Monday, January 24, 2011

Hiv/aids

اقوام متحدہ کے ادارہ صحت نے انکشاف کیا ہے کہ دنیا بھر میں ایڈز سے متاثرہ مریضوں کی تعداد چار کروڑ ہوگئی ہے اس موذی مرض میں مبتلا ہونے والے افرادکا زیادہ تر ایشیاء اور مشرقی یورپ سے ہے۔اقوام متحدہ کی جاری کردہ اس رپورٹ کے مطابق ایچ آئی وی ایڈز کا موذی وائرس دو دھائی قبل دریافت ہوا جبکہ ان بیس برسوں میں ا یڈز کے مریضوں کی تعداد 4 کروڑ تک پہنچ چی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ موذی مرض ایشیا اور مشرقی یورپ میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔
ایک طرف ایڈز کو گلوبل ایشو تصور کیا جاتا ہے جبکہ دوسری جانب بہت سے ممالک بالخصوص مغربی ملکوں نے ایڈز کو اپنے ایجنڈے سے نکال دیا ہے۔ اقوام متحدہ نے دنیا بھر کی حکومتوں پر زور دیا ہے کہ اس مرض کو پھیلاؤ سے روکنے کے لئے خصوصی اقدامات کریں ورنہ دوسری صورت میں ایڈز کا مرض تیزی کے ساتھ براعظم ایشیا کے ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ اس مرض پر دنیا کے مختلف خطوں میں بالخصوص ایشیا میں کوئی توجہ نہیں دی جاتی جس کی وجہ سے اس وائرس میں مبتلا مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ 2005ء میں 50 لاکھ افراد ایڈز کے وائرس کا شکار بن گئے ان میں 12 لاکھ سے زائد مسلمان تھے اس کے باوجود ہمارے علماء کرام کا کہنا ہے کہ جہاں تک ایڈز سے بیماری کا معاملہ ہے ہم اس کے قطعی خلاف نہیں ہیں لیکن ہمارے بچوں کے لئے جنسی تعلیم بہرحال قابل قبول نہیں۔ یہ غیر قانونی کام کو قانونی بنانے کی سازش کا حصہ ہے۔ علماء کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہم جنسی تعلیم کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتے کہ کروڑ ہا برس سے آباد اس دنیا میں جنس کی تعلیم کی ضرورت کبھی نہیں پڑی۔
انسانی تحقیق سے یہ ثابت کردیا ہے ایچ آئی وی ایڈز
ایک ایسا مرض ہے جو کہ فی الحال لاعلاج ہے اس کے لئے جنسی تعلیم کے ساتھ ساتھ تحقیق کیمیدان میں بھی زور و شور سے کام جاری ہے۔ حال ہی میں ایڈز ویکسین کے انسانوں پر تجربات کے لئے تھائی لینڈ میں ایک کیمپ منعقد کیا گیا۔

تو کیا ایسی صورت حال میں اس مرض کے سدباب کے لئے علاج سے احتیاط بہتر نہیں ہے؟ کیا ہمیں جنسی تعلیم و نصاب کی ضرورت نہیں ہے؟

اور کیا اس موذی مرض سے بچنے کے لئے احتیاطی تدبیر اور بیداری نہیں اپنانی چاہئے؟ میں بھی سوچتا ہوں آپ بھی سوچئے…


ایڈز ایک مہلک اور جان لیوا مرض ہے جس کا انکشاف 1981ء میں ہوا۔ قدرت نے انسانی جسم کو مختلف بیماریوں سے بچانے کے لیے ایک نہایت ہی مؤثر دفاعی نظام سے نوازا ہے جس کو مدافعتی نظام بھی کہتے ہیں. اسی کے طفیل جسم میں انسانی قوت مدافعت کار گزار ہوتی ہے۔ اس مدافعتی نظام میں خرابی کے باعث انسان مختلف قسم کی بیماریوں کا شکار ہو جاتا ہے۔


