Monday, January 16, 2012

لنڈ کی پیاسی مامی کی جی بھر کر چدائ

پریشک - نند کُمار

نند کُمار (گوالِیر سے) کا اَنترواسنا کے سبھی پاٹھکوں کو کھڑے لنڈ کا سلام۔ میں اَپنا ایک سچّا اَنُبھو لیکر ہازِر ہُوں جِس کو پڑھکر آںٹِیاں، چاچِیاں، مامِیاں، بھابھِیاں اؤر لنڈ کی پیاسی لڑکِیوں کی چُوت گیلی ہو جاّیگی اؤر لںڈ کے لِئے تڑپ اُٹھیںگیں۔ اؤر جِن لڑکوں کے پاس چُوت کی ویوستھا ہوگی، وو چُوت چودنے لگیںگے اؤر جِنکے پاس نہیں ہوگی، وو مُوٹھ مارنے لگیںگے۔

یہ بات مئی کی ہے۔ میری مامی جو لگبھگ 32 سال کی ہے اؤر دو بچّوں کی ماں ہے، رںگ گورا، شریر بھرا ہُآ، ن ایکدم دُبلا ن ایک دم موٹا-تازا۔ متلب بِلکُل گزب کی۔ پر چُوچِیاں تو دو-دو کِلو کے اؤر گاںڈ کُچھ زیادا ہی باہر نِکلے ہیں۔ میرے خیال سے اُسکی پھِگر 38-32-39 ہوگی۔

میں اُس مامی کو چودنے کے چکّر میں دو سالوں سے لگا تھا، اؤر اُسکے نام سے مُوٹھ مارا کرتا تھا۔ میرے ماما (40)، جو گوالِیر میں ہی رہتے تھے، ریڈیمیڈ کپڑوں کے دھںدھے میں تھے اؤر اَپنا مال دِلّی خُد ہی جاکر لیکر آتے تھے۔

ایک دِن جب میں اَپنے گھر پہُںچا تو ماما وہاں تھے، اؤر ممّی سے باتیں کر رہے تھے۔ میںنے ماما سے پُوچھا - "اَب نیے کپڑے کب آ رہے ہیں؟"

"بس آج ہی لانے جا رہا ہُوں۔ پر اِس بار مال دِلّی سے نہیں، مُمبئی سے لیکر آنا ہے۔ وہاں ایک نامی کمپنی سے میری بات تے ہو گئی ہے۔ مُجھے وہاں سے آنے میں چار-پاںچ دِن تو لگ ہی جاّیںگے۔ تب تک میں چاہتا ہُوں کِ تُم دِن میں ایک بار زرا دُکان جاکر کام دیکھ لینا اؤر رات میں میرے گھر چلے جانا۔"

"تُو ایکتا اؤر بچّوں کو یہیں کیوں نہیں چھوڑ دیتا؟" میری ممّی نے پُوچھا۔

"میںنے ایکتا سے کہا تھا کِ بچّوں کے ساتھ دیدی کے یہاں رہ لینا، پر وہ کہ رہی تھی کِ چار-پاںچ دِنوں کے لِئے آپ لوگوں کو کیوں پریشان کرنا، بس نند کو بول دینا، وو تُمہارے آنے تک ہمارے یہاں ہی آ جائے اؤر دُکان کو بھی کام دیکھ لے۔ نؤکروں کے بھروسے دُکان چھوڑنا ٹھیک نہیں۔ تُجھے کوئی دِکقت تو نہیں؟" - ماما بولے۔

"اَبھی تو میں پُورا کھالی ہی ہُوں۔ پریکشاّیں بھی کھتم ہو چُکی ہیں۔ چلِئے ایک اَنُبھو کے لِئے آپکی دُکان کو بھی سںبھال لیتے ہیں (اؤر مامی کو بھی)۔"

"آج 8 بجے میری ٹرین ہے، تُو سات بجے گھر آ جانا اؤر مُجھے سٹیشن چھوڑ کر واپِس میرے گھر ہی چلے جانا۔"

"ٹھیک ہے میں 6:30 بجے آ جاُّوںگا۔"

