Monday, January 10, 2011

چوت کی چدائی کا ڈر

جب میں جوان ہُئی تب مُجھے بھی اؤر لڑکِیوں کی ترہ چُدوانے کی اِچّھا ہوتی تھی۔ پر ہماری سہیلِیوں میں سے ایک کے ساتھ پریگنینسی کا ہادسا ہو گیا تب سے میں بہُت ڈر گئی تھی۔ وو پُورے کالیج میں بدنام ہو گئی تھی اؤر پھِر اُسنے کالیج چھوڑ دِیا تھا۔ آجکل وو بںگلور میں پڈھ رہی ہے اؤر ہوسٹل میں رہ رہی ہے۔ میں اِس ہادسے کے باد سے اَپنے ہاتھ سے ہی دھیرے دھیرے کر لیتی تھی۔

میری سہیلِیوں نے مُجھے اَنترواسنا سائیٹ بتائی، تب سے میں رات کو اِسے اَکیلے میں دیکھتی ہُوں اؤر میرے من کی اِچّھا کے ہی اَنُرُوپ اِسمیں اُتّیجک کہانِیاں پڑھنے کو مِل جاتی ہے۔ اِسکو پڑھنے سے میری راتیں رںگین ہو اُٹھتی ہیں، ہاں کُچھ دیر تو میں واسنا میں تڑپتی رہتی ہُوں اؤر پھِر اَںگُلی گھُسیڑ کر پانی نِکال لیتی ہُوں۔ سچ میں اِسمیں بڑا سُکھ مِلتا ہے۔ اِسکے لِیے میں اَںترواسنا کو دھنیواد دیتی ہُوں۔

میرا باے فرینڈ اَکسر مُجھے چُدوانے کے لِیے کہتا ہے، پر ڈر کے مارے میں اُسے منا کر دیتی ہُوں۔ پر شاید اُسے ایک دِن مؤکا اَنجانے میں مِل گیا۔ گھر میں کوئی نہیں تھا اؤر وِکاس اَچانک ہی گھر پر آ گیا۔ اُسے میںنے اَندر بیٹھایا اؤر اُسکی میہمانواجی کی۔

پر جیسے ہی اُسے پتا چلا کِ میں گھر میں اَکیلی ہُوں، اُسنے مُجھے کہا " سواتِ آاو، اَکیلیپن کا فایدا اُٹھا لیں ! پیار کریں، کِس کریں، اَبھی یہاں کؤن ہے دیکھنے والا !"

مُجھے بھی لگا کِ مؤکا اَچّھا ہے کُچھ تھوڑی چُمّا-چاٹی کر لیں تو مجا آیّگا۔ میں شرما تو گئی پر اِنکار نہیں کر پائی۔ میں اُسکے پاس بیٹھ گئی اؤر ہم دونوں ایک دُوسرے کو پیار کرنے لگے۔ ہوٹھوں کو چُوسنے لگے۔ اُسکی جیبھ میرے مُںہ میں گھُس کر مُجھے آنّدِت کر رہی تھی۔ میرے بدن میں اُتّیجنا بھی ہونے لگی تھی۔ اِسی بیچ وِکاس کا لنڈ کھڑا ہونے لگ گیا۔ لگتا تھا وو بھی اُتّیجِت ہو رہا تھا۔ سچ ہے جب دو جوان تن آپس میں مِلنے لگے تو جِسم جلیگا ہی۔ میری چُوںچِیو میں بھی کڑاپن آنے لگا تھا، دِل میں کسک سی اُٹھنے لگی تھی، مُجھے اَجیب سا بھی لگ رہا تھا کِ میرے ستن اَبھی تک کیُوں نہیں چھُو رہا تھا، کیا بات ہے ۔۔۔ کیُوں نہیں دبا رہا ہے۔ مُجھے تڑپ سی ہونے لگی۔ میںنے تڑپ کے مارے اُسکا ہاتھ اَپنی چھاتی پر رکھ لِیا۔

"وِکاس، آہ دبا دو نا ! دھیرے دھیرے !"

