Monday, January 10, 2011

چُدائی کا ٹیُوشن

میں ایک اِنٹرمیڈِایٹ کالیج میں اَدھیاپِکا ہُوں۔ یے ماتر 12 ویں ککشا تک کا کالیج ہے۔ شام کو اَکسر میں اَپنی سہیلی کے ساتھ بھوپال تال کے کِنارے گھُومنے نِکل جاتی ہُوں۔

ایسے ہی ایک دِن میں اَپنی سہیلی کے ساتھ تال کے کِنارے گھُوم رہی رہی تھی۔ 12ویں ککشا کی ایک چھاترا اؤر ایک چھاتر مِل گیے۔ یے دونو میری ککشا میں نہیں تھے۔ دُوسرے سیکشن میں تھے۔

مینے اُنسے اُنکا نام پُوچھا تو اُنہوںنے اَپنے نام سونل اؤر کِشور بتائے۔

سونل نے مُجھے کہا کِ اُسے بایلوجی وِشے میں کُچھ پُوچھنا ہے۔

مینے اُسے کہا کِ کل گھر آ جانا، مے بتا دُوںگی۔ کِشور اؤر سونل دُوسرے دِن گھر پر آ گیے۔

مُجھے لگا کِ اِنکی پروبلم کُچھ اؤر ہی ہے۔ میںنے پُوچھا- "سونل یے کِشور تُمہارا دوست ہے کیا…؟"

"ہاں میم … اِسے بھی آپسے کُچھ پُوچھنا تھا…" وو کُچھ شرماتی سی بولی۔

میں ایکدم بھاںپ گئی کِ ماملا پیار کا ہے۔

"یا کُچھ اؤر بات ہے… کہ دو…میں بھی تُمہاری اُمر سے گُجری ہُوں" مینے اَںدھیرے میں تیر چھوڑا۔ پر سہی لگا…

"ہاں… میم وو… ہم تو آپکے پاس اِسلِئے آیے تھے کِ ہم دونوں جیادا سے جیادا سمے ساتھ رہے !… پلیج میم ناراج مت ہونا…" اُسکے چیہرے سے لگا کِ وو مُجھسے وِنتی کر رہی ہیں۔

"پر یے کوئی مِلنے کی جگہ ہے؟"

"میم وو … نِشا میم نے بتایا تھا کِ آپ ہمیں مدد کر دیگیں……"

اوہ تو یے بات ہے… نِشا بھی اَپنے بوے فریںڈ کے ساتھ ایک بار چُدوانے آئی تھی تو مینے بھی اُسی سے چُدوا لِیا تھا۔ میرے من میں بھی ایک ہُوک سی اُٹھی… یے دونو اَپنی جِسم کی پیاس بُجھانے آیے ہیں … کیوں نا میں بھی اِس بات کا فایدا اُٹھاُّوں۔

"تو تُم مِلنا چاہتے ہو… میرا کیا فایدا ہوگا اِسمیں…" مینے تِرچھی نِگاہوں سے اُسے پرکھا۔

"میم مُجھے مالُوم ہے … نِشا جی نے مُجھے سب بتا دِیا ہے… اِسیلِیے تو مینے آپسے سب کہ دِیا … آپکی ساری شرتیں اِسے بھی اؤر مُجھے بھی منجُور ہے…" اُسنے اَپنا سر جھُکایے ساری باتیں مان لی۔

"تو دھیان رہے…شرتیں… کل دِن کو سکُول کے باد سیدھے ہی یہاں آ جانا…" مینے اُسے مُسکُراتے ہُئے کہا۔

سونل کھُشی سے اُچھل پڑی… مینے سونل کو چُوم لِیا…

مینے کہا-"کِشور تُم بھی آاو جرا…"

مینے کِشور کے ہوںٹھ پر ایک گہرا چُمّا لے لِیا… میرے بدن میں تراوٹ آنے لگی… کِشور نے بھی جوش میں مُجھے کِس کر لِیا۔
دُوسرے دِن کِشور اؤر سونل سکُول میں میرے چکّر لگاتے رہے… میں اُنہیں میٹھی سی مُسکان دے کر اُنکا ہؤںسلا بڑھاتی رہی… سچ تو یے تھا کِ میری چُوت میں بھی کُلبُلاہٹ مچنے لگ گئی تھی… سوچ سوچ کر ہی روماںچِت ہو رہی تھی کِ 19 سال کے جوان لڑکے کے لنڈ سے چُدوانے کو مِلیگا۔

مینے سکُول سے آتے ہی ایّر کںڈیشن چلا دِیا۔ لںچ کرکے میں آرام کرنے لگی۔ میں جانے کب سو گئی۔