6:30 بجے میں ماما کے گھر پہُںچ گیا، ماما سفر کی تیّاری کر رہے تھے اؤر مامی پیکِںگ میں ماما کی مدد کر رہی تھی۔ پیکِںگ کے باد مامی نے ماما کو کھانا دِیا اؤر مُجھے بھی کھانے کے لِئے پُوچھا۔

"ماما کو چھوڑکر آتا ہُوں، پھِر کھا لُوںگا۔" میںنے کہا۔

7:30 بجے ماما اؤر میں سٹیشن پہُںچ گئے۔ ماما کی ٹرین سہی سمے پر آ گئی، ماما کا آرکشن تھا، ماما اَپنی سیٹ پر جاکر بیٹھ گئے اؤر پاںچ مِنٹ کے باد ٹرین مُمبئی کے لِئے چل پڑی۔ چلتے-چلتے ماما بولے،"مامی اؤر بچّوں کا کھیال رکھنا۔"

"آپ یہاں کی پھِکر نا کریں، میں مامی اؤر بچّوں کا پُورا کھیال رکھُوںگا۔"

میںنے سٹینڈ سے اَپنی بائیک لی اؤر 8:30 تک گھر آ گیا۔ میںنے دروازے کی کالبیل بجائی تو مامی نے دروازا کھولا اؤر بولی،"ہاتھ-مُںہ دھو لو، اَب ہم کھانا کھا لیتے ہیں۔"

"آپنے اَبھی تک کانا نہیں کھایا؟" میںنے پُوچھا۔

"بس تُمہارا ہی اِنتزار کر رہی تھی۔ بِٹُّو اؤر سونُو تو کھانا کھاکر سو گئے ہیں۔ تُم بھی کھانا کھا لو۔"

میں اؤر مامی ڈِنر کی ٹیبل پر ایک-دُوسرے کے آمنے-سامنے بیٹھ کر کھانا کھا رہے تھے۔ جب مامی نِوالا کھانے کے لِئے تھوڑا جھُکتی اُنکی چُوچِیوں کی گہرائیّوں کے درشن ہونے لگتے اؤر میرا لںڈ وِچلِت ہونے لگتا۔ پر سویں کو سںبھال کر میںنے کھانا کھتم کِیا اؤر ٹیوی چالُو کر لِیا۔ اُس سمے آئی پی ایل میچ چل رہے تھے، میں میچ دیکھنے لگا۔

کُچھ دیر باد مامی برتن ساپھ کرنے لگی اؤر وہ بھی میچ دیکھنے لگی۔ جلدی ہی اُسے نیںد آنے لگی۔ "میں تو سونے جا رہی ہُوں، تُم بھی ہمارے کمرے میں ہی سو جانا، تُم ڈبل بیڈ میں بچّوں کے ایک ترپھ ہی سو جانا" مامی بولی۔

"ٹھیک ہے، بس ایک گھنٹے میں میچ کھتم ہونے والا ہے۔ آپ سو جاّو، میں میچ دیکھکر آتا ہُوں۔"

مامی چلی گئی اؤر میں میچ دیکھنے لگا۔

کُچھ دیر باد باد بریک ہُآ اؤر میں چینل بدلنے لگا، اؤر ایک لوکل چینل پر رُک گیا۔ ڈِش والے ایک بلُو-پھِلم پرسارِت کر رہے تھے۔ اَب کاہے کا میچ، میں تو اُسی چینل پر رُک گیا اؤر وو بلُو-پھِلم دیکھنے لگا اؤر میرا لںڈ ہِچکولے مارنے لگا۔

میرا ساڑھے پاںچ اِںچ کا لںڈ لوہے کی ترہ سکھت ہوکر تن گیا، میں اَپنی پیںٹ کے اُوپر سے ہی اُسے سہلانے لگا۔ میرا لںڈ چُوت کے لِئے پھڑپھڑانے لگا اؤر میری آںکھوں کے سامنے مامی کا نںگا بدن گھُومنے لگا اؤر میں مامی کے نام سے مُوٹھ مارنے لگا۔ میں من ہی من مامی کو چود رہا تھا، کُچھ دیر باد لںڈ نے ایک پِچکاری چھوڑ دی۔ میرا ویرے لگبھگ پاںچ پھیٹ دُور چھِٹکا، اؤر یہ بس مامی کے نام کا کمال تھا۔

