Thursday, January 12, 2012

چھوٹے پپو لڑکے کی گانڈ بجائی

میرا نام بابر ہے اور مجھے شوق ہے سیکسی کہانیاں پڑھنے اور لکھنے کا۔ مگر یہ کہانی جو میں آپ لوگوں کو بتانے جا رہا ہوں یہ میری لکھی ہوئی نہیں ہے بلکہ کسی صاحب نے مجھے بھیجی ہے اپنی آپ بیتی کے طور پر اور گذارش کی ہے کہ میں اسکو دیسی اردو اسٹوریز پر انکا نام بتائے بغیر شیئر کروں۔ یہ کہانی ایک صاحب اور لڑکے کی ہے اور یہ وہ صاحب ہیں جنھوں نے یہ کہانی مجھے بھیجی ہے اور بتایا ہے کہ کس طرح انہوں نے ایک چھوٹے لڑکے کے ساتھ سیکس کیا۔ اب آگے چلتے ہیں اور ان صا حب جنکا نام کہانی میں سکندر ہے انکی اپنی زبان سے یہ کہانی سنتے ہیں۔

میرا نام سکندر ہےمیں ایک چھوٹی سی مگر کافی بزنس کرنے والی کمپنی کا مالک ہوں میری عمر اسوقت تقریباً چالیس سال کے قریب تھی جب یہ واقعہ ہوا۔ایک دن میرے شہر کے حالات کافی خراب ہوئے اور اچانک ہی کافی خراب ہو گئے میں نے بھی اپنے اسٹاف کی چھٹی کی اور آفس بند کرکے گھر کی جانب چل پڑا میرے پاس ایک کار ہے ۔ میرا گھر ڈیفینس میں ہے۔ میرا گھر چار سو گز پر ہے اچھا خاصہ محل ہے۔ میں اس میں اپنی بیوی اور دو بچوں کے ساتھ رہتا ہوں۔ میری بیوی ایک ہفتہ پہلے امریکہ گئی تھی اپنے والدین سے ملنے اور بچے بھی اسکے ساتھ ہی تھے مجھے بھی کچھ دن میں جانا تھا ۔ مگر کمپنی کے کاموں کی وجہ سے میرا جانا اور لیٹ ہو رہا تھا۔ میری بیوی کافی سیکسی ہے اور کوئی دن ایسا نہیں جاتا جب ہم سیکس نہ کرتے ہوں اب ایک ہفتہ سے مجھے خوارک نہیں ملی تھی تو میں بھوکا شیر بنا ہوا تھا میں دوسری لڑکیوں میں بھی منہ نہیں مارتا تھا کیونکہ میں اپنی بیوی تک محدود رہنا چاہتا تھا۔ مگر اس دن مجھ پر شیطان سوار ہو گیا۔

خیر میں آپ کو بتا رہا تھا کہ اس دن حالات کی خرابی کی وجہ سے میں نے آفس بند کر کے گھر کی راہ لی ابھی میں آفس سے تھوڑی دور ہی گیا تھا کہ مجھے ایک لڑکے نے اشارہ کیا میں نے اسکے نزدیک کار روکی وہ کافی پریشان لگ رہا تھا وہ اسکول کے یونیفارم میں ملبوس تھا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ کہاں جاؤگے تو اس نے جو جگہ بتائی وہ میرے گھر سے مزید آگے تھی میں نے اس سے کہا میں ڈیفنس تک جاؤنگا وہاں تک تم کو لفٹ دے سکتا ہوں وہ تیار ہوگیا اور دروازہ کھول کر میرے ساتھ والی نشست پر بیٹھ گیا میں نے اسکا جائزہ لیا تو وہ سرخ سفید اچھا خاصہ خوبصورت اور چکنا لڑکا تھا ابھی اسکی مونچھیں بھی نہیں نکلی تھیں۔ اسکی عمر تقریبا بارہ یا تیرہ سال ہوگی۔ وہ ساتویں کلاس میں بڑھتا تھا اور ساری تفصیل میں نے اس سے راستے میں پتہ کی تھی۔