ایڈز کا مرض ایک وائرس کے ذریعے پھیلتا ہے
جو انسانی مدافعتی نظام کو تباہ کر کے رکھ دیتا ہے۔ اس کے حملے کے بعد جو بھی بیماری انسانی جسم میں داخل ہوتی ہے نہایت سنگین اور مہلک صورت حال اختیار کر لیتی ہے۔ اس جراثیم کو ایچ آئی وی کہتے ہیں۔ اس کو انسانی جسم کے مدافعتی نظام کو ناکارہ بنانے والا وائرس بھی کہتے ہیں۔ ایڈز کا یہ وائرس زیادہ تر خون اور جنسی رطوبتوں میں پایا جاتا ہے۔ لیکن اس کے علاوہ یہ جسم کی دوسری رطوبتوں یعنی تھوک، آنسو، پیشاب اور پسینہ میں بھی پایا جاسکتا ہے۔ مگر تھوک، آنسو، پیشاب اور پسینہ بیماری پھیلانے کا باعث نہیں بنتے بلکہ یہ بیماری صرف خون اور جنسی رطوبتوں کے ذریعے ہی پھیلتی ہے۔

یہ وائرس کسی بھی متاثرہ شخص سے اس کے جنسی ساتھی میں داخل ہو سکتا ہے یعنی مرد سے عورت، عورت سے مرد، ہم جنس پرستوں میں ایک دوسرے سے اور متاثرہ ماں سے پیدا ہونے والے بچے میں جا سکتا ہے۔ جنسی پھیلاؤ ترقی یافتہ اور،ایشا اور افریقی ممالک میں بیماری کے پھیلاؤ کا بڑا سبب ہے۔



خون کے اجزاء کے ذریعے ایڈز کی بیماری درج ذیل صورتوں میں پھیلتی ہے۔
جب ایڈز کے وائرس سے متاثرہ خون یا خون کے اجزاء کو کسی دوسرے مریض میں منتقل کیا جائے۔
جب ایڈز کے وائرس سے متاثرہ سرنج اور سوئیاں دوبارہ استعمال کی جائیں۔
وائرس سے متاثرہ اوزار جلد میں چبھنے یا پیوست ہونے سے مثلا کان، ناک چھیدنے والے اوزار، دانتوں کے علاج میں استعمال ہونے والے آلات، حجام کے آلات اور جراحی کے دوران استعمال ہونے والے آلات۔

ایڈز کا وائرس متاثرہ مان کے بچے میں حمل کے دوران، پیدائش کے وقت یا پیدائش کے بعد منتقل ہو سکتا ہے۔

اگر کوئی بھی شخص اوپر بیان کیے گئے بیماری کے پھیلاؤ کے کسی ایک بھی طریقے سے گزرا ہو تو اس کو ایڈز کے جراثیم متاثر کر سکتے ہیں خواہ وہ کسی بھی عمر اور جنس کا ہو۔

شروع میں غیر محسوس معمولی زکام کی بیماری ہو سکتی ہے۔ جس پر عموما دھیان نہیں دیا جاتا۔ جس کے بعد مریض مہینوں یا برسوں تک بالکل ٹھیک نظر آ سکتا ہے۔ رفتہ رفتہ وہ مکمل ایڈز کا مریض بن جاتا ہے۔

ایڈز کے مریض کی بڑی علامات درج ذیل ہیں۔

مختصر عرصہ میں جسم کا وزن دس فیصد سے زیادہ کم ہو جانا۔

ایک مہینے سے زیادہ عرصہ تک اسہال رہنا

بخار کا ایک مہینے سے زیادہ عرصہ تک رہنا

اس کے علاوہ بھی کی نشانیاں ہیں لہذا مستند ڈاکٹر کے پاس جا کر مکمل ایڈز کے ٹیسٹ کروانے چائیں۔


ایڈز سے بچنے کے لیے درج ذیل احتیاط تبدابیر کرنی چاہیں:۔

ہمیشہ اپنے جیون ساتھی تک محدود رہیں

جنسی بے راہروی سے بچیں

اگر دونوں جنسی ساتھیوں میں سے کوئی ایک بھی ایڈز کا مریض ہو تو ڈاکٹر کے مشورے سے غلاف کا صحیح استعمال کرنا چائیے۔

اگر ٹیکہ لگوانا ضروری ہو تو ہمشیہ غیر استعمال شدہ نئی سرنج کے استعمال پر اصرار کریں۔

خون کا انتقال تب کروائیں جب اس کی اشد ضرورت ہو۔

اگر زندگی بچانے کے لیے خون کا انتقال ضروری ہو تو اس بات کا یقین کر لیں کہ انتقال کیا جانے والا خون ایڈز اور یرقان وغیرہ کے وائرسز سے مکمل طور پر پاک ہو۔

By Taha Gondal with No comments

0 comments:

Post a Comment

EMail : PkMasti@aol.com
Yahoo : Jan3y.J4na@yahoo.com

    • Popular
    • Categories
    • Archives