﻞ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﯿﺎ ۔ وﮦ اﭨﮭﯽ ، ﭘﻠﭩﯽ اور اﭘﻨﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﯿﺮے ﻣﻨہ ﮐﮯ ﭘﺎس ﻟﮯ ﮐﺮ آﺋﯽ ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ دوﻧﻮں ﮨﺎﺗﮭﻮں ﺳﮯ اس ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ‬ ‫ﭘﮭﯿﻼﺋﯽ اور اس ﮐﮯ ﭼﮭﯿﺪ ﭘﺮ ﻟﮕﯽ ﭨّﯽ ﺻﺎف ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﺎ ۔ ﭨّﯽ ﻣﯿﮟ رات ﮐﻮ ﺑﻨﯽ ﭘﯿﺎز ﮐﯽ ﺳﺒﺰی ﮐﺎ ﺳﻮاد ﺗﮭﺎ ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ اﺳﮯ‬ ‫ﭩ‬ ‫ﭩ‬ ‫ﭘﻮرا ﺻﺎف ﮐﺮ دﯾﺎ ۔ وﮦ ﺑﻮﻟﯽ ، “واﮦ ، ﻣﯿﺮے ﭘﯿﺎرے ﭼﮭﻮﭨﮯ ﺑﮭﺎﺋﯽ”. اور ﺑﺎﮨﺮ ﭼﻠﯽ ﮔﺌﯽ ۔ ﭘﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﭨّﯽ ﮐﺮ ﻟﯽ ،‬ ‫ﭩ‬ ‫داﻧﺖ ﻣﺎﻧﺠﮭﮯ اور ﻧﯿﭽﮯ داﻻن ﻣﯿﮟ ﮔﯿﺎ ۔ وﮨﺎں دﯾﮑﮭﺎ ﮐہ ﻣﯿﺮے ِﺘﺎ ﺟﯽ ﺳﻮﻓﮯ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮭﮯ اﺧﺒﺎر ﭘﮍھ رﮨﮯ ﺗﮭﮯ ۔ دﯾﺪی ﺗﯿﺎر‬ ‫ﭘ‬ ‫ﮨﻮ ﮐﺮ ﻧﺎﺷﺘہ ﮐﺮ رﮨﯽ ﺗﮭﯽ اور ﻣﺎں اﺳﮯ ﻧﺎﺷﺘہ دے رﮨﯽ ﺗﮭﯽ ۔ ﻣﺠﮭﮯ دﯾﮑﮭﺘﮯ ﮨﯽ ﻣﯿﺮی ﻣﺎں ﺑﻮﻟﯽ ،‬ ‫“اﭨﮫ ﮔﯿﺎ رﻧﮉی ﮐﯽ اوﻻد”.‬ ‫ﮨﻢ ﺳﺐ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﮔﺎﻟﯽ ﮐﮯ ﺳﻮا ﺑﺎت ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ، “ ﮨﺎں ﭼﻨﺎل ، اب ﺟﻠﺪی ﻣﺠﮭﮯ ﻧﺎﺷﺘہ دے”. ﮐﮩہ ﮐﺮ‬ ‫ﻣﯿﮟ ﭨﯿﻠﯿﻮژن ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﯿﺎ ۔ ﺗﮭﻮڑی دﯾﺮ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﺮی دﯾﺪی ﮐﺎ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ۔ وﮦ ﻣﯿﺮے ِﺘﺎ ﺟﯽ ﮐﮯ ﺑﺎزو ﻣﯿﮟ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺑﯿﭩﮫ‬ ‫ﭘ‬ ‫ﮔﺌﯽ ۔ ِﺘﺎ ﺟﯽ ﻧﮯ اس ﮐﮯ ﻣ ّﮯ دﺑﺎﻧﮯ ﺷﺮوع ﮐﯿﮯ ۔ دوﻧﻮں اﯾﮏ دوﺳﺮے ﮐﻮ ﭼﻮﻣﻨﮯ ﻟﮕﮯ ۔ راد ِﮑﺎ ﻧﮯ ِﺘﺎ ﺟﯽ ﮐﮯ‬ ‫ﭘ‬ ‫ھ‬ ‫ﻤ‬ ‫ﭘ‬ ‫ﭘﺎﺟﺎﻣﮯ ﻣﯿﮟ ﮨﺎﺗﮫ ڈال دﯾﺎ اور ﻟﻨﮉ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﺎﻻ ۔ ﺟﯿﺴﮯ ﮨﯽ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ِﺘﺎ ﺟﯽ ﮐﺎ ﻟﻨﮉ دﯾﮑﮭﺎ ، ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺑﺮداﺷﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﺆا ۔