ابھی ہم لوگ تھوڑی دور گئے تھے کہ روڈ پر میری نظر جلتی ہوئی گاڑیوں پر پڑی میں نے اپنی کار فوراً ایک محفوظ راستے کی جانب موڑدی۔ پھر میں نے اس سے کہا تم ایسا کرو میرے ساتھ میرے گھر تک چلو جب حالات کچھ بہتر ہو جائیں تو تم اپنے گھر چلے جانا جہاں تک ہو سکا میں تم کو چھوڑ دونگا اس نے کہا نہیں آپ بس جہاں تک جائیں مجھے وہاں اتار دیں میں چلا جاؤنگا میرے گھر والے پریشان ہو رہے ہونگے۔ میں نے کہا تم انکو میرے گھر سے فون کر کے بتا دینا کہ راستے خراب ہیں ابھی نہیں آسکو گے اور کسی دوست کے گھر پر ہوپھر وہ پریشان نہیں ہونگے ۔ میری بات سن کر وہ کچھ مطمئن ہوا۔

میں دل ہی دل میں اسکے ساتھ سیکس کرنے کا منصوبہ بنا چکا تھا اور چاہتا تھا کہ کسی طرح اسکو گھر تک لے جاؤں۔ راستے میں وہ مجھ سے میرے کاروبار کے متعلق پوچھتا رہا ۔ اور میں اسکو غلط معلومات دیتا رہا۔ تاکہ مجھے بعد میں پریشانی نہ ہو اور وہ مجھے ڈھونڈتا ہی رہے میں اسکو اپنے گھر بھی لے کر گیا تو ایسے راستوں سے کہ وہ زندگی بھر بھی ڈھونڈتا تو نہیں پہنچ سکتا تھا ۔ خیر میں اسکو لے کر گھر تک پہنچا وہاں چوکیدار نے دروازہ کھولا وہ اس لڑکے کو نہ دیکھ سکا ۔ کیونکہ میری گاڑی کے گلاس کافی ڈارک تھے اور چوکیدار بھی کافی بوڑھا اسکی دور کی نظر بھی اتنی اچھی نہیں تھی وہ میری کار کا ہارن پہچانتا تھا سو اس نے دروازہ کھول دیا۔ میں کار سیدھا اندر لے گیا اور بیک مرر میں دیکھا تو چوکیدار دروازہ بند کر کے اپنے کوارٹر میں جا چکا تھا۔ میں نے دروازہ کھولا اور کار سے باہر نکلا اور پھر لڑکے سے کہا تم بھی باہر نکلو اور اندر چلو میرے ساتھ ۔ وہ کار سے نکلا میں اسکو بغور دیکھتا رہا کہ کہیں وہ میری کار کا نمبر تو نہیں دیکھ رہا مگر وہ واقعی ان باتوں سے بے خبر تھا کہ اسکے ساتھ کیا ہونے جارہا ہے۔

میں مین دروازہ کھول کر اسکو اندر لے گیا۔ میرے پاس چوکیدار کے علاوہ کوئی اور ملازم نہیں تھا۔ میری بیوی سارے کام خود کرتی تھی۔خیر ہم دونوں چلتے ہوئے ڈرائنگ روم میں پہنچے میں نے اس سے کہا آرام سے بیٹھو اور پریشان نہ ہو اور اپنے گھر فون کر کے بتا دو کہ تم دوست کے گھر پر ہو اور بالکل محفوظ ہو۔ اس نے ایسا ہی کیا اور فون کر کے اپنے گھروالوں کو مطمئن کردیا۔ پھر میں نے اس سے پوچھا تم کو بھوک تو لگی ہو گی چلو کچھ کھا لیتے ہیں، میں نے فریج سے اسکے اور اپنے لیے سینڈوچ نکالے اور مائیکرو ویو میں گرم کر کے اسکے آگے بھی رکھے اور خود بھی کھانے لگا۔ پھر کھانے سے فارغ ہونے کے بعد میں نے اس سے کہا تم کو سوئمنگ کا شوق ہے۔ اس نے کہا مجھے سوئمنگ تو نہیں آتی مگر میں جب بھی سمندر پر جاتا ہوں نہاتا ضرور ہوں، میں نے اس سے کہا میرے گھر میں ایک سوئمنگ پول ہے چھوٹا سا جس میں میرے بچے بھی میرے ساتھ سوئمنگ کرتے ہیں اور میں تو روزانہ کرتا ہوں ابھی بھی میرا موڈ ہے سوئمنگ کرنے کا اگر تم کو بھی کرنی ہے تو چلو میرے ساتھ۔یہ کہہ کر میں تو کھڑا ہوا مگر وہ بھی میرے ساتھ ہی کھڑا ہوگیا۔ اس کے چہرے پر خوشی کے آثار تھے اس نے پوچھا پانی زیادہ گہرا تو نہیں ہے میں نے جواب دیا اگر گہرا ہوتا تو میرے چھوٹے چھوٹے بچے کیسے نہاتے اس میں۔