اَچانک مُجھے لگا سونل نے میرے ہاتھ پکڑ لِئے اؤر کِشور نے مُجھے اُلٹی لیٹا کر میری چُوتڑ کی فاںکوں کو کھول دِیا اؤر اَپنا لنڈ میری گانڈ میں گھُسانے لگا۔ پر اُسکا لنڈ چھید میں گھُس ہی نہی رہا تھا۔ وو بہُت جور لگا رہا تھا… میری گانڈ میں اِس جور لگانے سے گُدگُدی لگنے لگی تھی۔ سونل چیکھ اُٹھی… مار دے گانڈ میم کی…چھوڑنا مت… اُسکی چیکھ سے میں اَچانک اُٹھ بیٹھی… اوہ…… میں سپنا دیکھنے لگی تھی۔

واستو میں درواجے پر بیل بج رہی تھی…دِن کو کریب 3 بجے تھے…وو دونو آ گیے تھے۔ مینے اَپنا مُکھ دھویا اؤر ہم تینوں کمرے میں ہی بیٹھ کر تھوڑی دیر تک باتیں کرتے رہے۔ اُن دونوں کی بیچینی دیکھتے ہی بنتی تھی…

"میم… مُجھے کِشور سے کُچھ باتیں کرنی ہے……"

"ہاں ہاں… جرُور کرو… پر باتیں کم کرنا… اؤر…" مینے مجاک کِیا۔

اؤر سونل کو بیڈ رُوم میں لے گئی اؤر سب بتا دِیا۔ کِشور کو بھی مینے اَندر آنے کا اِشارا کِیا۔ سونل تو بیڈ رُوم دیکھتے ہی کھُش ہو گئی… اؤر بِستر پر لوٹ گئی۔

اِدھر کِشور کو مینے بُلا کر اُسکی کمر میں ہاتھ ڈال کر اُسکے ہوںٹھو کو چُومنا چالُو کر دِیا۔ اُسنے بھی میری کمر مے اَپنا ہاتھ کس دِیا۔ اُسکے لؤڈے کی چُبھن میرے چُوت کے آس پاس ہونے لگی۔ مینے دھیرے سے اُسکا لنڈ پکڑ لِیا۔ اُسکے ہاتھ میرے بوبے پر جم گیے اؤر اُنہیں دبانے لگے۔ سونل جلدی سے آئی اؤر کِشور کو کھیںچنے لگی…

"کِشور… آاو نا…" کِشور کھِںچتا ہُآ چلا گیا …پر میرے بدن کی گرمی کا اَہساس کِشور کو مِل گیا تھا۔ اُسنے کِشور کو اَپنے سے لِپٹا لِیا۔

"اَرے… کیا ایسے ہی کروگے… کپڑے تو اُتار دو…چُدائی کا مجا نہیں لوگے کیا…" مینے اُنہے کہا۔

"نہیں …نہیں … چُدائی نہیں… بس ایسے ہی اُوپر سے…" سونل نے کہا تو مُجھے آشچرے ہُآ۔

"تب کیا مجا آیّگا… کیوں کِشور…"

کِشور نے میرا ساتھ دِیا اؤر ہم دونو نے مِل کر سونل کو نںگی کر دِیا… کِشور نے بھی اَپنے کپڑے اُتار دِیے۔ اُنہیں دیکھ کر مینے بھی اَپنا گاُّون اُتار دِیا اؤر نںگی ہو گئی۔ کِشور کا جوان لنڈ دیکھ کر میری چُوت میں پانی اُترنے لگا۔

سونل بھی جوان لڑکی تھی… اُسکے جوان جِسم کو دیکھ کر کوئی بھی پِگھل سکتا تھا۔ کِشور سونل سے لِپٹ گیا۔ اؤر اُسے بِستر پر پٹک دِیا۔ اُسکے اُوپر چڈھ گیا اؤر بیتہاشا چُومنے لگا۔ دونو کا جوش دیکھتے ہی بنتا تھا۔ ایک دُوسرے مے سمانے کی پُوری کوشِش کر رہے تھے۔ پر ہاں سونل اَپنی چُوت سے اُسکے لنڈ کو دُور رکھ رہی تھی۔ کِشور جیسے ہی اَپنا لنڈ اُسکی چُوت پر دباتا وو چُوت کو جھٹکا دے کر ہٹا دیتی تھی۔