اُسنے ہلکا سا دبا دِیا۔ میرے شریر میں جیسے آگ سی لگ گئی۔

"جور سے ۔۔۔ آہ ۔۔۔ !" اَب اُسنے میرے بوبے ہی کیا میرے پُورے شریر کو دبانا اؤر مسلنا آرمبھ کر دِیا۔ میرے مُکھ سے سِسکارِیاں نِکل پڑی۔ میری چُوت میں سے پانی چُو پڑا۔ اُسنے میرے کُرتے میں نیچے سے ہاتھ ڈال دِیا اؤر جاںگھے سہلاتا ہُآ، چُوت تک پہُںچنے لگا۔ جیسے ہی اُسکے ہاتھ نے میری چُوت کو چھُآ مُجھے ایک جھٹکا سا لگا۔ میرا بدن پِگھلنے لگا۔ میری ٹاںگیں سوت: ہی کھُلنے لگی۔ ہاتھ کو چُوت تک پہُںچنے کا راستا دینے لگی۔ جیسے ہی اُسکے ہاتھ نے میری چُوت کو سہلایا، اُسکی اَںگُلی میری چُوت کے رس سے گیلی ہو گئی۔ اَںگُلی کا جور لگتے ہی میری چُوت کا دانا چھُو گیا، اؤر اَںگُلی چُوت کے دوار تک پہُںچ گئی۔ دانا چھُوتے ہی میرے بدن میں جیسے بِجلِیاں کؤںدھ گئی۔ میں کاںپ گئی۔ میںنے تُرنت اُسکا ہاتھ پکڑ کر روک لِیا۔ اُسے سِر ہِلا کر منا کِیا۔

"سواتِ، یے کیا ؟ مت روکو ۔۔۔ کیا تُمہیں مجا نہیں آ رہا ہے ؟"

اُسکے ویاکُل سور نے ایک بار تو مُجھے بھی وِچلِت کر دِیا۔ لگا کِ چُوت کھول کر اُسکا لنڈ بھیتر سما لُوں۔

" ہاے میرے وِکّی، ڈر لگتا ہے، اُوپر سے ہی کر لو نا، مُجھے چاہے پُورا مسل دو !"

اُسنے بھی میرا ڈر سمجھا، اؤر اَپنے لنڈ پر میرا ہاتھ رکھ دِیا۔ میںنے بھی اُسے نِراش نہیں کِیا اؤر اُسکا لنڈ تھام لِیا۔ اُسکا لنڈ بڑا اؤر موٹا لگ رہا تھا۔ من میں آیا کِ چُدوا لُوں، باد میں دیکھا جایّگا ۔۔۔ پر نہیں، اَبھی نہیں۔ پر لنڈ کے درشن کو من مچل اُٹھا۔

"اِسے باہر نِکال دو، ایک بار دیکھ لُوں !" میرا من للچا گیا۔

وِکاس نے اَپنا پینٹ نیچے سرکا دِیا اؤر اَںڈروِیر نیچے کر لی۔ اُسکا گورا اؤر بڑا سا لنڈ باہر آ گیا۔ اُسے دیکھتے ہی میرے من میں اُسے اَندر لینے کو من تڑپ اُٹھا۔ میںنے پیار سے اُسے پکڑ لِیا اؤر چمڈی کھیںچ کر سُپاڑا باہر نِکال لِیا۔ لنڈ کی سُندرتا میرے من میں گھر گئی، یے پہلا لنڈ تھا جو میںنے دیکھا تھا، بھرپُور جوان، اَکڑا ہُآ، فُںفکارتا ہُآ۔ اُسکے ٹِپس پر نِکلی ہُئی دو چِکنی بُوںدیں۔

"ہاے وِکاس، میرے شریر میں اِسے سما دو، مُجھے نِہال کر دو، مُجھے چود دو !" میرے مُکھ سے اَچانک ہی یے سب نِکل پڑا۔

"چُپ، کہاں سے سیکھا یے گالی، یے پیار کی پوِتر بھاونا ہے، واسنا نہیں !"

"ساری، یار، میرے من میں تھی سو کہ دِیا، پر چودنا گالی تو نہیں ہوتی ہے، یے تو لنڈ کو چُوت میں ڈال کر اَندر باہر ہِلانے سے مجا آتا ہے ن، اُسے کہتے ہیں، میری سہیلِیاں تو ایسے کھُوب بولتی ہیں !"

" پلیج ایسے نہیں کہو، میری ہالت کھراب ہو جایّگی۔" وو میری باتوں سے ہی مست ہوتا جا رہا تھا۔ میری تڑپ بڑھ گئی، مُجھسے رہا نہیں گیا تو میںنے بھی اَپنا سلوار کُرتا اُتار ڈالا اؤر نںگی ہو گئی۔ مُجھے نںگیپن کا اَہساس ہونے سے من میں ترںگے اُٹھنے لگی۔ جِسم کںپکںپانے لگا۔ مُجھ پر واسنا پُوری سوار ہو چُکی تھی۔ وِکاس بھی آپے سے باہر ہو رہا تھا۔ میرے سے وو چِپک کر میرے اَںگو کو مسلنے اؤر دبانے لگا۔ مُجھے اَچانک ہی لگنے لگا کِ اَگر میں چُد گئی تو میں پریگنینٹ ہو جاُّوںگی اؤر ۔۔۔ اؤر ۔۔۔ پھِر۔ پر میں کیا کرُوں ؟؟؟ میرا من تڑپ اُٹھا، میرے دِماگ میں اؤر میرے من میں اَلگ اَلگ وِچار اُٹھنے لگے۔ آکھِر میں دِماگ کی جیت ہُئی اؤر میںنے تُرںت فیسلا لے لِیا کِ بس مستی ہی کرنا ہے۔