پھر میں اسکو لے کر سوئمنگ ایریا کی جانب چل پڑا جو کہ میرے گھر کی پچھلی طرف تھا۔ وہاں پہنچ کر میں نے اس سے کہا تم کپڑے تبدیل کر لو پھر پول میں چلتے ہیں۔ اس نے کہا میرے پاس کپڑے تو نہیں ہیں میں نے کہا فکر نہ کرو میں دیتا ہوں تمہیں کپڑے میں نے ڈھونڈ ڈھانڈ کر اسکو ایسی انڈروئیر دی جو اسکے لازماً ڈھیلی رہنی تھی۔ میں نے کہا جاؤ چینجنگ روم میں اور یہ پہن کر آجاؤ پھر اترتے ہیں پانی میں ۔ وہ تھوڑا شرماتا ہوا چلا گیا۔ میں دل ہی دل میں خوش بھی ہو رہا تھا اور ڈر بھی رہا تھا کہ اگر اس بچے کو کچھ ہوگیا تو کیا ہوگا۔ خیر اسکے چیخنے چلانے کی فکر نہیں تھی مجھے کیونکہ میرا پول ایریا پورا کورڈ تھا۔ باہر سے کچھ نظر نہیں آتا تھا۔ ذرا دیر بعد وہ انڈرویئر پہنے آگیا اب میں نے اس سے کہا چلو میں بھی کپڑے تبدیل کر لوں پھر آتا ہوں یہ کہہ کر میں اب چینجنگ روم میں گیا اور ایک ایسی انڈرویئر پہنی جو بالکل باریک اور نیچے سے کافی ڈھیلی تھی۔

یہ پہن کر میں واپس اسکے پاس آیا۔ اور اسکا ہاتھ پکڑا جو کہ بالکل کسی کنواری لڑکی کی طرح نرم مگر گوشت سے بھرا ہوا تھا۔ میں نے اس سے کہا چلو میرا پاتھ پکڑ کر آہستہ آہستہ سیڑھیاں اترو اور پانی میں چلو یہ کہتےہوئے میں نے اسکو پانی میں اتار دیا وہ پانی میں جاتے ہیں زور زور سے سانس لینے لگا مگر ذرا دیر میں نارمل ہوگیا۔ اب اسکو اچھا لگ رہا تھا میں اسکے سامنے ادھر سے ادھر تیرتا پھر رہا تھا میں نے اس سے کہا چلو تم بھی تیرو اس نے کہا مجھے نہیں آتا میں نے کہا چلو میں تم کو تیرنا سکھا تا ہوں۔ یہ کہہ کر میں نے اس کے پاس جا کر اسکے کولہوں پر ہاتھ رکھا پہلی بار احساس ہوا کہ اسکے کولہے ایکدم گول اور کسی تربوز کی طرح بڑے تھے مگر نرم ایسے جیسے روئی کے گالے۔