یے سب دیکھ کر میری واسنا بڈھتی جا رہی تھی۔ مینے اَپنی چُوت میں دو اَںگُلِیاں ڈال لی اؤر اَپنی چُوت چودنے لگی۔ میرے مُکھ سے سِسکاری نِکل پڑی۔ اَب مینے سوچا کِ پہلے اِنہیں نِپٹا دُوں۔ میں اُٹھی اؤر دونوں کو سہلانے لگی۔ پھِر میںنے سونل کے چُوت کا دانا دھیرے دھیرے ملنا شُرُ کِیا۔ سونل کو اؤر مستی چڈھنے لگی۔ میں گھِستی رہی…ملتی رہی… اِتنے میں سونل جھڑنے لگی… مینے ہاتھ ہٹا لِیا… اُسکی چُوت میں سے پانی آ رہا تھا… اِسی دؤران کِشور کا لنڈ مینے سونل کی چُوت پر رکھ دِیا۔ کِشور تو جوش میں تھا ہی… اُسکا لنڈ سونل کی چُوت میں اُتر گیا…

سونل تڑپ اُٹھی…"اَرے یے کیا… ہٹو…ہٹو… اُسنے جلدی سے اُسکا اُفنتا ہُآ لنڈ چُوت سے نِکال دِیا…

کِشور بھی تڈپ اُٹھا …… اُسے تو اَب چُوت چاہِیے تھی… سونل اَلگ ہٹ کر اُٹھ گئی۔

"دیکھو…میم…مینے منا کِیا تھا…تب بھی اِسنے کیا کر ڈالا…"

" کوئی بات نہیں سونل…لا مے اِسے سمبھالتی ہُوں……" مینے اَپنی باری سمہالی اؤر کِشور کو دبوچ لِیا اؤر اُسے اَپنے نیچے دبا لِیا… اُسکے کھڑے لنڈ پر مینے اَپنی چُوت رکھ کر دبا دی… آऽऽऽऽऽاَہّہّہ …لنڈ میری چِکنی چُوت مے دھںستا چلا گیا… کِشور نے بھی اَپنے چُوتڑ اُوپر کی اور اُٹھا دِئے… اؤر اُسکا لنڈ پہلے جھٹکے میں ہی جڑ تک بیٹھ گیا۔ میرے مُکھ سے آنّد کے مارے سِسکاری نِکل پڑی…

نا جانے کب سے میں اِس چُدائی کا اِنتجار کر رہی تھی۔ مینے اَپنے چُوتڑ تھوڑے سے اُوپر اُٹھایے اؤر دُوسرا جھٹکا دِیا…فچ کی اَواج کے ساتھ لنڈ گہرائی تک چود رہا تھا۔ کِشور آنّد کے مارے نیچے سے جھٹکے مار رہا تھا۔ دونو ہی ہر جھٹکے پر آہیں بھرتے تھے… سونل بھی ہمے دیکھ کر اُتّیجِت ہونے لگی تھی… شاید اُسنے ایسی چُدائی پہلی بار دیکھی تھی۔ اُسنے اَپنی ایک اَںگُلی میری گانڈ میں فںسا دی اؤر گول گول گھُمانے لگی۔ مے تو اِس ڈبل چُدائی سے مست ہونے لگی۔ دونو ترف سے مجا آنے لگا تھا۔

"سونل…مجا آ رہا ہے…کیا مست لنڈ ہے…"

"میم آپکی چُوت بڑی پیاری ہے… دیکھو نا لنڈ سٹاسٹ اَندر باہر جا رہا ہے…"

"چودے جا میرے راجا… ہاے… میں تو مر جاُّوںگی رام…"

کِشور نے میری چُوںچِیاں مسل مسل کر بیہال کر دی تھی… اَب مے اَتِ اُتّیجنا کا شِکار ہونے لگی… مُجھے لگا کِ اَب میں جھڑ جاُّوںگی۔ میرے دھکّے اَب جور سے اؤر اَندر تک دبا کر جا رہے تھے۔ اؤر اَچانک میرا بدن لہرا اُٹھا… اؤر میرا رس نِکلنے لگا۔ مینے اُسکے لنڈ پر اَپنی چُوت گڑا دی…اؤر اُس پر پُوری جھُک گئی۔

"سونل پلیج… میری گانڈ سے اَںگُلی نِکال دے…" سونل نے اَںگُلی باہر نِکال دی۔ مینے کِشور سے اَپنے بوبے جور لگا کر چھُڑا لِیے۔ پر مُجھے وو چھوڑنے کو تیّار نہیں تھا

By Taha Gondal with No comments

0 comments:

Post a Comment

EMail : PkMasti@aol.com
Yahoo : Jan3y.J4na@yahoo.com

    • Popular
    • Categories
    • Archives