ﻣﯿﮟ ﺟﺎ‬ ‫ﮐﺮ ﺗﺮﻧﺖ اﺳﮯ ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﻟﯿﺎ ۔ اور زور زور ﺳﮯ ﭼﻮﺳﻨﮯ ﻟﮕﺎ ۔ راد ِﮑﺎ ﻧﮯ ﺧﻮد ﮨﯽ اﭘﻨﮯ ﮐﭙﮍے ﻧﮑﺎل ﻟﯿﮯ اور ِﺘﺎ ﺟﯽ‬ ‫ﭘ‬ ‫ھ‬ ‫ﺑﮭﯽ اب ﭘﻮرے ﻧﻨﮕﮯ ﺗﮭﮯ ۔ ﻣﯿﮟ ِﺘﺎ ﺟﯽ ﮐﺎ ﻟﻨﮉ ﭼﻮس رﮨﺎ ﺗﮭﺎ اور ِﺘﺎ ﺟﯽ دﯾﺪی ﮐﮯ ﻣ ّﮯ ﭼﻮس رﮨﮯ ﺗﮭﮯ ۔ ﺟﺐ ﯾہ ﺳﺐ‬ ‫ﻤ‬ ‫ﭘ‬ ‫ﭘ‬ ‫ﭼﻞ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ ، ﺗﻮ ﻣﯿﺮی ﻣﺎں ﺑﮭﯽ وﮨﺎں آ ﮔﺌﯽ ، ﺟﻮ ﭘﻮری ﻧﻨﮕﯽ ﺗﮭﯽ ۔ ﻣﯿﮟ اﺳﮯ دوﺳﺮے ﺳﻮﻓﮯ ﭘﺮ ﻟﮯ ﮔﯿﺎ اور اﭘﻨﺎ ﻟﻨﮉ اس‬ ‫ﮐﮯ ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ دے دﯾﺎ ۔ وﮦ زور زور ﺳﮯ ﭼﻮﺳﻨﮯ ﻟﮕﯽ ۔ ﭘﮭﺮ ﻣﺠﮭﮯ زور ﺳﮯ ﭘﯿﺸﺎب آﯾﺎ ۔ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ اس ﮐﮯ ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ‬ ‫ﭘﯿﺸﺎب ﮐﺮﻧﺎ ﺷﺮوع ﮐﺮ دﯾﺎ ۔ وﮦ ﺳﺎرا ﭘﯿﺸﺎب ﭘﯽ ﮔﺌﯽ ۔ ﺟﯿﺴﮯ ﻣﯿﺮا ﭘﯿﺸﺎب ﺧﺘﻢ ﮨﺆا ، اس ﻧﮯ ﻣﯿﺮا ﻟﻨﮉ اس ﮐﮯ ﻣﻨہ ﺳﮯ ﻧﮑﺎﻻ‬ ‫اور ﮐﮭﮍی ﮨﻮ ﮔﺌﯽ اور ﻣﺠﮭﮯ ﺳﻮﻓﮯ ﭘﺮ ﺑﭩﮭﺎ دﯾﺎ ۔ وﮦ اﭘﻨﯽ ﭼﻮت ﻣﯿﺮے ﻣﻨہ ﮐﮯ ﭘﺎس ﻻ ﮐﺮ ﺑﻮﻟﯽ ،‬ ‫“ﭼﺎٹ اﺳﮯ ﺑﮭﮍوے ﻣﺎدر ﭼﻮد.”‬ ‫ﻣﯿﮟ اﺳﮯ ﭼﺎﭨﻨﮯ ﻟﮕﺎ ۔ ﻣﯿﺮی ﻣﺎں ﮐﻮ ﺑﮩﺖ ﻣﺰا آ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ ۔ اور ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮭﯽ ۔ اس ﮐﯽ ﭨّﯽ ﮐﺎ ﺳﻮاد ﻣﯿﺮے ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ ﺟﺎ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ‬ ‫ﭩ‬ ‫۔ ﺗﮭﻮڑی دﯾﺮ ﭼﺎﭨﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﺮی ﻣﺎں ﻧﮯ اﯾﮏ زور ﮐﺎ ﭘﺎد اﭘﻨﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﺳﮯ ﭼﮭﻮڑا ۔ وﮦ ﺑﮩﺖ ﮨﯽ ﮔﻨﺪی اور ﺑﺪﺑﻮ دار ﮨﻮا ﺗﮭﯽ‬ ‫۔ ﭘﺎد ﻣﯿﺮے ﻣﻨہ اور ﻧﺎک ﮐﮯ اﻧﺪر ﮔﮭﺲ ﮔﯿﺎ ۔ ﭘﺮ ﻣﯿﮟ اس ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﻟﻄﻒ اﻧﺪوز ﮨﻮ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ ۔ دوﺳﺮی ﻃﺮف راد ِﮑﺎ ﻣﯿﺮے‬ ‫ھ‬ ‫ﺑﺎپ ﮐﺎ ﻟﻨﮉ ﭼﻮس رﮨﯽ ﺗﮭﯽ ۔ ﭼﺎروں ﺧﻮب ﻣﻮج ﻣﺴﺘﯽ ﮐﺮ رﮨﮯ ﺗﮭﮯ ۔ ﭘﮭﺮ ﻣﯿﺮی ﻣﺎں ﻣﯿﺮے ﻣﻨہ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺳﮯ ﮨﭧ ﮔﺌﯽ‬ ‫اور ﺟﮭﮏ ﮐﺮ ﻣﯿﺮا ﻟﻨﮉ ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﻟﯿﺎ ۔ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮩﺖ اﭼﮭﺎ ﻟﮓ رﮨﺎ ﺗﮭﺎ ۔ ﭘﮭﺮ ﻣﯿﺮی ﺑﮩﻦ ﻣﯿﺮے ﭘﺎس آﺋﯽ اور ﻣﯿﺮی ﻣﺎں ﺳﮯ‬ ‫ﮐﮩﺎ ،‬ ‫“اﭨﮫ رﻧﮉی ۔ ﮐﺘﻨﯽ دﯾﺮ اﭘﻨﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﻮ ﭼﻮﺳﮯ ﮔﯽ ۔ اب ﻣﯿﺮی ﺑﺎری ﮨﮯ ۔ ﺗﻮ ﺟﺎ ﮐﺮ اﭘﻨﮯ ﭘﺘﯽ ﺳﮯ ﭼﺪوا.”‬ ‫ﻣﯿﺮی ﻣﺎں اﭨﮭﯽ اور ﻣﯿﺮے ﺑﺎپ ﮐﮯ ﭘﺎس ﭼﻠﯽ ﮔﺌﯽ ۔ ﺟﺎ ﮐﺮ اس ﻧﮯ ﻣﯿﺮے ﺑﺎپ ﮐﻮ ﺳﻼﯾﺎ اور اس ﮐﮯ اوﭘﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﺌﯽ ۔‬ ‫ﺑﯿﭩﮭﮯ وﻗﺖ اس ﻧﮯ اﭘﻨﯽ ﭼﻮت ﻣﯿﮟ ﺑﺎپ ﮐﺎ ﻟﻨﮉ ڈال دﯾﺎ ۔ اور اوﭘﺮ-ﻧﯿﭽﮯ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﯽ ۔ ﺗﺐ ﺗﮏ ﻣﯿﺮی ﺑﮩﻦ ﻣﯿﺮے ﻟﻨﮉ ﭘﺮ اﭘﻨﺎ‬ ‫ﺗﮭﻮک ﻟﮕﺎ رﮨﯽ ﺗﮭﯽ ۔ اس ﻧﮯ اﭘﻨﮯ ﺗﮭﻮک ﺳﮯ ﻣﯿﺮے ﻟﻨﮉ ﮐﻮ ﻧﮩﻼ دﯾﺎ ۔ ﭘﮭﺮ وﮦ اﭨﮭﯽ اور ﻣﯿﺮا ﻟﻨﮉ اﭘﻨﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﯿﮟ ڈال دﯾﺎ ۔‬ ‫ﺑﮩﺖ ﺑﺎر اﭘﻨﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺮواﻧﮯ ﮐﯽ وﺟہ ﺳﮯ اس ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﮐﺎ ﭼﮭﯿﺪ ﺑﮩﺖ ﺑﮍا ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ۔ اس ﻟﺌﮯ اﺳﮯ ﻣﯿﺮا ﻟﻨﮉ اﭘﻨﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﯿﮟ‬ ‫ﻟﯿﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺑﺎﻟﮑﻞ ﺗﮑﻠﯿﻒ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺋﯽ ۔ اﯾﮏ ﻃﺮف ﻣﯿﺮی ﻣﺎں ﻣﯿﺮے ﺑﺎپ ﺳﮯ اور دوﺳﺮی ﻃﺮف ﻣﯿﺮی ﺑﮩﻦ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ‬ ‫ﭼﺪوا ﮐﮯ ﻟﻄﻒ اﻧﺪوز ﮨﻮ رﮨﯽ ﺗﮭﯽ ۔ ﯾہ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ دﯾﺮ ﭼﻼ ۔ ﺑﯿﭻ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮی ﻣﺎں ﻧﮯ اﭘﻨﯽ ﭼﻮت ﺳﮯ ﻣﯿﺮے ﺑﺎپ ﮐﺎ ﻟﻨﮉ ﻧﮑﺎل‬ ‫ﻟﯿﺎ اور ﺑﻮﻟﯽ ﮐہ اﺳﮯ ﭨّﯽ آﺋﯽ ﮨﮯ۔ ﮨﻢ ﺳﺐ ﺑﮩﺖ ﺟﻮش ﻣﯿﮟ آ ﮔﺌﮯ ۔ ﮨﻤﺎرے ﺧﺎﻧﺪان ﻣﯿﮟ ﺳﺒﮭﯽ ﮐﻮ ﭨّﯽ ، ﭘﯿﺸﺎب ، ﺗﮭﻮک ،‬ ‫ﭩ‬ ‫ﭩ‬ ‫اﻟﭩﯽ)ﻗﮯ( اور اﯾﺴﯽ ﭼﯿﺰوں ﺳﮯ ﺑﮩﺖ ﭘﯿﺎر ﮨﮯ ۔ ﺟﯿﺴﮯ ﮨﯽ ﻣﯿﺮی ﻣﺎں ﺑﻮﻟﯽ ﮐہ اﺳﮯ ﭨّﯽ آﺋﯽ ﮨﮯ ، ﻣﯿﺮی ﺑﮩﻦ ﻧﮯ اﭘﻨﯽ‬ ‫ﭩ‬ ‫ﮔﺎﻧﮉ ﺳﮯ ﻣﯿﺮا ﻟﻨﮉ ﻧﮑﺎل ﻟﯿﺎ اور ﺑﺎورﭼﯽ ﺧﺎﻧﮯ ﺳﮯ اﯾﮏ رﮐﺎﺑﯽ ﻟﮯ آﺋﯽ ۔ ﻣﯿﺮی ﻣﺎں ﻧﮯ وﮦ رﮐﺎﺑﯽ زﻣﯿﻦ ﭘﺮ رﮐﮭﯽ اور اس‬ ‫ﭘﺮ ﭨﺎﻧﮕﯿﮟ ﭘﮭﯿﻼ ﮐﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﺌﯽ ۔ ﭘﮭﺮ ﻣﯿﺮی ﻣﺎں ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﺳﮯ اﯾﮏ ﭘﯿﻠﮯ رﻧﮓ ﮐﺎ ﮔﻮ ﮐﺎ ﭨﮑﮍا ﻧﮑﻞ ﮐﺮ رﮐﺎﺑﯽ ﻣﯿﮟ ﮔﺮا۔ ﮨﻢ ﺳﺐ‬ ‫ﺑﮩﺖ ﺟﻮش ﻣﯿﮟ آ ﮔﺌﮯ ۔ اﯾﮏ اﯾﮏ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﭘﻮری رﮐﺎﺑﯽ ﻣﺎں ﮐﮯ ﮔﻮ ﺳﮯ ﺑﮭﺮ ﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ ۔ ﭘﮭﺮ ﻣﺎں ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ،‬ ‫“اب ﻣﯿﺮی ﮔﺎﻧﮉ ﮐﻮن ﺻﺎف ﮐﺮے گ؟”‬ ‫ﺗﺒﮭﯽ ﻣﯿﺮی ﺑﮩﻦ ﭼّﺎ ﮐﺮ ﺑﻮﻟﯽ ،‬ ‫ﻠ‬ ‫“ﻣﯿﮟ ﭼﺎﭨﻮں ﮔﯽ اﭘﻨﯽ رﻧﮉی ﻣﺎں ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ”‬ ‫ﻣﯿﺮی ﺑﮩﻦ ﻣﺎں ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﭼﺎﭨﻨﮯ ﻟﮕﯽ ۔ ﺗﺒﮭﯽ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮔﻮ ﺳﮯ ﺑﮭﺮی رﮐﺎﺑﯽ اﭨﮭﺎﺋﯽ اور ِﺘﺎ ﺟﯽ ﮐﮯ ﺑﺎزو ﻣﯿﮟ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﯿﺎ ۔‬ ‫ﭘ‬ ‫ﻣﯿﮟ اور ِﺘﺎ ﺟﯽ ﺗﮭﻮڑی ﺗﮭﻮڑی ﮐﺮ ﮐﮯ رﮐﺎﺑﯽ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﭨّﯽ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﻟﮕﮯ ۔ وﮦ ﺑﮩﺖ ﻟﺬﯾﺬ ﺗﮭﯽ ۔ ﺗﮭﻮڑی ﮨﯽ دﯾﺮ ﻣﯿﮟ ﮨﻢ ﻧﮯ‬ ‫ﭩ‬ ‫ﭘ‬ ‫ﭘﻮری رﮐﺎﺑﯽ ﺻﺎف ﮐﺮ دی ۔ ﺗﺐ ﺗﮏ ﻣﯿﺮی ﺑﮩﻦ ﮐﺎ ﮔﺎﻧﮉ ﭼﺎﭨﻨﺎ ﺑﮭﯽ ﺧﺘﻢ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ۔ ﭘﮭﺮ ﮨﻢ ﻧﮯ ادﻻ ﺑﺪﻟﯽ ﮐﺮ ﻟﯽ ۔ ﻣﺎں ﻣﯿﺮے‬ ‫ﭘﺎس آ ﮔﺌﯽ اور راد ِﮑﺎ ﻣﯿﺮے ﺑﺎپ ﮐﮯ ﭘﺎس ﭼﻠﯽ ﮔﺌﯽ ۔ ﻣﺎں ﻣﻨہ ﮐﮯ ﺑﻞ ﺳﻮﻓﮯ ﭘﺮ ﺳﻮ ﮔﺌﯽ اور اﭘﻨﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﭘﮭﯿﻼﺋﯽ ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ‬ ‫ھ‬ ‫اﭘﻨﺎ ﻟﻨﮉ ﻣﺎں ﮐﮯ ﭼﮭﯿﺪ ﭘﺮ رﮐﮭﺎ اور زور ﺳﮯ ﺟﮭﭩﮑﺎ دﯾﺎ ۔ اﯾﮏ ﮨﯽ ﺟﮭﭩﮑﮯ ﻣﯿﮟ ﭘﻮرا ﻟﻨﮉ ﻣﺎں ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﯿﮟ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ ۔ ﻣﯿﮟ‬ ‫زور زور ﺳﮯ ﻣﺎں ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺎرﻧﮯ ﻟﮕﺎ اور ﻣﯿﺮا ﺑﺎپ ﻣﯿﺮی دﯾﺪی ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﺎر رﮨﺎ ﺗﮭﺎ ۔

ﮐﭽﮫ دﯾﺮ ﺑﻌﺪ راد ِﮑﺎ ﻣﯿﺮے ﺑﺎپ‬ ‫ﮐﮯ ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﻮﮐﻨﮯ ﻟﮕﯽ ۔ ﻣﯿﺮا ﺑﺎپ ﭘﻮری ﺗﮭﻮک ﮐﮭﺎ ﮔﯿﺎ ۔ ﻣﯿﺮی ﺑﮩﻦ ﮐﻮ ﺳﺮدی ﮨﻮﺋﯽ ﺗﮭﯽ ۔ اس ﻟﺌﮯ اس ﮐﯽ ﻧﺎک ﺑﮭﯽ‬ ‫ﺑﮩہ رﮨﯽ ﺗﮭﯽ ۔ اس ﻧﮯ زور ﺳﮯ ﭼﮭﯿﻨﮑﺎ اور ﺳﺎرا ﻧﺎک ﮐﺎ ﻣﺴﺎﻟہ ﻣﯿﺮے ﺑﺎپ ﮐﮯ ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ ۔ ﯾہ ﺳﺐ دﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﻣﺠﮭﮯ‬ ‫ﺑﮭﯽ ﺟﻮش آ ﮔﯿﺎ ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻣﺎں ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﺳﮯ اﭘﻨﺎ ﻟﻨﮉ ﻧﮑﺎﻻ اور اﺳﮯ ﺳﯿﺪھﺎ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﮐﮩﺎ ۔ ﺟﺐ وﮦ ﺳﯿﺪھﯽ ﮨﻮﺋﯽ ، ﻣﯿﮟ‬ ‫ﻧﮯ اﭘﻨﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﺳﮯ اس ﮐﺎ ﻣﻨہ ﮐﮭﻮﻻ اور اس ﮐﮯ ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺳﺎرا ﺗﮭﻮﮐﻨﮯ ﻟﮕﺎ ۔ وﮦ ﺳﺎری ﺗﮭﻮک ﮐﮭﺎ ﮔﺌﯽ ۔ ﺟﺐ ﻣﯿﺮا ﮔﻼ‬ ‫ﺳﻮﮐﮫ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ اس ﮐﮯ ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ اﭘﻨﺎ ﻟﻨﮉ دے دﯾﺎ ۔ ﺗﮭﻮڑی ﮨﯽ دﯾﺮ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﮟ اس ﮐﮯ ﻣﻨہ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﺟﮭﮍ ﮔﯿﺎ ۔ وﮦ ﭘﻮرا‬ ‫ﻧﮕﻞ ﮔﺌﯽ ۔ ﭘﮭﺮ ﮨﻢ ﻧﮯ دﯾﮑﮭﺎ ﻣﯿﺮے ﺑﺎپ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﺮی ﺑﮩﻦ ﮐﯽ ﮔﺎﻧﮉ ﻣﯿﮟ ﺟﮭﺎڑ دﯾﺎ ﮨﮯ ۔ اس ﻃﺮح ﮨﻤﺎرا اس دن ﮐﺎ ﻣﺰا ﺧﺘﻢ‬ ‫ﮨﺆا اور ﺳﺐ اﭘﻨﮯ اﭘﻨﮯ ﮐﺎم ﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﮔﺌﮯ ۔‬ 