اَب میرا دِماگ مامی کو ہر ہال میں چودنے کے بارے میں سوچنے لگا، تب تک پھِلم بھی کھتم ہو گئی تھی۔ میںنے ٹیوی بند کِیا اؤر بیڈرُوم کی اور چل دِیا۔ جیسے ہی میںنے کمرے کی بتّی جلائی، میری آںکھیں پھٹی رہ گئیں۔ بِلُّو اؤر سونُو، دونوں دیوار کی اور سو رہے تھے، اؤر مامی بیچ بِستر میں۔ اُنکی ساڑی گھُٹنوں کے اُوپر تک اُٹھ گئی تھی اؤر اُنکی گوری-گوری جاںگھیں دِکھ رہیں تھیں۔ اُنکا پلُّو بِکھرا ہُآ تھا، بلاُّز کے اُوپر کے دو ہُک کھُلے تھے اؤر کالی برا ساپھ-ساپھ دِکھ رہی تھی۔ مامی ایکدم بیسُدھ سو رہیں تھیں۔

میںنے تُرنت لائیٹ بند کی اؤر اَپنے لںڈ کو سہلاتے ہُئے سوچا،'قِسمت نے ساتھ دِیا تو سمجھ ہو گیا تُمہارا جُگاڑ !'

میں جاکر مامی کے پاس لیٹ گیا، مامی ایکدم گہری نیںد میں تھی۔ میںنے ایک ہاتھ مامی کے گلے پر رکھ دِیا اؤر ہاتھ کو نیچے کھِسکانے لگا۔ اَب میرا ہاتھ بلاُّز کے ہُک تک پہُںچ گیا۔ میں آہِستے-آہِستے ہُک کھولنے لگا۔ تبھی مامی بچّوں کی اور پلٹ گئی، اِسّے مُجھے ہُک کھولنے میں اؤر بھی آسانی ہو گئی اؤر میںنے سارے ہُک کھول دِئے۔ برا کے اُوپر سے ہی مامی کی چُوچِیوں کو سہلانے لگا۔

مامی کے ستن ایکدم مُلایم تھے۔ پر برا نے اُنہیں زوروں سے دبا رکھا تھا، اِس کارن اُوپر پکڑ نہیں بن رہی تھی۔ میں اَپنا ہاتھ مامی کی بلاُّز کے پیچھے لے گیا اؤر برا کے ہُک کو بھی کھول دِیا۔ اَب دونوں ستن ایکدم سوتںتر تھے۔ میں اُن آزاد ہو چُکے بڑے-بڑے ستنوں کو ہلکے-ہلکے سہلانے لگا، پھِر میں ایک ہاتھ اُنکی جاںگھ پر لے گیا اؤر اُوپر کی اور لے جانے لگا پر ایک ڈر سا بھی لگ رہا تھا کِ کہیں مامی جاگ نا جائے۔ پر جِسکے لںڈ میں آگ لگی ہو وو ہر رِسک کے لِئے تیّار رہتا ہے اؤر لںڈ کی آگ کو سِرپھ چُوت کا پانی ہی بُجھا سکتا ہے۔

ہِمّت کرکے میں اَپنے ہاتھ کو اُوپر لے جانے لگا۔ جیسے-جیسے میرا ہاتھ چُوت کے پاس جا رہا تھا، میرا لںڈ اؤر تیز ہِچکولے مار رہا تھا۔

اَب میرا ہاتھ مامی کی پینٹی تک جا پہُںچا تھا۔ پینٹی کے اُوپر سے ہی میںنے ہاتھ چُوت کے اُوپر رکھ دِیا۔ چُوت بہُت گیلی تھی اؤر بھٹّی کی ترہ تپ رہی تھی۔ میںنے ساڑی کو اُوپر کر دِیا اؤر پینٹی کو نیچے کھِسکانے لگا۔ تھوڑی میہنت کے باد میں پینٹی کو ٹاںگوں سے اَلگ کرنے میں کامیاب رہا۔

اَب میں ہاتھ کو چُوت کے اُوپر لے گیا اؤر چُوت کو پیار سے سہلانے لگا۔ مامی اَبھی تک شاید گہری نیںد میں تھی۔ میںنے ایک ہاتھ مامی کی کمر پر رکھا اؤر اُنہیں سیدھا کرنے لگا۔