خیر اب تو میرا موڈ بالکل پکا ہو چکا تھا کہ اب اسکو نہیں چھوڑنا ہے اسکی انڈروئیر بار بار اترے جارہی تھی جس کو وہ اپنے ہاتھوں سے بار بار اوپر کرتا تھا اس طرح وہ کبھی بھی نہیں تیر سکتا تھا۔ اور یہ ہی میں چاہتا تھا میں نے اس سے کہا تم اپنا پورا وزن میرے ہاتھوں پر ڈال کرچھوڑ دو اور جیسے میں کہوں ویسے ہاتھ چلاتے رہو۔ اس نے ایسا ہی کیا اسی پریکٹس کے دوران اسکی انڈرویئر اتر کر اسکے گھٹنوں تک آگئی۔ اس نے مجھ سے کہا انکل میری انڈرویئر اتر رہی ہے میں نے کہا اترنے دو کوئی فرق نہیں پڑتا تم پانی میں ہو۔ اور یہاں ہے ہی کون میرے اور تمہارے سوا یہ کہہ کر میں نے بھی ایک ہاتھ سے اپنا انڈروئیر پانی کے اندر ہی اتار دیا۔ پھر میں نے اسکے کولہوں پر ہاتھ لگایا تو وہ ایکدم چونک کر مجھے دیکھنے لگا میں نے اسکی جانب دیکھ کر مسکرایا۔ وہ میری مسکراہٹ کو نہ سمجھ سکا اور جواب میں تھوڑا سا وہ بھی مسکرا دیا۔

اب شاید وہ کچھ کچھ سمجھ رہا تھا کہ کچھ گڑبڑ ہے ۔ پھر میں نے اسکے چھوٹے سے لنڈ کو چھوا تو وہ تقریباً اچھل ہی پڑا ۔ وہ ہراساں ہو کر مجھے دیکھنے لگا۔ میں نے کہا گھبراؤ نہیں کچھ نہیں ہوتا۔ پھر میں نے اسکا ہاتھ پکڑا اور اسکو اپنے لنڈ پر لگایا جو کہ کسی راکٹ کی طرح تنا ہوا تھا وہ پہلے تو کچھ نہ سمجھا کہ یہ کیا ہے ایکدم اسکو ہاتھ میں لے لیا پھر جیسے ہی سمجھا اس نے فوراً اسکو چھوڑا اور مجھے دیکھنے لگا۔ میں نے کہا چلو کنارے کی طرف چلتے ہیں یہ کہہ کر اسکا ہاتھ پکڑ کر میں اسکو کنارے کی جانب لے آیا میرے لیے یہ سوئمنگ پول کافی چھوٹا تھا۔ میں تو اس نے چل رہا تھا مگر اسکے لیے یہ کافی تھا۔ سو وہ کافی احتیاط سے تیرتا ہوا میرے سہارے پر کنارے تک آیا میں مسلسل اسکے کولہوں پر ہاتھ رکھے ہوئے تھا۔جسکو وہ بھی محسوس کر رہا تھا۔خیر اب وہ میرے سہارے کے بغیر سوئمنگ پول سے باہر نہیں نکل سکتا تھا۔ کیونکہ اسکی اونچائی کافی زیادہ تھی اور وہ پانی میں رہتے ہوئے اس پر سے جمپ نہیں کرسکتا تھا اور ہم اس کنارے پر تھے جہاں سیڑھیاں نہیں تھیں پانی اسکی گردن تک آرہا تھا۔

میں نے اس سے کہا تم دیوار کی طرف منہ کر کے کھڑے ہوجاؤ۔ اس نے پوچھا کیوں ؟ میں نے جواب دیا کرو تو صحیح پھر بتاتا ہوں اس نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے میری بات کی تعمیل کی۔ وہ جیسے ہی ادھر کی جانب مڑا میں نے اپنا لنڈ اسکے کولہوں کے بیچ میں پھنسا دیا وہ سمجھ گیا کہ اب کیا ہونے والا ہے کہنے لگا انکل یہ کیا کر رہے ہیں میں نے کہا کچھ نہیں یار۔ بس مذاق کر رہا ہوں تمہارا کیا جاتا ہے اس میں۔ وہ میری بات سن کر خاموش ہوگیا۔ میں پییچھے ہٹا اور اس سے کہا دیکھو گے میرا لنڈ کیسا ہے۔ اس نے کوئی جواب نہیں دیا اور عجیب سے نظروں سے مجھے دیکھنے لگا۔ میں سمجھ گیا یہ اتنی آرام سے نہیں تیار ہوگا اسکے ساتھ زبردستی کرنی ہوگی۔ پھر میں نے اس سے کہا چلو پول سے باہر چلتے ہیں۔ یہ کہہ کر ایک ہاتھ سے اسکا ہاتھ پکڑا اور دوسرا ہاتھ اسکی گانڈ پر رکھ کر اپنی ایک انگلی اسکی گانڈ میں تھوڑی سی داخل کر دی جس سے اسکو شاید کچھ تکلیف تو ہوئی ہوگی مگر کچھ بولا نہیں اسکو احساس تھا کہ وہ پھنس چکا ہے۔