EMail : PkMasti@aol.com
Yahoo : Jan3y.J4na@yahoo.com

By Unknown with No comments

میتا کی چُوت




میری کہانی پِچھلی مِس مونِکا کا مُجھے کاپھی اَچّھا ریسپوںس مِلا اِسلِئے میں آپکے لِئے ایک اؤر آپ بیتی بتانے جا رہا ہُوں آشا کرتا ہُوں یہ کہانی بھی آپ لوگوں کو اَچّھی لگیگی۔

جیسا کِ آپ لوگوں کو مالُوم ہے اَب مُجھے جب بھی مؤکا مِلتا، میں مونِکا کو چود لِیا کرتا تھا۔ لیکِن ہمیں یہ نہیں مالُوم تھا کِ ہمیں کوئی چھُپ کر بھی دیکھتا ہے !

یہ بات ہم کریب 3-4 مہینے کے باد مالُوم پڑی ! اؤر دیکھنے والی تھی مونِکا میں چھوٹی بہن میتا۔ مونِکا کی ترہ میتا بھی بہُت سُںدر تھی ایک دم گوری، بھرے بھرے گال، گُلابی ہوںٹھ،کالی بڑی بڑی آںکھے، لمبے بال اؤر پھِگر 36-30-34 اِسلِئے اَبھی اُسکی گاںڈ نہی ماری تھی کِسی نے۔

اَب مُدّے کی بات کرتے ہیں۔

ایک دِن میں اؤر مونِکا مستی کر رہے تھے، اُس دِن اُنکے گھر میں کوئی نہیں تھا۔ اَںکل آںٹی مارکیٹ گیے تھے اؤر میتا سکُول گئی تھی۔ ہم دونوں تو اَپنے کام میں مست تھے، ہمیں نہیں مالُوم کِ کب میتا آ چُکی اؤر ہمیں کھِڑکی سے دیکھ رہی ہے۔ اَکیلے ہونے کی وجہ سے گھر میں کوئی روک ٹوک تو تھی نہیں اِسلِئے میں باتھرُوم جانے کے لِئے نِکل آیا اؤر سیدھا باتھرُوم میں چلا گیا۔ لؤٹ کر آیا تو دیکھا میتا کھِڑکی کی ترپھ چیہرا کرے ہُئے ہے اؤر شاید اُسکی آںکھے بںد تھی کیوںکِ بہُت جور جور سے میتا اَپنی چُوت میں اُوںگلی کر رہی تھی سلوار اُتار کر۔

میںنے بھی اُسے نہی ٹوکا اؤر چلا گیا۔ آتے ہی میںنے مونِکا کو اِسکے بارے میں بتایا تو وو بولنے لگی- بیچاری کو اَکیلے ہی تڑپھنے کے لِئے چھوڑ آیے؟

میںنے کہا- میں کرتا بھی کیا ؟ تُمہاری بہن ہے، اَبھی بُرا مان گئی تو؟

وو بولی- مادرچود لڑکی آدھی نںگی کھڑی ہے اؤر تُجھے لگتا ہے وو ناراز ہوگی۔

ایسا ہو ہی نہی سکتا ! چل میں جاتی ہُوں اؤر اُسّے تیّار کرتی ہُوں۔ تُم 15 مِنٹ کے باد آ جانا۔

میں بھی مان گیا اؤر بیڈ پر لیٹ گیا اؤر اَپنے لںڈ کو اُوپر نیچے کرنے لگا اؤر سوچ رہا تھا کِ میتا کی چُوت کیسی ہوگی۔ کہیں مونِکا کی ہی ترہ میتا کی بھی تو چُوت پہلے سے ہی چُد چُکی ہے کیا ؟ اؤر نا جانے کیا کیا سوچتے سوچتے 15 مِنٹ کب نِکل گیے مالُوم ہی نہیں چلا۔

اؤر میں میتا کے کمرے میں جانے لگا اؤر گیٹ پر آکر رُک گیا کیوںکِ سامنے کا نزارا دیکھنے لایک تھا۔ مونِکا میتا کی چُوت کو 2-3 اُوںگلِیوں سے چود رہی ہے اؤر چاٹ رہی ہے۔ مونِکا کبھی میتا کی چُوت چُوستی تو کبھی ستن ! اَب کب تک آںکھیں چار نہیں ہوگی، میتا نے اَب مُجھے دیکھ لِیا اؤر وو ایک دم اُٹھ کر بیڈ کے پیچھے چلی گئی تو مونِکا نے کہا- ویسے تو اَرمان کو بولنے کے لِئے چِلّا رہی تھی اَب کیا ہو گیا ؟

میتا بہُت ہی پیار سے تھوڑا شرماتے ہُئے بولی،“مُجھے شرم آتی ہے !”

تو مونِکا بولی- اَرمان ! اَب تُم ہی اِسکی شرم دُور کرو !

میرا کیا تھا میں تو رُکا ہی اِسلِئے تھا کِ مونِکا یا میتا کھُد مُجھ سے بولے چودنے کے لِئے !

میں اَب دھیرے دھیرے بیڈ کے پاس گیا اؤر میتا کا ہاتھ پکڑ کر اُسے کِس کرنے لگا، ہوٹھوں کو کِس کرنے لگا۔ لیکِن میتا اَبھی بھی شرما رہی تھی اؤر اَپنا چیہرا پیچھے کر رہی تھی۔ میںنے بھی سوچ لِیا تھا آج اِسے اِتنے پیار سے چودُوںگا کِ پُوری شرم بھاگ جایّگی۔ میں اَبھی بھی میتا کو کِس کر رہا تھا اؤر اَپنی جیبھ اَندر باہر کر رہا تھا۔ اَب میتا تھوڑا تھوڑا کھُلنے لگی تھی اؤر میرا ساتھ دے رہی تھی۔ اَب کِس کرنے میں مزا آ رہا تھا کیُوںکِ میتا میری جیبھ کو چُوس رہی تھی اؤر میں اُسکی۔

اَب میرا ہاتھ اُسکے نںگے وکش پر تھا اؤر دبا رہا تھا- ہمّمّمّمّمّمم کِتنے نرم تھے میتا کے ستن !

اَب میرے ہاتھ بہُت تیجی سے چل رہے تھے- کبھی داںیا ستن دبتا تو کو کبھی باںیاں ! اؤر اَب چُوچُک بھی چُوس رہا تھا، کاٹ رہا تھا۔ میتا کے مُںہ سے سِسکاری نِکل رہی تھی جوکِ ماہؤل کو اؤر بھی گرم کر رہی تھی۔

اِسی ترہ کریب 20-25 مِنٹ نِکل گیے۔ مُجھے تب یاد آیا جب مونِکا پاس میں آکر میرا لںڈ ہاتھ میں پکڑ کر بولی- مُجھے کیوں اَکیلا چھوڑ دِیا ہے؟

اؤر مونِکا میرا لںڈ چُوسنے لگی۔

مُجھے اَب پریشانی ہو رہی تھی شاید اِسلِئے کِ بیڈ کے پیچھے جگہ کم تھی اؤر دو دو ہسیناّیں میرے ساتھ کام-کرِیا کر رہی تھی۔

میںنے کہا- بیڈ پر چلتے ہیں اؤر میتا کو گود میں اُٹھاکر بیڈ پر لے آیا اؤر اُسکو اَپنے اُوپر کر لِیا تاکِ میں آرام سے اُسکے ستنوں کو پی سکُوں، دبا سکُوں، کِس کر سکُوں اؤر مونِکا میرا لںڈ آسانی سے چُوس سکے۔ میں دونوں ترپھ سے مجے لے رہا تھا۔

اَب یار ایک بات بتاّو ایک لؤڑا ہو اؤر اُسکے پاس دو دو سُںدر چُوتیں ہوں، وو کب تک اَپنا پانی روک سکتا ہے، میںنے بھی اَپنا پُورا پانی مونِکا کے مُںہ میں چھوڑ دِیا جِسے وو پُورا پی گیی اؤر اَپنے ہوںٹھ پوںچھتے ہُئے ہٹ گئی۔ اَب باری میتا کی جو تھی۔

لیکِن وو منا کرنے لگی۔ اِس پر مونِکا نے اُسکی گاںڈ میں لات مارتے ہُئے گالی دی،“ماں کی لؤڑی ! کیُوں نکھرے کر رہی ہے، چُپچاپ چُوس ! نہیں تو تیری چُوت میں پیٹرول ڈال دُوںگی پھِر اُوںگلی ڈالتے رہنا رات بھر !”

اِسّے ایک پھایدا یہ ہُآ کِ میتا لںڈ چُوسنے لگی۔ وہ تو مونِکا سے اَچّھا چُوس رہی تھی۔

اَب میرے مُںہ میں مونِکا نے اَپنی چُوت سٹا دی اؤر ہِلنے لگی۔ میںنے بھی اُسکی چُوت کو جیبھ سے کھُوب چاٹا اؤر چُوسا۔ کریب 15 مِنٹ میں میرا پھِر سے پانی نِکل گیا اؤر اِس بار پانی میتا نے پیّا تھا اؤر مونِکا میرے مُںہ میں جھڑ گئی، مونِکا کا پانی میںنے پی لِیا اؤر مونِکا کو ہٹا دِیا تاکِ وو میرا لںڈ پھِر سے کھڑا کر سکے۔ پتا نہیں لیکِن مونِکا کے ہاتھوں میں جادُو تھا وو مُردے کے لںڈ کو بھی کھڑا کر سکتی تھی۔

میرا لںڈ کھڑا کرکے مونِکا نے میتا سے کہا- اَب تُو بیڈ پر لیٹ جا ! اَب اَرمان تیری چُوت میں اَپنا لںڈ ڈالیگا جو کِ تُجھے بہُت آرام سے لینا ہے کیوںکِ تُو آج پہلی بار چُوت میں لںڈ لے رہی ہے تو تیری جھِلّی پھٹیگی جِسّے تیرے کو درد بھی ہوگا !