مامی ایک ہی جھٹکے سے سیدھی ہو گئی۔ میں اَپنی ٹاںگ کو مامی کی ٹاںگوں کے بیچ لے گیا اؤر مامی کی ٹاںگوں کو پھیلا دِیا۔ اَب میں نیچے کھِسکنے لگا اؤر میں جیسے ہی چُوت چاٹنے کے لِئے مُںہ چُوت کے پاس لے گیا، مامی نے ہاتھ سے چُوت کو ڈھںک لِیا۔

میری تو گاںڈ پھٹ گئی، راڈ کی ترہ تنا ہُآ لؤڑا ایکدم مُرجھا گیا، دِل دھاڑ-دھاڑ دھڑکنے لگلا۔

تبھی مامی اُٹھی اؤر پھُسپھُساکر بولی،"یے سب یہاں نہیں۔ بِٹُّو اؤر سونُو جاگ سکتے ہیں۔ اَب تک تو میںنے کِسی ترہ اَپنی سِسکِیاں روک رکھیں تھیں پر اَب نہیں روک سکُوںگی۔ ہم ڈرائیںگرُوم میں چلتے ہیں۔"

اِتنا سُنتے ہی میرا لںڈ پھِر سے قُتُبمینار بن گیا۔ مامی جیسے ہی بِستر پر سے اُٹھی، میںنے مامی کو اَپنی باںہوں میں بھر لِیا اؤر اُنکے ہوںٹھوں کو چُومنے لگا۔ وہ بھی میرے ہوںٹھوں پر ٹُوٹ پڑی۔ ہم ایک-دُوسرے کے ہوںٹھوں کو پاگلوں کی ترہ نِچوڑنے لگے۔

میں اُنکے ہوںٹھوں کو چُومتے ہُئے اَپنے دونوں ہاتھ اُنکی گاںڈ تک لے گیا اؤر اُنہیں اُٹھا لِیا۔ مامی نے اَپنے پیر میری کمر کے گِرد لپیٹ دِئے۔ میں اُنہیں چُومتے ہُئے ڈرائیںگرُوم تک لے آیا اؤر مامی کو لیکر سوپھے پر بیٹھ گیا۔

مامی میری گود میں تھی، بلاُّز اؤر برا اَبھی بھی مامی کے کںدھوں سے لٹک رہے تھے۔ پہلے میںنے بلاُّز کو نِکال پھیںکا، پھِر برا اؤر ایک چُوچی کو ہاتھ سے مسلنے لگا اؤر ساتھ ہی دُوسری چُوچی کو چاٹنے لگا۔

اَب ساڑی کی باری تھی، میںنے ساڑی بھی نِکال پھیںکی، اَب پیٹیکوٹ بیچارے کا بھی شریر پر کیا کام تھا۔ اَب مامی ایکدم نںگی ہو چُکی تھی۔ لال نائیٹ-بلب کی روشنی میں مامی کا نںگا بدن پُورنِما میں تاز کی ترہ چمک رہا تھا اؤر اِس وکت میں اِس تاجمہل کا مالِک تھا۔

اَب مامی میرے کپڑے اُتارنے لگی۔ میرے سارے کپڑے اُنہوںنے اُتار دِئے اؤر میں سِرپھ اَپنی پھریںچی اَنڈروِیر میں رہ گیا پر وہ بھی اَدھِک دیر ن رہ سکا۔ اُنہوںنے وہ بھی ایک ہی جھٹکے میں اُتار پھیںکی اؤر پھِر مامی نے میرے ساڑھے پاںچ اِںچ لمبے وِکرال لںڈ کو لالیپاپ کی ترہ چُوسنے لگی۔

کبھی مامی لںڈ پر، تو کبھی اَںڈکوش سے سُپاڑے تک جیبھ پھِراتی، کبھی لںڈ کو ہلکے سے کاٹتی، سُپاڑے پر تھُوکتی اؤر پھِر اُسے چاٹ جاتی۔ میرا تو بُرا ہال کر دِیا اؤر میرے لںڈ نے مامی کے مُںہ پر اَپنی پِچکاری مار دی۔ اُنکا پُورا چیہرا میرے ویرے سے سن گیا تھا۔ میںنے اَپنے دونوں ہاتھوں سے سارا ویرے اُنکے چیہرے پر مل دِیا۔