"وِکاس، مُجھے لِٹا دو اؤر میری چُوت چاٹو ۔۔۔ اؤر ایسی چاٹو کِ میں مست ہو جاُّوں !" میرے دِل میں کُچھ کرنے کی تیور اِچّھا ہونے لگی۔ مُجھے یے تریکا بیہتر لگا۔ یُوں تو میں اَںگُلی کا پریوگ کرتی ہُوں، پر اَب تو میرے پاس ایک مرد ہے، چُوس چُوس کے میرا پانی نِکال دیگا۔

وِکاس نے مُجھے گودی میں اُٹھا لِیا اؤر پلںغ پر لیٹا دِیا۔ وو سویں بھی چُوت کی ترف مُںہ کرکے کروٹ پر لیٹ گیا۔ میری دونوں ٹاںگوں کے بیچ اُسنے اَپنا چیہرا چھُپا لِیا اؤر مُںہ کو میری چُوت سے سٹا لِیا۔ اُسکی جیبھ لپلپا اُٹھی، میںنے بھی اَپنی چُوت کا جور اُسکے مُںہ پر لگا دِیا۔ میںنے اَپنی ایک ٹاںگ اُٹھا کر اُسکی کمر میں ڈال دی اؤر چُوت کا دوار کھِل کر اُسکے ہوںٹھو سے لگ گیا۔ اُسنے بھی اَپنی ایک ٹاںگ اُٹھا کر میری کمر میں موڑ کر لپیٹ لی۔

پر ہاے رام ۔۔۔ میں تو بھُول ہی گئی گئی تھی کِ اِسّے تو میری گانڈ کا چھید بھی اُسکی نجروں کے سامنے آ گیا تھا۔ پھِر ۔۔۔ مُجھے چھید پر ٹھنڈک سی لگی، اُسنے میری گانڈ کے چھید پر تھُوک لگا دِیا تھا اؤر اُسکی ایک اَںگُلی میری گانڈ کے چھید کو سہلانے لگی تھی، مُجھے بڑا بھلا لگ رہا تھا۔ گُدگُدی سی ہو رہی تھی۔ اُسکی اَںگُلی اَب دھیرے سے چھید میں اُتر گئی۔ مُجھے اَںگُلی کے گھُستے ہی بڑا مجا آیا۔ مُکھ سے سِسکاری نِکل گئی۔

اُسکا لنڈ میرے مُکھ کے سامنے کھڑا ہُآ مُجھے نیوتا دے رہا تھا۔ میںنے اُسکا لنڈ دھیرے سے اَپنے مُکھ میں لے لِیا اؤر اُسے داںتو سے ہلکے ہلکے چبانے لگی۔ وو اؤر فُفکار اُٹھا۔ وِکاس کی بھی کمر اَب تھوڑی تھوڑی ہِل کر لنڈ کو مُکھ میں اَندر باہر کر رہی تھی۔ میری چُوت کا بُرا ہال ہو رہا تھا۔ وو اَب جور جور سے چپ چپ کرکے اُسے چاٹ رہا تھا، چُوس رہا تھا، میرے دانے کو ہوںٹھو سے کھیںچ رہا تھا۔ گانڈ میں اُسکی اَںگُلی اَندر باہر ہو رہی تھی اؤر گانڈ میں گول گول گھُما کر چھید کو چؤڑا کر رہی تھی۔ میری گانڈ میں مستی چڑھ رہی تھی۔ لگ رہا تھا کِ وو میری گانڈ مار دے اَب۔

زب مُجھسے رہا نہیں گیا تو میںنے اَپنی چُوت اُسکے مُکھ سے دُور کر لی اؤر اُلٹی لیٹ گئی۔

"وِکّی، میری پیٹھ پر چڑھ جاّو اؤر مُجھے مست کر دو !" میںنے اُسے گانڈ چودنے کا نیوتا دے ڈالا۔