تو میتا بولی- دیدی، تُم ٹیںشن مت لو ! میں آرام سے لے لُوںگی ! بس تُم کریم میری چُوت میں اؤر اَرمان کے لںڈ سے لگا دو اَچّھی ترہ سے !

مونِکا نے پُوری پؤںڈس کریم میرے لںڈ اؤر میتا کی چُوت پر لگا دی اؤر میتا کو کِس کرنے لگی۔

میں سمجھ گیا کِ اَب سہی سمے ہے چُوت سے لںڈ کا مِلن کرنے کا !

میںنے میتا کی چُوت کو پہلے کِس کِیا اؤر اُس پر لںڈ رگڑنے لگا جِسّے میتا کی اُتّیجنا بڑھتی جا تھی، وو سِسک رہی تھی ہمّمّمّم۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ آہّنانّنّنّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔۔ ییّیّیے اِ،ّ،ّ،ّ،ّ،ّ،ّ،اؤر نا جانے کیا کیا۔

میتا کے لِئے اَب برداشت کرنا مُشکِل ہو رہا تھا لیکِن مُجھے اُسے تڑپھانے میں مزا آ رہا تھا۔ آکھِر میتا کا سبر کا باںدھ ٹُوٹ گیا اؤر بولی،“مادرچود چودنا ہو تو اَبھی چود دے، نہیں تو تیرے لںڈ کو کھا جاُّںگی !”

میں بھی یہی چاہتا تھا کِ میتا مُجھ سے مِنّتیں کرے بھیکھ ماںگے ۔۔ّ۔ّ۔ لیکِن پھِر بھی اُسّے بھیکھ نا مِلے۔ اِسکے پیچھے بھی ایک کارن تھا وو میں پھِر کبھی بتاُّوںگا |

پھِر میںنے دھیرے سے اُسکی چُوت پر لںڈ ٹِکایا اؤر ایک ہی بار میں پُورا لںڈ اُسکی چُوت میں ڈال دِیا، جِسّے وو تڑپ اُٹھی اؤر جور جور سے چِلّانے لگی۔ مؤکے کی نجاکت کو سمجھتے ہُئے مونِکا نے پھِر سے اُسکا مُںہ اَپنے مُںہ سے بںد کر لِیا اؤر آواج وہیں دب گئی۔

میں بھی نہیں رُکا اؤر شاٹ پر شاٹ مارتا گیا- 1،2،3،4،۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔۔24،25، تب میں کہیں رُکا اؤر میتا کی چُوت کو دیکھنے لگا۔ اُسکی چُوت میں سے کھُون نِکل رہا تھا اؤر میتا کی آںکھوں سے پانی۔ لیکِن وو کُچھ بول نہیں پا رہی تھی۔

اَب میرا بدلا پُورا ہو گیا تھا اِسلِئے میں 10 مِنٹ کے لِئے رُک گیا اؤر میتا کا اِںتجار کرنے لگا کِ وو کب اَپنی گاںڈ ہِلاتی ہے۔ لیکِن اِسکے لِئے مُجھے جیادا اِںتجار نہیں کرنا پڑا 5 مِنٹ میں ہی وو اَپنے چُوتڑ ہِلانے لگی۔ میں بھی اَب بڑے پیار سے لںڈ آگے پیچھے کرنے لگا تھا۔ جِسّے اُسکی چیکھیں سِسکاری میں بدل گئی۔

اَب نزارا دیکھنے اؤر سُنّے لایک تھا- میرا لںڈ میتا کی چُوت کو چود رہا ہے اؤر میتا مونِکا کی چُوت کو چاٹ رہی ہے اؤر مونِکا میرے ہوںٹھ چُوس رہی ہے کِس کر رہی ہے۔

میتا کی چُوت اَب کاپھی گیلی ہو گئی تھی اِسلِئے پُورے کمرے میں پھچ پھچ ۔۔ّ۔ّ۔ّپھچ کی آواجیں آ رہی تھی اؤر میرا لںڈ بار بار پھِسل رہا تھا۔

میںنے تؤلِیے سے اُسکی چُوت کو ساف کِیا اؤر لںڈ پھِر اَندر ڈال دِیا۔ اَب مزا آ رہا تھا۔ دھیرے دھیرے لںڈ چُوت میں جاتا اؤر باہر نِکل آتا ! میتا بھی سِسکاری لے رہی تھی اؤر گالی دے رہی تھی،“پھاڑ ! پھاڑ دے میرے بالم ! میری چُوت کو پھاڑ دے ! بہُت پریشان کِیا ہے اِسنے 4 مہینے سے ! آج اِسکی گرمی ہو شانت کر دے میرے راجاآآ………… ہمّمّمّم ۔۔ّ۔۔ آآہہ ہہّہنّنّنّن پھکک می پھکک یا۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔۔ یاآّآآ ۔۔ّ۔ّ۔ّ۔گُڈ ،،ّ،ّ،ّ،” اؤر نا جانے کیا کیا “مدرچود اَب کِتنی دیر تک چُوت ہی چودیگا گاںڈ بھی مار لے لگے ہاتھ !”

میںنے کہا،“اَبھی نہیں ! پہلے چُوت کا اؤر لںڈ کا مِلن تو ہونے دو سہی سے !”

اؤر میں پھِر سے چودنے لگا۔ بس اَب دِلّی دُور نہیں تھی اؤر میتا کا پانی دُوسری بار نِکل گیا اؤر ساتھ ہی میرا بھی۔ میں میتا کے ستنوں پر ہی مُںہ رکھ کر لیٹ گیا اؤر چُوسنے لگا۔

کریب 10 مِنٹ باد میں اُٹھا اؤر کپڑے پہنّے لگا تو مونِکا نے کپڑے چھینتے ہُئے کہا،“کہاں جا رہے ہیں؟ آگ لگا کر میری چُوت کؤن، تُمہارا باپ آکر ماریگا یا میرا باپ !”

تو میںنے کِس کرتے ہُئے کہا،“کہاں جانیمن ! 10 مِنٹ میں آ رہا ہُوں۔”

کیوںکِ اَب مُجھے ڈرِںک کرنے کی جرُرت تھی، اِسکے بِنا اَب اؤر نہیں چود سکتا تھا اِسلِئے مونِکا کے ہیںڈبیگ میں سے 500 رُ۔ نِکال کر میں وِسکی لینے چلا گیا اؤر آکر دیکھا تو وو دونوں اَبھی بھی بِنا کپڑوں کے ہی تھی۔

میںنے جھٹ سے اَپنے کپڑے اُتار دِئے۔ میتا مُجھسے لِپٹ گئی اؤر مُجھے کِس کرنے لگی۔ لیکِن مُجھے اَبھی کُچھ اَچّھا نہی لگ رہا تھا اِسلِئے اُسکی گاںڈ پر لات مار کر ایک ترپھ کر دِیا۔

اِتنے میں مونِکا 3 گلاس لے کر آ چُکی تھی۔ میں مونِکا اؤر میتا کے لِئے بیّر لایا تھا جو اُن لوگوں نے اَپنے گلاس میں ڈال لی اؤر میرا بھی پیگ بنا دِیا۔

ہم تینوں نںگے ہی ڈرِںک کرنے لگے۔ میںنے جلدی جلدی 3-4 پیگ ڈالے اؤر میتا کو زمین پر ہی پٹک دِیا اؤر ٹاںگیں چؤڑی کرکے ایک بار میں ہی پُورا لںڈ اَںدر کر دِیا۔ اِسّے پہلے کِ وو چِلّانا شُرُو کرے، میں اُسے کِس کرنے لگا اؤر چودنے لگا۔

کریب 10 مِنٹ تک میں میتا کو ایسے ہی چودتا رہا۔ اُسکے باد اُسکو زمین پر ہی کُتِیا بنایا اؤر پیچھے سے چودنے لگا۔ 5-7 مِنٹ چود کر دیکھا تو میتا کی چُوت ڈبل روٹی کی ترہ پھُول گئی تھی۔ لیکِن مُجھے اُس پر بِلکُل بھی رہم نہیں تھا۔ اَب تک وو 3 بار جھڑ چُکی تھی اؤر میرا بھی سمے آ گیا۔ میںنے اَپنا لںڈ نِکال کر اُسکے مُںہ میں ڈال دِیا اؤر اُسکا مُںہ چودنے لگا۔

یہ سب چل ہی رہا تھا کِ مونِکا اُٹھی اؤر میتا کی ٹاںگے چؤڑی کر اُسکی گاںڈ کا چھید کھولنے میں لگ گئی۔ 3-4 لمبے شاٹ کے باد میں بھی میتا کے مُںہ میں جھڑ گیا اؤر ہٹ گیا۔

کریب 30 مِنٹ کے باد میتا کے مُںہ سے آواج نِکلی، اُسنے مُجھ سے کہا،“جب میں پُوری ترہ سے تُمہاری ہو چُکی ہُوں تو اِتنی بیرہمی سے کیُوں چود رہے ہو ؟؟ّ؟؟”

میںنے پُوری دم سے کھیںچ کر اُسکے گال پر چاںٹا مارا اؤر کہا- میتا ڈارلِںگ ! اَب کُچھ یاد آیا؟

وو سمجھ چُکی تھی آکھِر کیُوں میں کُتّے ترہ اُسے چود رہا تھا۔

پھِر اُٹھ کر میرا لںڈ مُںہ میں لِیا اؤر چاٹتے ہُئے بولی،“ساری جو ہُآ اُسے بھُول جاّو !”

اُسکے باد میںنے میتا کی گاںڈ بھی ماری اؤر مونِکا کو بھی چودا۔ لیکِن یے سب اَگلی کہانی میں ! پہلے آپ اِسکو پڑھو، مزے لو اؤر بتاّو کیسی لگی کہانی ! یانی میری آپ- بیتی !

بھائیّو اؤر چُوتو ! اِسے کوری بکواس مت سمجھنا ! یہ بِلکُل سچّی کہانی ہے !

اؤر اَبھی تو مُجھے یہ بھی بتانا بھی ہے کِ آکھِر میتا نے کِیا کیا تھا؟

اُسکے لِئے اَںترواسنا میں آتے رہِیے ! بہُت جلد آگے کا بھاگ بھی آپکے سامنے آایگا۔ 

EMail : PkMasti@aol.com
Yahoo : Jan3y.J4na@yahoo.com

By Unknown with No comments

سلگتی جوانی کو چودا



میری شادی کے باد ایک مہینا تو روج 4 سے 5 بار چُدائی کرتے ہُئے نِکل گیا، اؤر کیسے نِکلا کُچھ پتا ہی نہیں چلا۔ اُسکے باد بھی سیکس کے پرتِ دیواناپن بنا ہی رہا۔ اَکسر اؤرتوں کی آدت ہوتی ہے کِ وو پتِ کو تانے مارتی رہتی ہیں کِ آپکو تو بس سیکس کے اَلاوا کُچھ سُوجھتا ہی نہیں ہے۔ 

تو میںنے اُسّے پُوچھا کِ شاید تُمہارے مایکے میں تُمکو کھِلانے کے لِئے کم پڑنے لگا ہوگا اِسلِئے تُمہاری شادی کرنی پڑی ! 