"دُوسری بار میں بھی اِتنا مال؟ تیرا لںڈ ہے یا ویرے کا ٹیںک؟" - مامی نے کہا۔

میں یہ سُنکر ہیران ہو گیا، میری ہیرانی جانکر اُنہوںنے بتایا - "جب تُو بلُو-پھِلم دیکھ رہا تھا اؤر میرے نام سے مُوٹھ مار رہا تھا تب میں پانی پینے کے لِئے رسوئیگھر میں آئی تھی اؤر تیرے لںڈ کی دھار کو دیکھ کر میری کامواسنا کی پیاس جاگ گئی اؤر میں بیڈرُوم میں اَپنے کپڑوں کو جان-بُوجھ کر اَست-ویست کر لیٹ گئی تھی۔ وہاں آنے کے باد اَگر تُو ایسی ہرکتیں نہیں کرتا تو آج میں ہی تیرا بلاتکار کر دیتی۔"

"تربُوز تلوار پر گِرے یا تلوار تربُوز پر، کٹنا تربُوز کو ہی ہے۔ اَب تو آج رات سچمُچ میں بلاتکار ہوگا۔ آج رات اَگر آپسے رہم کی بھیکھ ن مںگوائی تو میرا بھی نام نند نہیں۔" میںنے کہا۔

"چل دیکھتے ہیں، کؤن رہم کی بھیکھ ماںگتا ہے !" مامی نے بھی تانا سا مارا۔

مامی کے ایسا کہتے ہی میںنے مامی کو زمین پر لِٹا دِیا اؤر اُنکی چُوت پر ٹُوٹ پڑا، اَپنی جیبھ کو چُوت میں جِتنا ہو سکتا تھا اَندر ڈال دِیا اؤر جیبھ ہِلانے لگا۔ چُوت کے گُلابی دانے کو جیسے ہی میں ہلکے-ہلکے کاٹتا-چُوستا، وہ تڑپ اُٹھتی اؤر آآہّہّہہ آآہّہّہّہ کرنے لگتی۔

اُسنے ٹاںگوں سے میرے سِر کو جکڑ لِیا اؤر ٹاںگوں سے ہی سِر کو چُوت میں دبانے لگی اؤر بالوں میں ہاتھ پھیرنے لگی۔ میں چُوت-اَمرت پیتے ہُئے دونوں ستنوں کو مسل رہا تھا۔ّ۔ تبھی اَچانک مامی کا شریر اَکڑنے لگا اُنکی چُوت زوردار تریکے سے جھڑنے لگی۔

میںنے چُوت کو چاٹکر ساپھ کر دِیا اؤر جیسے ہی میں مامی کے اُوپر آنے کو ہُآ، مامی نے مُجھے روکا اؤر گیسٹ-رُوم کی اور اِشارا کِیا۔ میں سمجھ گیا کِ وہ اُس کمرے میں چلنے کو کہ رہی ہے۔ میںنے اُنہیں گود میں لِیا اؤر چُومتے ہُئے اُس کمرے میں لے آیا۔ لائیٹ جلائی تو دیکھا، وہاں ایک سِںگل بیڈ تھا۔ میںنے پںکھا چالُو کِیا اؤر اُنہیں بِستر پر پٹک دِیا اؤر اُنکے اُوپر آ گیا۔ میںنے اُنکے ہوںٹھوں کو چُومتے ہُئے اَپنی ٹاںگوں سے اُنکی ٹاںگے چؤڑی کیں۔

اَب میرا لںڈ مامی کی چُوت کے اُوپر تھا۔ میںنے اَپنے ہاتھوں کو سیدھا کِیا اؤر دھکّے مارنے کی مُدرا میں آ گیا۔ اَب میں اَپنی کمر کو نیچے کرتا اؤر لںڈ کو چُوت سے سپرش کرتے ہی اُوپر کر لیتا۔ کُچھ دیر ایسا کرنے کے باد مامی بولی،"اَب مت تڑپاّو، میری چُوت میں آگ لگ رہی ہے، اِسمیں اَپنا لںڈ اَب ڈال دو اؤر میری چُوت کی آگ کو شانت کرو، میں تُمہارے ہاتھ جوڑتی ہُوں۔