خیر ہم دونوں چلتے ہوئے سوئمنگ پول سے باہر آئے تو اسکا اور میرا انڈروئیر پول میں ہی تھا۔ پہلی بار اسکی گانڈ دیکھی ایکدم گوری اور گول میں تو دیکھ کر پاگل سا ہوگیا۔ مجھے اس وقت اپنی بیوی شدت سے یاد آنے لگی۔ میں نے اسکا ہاتھ نہیں چھوڑا کہ کہیں بھاگنے کی کوشش کرے۔پھر ہم دونوں پول سے باہر آچکے تھے وہ خوفزدہ نظروں سے میرے تنے ہوئے لنڈ کو دیکھ رہا تھا اور کچھ حیران بھی تھا کیونکہ شاید اس نے پہلی بار کسی مرد کا لنڈ دیکھا تھا۔ میں نے اس سے کہا چلو کچھ دیر یہاں بیٹھو میں ایک کرسی کی جانب اشارہ کیا اور وہ شرماتا ہوا اس کرسی پر بیٹھ گیا میں نے اسکو دیکھا اور کہا مجھے بھی تو جگہ دو تم تو اکیلے ہی بیٹھ گئے ہو یہ کہہ کر میں نے اسکو کھڑا کیا اور پھر خود بیٹھ کر اسکو اپنی گود میں بٹھا لیا میں نے اس سے کہا تھوڑا بدن سوکھ جائے تو پھر کپڑے تبدیل کر کے روم میں چلتے ہیں وہ بالکل خاموش تھا اور میری کسی بات کا جواب نہیں دے رہا تھا میں نے اسکو گود میں بٹھایا اور میرا لنڈ اسکی گانڈ کے سوراخ پر بالکل فٹ ہوگیا اس سے ٹھیک سے بیٹھا نہیں جا رہا تھا وہ با ر بار سیٹ ہونے کی کوشش کر رہا تھا جس سے اسکی گانڈ کے سواد میرے لنڈ کو مل رہا تھا اور میں دل ہی دل میں مسکرا رہا تھا۔ پھر میں نے اسکو کھڑا کیا اور خود بھی کھڑا ہوا پھر اس سے کہا کہ چلو کرسی پر لیٹو وہ نہیں سمجھا پھر میں نے اسکو سمجھایا کہ کس طرح اسکو کرسی پر لیٹنا ہے جب وہ لیٹ چکا تو اسکی گانڈ میری جانب تھی اور اسکا منہ کرسی کے اندر اور دونوں ہاتھ کرسی سے باہر یہ وہ مشہور اسٹائل ہے جسکو ڈوگی اسٹائل کہا جاتا ہے۔

میں نےاسکی گانڈ پر لنڈ کو فٹ کیا اور ایک جھٹکا مارا مگر اسکی گانڈ کا منہ اتنا چھوٹا تھا کہ میرا بڑا اور موٹا لنڈ اسکے اندر نہیں جاسکتا تھا میں نے اس سے کہا ایسے ہی رہنا میں ابھی آتا ہوں یہ کہہ کر میں نے باڈی مساج آئل کی بوتل فوراً الماری سے نکالی اور اسکو لے کر واپس اسکے پاس آیا اور اچھی طرح تیل اسکی گانڈ اور اپنے لنڈ پرملا بلکہ یوں کہیں اچھی طرح لتھڑ دیا۔ اب میں نے دوبارہ کوشش کی میرا لنڈ کا ہیڈ اسکی گانڈ کے سوراخ میں گیا تو وہ چیخنے لگا کہ تکلیف ہو رہی ہے ایسا نہ کریں مگر میں کب باز نے والا تھا۔ مگر میں نے اتنا ضرور کیا کہ تھوڑا انتظار کیا تب تک میں اسکی چکنی رانیں اور بدن سہلاتا رہا۔ جس سے وہ اپنا درد بھول کر گرم اور مست ہونے لگا۔ پھر میں نے دوبارہ سے لنڈ پر زور لگایا تو وہ تھوڑا اور اندر گیا مگر پھر ایک بار وہ چیخنے لگا پھر میں نے لنڈ کو باہر تو نہیں نکالا مگر رک ضرور گیا۔