تو پتنی بولی- ہو او او او او، کوئی نہیں، کھُوب تھا ! 

تو میں بولا- پھِر لِکھائی پڑھائی لایک دھن نہیں ہوگا ! 

تو وو بولی- اؤر کِتنا پڑھنا تھا، کھُوب تو پڑھ لِیا ! 

میںنے پھِر پُوچھا- تو اوڑھنے پہنانے میں اَسمرتھ ہونے لگے ہوںگے ؟ 

تو پتنی بولی- آپ بھی نا کیسی باتیں کر رہے ہو، رُپیے پیسوں کی کمی تو کوئی نہیں تھی ! 

تو میں بولا- میری پیاری پرانیشوری ! اَرے تو جِس چیج کی کمی تھی وو تھا لںڈ، اؤر سیکس ! سمجھی نا ! اؤر اِسی کے لِئے اَپنی شادی کی گئی ہے اؤر جِسکے لِئے شادی کی گئی ہے، اُسکا اَنادر کیوں کریں ! 

یہ تو من کی کھیتی ہے، جب بھی من کرے کھُوب چُدائی کرو۔ اِسّے بھی کبھی من بھرنا چاہِئے کیا ! 

اَرے یار لوگوں میں کئی ترہ کی گلت دھارناّیں ہوتی ہیں، کئی تو اُن دھارناّوں کے چلتے سیکس کا مجا نہیں لے پاتے ہیں، اؤر کئی لوگ اَسمرتھ ہوتے ہیں، جلدی ہی سکھلِت ہو جاتے ہیں یا کِسی کارنوش اُنکا من ہی نہیں کرتا، وو بیچارے ویسے مجا نہیں لے پاتے ہیں، اِسلِئے جب تک اِس مشینری کو چالُو رکھیںگے یے سہی تریکے سے کام کریگی، ورنا کھراب ہو جایّگی۔ 

اؤر میری دیوانگی پر تو تُجھکو پھکھر ہونا چاہِئے، کِ اِس کارن ہی سہی میں تُمہارے آگے پیچھے تو گھُومُوںگا نا ! 

اؤر مجے کی بات کِ میری پتنی کو یہ بات ٹھیک سے سمجھ آ گئی، اُسکے باد اُسنے کبھی مُجھے اِس بات کا اُلاہنا نہیں دِیا۔ 

لگبھگ بیس سال شادی کو ہو چُکے ہیں، اَب کُچھ سمے سے میری پتنی میں کُچھ بدلاو آئے ہیں، وو سیکس کے لِئے منا تو نہیں کرتی ہے، لیکِن وو سیکس میں سکرِے بھاگ بھی نہیں لیتی ہے، مُجھے سیکس کرنا ہو تو پھورپلے مُجھے اَکیلے کو کرنا ہوتا ہے، وو نہیں کرتی، سیکس کے لِئے کھُد پہل نہیں کرتی، ہاں سیکس میں اورگاسم لینے کے لِئے جرُور سکرِے ہوتی ہے ! بس، ہو گیی چُدائی اُسکی ترپھ سے ! چُمبن لینے کو منا کرتی ہے، بولتی ہے میرا دم گھُٹتا ہے۔ 

میںنے اُسکو سمجھایا کِ تُم کِس کے سمے مُںہ سے ساںس کیوں لیتی ہو، ناک سے لو، 

تو بھی وو منا کرنے لگی ہے، بولتی ہے کِس مت کرو۔ 

اَب بتائیّے جو چیج مُجھکو سبسے اَچّھی لگتی ہے، جِس کرِیا میں میں 10-20 مِنٹ آرام سے نِکال سکتا ہُوں، وو ہی نہیں کرنے کو مِلے ۔۔ّ۔ّ۔ 

کھیر۔ّ۔ 

میںنے کئی جگہ پڑھا ہے کِ لوگ اَپنے لنڈ کو تین اِںچ چؤڑا اؤر 9 اِںچ لمبا بتاتے ہیں۔ 

ایک آم اِںسان کے لِئے یہ سوچ کر اَپنا دِماگ کھراب کرنے کی کوئی بات نہیں ہے۔ّ۔ 

میں ایک بہُت سادھارن سا اُداہرن دے رہا ہُوں 

آپ ایک بِسلری کی پانی کی بوتل لے لیجِیے، یہ بوتل تین اِںچ چؤڑی ہوتی ہے اؤر اِسکے اُوپر کا مُںہ جہاں سے بوتل گھُومنا شُرُو ہو جاتی ہے وہاں تک نؤ اِںچ لمبائی ہوتی ہے، میںنے 9 اِںچ لمبائی کا تو سُنا ہے اؤر بندے کو دیکھا ہے لیکِن تین اِںچ چؤڑا۔ّ۔۔ میںنے کبھی بھی نہیں دیکھا۔ّ۔۔ 

میری سیکس پاور میں کوئی کمی نہیں آئی، اَب مُجھے روج ہی اَدھِکتر مُٹھ مار مار کر کام نِکالنا پڑتا ہے۔ جہاں سیکس روج کرتے تھے اَب 20 دِن سے ایک مہینا تک نِکل جاتا ہے، من بھٹکنے لگا، کِ کوئی ساتھی مِل جائے جو میری سمسیا کو سمجھے اؤر میرا ساتھ دے۔ 

میری کںپیُوٹر رِپیّرِںگ شاپ کے باجُو میں موبائیل کمیُنِکیشن کی دُکان کھُلی، کُچھ دِن تو بندا لگاتار بیٹھا پھِر اُسنے ایک لڑکی کو وہاں اَپوئیںٹ کِیا اؤر کھُد نے کِسی اؤر ملٹیپلیکس میں ایک اؤر دُوکان کھول لی اؤر وہاں بیٹھنے لگ گیا۔ ایکدم سلِم لڑکی جوانی کی گود میں سر رکھا ہی تھا اؤر جوانی میں لڑکی کو جیسے کھُوبسُورتی اؤر اَرمانوں کے پںکھ لگ جاتے ہیں، وو تھوڑا بولنے میں بولڈ ہو جاتی ہے، وو بھی شُرُو میں تو کم بولتی تھی، پھِر بولڈ ہو گئی، کِسی بات کو لیکر پریشانی ہوتی تو مُجھے بولتی۔ 

ہم لوگ آپس میں کھُلنے لگے، ایک دِن بہُت ہی اَجیب سا واکیا ہُآ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔۔ 

اُسکو سُو سُو جانا تھا وو مُجھسے بول گئی کِ میں اَبھی آئی ! زرا اِدھر دُکان میں دھیان رکھنا ! 

وو گئی اؤر واپس آئی اؤر بہُت پریشان سی لگی، کُچھ دیر بیت گئی۔ّ۔ّ۔ 

پھِر ہِچکتی سی باہر آکر مُجھے بولی- سر، پلیج ! ایک مِنٹ اِدھر آیّںگے۔ّ۔ّ۔ّ؟ 

میںنے لڑکوں کو بولا- تُم لوگ کام کرو، میں آیا ! 

اؤر اُسکے پیچھے اُسکی دُکان میں گیا، وو اَندر کیبِن میں چلی گئی تھی، میں کیبِن کے درواجے پر جاکر بولا- ہاں کیا ہُآ۔ّ۔؟ 

تو اُسکا مُںہ لال ہو گیا، بولی- مُجھے شرم بھی آ رہی ہے اؤر اِمرجیںسی اِتنی ہے کِ میں بِنا کہے رہ بھی نہیں سکتی۔ 

میںنے کہا- تو کہ دے نا، پھِر شرم کی کیا بات ہے۔ 

تو وو ہِچکتے ہُئے رُک رُک کر بولی- سر میں سُ سُ گئی تھی۔ّ۔ّ۔ میری سلوار۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ ، کیا بولُوں، 

میںنے کہا- اَرے بول نا۔ّ۔ّ۔ّ۔ 

تو بولی- ناڑے میں گاںٹھ لگ گئی ہے۔ّ۔ّ۔ّ۔۔ 

میںنے کہا- اوہّہ، ہے تو سمسیا ہی ! لیکِن جو کرنا ہے وو تو کرنا ہی پڑیگا۔ّ۔ّ۔ 

میں کیبِن کے اَندر ہو گیا، اُسکو ایک سائیڈ میں کِیا اؤر کُرتے کو اُوپر کر کے ناڑے میں پڑی گاںٹھ کو سہی کِیا، اؤر اُسکو سُ سُ کرنے بھیج دِیا۔ّ۔ّ۔ 

میری کیا ہالت ہُئی ہوگی آپ بھی اِس ہالت میں ہوتے تو ۔۔ّ۔ّ، سہج ہی اَںداجا لگا لو۔ّ۔ّ۔ 

میںنے چھوٹے کو چڈّی میں ہاتھ ڈال کر اُوپر کی اور کِیا اؤر اَپنی دھڑکن پر کابُو کرنے کا یتن کرنے لگا۔ 

سپنا کا کیا ہال ہُآ ہوگا، جِس ترہ سے بیچاری کے ہاو بھاو لگ رہے تھے، دھڑکن تو اُسکی بھی بڑھ ہی گئی ہوگی۔ّ۔، اُسکا مُںہ ایکدم لال ہو گیا تھا۔ اِسکا متلب پہلی بار کِسی مرد کا ہاتھ اِس ترہ سے اُسکو لگا تھا۔ّ۔ّ۔۔ 

میںنے سوچا کِ میںنے تو کیا گلت کِیا، اُسنے کہا تو مدد کر دی ! اِمرجیںسی تھی ہی اِتنی ! کھیر اَب ہوگا جو دیکھا جایّگا۔ّ۔۔ 

اَب میرے من میں ایک اَرمان جاگا کِ سپنا یدِ تیّار ہو جائے تو۔ّ۔۔ 

جو گھُٹن میرے من میں مُجھے مہسُوس ہوتی ہے وو ختم ہو جایّگی۔ 

کھیر۔ّ۔ّ، میںنے اَپنا سر جھٹکا، سوچا تھیوری میں اؤر ہکیکت میں بہُت پھرک ہوتا ہے۔ّ۔ّ۔ 

وو جیسے ہی اَپنی دُکان میں آئی میں اَپنی دُکان میں چلا آیا، لیکِن آتے آتے اُسکے مُںہ سے تھیںک یُو سر۔ّ۔۔ نِکلا، میںنے اُسکی اؤر دیکھا اؤر مُسکُرا کر چلا آیا۔ّ۔ّ۔ 

اَب ہم تھوڑا اؤر کھُل گئے، کبھی کبھی جب وو بِلکُل اَکیلی ہوتی تو مُجھسے کہ دیتی- سر لںچ کر لو ! 