اِس بار میںنے لنڈ چُوت پر رکھا اؤر دھیرے-دھیرے نیچے ہونے لگا اؤر لنڈ چُوت کی گہرائیّوں میں سمانے لگا۔ چُوت بِلکُل گیلی تھی، ایک ہی بار میں لنڈ جڑ تک چُوت میں سما گیا اؤر ہماری جھاںٹے آپس میں مِل گئیں۔ اَب میرے جھٹکے شُرُ ہو گئے اؤر مامی کی سِسکِیاں بھی۔ّ۔ مامی آآّہّہّہ اَاَآّآّہّہہ کرنے لگی۔ کمرا اُنکی سِسکِیوں سے گُوںج رہا تھا۔

جب میرا لنڈ اُنکی چُوت میں جاتا تو پھچچ-پھچچ اؤر پھکک-پھکک کی آواز ہوتی۔ میرا لنڈ پُورا نِکلتا اؤر ایک ہی جھٹکے مے چُوت میں پُورا سما جاتا۔ مامی بھی گاںڈ ہِلا-ہِلا کر میرا پُورا ساتھ دے رہی تھی۔ میںنے جھٹکوں کی رپھتار بڑھا دی، اَب تو کھاٹ بھی چرمرانے لگی تھی۔ پر میری گتِ بڑھتی جا رہی تھی۔ ہم دونوں پسینے سے نہا رہے تھے۔ پںکھے کے چلنے کا کوئی بھی پربھاو نہیں تھا۔

دونوں کے چیہرے ایکدم لال ہو رہے تھے پر ہم رُکنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ جھٹکے اَنورت جاری تھے۔ کبھی میں مامی کے اُوپر تو کبھی مامی میرے اُوپر آ جاتی۔ دونوں ہی چُدائی کا بھرپُور مزا لے رہے تھے۔ پُورے کمرے میں بس کامدیو کا راج تھا۔ ہم دونوں ایک-دُوسرے کی آگ کو بُجھا رہے تھے۔ تبھی ہمارے شریر اَکڑنے لگے۔

دونوں جھڑنے والے تھے۔ میں لنڈ کو باہر نِکالنے والا ہی تھا کِ مامی نے روک دِیا اؤر بولی - "اَپنا سارا مال چُوت کے اَندر ہی چھوڑ دو۔"

میںنے بھی جھٹکے چالُو رکھے۔ ہم دونوں نے ایک-دُوسرے کو بھیںچ لِیا۔ مامی نے ٹاںگوں اؤر ہاتھوں کو میرے شریر پر لپیٹ دِیا۔ میںنے مامی کے کںدھوں کو کسکر پکڑ لِیا اؤر ایک زوردار جھٹکا مارا۔ میں اؤر مامی ایک ہی ساتھ جھڑے تھے۔ مامی کی چُوت میرے ویرے سے بھر گئی۔

ویرے چُوت سے بہ رہا تھا۔ میرا مُںہ اَپنے-آپ چُوت پر پہُںچ گیا اؤر میں مامی کی چُوت کو چاٹ-چاٹ کر ساپھ کرنے لگا۔

مامی نے بھی میرے لںڈ کو چُوس-چُوس کر ساپھ کر دِیا اؤر ہم دونوں ایک-دُوسرے کے بگل میں لیٹ گئے، پر مامی کا ہاتھ میرے لںڈ پر تھا اؤر میں مامی کے بالوں کو سہلا رہا تھا۔

ماما کے آنے تک میں اؤر مامی پتِ-پتنی کی ترہ رہے۔ میں سُبہ کو دُکان کا ایک چکّر لگا آتا۔ دِن میں ہم نیںد لے لیتے اؤر رات کو۔ّ۔

ماما کے آنے کے باد بھی جب بھی مؤقا مِلتا، میں اُسکو چھوڑتا نہیں۔

اَنترواسنا کے پاٹھکوں، آپکو میری یہ داستان کیسی لگی۔
EMail : PkMasti@aol.com
Yahoo : Jan3y.J4na@yahoo.com

By Taha Gondal with No comments

0 comments:

Post a Comment

EMail : PkMasti@aol.com
Yahoo : Jan3y.J4na@yahoo.com

    • Popular
    • Categories
    • Archives