اُسنے میری چُوت کے نیچے تکِیا لگایا تاکِ میری گانڈ اُوپر کی اور ہو جایے۔ وو میری پیٹھ پر چڑھ گیا اؤر اُسنے میری چُوتڑوں کی گولائیّوں کو فیلا دِیا۔ میری گانڈ کا چھید اُسے ساف دِکھنے لگا۔ اُسنے پاس میں پڑی کریم کی ڈِبِیا اُٹھائی اؤر چھید میں اُسے اَندر باہر لگا دی۔ اَب اُسنے دھیرے سے اَپنا تنا ہُآ لنڈ، سُپاڑا کھول کر چھید پر رکھ دِیا اؤر جور لگانے لگا۔ لنڈ کو اَندر جانے میں کوئی تکلیف نہیں ہُئی۔ میری گانڈ میں ہلکا سا درد ہُآ۔ مُجھے بڑا سا لنڈ میری گانڈ میں پھںسا ہُآ مہسُوس ہونے لگا، جیسے کِ کوئی نرم سی کڑک سی چیز گانڈ میں فںس گئی ہو۔ اُسنے جور لگا کر اَندر گھُسانے لگا، میرے مُکھ سے چیکھ سی نِکل گئی۔ پر وو جوش میں تھا، اُسکا جور بڑھتا ہی گیا۔

کریم لگانے سے مُجھے اُتنی تکلیف تو نہیں ہُئی، پھِر بھی درد تو تیج ہُآ ہی۔ پر اُسکے دھکّوں نے جلدی ہی مُجھے میرا درد بھُلا دِیا۔ شاید اِسکا کارن تھا کِ میں اَکیلے میں مومبتّی کو گانڈ میں اَکسر گھُسا لیتی تھی اؤر مجے کرتی تھی۔ آج تو لنڈ اَسلی تھا، اؤر اُسکا اَہساس بِلکُل اَلگ تھا۔ نرم سا پر لوہے جیسا کڑک، میرے پُورے چھید میں چِکنائی کے ساتھ نرمائی کے ساتھ، چُدائی کا مجا دے رہا تھا۔

اُسکے دونوں ہاتھ اَب میری دونوں چُوںچِیو پر تھے اؤر اُنہیں مسل کر مُجھے دُگنا مجا دے رہے تھے۔ میری چُوت بھی آنّد کے مارے پانی چھوڑے جا رہی تھی۔ میرے دونوں پاںو پُورے کھُلے ہُئے تھے۔ اُسکا لنڈ اَب سٹاسٹ اَندر باہر آ جا رہا تھا۔ مُجھے گانڈ چُدائی میں ہی اِتنا آنّد آ رہا تھا کِ لگا کِ وو میری گانڈ روج مارے۔ پر اَچانک اُسکا لنڈ باہر تو آیا پر وو گانڈ میں نہیں بلکِ چُوت میں گھُس گیا۔ مُجھے اَندر ہلکی سی تکلیف بھی ہُئی، میں تڑپ کر اُسے ہٹانے لگی، اُسکا لنڈ باہر نِکالنے لگی اؤر اَنت میں سفل بھی ہو گئی۔

"یے کیا کر رہے تھے تُم؟ اَگر میری جھِلّی فٹ جاتی تو؟ میں پریگنینٹ ہو جاتی تو !" میرا سارا نشا کافُور ہو گیا اؤر میں وِکاس پر برس پڑی۔

"سواتِ، پر مجا تو اُسی میں ہے، اِسمیں نہیں ہے یار" اُسنے مُجھے سمجھایا۔

"پر مُجھے تو گانڈ چُدوانے میں ہی بہُت مجا آ رہا تھا، تُمنے سب مجا بِگاڑ دِیا۔"

"ساری، یار میں تُمہیں اُوپر سے ہی رگڑ دیتا ہُوں، مست کر دیتا ہُوں، بس ۔۔۔ اَب کھُش ؟"

"لو یُو وِکّی، مُجھے مںجِل تک لے جاّو، اؤر میں بھی تُمہیں مںجِل تک پہُںچا دیتی ہُوں، پر پلیج، مُجھے چودنا نہیں !" میری وِنتی کا اُس پر پربھاو پڑا۔ شاید یے بھی سوچا ہوگا کِ کہیں یے رِشتا ہی نا توڑ دے، وو مان گیا۔ اُسنے مُجھے پھِر سے لیٹایا اؤر میری چُوت کا دانا چاٹنے لگا اؤر میرے بوبے مسلنے لگا۔