تو ہم ساتھ ساتھ لںچ کر لیتے تھے۔ّ۔ّ۔، کُچھ ہںسی مجاک، جوکس بھی چلتا رہنے لگا۔ّ۔ّ۔ 

لیکِن دِلّی اَبھی کِتنی دُور تھی کُچھ پتا نہیں۔ّ۔ّ۔ 

وو کھالی ٹائیم میں کںپیُوٹر پر گیمس کھیلتی تھی، جیاداتر تاش والے گیمس ! 

ایک بار لںچ میں بُلایا تو وہی گیم لگا پڑا تھا تو میںنے کہا- بور نہیں ہوتی اِن گیمس سے؟ روج روج یہی گیم، بچّوں والے ۔۔ّ۔۔ 

تو اُسکے مُںہ سے اَچانک ہی نِکل گیا- تو سر آپ ہی بتا دو کُچھ ! 

میںنے مؤکا دیکھ کر کہا- تُو بُرا تو نہیں مانے تو بتا دُوںگا ! 

تو سپنا بولی- آپ بھی کیا بات کرتے ہو، بُرا کاہے کا مانّا؟ 

تو لںچ کے باد میں اُسکے کںپیُوٹر پر اَنترواسنا سائیٹ لگا کر بولا- یہ دیکھ، ایک ایک ٹوپِک پر کلِک کر، یدِ پسںد نا آیے تو بُرا مت مانّا ! بںد کر دینا میں اؤر کُچھ گیمس میں کںپیُوٹر پر ڈال دُوںگا۔ّ۔ّ۔ 

اُسکے باد 3-4 دِن تک اُسنے ن تو مُجھسے بات ہی کی اؤر نا ہی مُجھے لںچ کے لِئے آواج ہی دی۔ میں یدِ باہر نِکلتا بھی تو وو میری ترپھ نہیں دیکھ کر نجر نیچے کر لیتی۔۔ 

میںنے سمجھا کِ گلت ہی ہو گیا لگتا ہے۔ّ۔ شاید یہ لڑکی اِس ترہ کی چیجوں میں رُچِ نہیں لیتی ہوگی۔ّ۔ّ۔، میرے من میں پچھتاوا ہونے لگا، کِ کیوں میںنے اُسکو بِنا اُسکا من جانے اِس ترہ کی سائیٹ اُسکو دِکھائی۔ّ۔۔ بیچاری اَچّھی دوست تھی۔۔ 

کھیر۔۔ اَب جو ہونا تھا وو تو ہو چُکا۔ّ۔ 

ہمارے مال میں دُکانیں لگبھگ 11 تک پُوری ترہ سے کھُلتی تھی، لیکِن میں ہمیشا 9:30 پر دُکان کھول لیتا ہُوں۔ 

اِس گھٹنا کو لگبھگ 5 دِن نِکل گیے ہوںگے کِ ایک دِن وو بھی 9:30 پر آئی اؤر سپھائی پُوجا کے باد اُسنے میری دُکان کے باہر سے مُجھے آواج لگائی- سر ایک مِنٹ پلیج ! 

میںنے سوچا- جانے آج کیا ہوگا، یہ کیا کہنا چاہتی ہے؟ میںنے سوچا کِ اَبھی یہاں کوئی آس پاس ہے بھی نہیں۔ّ۔ جو گلت ہو گیا اُسکو سُدھرنے کا مؤکا بھی ہے، یہ سوچ کر دھڑکتے دِل سے اُسکی دُکان میں چلا گیا۔ وو مِٹھائی کا ڈِبّا ہاتھ میں لیکر کھڑی تھی، بولی- مِٹھائی کھاّو سر۔ّ۔ّ۔! 

میںنے مِٹھائی کا پیس ہاتھ میں لیکر پُوچھا- کِس کھُشی کی مِٹھائی ہے۔ّ۔ّ۔؟ 

تو بولی- میں آج بی ئے کی پریکشا میں پاس ہو گئی۔ 

میرے مُںہ سے نِکلا اَرے واہ۔ّ۔ّ۔! بدھائی ہو ! 

اؤر آدھا ٹُکڑا اُسکے مُںہ میں ڈال دِیا اؤر باکی کا اَپنے مُںہ میں اؤر اُس پیس کو ختم کرکے ایک اؤر پیس اُٹھایا۔ پھِر مِٹھائی ختم کرکے میںنے اُسکو بولا- سپنا میں تُجھسے کُچھ کہنا چاہتا ہُوں۔ 

میرے دِل کی دھڑکن بڑھ گئی اؤر مُںہ سے شاید لالِما بھی پھُوٹنے لگی ہو۔ّ۔۔ 

سپنا کا مُںہ بھی سکپکاہٹ سے لبریج ہو گیا، اُسکو بھی بھان ہوگا کِ میں کیا کہنا چاہتا ہُوں۔ّ۔ 

میںنے ہِمّت کرکے کہا- سپنا اُس دِن جو میںنے تُجھکو سائیٹ کھول کر دی، یدِ تُجھے بُرا لگا ہو تو میں سچّے من سے مافی ماںگتا ہُوں، سچ میں تیری مںشا جانے بِنا میںنے تُجھکو وو سب پڑھنے کو دِیا جو ورجِت مانا جاتا ہے، اؤر یہ جانتے ہُئے بھی کِ یدِ تُجھکو سیکس چڑھا تو تیرے پاس اُسکو سںبھالنے کا کوئی سادھن نہیں ہے۔ تُو کِسکو کہیگی کِ تُجھکو کیا ہُآ ہے۔ّ۔ّ۔ّ۔ 

سپنا کا مُںہ نیچا ہو گیا، چیہرا لال ہو گیا، اؤر بولی جیسے جم گئی ہو۔ 

میںنے اُسکی ٹھُڈّی کے نیچے اَپنی اُوںگلی رکھ کر اُسکا چیہرا اُٹھایا اؤر میری ترپھ دیکھنے کو بولا۔ 

اُسکی نجریں دھیرے دھیرے میری اور اُٹھی تو میں بولا- سپنا تُو میری اَچّھی دوست ہے، اَب تُو کیا مانتی ہے یہ تو تُو جانے، لیکِن میں تیری دوستی کم سے کم تیری شادی تک تو نہیں کھونا چاہتا۔ 

تو اُسکی آںکھوں سے دو بُوںد آںسُو ٹپک آیے۔ّ۔ّ۔ 

میرا دِل بھاری ہو گیا۔ 

اُسنے دھیرے دھیرے رُک رُک کر کہا- سر میں بھی آپکو اَپنا اَچّھا دوست مانتی ہُوں، میں ناراج نہیں ہُوں۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ، نہیں تو آج اِس سمے کیوں آتی۔ّ۔، مُجھے آپسے بات کرنا اَچّھا لگتا ہے۔ّ۔ّ۔ 

میرے من کو کِتنا چین آیا، جیسے سر پر سے پہاڑ ایکدم سے ہٹا دِیا گیا ہو۔ّ۔ّ۔۔ 

میںنے کہا- ٹھیک ہے تُو تھوڑی دیر میرے پاس میری دُکان پر بیٹھ۔ّ۔، آ جا ! 

اُسنے شٹر اُٹھے رہنے دِئے اؤر اَلُمِنِیم کا درواجا لگا کر میرے پاس میری دُکان میں آ گئی اؤر میں رِپیّرِںگ کے ساتھ ساتھ اُسّے بات بھی کرنے لگا۔ دھیرے دھیرے ہم دونوں ہی سامانے ہونے لگے۔ 

لگبھگ 45 مِنٹ باتچیت ہُئی جِسمیں ہمنے ایک دُوسرے کے گھر میں کؤن کؤن ہے، گھر کیسا ہے، ایک دُوسرے کی رُچِیاں کیا ہیں یہ سب جانا، پھِر وو کریب 10:30 - 10:45 پر اَپنی دُکان میں چلی گئی۔ اَچّھا بھی نہیں لگتا تھا کِ کوئی اُسکو اؤر میرے کو اِس ترہ سے آپس میں گھُٹ کر باتیں کرتا دیکھے، لڑکی جات جلدی بدنام ہو جاتی ہے۔ّ۔ّ۔۔ 

پھِر وو اَکسر جلدی ہی آنے لگی، ہم دونوں میں بہُت سی باتیں ہونے لگی، دھیرے دھیرے وو مُجھسے مجاک بھی بہُت کرنے لگی، اُسکے چیہرے کو دیکھ کر لگتا تھا کِ اُسکو میرا ساتھ اَچّھا لگتا ہے، وو جیادا سے جیادا ٹائیم میرے ساتھ نِکالنا چاہتی ہے۔ 

لیکِن میںنے اُسکو چیتا دِیا تھا کِ دیکھ سپنا اَپنی دوستی کی بات اَپنے دونوں تک ہی سیمِت ہونی چاہِئے ! پگلی، نہیں تو لڑکی جات کو بدنام ہوتے دیر نہیں لگتی۔ 

یہ بات اُسکو بھی اَچّھے سے سمجھ میں آ گئی اؤر جو بھی ہںسی مجاک ہمیں کرنا ہوتا تھا وو سب ہم اؤر دُکانوں کے کھُلنے سے پہلے کر لیتے تھے۔ وو اَکیلے میں مُجھے نِک نیم سونُو پُکارنے لگی، مُجھے بہُت اَچّھا لگتا تھا۔ 

ایک دِن جب میں 9:30 پر دُکان پںہُچا تو سپنا دُکان کھول چُکی تھی اؤر مُجھسے بولی- سونُو پلیج آج تُم تھوڑی دیر میرے ساتھ میرے پاس بیٹھو نا ! 