میں چاہتا تھا وہ بھی اس سیکس کو انجوئے کرے تاکہ بھرپور مزہ حاصل کیا جاسکے۔ اب میں نے اس سے پوچھا کبھی ایسا کیا ہے کسی کے ساتھ اس نے ہاں میں جواب دیا میں حیران ہوا اور پوچھا کس کے ساتھ تو اس نے بتایا جب وہ دس سال کا تھا تب اسکے ایک دوست کے بڑے بھائی نے اسکے ساتھ ایسا کیا تھا ۔ میں خوش ہو گیا کیونکہ اسی وجہ سے وہ اب تک کچھ بول نہیں رہا تھا ورنہ میرا اندازہ تھا اسکو شور مچا دینا چاہیئے تھا۔ شاید اس لڑکے نے جب اسکے ساتھ کیا ہو تب اندر نہ ڈالا ہو کیونکہ اسکی عمر کافی کم تھی اس وقت تو اسکو کچھ بھی ہوسکتا تھا۔ اور اوپر اوپر سے ہی مزے لے کر چھوڑ دیا ہو تو اسی وجہ سے شاید وہ اب بھی یہ ہی سمجھ رہا تھا مگر اسکو کیا پتہ تھا کہ اسکی گانڈ سوجنے والی ہے۔

اب میں مزید وقت ضائع نہیں کرنا چاہتا تھا میں نے ایک بار پھر سے زور لگایا تو میرا لنڈ دندناتا ہوا اسکی گانڈ میں آدھے سے زیادہ گھس گیا اور وہ درد سے بلبلانے لگا مگر میں اب رکنے والا نہیں تھا کیونکہ اسکی گانڈ اتنی گرم اور سیکسی تھی میرا دل نہیں کر رہا تھا کہ اپنا لنڈ اسکی گانڈ سے نکالوں میں نے دوبارہ سے زور لگایا اور تیل کے مساج نے اپنا کام دیکھایا اور میرا لنڈ پورا اسکی گانڈ میں تھا اسکی آنکھیں تکلیف سی سرخ ہو رہی تھی اور چہرہ بھی مجھے ایک لمحے کو اسپر ترس تو آیا مگر پھر شیطان نے میرے دماغ پر قبضہ کیا اور میں نے فیصلہ کیا کہ اب جب تک منی سے اسکی گانڈ نہ بھر دوں اپنا لنڈ نہیں نکالوں گا۔ پھر میں نے اسکو تسلی دی کہ گھبراؤ نہیں ابھی تکلیف ختم ہو جائے گی پھر تم کو مزہ آئے گا۔ وہ میری بات پر یقین کرنے لگا اور ذرا دیر بعد ہی اسکے چہرے پر سکون کے آثار نمایاں ہوئے تو میں بھی پرسکون ہوا کیونکہ میں ڈر چکا تھا کہ اگر اسکی گانڈ پھٹ گئی تو اسکو لے کر بھاگنا پڑے گا ہسپتال اور ایک نیا ڈرامہ بن جائے گا۔

خیر وہ جیسے ہی نارمل ہوا میں نے پوچھا اب تو تکلیف نہیں ہے اس نے کہا نہیں بس پھر کیا تھا میں نے تیل کی بوتل ہاتھ میں رکھی اور لنڈ کو اندر باہر کرنا شروع کیا اور جیسے ہی لنڈ کو اندر کرتا اس سے پہلے اس پر تھوڑا سا تیل ٹپکا دیتا ذرا دیر میں ہی میرا پسٹن رواں ہو چکا تھا اور اسکی گانڈ کی مزے سے سیر کر رہا تھا وہ بھی اب پرسکون تھا مگر میں دیکھ رہا تھا کہ اسکی گانڈ سے کچھ خون نکلا ہے جو کہ پول کے فرش پر پھیلا ہوا تھا مگر میں نے سوچا جو ہوگا دیکھا جائے گا اب تو کردیا جو کرنا تھا۔ پھر میں نے اپنے پسٹن کی رفتار میں اضافہ کرنا شروع کیا اس لڑکے کی سانس کافی تیز چل رہی تھی میں نے ہاتھ لگا کر دیکھا اسکا لنڈ بھی کھڑا تھا مگر اس میں وہ جان نہیں تھی ابھی جو کہ ایک مرد کے لنڈ میں ہونی چاہئے۔