میںنے کہا- ٹھیک ہے آدھا گھںٹا کے کریب تُمہارے ساتھ بِتا لُوںگا۔ 

تو وو بولی- ہاں ہاں ٹھیک ہے۔ 

میں اُسکے پاس بیٹھ گیا۔ میںنے تھوڑا سا مُوڈ ہلکا کرتے ہُئے سپنا سے کہا- آج کیا بات ہے گُنُّو، تُم آج بہُت روماںٹِک مُوڈ میں لگ رہی ہو، بِجلی گِرانے کا اِرادا تو نہیں ہے نا ؟ 

اُسکا مُںہ لال ہو گیا، اؤر میرے ہاتھ کو اَپنے ہاتھو میں لے لِیا اؤر باجُ کے سائیڈ میں اَپنا سر ہؤلے سے ٹِکا دِیا۔ّ۔ّ، میں چؤںکا اؤر سپنا کی اور دیکھنے لگا، وو نیچے دیکھنے لگی۔ میںنے اَپنی باںہ اُس سے چھُڈائی اور اُسکے کںدھے پر اَپنا ہاتھ رکھ دِیا اور دُوسرے ہاتھ سے اُسکی ٹھُڈّی اُٹھائی، اُسکا چیہرا شرم سے لبریج تھا۔ّ۔ ہوںٹ پر ایک گیلاپن آ گیا تھا، جو کِسی لڑکی کے گرم ہونے پر آ جاتا ہے، اور آںکھوں میں ایک کُںواری لڑکی کی شرم بھری لالِما آ گئی تھی۔ مُجھے ڈر تھا کِ کوئی آ ن جائے۔ 

لیکِن ویسے اَبھی باجار کھُلنے میں تھوڑا سمے تھا، میںنے سپنا سے کہا- گُنُّو میری رانُو، ہم آپس میں اَچّھے دوست ہیں نا۔ّ۔؟ 

تو اُسنے ہاں میں سر ہِلا دِیا۔ 

میںنے پھِر کہا- گُنُّو ! اَپنی نجریں مُجھسے مِلاّو اؤر بتاّو کِ کیا بات ہے۔ّ۔؟ 

تو اُسنے نیچے دیکھتے ہُئے نا میں سر ہِلا دِیا اؤر اُسکی پلکیں بںد ہو گئی، میں بُری ستھِتِ میں پھںس گیا تھا، اُسکو واستو میں سیکس کی گرمی چڑھ گئی تھی۔ 

اَب یدِ میں اُسّے اِس ستھِتِ کا پھایدا اُٹھتا ہُوں تو میرے دِل کو گوارا نا تھا اؤجر یدِ چھوڑتا ہُوں تو اُسکا کیا ہال ہوگا، میں سمجھ سکتا تھا۔ میںنے بھگوان کو یاد کِیا اؤر ٹیبل پر سے باہر کے گیٹ کی چابھی اُٹھائی اؤر اَندر سے ایلیُومِنِیم کا درواجا لاک کر دِیا اَندر سپنا کے پاس آیا اؤر اُسکو اَندر کیبِن میں لے گیا اؤر ہم دونوں دو سٹُول پر سٹ کر بیٹھ گئے۔ میںنے اُسکے کںدھے پر ہاتھ رکھا اؤر اُسکی ٹھُڈّی اُٹھا کر بولا- گُنُّو میری اور دیکھ ۔۔۔ 

بہُت مُشکِل سے اُسکی آںکھیں میری آںکھوں سے مِلی، میںنے کہا - سیکس کے بارے میں جانّا ہے؟ّ؟ّ؟۔ّ۔ّ۔۔ 

تو اُسنے ہاں میں سر ہِلا دِیا۔ 

میںنے اُسکو سیکس کے بارے میں بتانا شُرُو کِیا کِ کیسے ہوتا ہے، بچّے کیسے ہوتے ہیں اور کرتے میں کیا کیا مہسُوس ہوتا ہے۔ 

اُسنے کہا- سونُو، رات کو میںنے۔ّ۔۔ اَپنے ممّی پاپا کو۔ّ۔ّ۔ دیکھا ہے ! تُم بھی کرو۔ّ۔ّ۔۔ میرے ساتھ۔ّ۔ّ۔ّ۔ سب کُچھ ۔۔ّ۔۔ وو ۔۔۔ ہی۔ّ۔۔ 

اوہ تو یہ بات ہے ! میںنے سوچا۔ّ۔۔ 

اُسنے میرا دُوسرا ہاتھ اَپنے دونوں ہاتھو سے پکڑ لِیا اؤر اُسکا سارا شریر کاںپنے لگا، اُسکے پُورے شریر میں تھِرکن ہو رہی تھی۔ او ماے گوڈ۔ّ۔ّ۔ّ۔ میںنے سوچا اؤر مُجھے بس ایک ہی اُپچار نجر آیا، میں اُسکے ایکدم سامنے ہُآ اؤر میںنے اُسکو اَپنے سے چِپٹا لِیا اور اُسکے ہوںٹو پر اَپنے ہوںٹ رکھ دِئے۔ّ۔ ہم دونوں سمُوچ (ہوںٹ اور جیبھ کو چُوستے ہُئے کِس) کی ستھِتِ میں ہو گئے۔ 

میںنے اَپنی پیںٹ کی ہُک اؤر جِپ کھول دِئے، اُسکِ سلوار کے ناڑے کو کھول دِیا اور اُسکا ہاتھ اُٹھا کر اَپنے لنڈ پر رکھ دِیا اؤر اُسکی پیںٹی میں ہاتھ ڈال کر اُسکی چُوت پر سہلانے لگا۔ 

اُسکی چُوت سے پانی ٹپک رہا تھا اؤر سلوار کا کُچھ ہِسّا تک گیلا ہو گیا تھا۔ میںنے بیٹھے بیٹھے ہی اُسکو تھوڑا اُوپر کرکے اُسکی سلوار اؤر پیںٹی کو ٹاںگو سے اَلگ کِیا اؤر ایک اَنے سٹُول پر سُکھانے کی ستھِتِ میں ڈال دی جیسے تیسے سوِچ بورڈ پر پںکھا چالُو کر دِیا اؤر اُسکی ٹاںگوں کو تھوڑا سا اُوپر کرکے اُسکو اَپنی جاںگھو پر کھیںچ لِیا، اُسکی چُوت کو تھوڑا سا کھول کر اَپنا لںڈ اُسکی چُوت کی درار میں لمبائی میں رکھ دِیا اؤر اُسکے ہِپس کے نیچے میرے ہاتھ رکھکر اُسکو اَپنے ہاتھوں میں تھوڑا سا اُٹھا کر اُسکی چُوت میں میرے لںڈ کی رگڑ دینے لگا۔ 

سپنا نے کسمسا کر اَپنے ہوںٹ میرے ہوںٹو سے اَلگ کر کے کھولے اؤر بولی- سونُو اَندر گھُسا دو، پلیج ! میںنے کہا- گُنُّو نہیں ! آج نہیں ! 

سونُو۔ّ۔ّ۔ پلیج۔ّ۔ّ۔ّ۔ 

میںنے اُسکو باںہوں میں کس کر اؤر بھی جور سے بھیںچ لِیا، ہوںٹ سے ہوںٹ مِلا کر جور سے کِس کرنے لگا، اؤر اُسکو میرے لںڈ سے رگڑ دینے لگا۔ّ۔ّ، اَب اُسکو مجے آنے لگے تھے۔ّ۔ سو وو بھی دھیرے دھیرے ہِلنے لگی اؤر 3-4 مِنٹ میں ہی ہم ایک دُوسرے سے جکڑے نِڈھال ہو گئے ۔۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔۔ 

اؤر تین چار مِنٹ اِس ستھِتِ میں نِکل گئے پھِر اُسکو دھیرے دھیرے ہوش آنے لگا، آںکھیں کھول کر اُسنے اَپنی ستھِتِ دیکھی، میری گود میں بیٹھی ہے۔ّ۔، کیبِن میں ہے۔ّ۔ّ، نیچے کُچھ نہیں پہنا ہُآ ہے۔ّ۔ّ۔، اؤر میرے نیچے کے کپڈے بھی نیچے ہُئے پڑے ہیں اؤر ہم دونوں ایک دُوسرے کی باںہوں میں بںدھے ہُئے ہیں۔ّ۔، ایکاّیک اُسکی آںکھوں میں لالِما آئی لیکِن اُسنے اَپنے ہاتھ میری پیٹھ سے ہٹا کر میرے مُںہ کو اَپنے ہاتھوں میں پکڑا اؤر اؤر ایک کِس کر دِیا۔ 

سچ میں اِس کِس کا کوئی مُکابلا ن تھا یہ اَب تک کے مجے میں سبسے اُوپر تھا۔۔ آکھِر یہ کِس اُسنے اَپنے پُورے ہوشوہواس میں کِیا تھا۔اَب ہم جلدی سے اَلگ ہُئے، میںنے اَپنے کپڑے دُرُست کِیے اؤر اُسکی سلوار کو پںکھے کے ایکدم سامنے کر کے 5 مِنٹ میں جِتنا سُوکھ سکتا تھا اُتنا سُکھایا اؤر اُسکو بھی اُسکے کپڑے پہنائے۔ 

ہمنے پھِر ایک بار اؤر کِس کِیا پھِر جلدی سے باہر کا درواجا کھولا، گنیمت کِ اَبھی تک چہل پہل ن تھی۔ّ۔۔ 

پھِر میںنے اؤر اُسنے ایک دُوسرے کو دیکھکر مُسکان دی۔ پھِر میں دُکان کھول کر اَپنے کام میں ویست ہو گیا۔ 

لںچ کرتے میں سپنا نے اَگلے دِن 9 بجے آنے کو بولا۔ میںنے اُسکی آںکھوں میں دیکھا تو اُسنے آںکھ مار دی۔ّ۔ 

میںنے کہا- شیتان کہیں کی۔ّ۔۔ ٹھہر تو ۔۔ّ۔۔ کل دیکھُوںگا۔ّ۔ّ۔ 

اَگلے دِن میں جب نؤ بجے پہُںچا تو سپنا دُکان میں سپھائی کر رہی تھی۔ جلدی سے پھری ہُئی اؤر مُجھے اَندر لیکر درواجا بںد کِیا اؤر میرے ساتھ کیبِن میں گھُس گئی اؤر مُجھے سٹُول پر بِٹھا کر میری گود میں بیٹھ گئی اؤر بولی- ہاں اُستاد اَب پھِر سے سِکھاّو کل تو میں ہوش میں تھی نہیں۔ّ۔ّ۔۔ 

تو میںنے اُسکو سیکس کے بارے میں پھِر سے بتانا شُرُو کِیا۔ّ۔ّ۔ آج ن تو اُسمے کل جِتنی شرم تھی اؤر نا ہی مدہوشی۔ّ۔۔ 

وو بڑی تنمیتا سے سُن رہی تھی، سمجھ رہی تھی۔ّ۔ّ۔ّ۔ 

پھِر اُسنے میرے ہاتھ اَپنے بوبوں پر لگا دِئے اؤر کھُد میرے ہوںٹو کو چُوسنے لگی پھِر میری پیںٹ کے ہُک کھولنے لگی۔ّ۔، میںنے اُسکو سہیوگ کِیا تو اُسنے میرے ہاتھ پھِر سے اَپنے بوبوں پر رکھ دِئے اؤر میری پیںٹ کو کھول دِیا پھِر کھُد کی سلوار کو بھی ! پھِر کھُد کھڑی ہونے کی ہالت میں ہو گئی تو مُجھے بھی کھڑے ہونا پڈا تو اُسنے نیچے کے کپڑے سرکاکر اُتر جانے دِئے۔ّ۔ 

پھِر اُسنے میرے لںڈ کو اَپنی چُوت کے درار میں سیٹ کِیا اؤر مُجھسے ایکدم سے چِپک گئی، پھِر اَپنے ہاتھ میری پیٹھ پر باںدھ کر اَپنے پیر ہوا میں لیکر میرے کُولہوں پر کس لِئے اؤر ہِل کر چُوت کو میرے لںڈ سے رگڑنے لگی، تو میںنے اَپنے ہاتھ اُسکے بوبوں سے ہٹا کر اُسکے کُولہوں کے نیچے کِیے اؤر رگڑ میں ہِلانے میں سہایتا کرنے لگا۔ ہمارا چُمبن اؤر بھی پرگاڑھ ہو گیا اؤر دھیرے دھیرے وو اَکڑتی گیی پھِر میں بھی۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ 

اَب میں اُسکو اِسی ہالت میں لِیے دِیے سٹُول پر بیٹھ گیا اؤر ہم اَپنی ساںسوں میں کابُو پانے لگے۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ 

زرا دیر میں ہی سپنا پھِر چالُو ہو گئی۔ّ۔۔ چُوما-چاٹی، بوبے دبانا چُوسنا، چُوت کو رگڑنا۔ّ۔ّ۔ّ۔! 

پھِر وو بولی- سونُو اَندر ڈالو۔ّ۔۔ چلو۔ّ۔ّ۔ 

تو میںنے پُوچھا- تیری ایمسی کب ہُئی تھی؟ 

تو وو بولی- سترہ دِن ہو گئے ! 

تو میںنے کہا- دیوی اؤر 2-3 دِن رُک جا ! نہیں تو پھالتُو میں بچّے کا رِسک ہو جایّگا ! 

تو وو بولی- پھِر اَندر ڈال کر کروگے ۔۔ّ۔۔ 

میںنے کہا- ہاں بابا ہاں ! 

وو بولی- پرومِس؟ 

میںنے کہا- ہاں بِلکُل پکّا۔ّ۔۔ 

تو بولی- لاّو ہاتھ اؤر کسم کھاّو ! 

میںنے اُسکے ہاتھ میں اَپنا ہاتھ لیکر کسم کھائی۔ّ۔ّ۔ 

پھِر ہمارا دُوسرا راُّںڈ پُورا ہُآ اؤر اُسکے باد ہم ہمارے کام میں لگ گئے۔ دو اؤر دِن اِسی ترہ سے نِکل گئے۔ّ۔۔ 

اِس بیچ میں میںنے ویسلین کی ایک چھوٹی ڈِبّی لاکر اُسکے کیبِن میں رکھ دی۔ اُسنے پُوچھا تو میںنے کہا- اَندر والے دِن کام آایگی ! پھِر اُسکو بتایا کِ جیادا درد ن ہو اِسکے لِئے جُگاڑ بِٹھا رہا ہُوں۔ّ۔ّ۔ 

تو وو مچل کر بولی- سونُو یار تُمہارے جیسا آدمی تو بس۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ یے دھیان رکھتے ہو کِ نادان سے نہیں کرنا۔ّ۔ اُسکو سیکس کا جنان دیتے ہو، اُسے بچّا ن ہو جایے یے دھیان رکھتے ہو۔ّ، اُسے درد ن ہو یے بھی دھیان رکھتے ہو آکھِر کیوں۔ّ۔ّ۔ 

میںنے کہا- میری جان ہو تُم ! میںنے ماتر سیکس کے لِئے نہیں، پیار کے لِئے تُمکو پایا ہے گُنُّو۔ّ۔ّ۔ 

تو اُسکی آںکھوں میں جوش اؤر وِشواس دیکھنے کے کابِل تھا۔ّ۔ّ۔۔ 

آکھِر ایمسی کے بیسویں دِن سُبہ نؤ بجے سپنا بہُت اُتساہ میں تھی، جیسے وو کوئی تیر مارنے جا رہی ہو۔ 

میںنے اُسکو کہا تو بولی- ہاں ! تیر ہی تو مار رہی ہُوں۔ّ۔ّ، آکھِر جِسکے تُم جیسے گُرُ ہو وو کوئی کم تیرںداج ہوگا بھلا۔ّ۔ 

ہم دونوں کیبِن میں بںد ہو گئے، اؤر آج ہمنے ایک دُوسرے کو پُورا نںگا کِیا اؤر میںنے اُسکے ہوںٹ، بوبے اؤر گردن چُوسی، بوبے دبایے اؤر کھُوب جور سے چِپٹا کر کِس کرنا چالُو کِیا اؤر سپنا کو کہا- لںڈ سے کھیل۔ّ۔ّ۔! 

وو لںڈ ہاتھ میں لیکر سہلانے لگی۔ّ۔۔! اُسکی آںکھوں میں کھُماری اُتر آئی اؤر چُوت میں سے پانی ٹپکنے لگا۔ّ۔ّ۔ 

میں اِسی اِنتجار میں تھا۔ّ۔ میںنے اَپنی ایک اُوںگلی میں کھُوب ساری ویسلین لگا کر اُسکی ٹاںگوں کو پھیلا کر اُوںگلی اُسکی چُوت میں اَندر ڈالتا چلا گیا، اُسکا مُںہ کھُل گیا اؤر ایک آہ اُسکے مُںہ سے نِکلی۔ 

میںنے پُوچھا تو بولی- کُچھ نہیں ۔۔ّ۔! آپ تو کرو۔ّ۔۔ ! 

میںنے کہا- درد ہو تو مُجھے بتانا ! 

تو بولی- سونُو درد تو ایک بار ہونا ہی ہے چاہے اَبھی یا باد میں۔ّ۔ّ۔ ! باد کا تو پتا نہیں لیکِن تُم جیسا ساتھی ہو تو اِس سالے درد کی ایسی کی تیسی، ہونے دو ایک بار ہی تو ہوگا۔ّ۔ّ۔۔ 

میں دںگ رہ گیا مُجھے سپنا پر بہُت پیار آیا، اُسکو کِتنا وِشواس تھا مُجھپر۔ّ۔ّ، جانے کیوں۔ّ۔ 

میںنے اَپنی اُوںگلی اُسکی چُوت میں دِئے ہُئے او کے آکار میں گھُمانے لگا ۔۔ّ۔ اَندر اُسکا ہایمن دھیرے دھیرے کھُلنے لگا، پھِر 2-3 مِنٹ باد میں اَںگُوٹھے پر ویسلین لگا کر چُوت میں ڈالا اؤر اُسکے چیہرے کو دیکھا تو پھِر اُسکا مُںہ کِس کرتے کرتے رُک گیا، اؤر پھِر وو کِس کرنے لگی میںنے اَںگُوٹھے کو آگے پیچھے کرنا شُرُو کِیا تو وو سِسکاری لینے لگی۔ دھیرے دھیرے کُچھ دیر باد میں اَںگُوٹھے کو او کے آکار میں گھُمانے لگا۔ّ۔ 

2-3 مِنٹ میں اُسکا ہایمن کاپھی کھُل گیا تو میںنے کہا- گُنُّو، اَب تیّار ۔۔ّ۔ّ۔ّ۔؟ 

تو وو چہک کر بولی- اَرے واہ سونُو ! میں تو کب سے راہ دیکھ رہی ہُوں ۔۔ّ۔۔ چلو۔ّ۔ّ۔ ڈالو۔ّ۔۔ 

میں اُسکی اُتسُکتا دیکھ کر دںگ رہ گیا۔ّ۔ّ۔ 

پھِر میںنے اُسکو اَپنی گود میں بِٹھایا اؤر کھُوب ساری ویسلِن اُسکی چُوت پر ملی اور میرے لںڈ پر بھی، پھِر ہاتھ بیچ میں رکھکر اَپنا لںڈ اُسکی چُوت کے چھید پر سیٹ کِیا ۔۔۔ پھِر سپنا کو بولا- گُنُّو اَپنی ٹاںگو کو بِلکُل ڈھیلا چھوڑ۔ّ۔ اُسکے کُولہوں پر میرے ہاتھو کا دباو بناتے ہُئے دھیرے دھیرے اَپنی اور بھیںچنے لگا۔ّ۔ّ۔ ، لںڈ کا سُپاڈا اَندر ہو گیا۔ میںنے کہا- گُنُّو سںبھالو۔ّ۔۔ درد ہوگا تھوڑا۔ّ۔ 

تو اُسنے اَپنی ٹاںگوں کو میرے شریر کی ترپھ ایک جھٹکا دِیا اؤر لںڈ سرسراتا ہُآ اُسکی چُوت میں آدھا چلا گیا، اُسکے ہوںٹ بھِںچ گئے اؤر وو اؤر اؤر آنے دو … کی مُدرا میں گردن ہِلانے لگی۔ّ۔ 

میں دھیرے دھیرے ہِلتے ہُئے دھکّے لگاتے لںڈ اَندر ڈالتا گیا ۔۔۔ اؤر پھِر ایک بار ہم دونوں کے ہوںٹ آپس میں کِس کرنے لگے۔ ہاتھ ایک دُوسرے کے بدن پر پھِرنے لگے۔ّ۔۔ لںڈ کے اَندر جانے کا سواد دھیرے دھیرے سپنا کو آنے لگا اؤر اُسکے مُںہ سے سِسکاری اؤر آہ نِکلنے لگی۔ پھِر جو گھماسان ہونا تھا وو ہُآ اؤر اَب تک کی چُدائی کا سبسے شاندار اورگاسم آیا ہم دونوں کو۔ّ۔ 

اُسکے باد ہم دونوں لگبھگ 3 سال تک ایک دُوسرے کے ہُئے رہے۔ّ۔، اُسکی کھانے پینے، پِکچر دیکھنے، گھُومنے کی ہر کھواہِش میںنے پُوری کی۔ پھِر اُسکی شادی ہو گئی۔ّ۔ّ۔، جِس دِن اُسکی شادی پکّی ہُئی وو میرے کںدھے پر سر رکھکر۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ 

اُسکی جُبانی کُچھ باتیں - 

سونُو نا جانے کیوں میں تُم پر مر مِٹی، تُمہارا بولنے چلنے کا ڈھںگ، تُمہارا سلیکا دیکھکر تُمکو من ہی من چاہنے لگی، پھِر جب تُمہارے یہاں تُمکو دیکھنے تُمہارے پاس چلی آتی تھی، جانے دِل اَپنے کابُو میں رکھنا مُشکِل ہو جاتا تھا۔ 

پھِر جیسے جیسے سمے نِکلنے لگا میری دیوانگی تُم پر بڑھنے لگی۔ میں چاہتی تھی کِ تُمہارے پاس بیٹھ کر تُمکو دیکھتی رہُوں اؤر تُمسے باتیں کرتی رہُوں، تُمہاری ساری باتیں مُجھے اَچّھی لگنے لگی۔ّ۔ّ۔ّ۔۔ 

مُجھے سمجھ آنے لگا کِ شاید یہی پیار ہے۔ پھِر تو تُم پر وِشواس بڑھنے لگا، میں کھُد نہیں سمجھ پاتی تھی کِ مُجھے کیا ہو رہا ہے۔ّ۔ّ۔۔ 

پھِر جب تُمنے میری ہالت کا ناجایج پھایدا نہیں اُٹھایا تو میرا وِشواس تُم پر اؤر بھی درڑھ ہو گیا۔ّ۔۔ اؤر سچ میں تُمہارا پیار پاکر میں نِہال ہو گئی۔ّ۔ّ۔۔ 

اؤر یے تین سال تو تین پلوں کی ترہ سے یُوں نِکل گئے۔ّ۔۔ 

EMail : PkMasti@aol.com
Yahoo : Jan3y.J4na@yahoo.com

By Unknown with No comments

    • Popular
    • Categories
    • Archives