میں وقت کے ساتھ ساتھ اپنی رفتار بڑھاتا رہا اور وہ وقت بھی آگیا جب مجھے اپنی منی سے اسکی گانڈ بھرنا تھا۔ میں نے اپنا لنڈ اسکی گانڈ میں ہی رکھا اور اس سے کہا آہستہ سے فرش پر لیٹو وہ ہاتھوں کے بل پر پہلے زمین پر لیٹا پھر پیٹ کے بل پر لیٹ گیا۔ شاید اسکو اندازہ تھا کہ میں چاہتا ہوں میرا لنڈ اسکی گانڈ سے نہ نکلے۔ جیسے ہی وہ لیٹا میں اسکے اوپر لیٹا مگر پورا وزن اسپر نہیں ڈالا صرف اسکی چکنی گانڈ کو دبایا اور پوری طاقت سے لنڈ اسکی گانڈ میں گھسیڑ دیا اور اندر ہی رکھ کر صرف جسم زور زور سے ہلانے لگا اس طرح کرنے سے میرا لنڈ اس مقام پر آگیا جہاں اس کو اپنا لاوا اگلنا تھا۔ اور اس نے گرم گرم منی اگلنا شروع کی تو اس لڑکے کا ایکدم سانس رکا مگر پھر سے وہ سانس لینے لگا اور عجیب حیران اور ہراساں تھا کہ یہ کیا گرم گرم اسکے جسم میں داخل ہو رہا ہے ۔

بالاخر میرا لنڈ جو کہ ایک ہفتہ سے خالی نہیں ہوا تھا آج اسکی گانڈ میں خالی ہوا جو کہ میری پوری منی کو قبول کرنے کے قابل بھی نہیں تھی۔ پھر میرا لنڈ ڈھیلا ہونا شروع ہوا اور میں نے اسکو آہستہ سے باہر نکال لیا۔ اور اسکے گالوں پر کس کی اتنی نرم ملائم گال تھے اسکے اس لڑکے نے مجھے بہت مزہ دیا تھا۔ میں نے اس کو گود میں اٹھایا اور پول ایریا میں بنے باتھ روم میں لے گیا میں نے اپنا لنڈ دیکھا وہ اسکے خون سے سرخ ہو رہا تھا۔ میں نے شاور کھول کر پہلے اپنا لنڈ دھویا اسکے بعد اسکی گانڈ کو اچھی طرح سے دھو کر اس پر مساج بھی کیا تاکہ اسکی تکلیف کم ہو جائے۔ پھر میں اسکو لے کر بیڈ روم میں آیا اور وہاں اسکو جوس پینے کو دیئے اور واپس پول ایریا میں جاکر اسکے کپڑے بھی لایا اور اسکو کہا انکو پہن لے وہ ایسا ہی کر رہا تھا جیسا مین کہہ رہا تھا شاید وہ مجھ سے ڈر چکا تھا میں نے اسکے تھوڑی دیر بعد اس کو اپنی کار میں بٹھایا اور اسکے گھر سے تھوڑا دور اتار دیا تاکہ وہ وہاں سے جا سکے اور فوراً کار اس سے دور لے گیا تاکہ وہ میرے کار کا نمبر نوٹ نہ کرسکے ۔ تو دوستو یہ تھی وہ اسٹوری جو مجھے کسی نے بھیجی
EMail : PkMasti@aol.com
Yahoo : Jan3y.J4na@yahoo.com

By Taha Gondal with 1 comment

1 comments:

Larkee Ki Gand Marnee ka Amna Hi Maza hai =)) Is ko Be Maza A Gaya hoo ga :)))

Main ne Khudd Bohtt Marri hai Larkkoo ki Gand :) Aghar Kisi Or Ko Marvanni hai Contact me :)

Post a Comment

EMail : PkMasti@aol.com
Yahoo : Jan3y.J4na@yahoo.com

    • Popular
    • Categories
    • Archives