میں پھِر سے واسنا کی گہرائیّوں میں جانے لگی۔ میرے نِپل کو گھُما گھُما کر مسلنے سے میری اُتیجنا چرم سیما تک پہُںچنے لگی۔ مُجھے جھڑنے جیسا اَہساس ہونے لگا۔ میں وِکاس کے بال کھیںچنے لگی۔ مُکھ کو اَپنی چُوت پر دبانے لگی۔ اُسکا پُورا مُںہ میرے چُوت کے چِپچِپے پانی سے گیلا ہو گیا تھا۔ اُسکی جیبھ میری چُوت میں اَندر باہر ہو رہی تھی۔ میرا شریر اَب تن چُکا تھا اؤر میرا پانی نِکلنے میں ہی تھا۔ میںنے جھڑنے کے لِیے چُوت کا پُورا جور اُوپر کی اور لگا دِیا اؤر اَب ۔۔۔ آہ رے ۔۔۔ مر گئی ۔۔۔ میرا رس نِکل پڑا۔ میرے شریر میں لہریں اُٹھنے لگی اؤر میں جھڑنے لگی۔ میںنے اَپنے بوبے پر سے اُسکا ہاتھ ہٹا دِیا۔ میرا رس نِکلتا رہا، میں دھیرے دھیرے نِڈھال ہوتی گئی۔

میںنے اَدھکھُلی آںکھوں سے وِکاس کو دیکھا، اُسنے اَپنا چیہرا میری چُوت سے اَب ہٹا لِیا تھا اؤر پںجوں کے بل بیٹھا ہُآ تھا۔ اُسکا لنڈ ویسا ہی کڑک، کھڑا ہُآ فُفکار رہا تھا۔ اَب میری باری تھی۔ چُوںکِ میں جھڑ چُکی تھی اِسلِیے میرا من اُسے جلدی ہی شاںت کرنے ہو رہا تھا۔ میںنے اُسے ویسے ہی پںجوں کے بل پر بیٹھے رہنے کہا اؤر اُسکا لنڈ دھیرے سے پکڑ لِیا۔ اؤر اُسے مُٹھ مارنے لگی۔ اُسنے بھی میرے بوبے پکڑ لِیے اؤر مسلنے لگا پر مُجھے اَب چوٹ لغ رہی تھی۔ اُسے جلدی ٹھِکانے لگانے کے لِیے میںنے اُسکے لنڈ کو مُٹھٹھی میں جور سے کس لِیا اؤر اُسے گھُما گھُما کر مروڑ کر اُسکا مُٹھ مارنے لگی۔ وو تڑپ اُٹھا اؤر بِستر پر لوٹ گیا۔ پر میںنے اُسکا لنڈ نہیں چھوڑا، اُسے کس کر پکڑ کر مُٹھ مارتی ہی رہی۔ وو ہاے ۔۔۔ ہاے کرکے کروٹیں لیتا رہا۔ میں اَب اُسکے اُوپر لیٹ گئی تاکِ وو اَدھِک نا ہِلے۔ اُسکے مُںہ کو اَپنا مُںہ سے بھیںچ لِیا اؤر لنڈ کو بُری ترہ سے مسلتی رہی۔

"اَرے اَب چھوڑ دے، بس، میرا ہو گیا ہے ۔۔۔ ہاے رے ۔۔۔ بس کر ۔۔۔ !" لگبھگ وو اَب چیکھ سا اُٹھا۔

اُسکی پِچکاری چھُوٹ پڑی، اؤر ویرے اُوپر اُچھل کر باہر آ گیا۔ میرا ہاتھ تر ہونے لگا۔ بھیگے ہُئے ہاتھ سے میں اَب ہؤلے ہؤلے اُسکے لنڈ کو نِچوڑنے لگی اؤر اُسے کھیںچ کھیںچ اُسکا بچا ہُآ رس نِکالنے لگی۔ اَب وو پُورا جھڑ چُکا تھا۔ اُسکے ویرے کو اُسکے ہی پیڈُو پر اؤر پیٹ پر میںنے مل دِیا تھا، اُسکی گولِیاں اؤر گانڈ تک اُسے مل دِیا تھا۔

"مجا آ گیا سواتِ، تُم تو کھُوب مُٹھ مار دیتی ہو ۔۔۔ دیکھو میرا کیا ہال کر دِیا۔"

"اؤر تُم بھی تو دیکھو، مُجھے کِتنا مجا آیا ۔۔۔ وِکّی تُو ایسے ہی مُجھے مست کر دِیا کر، چُدائی میں تو ڈر لگتا ہے۔"

ہم دونوں نے آپس میں لِپٹ کر پیار کِیا اؤر اَپنے کپڑے پہنّے لگے۔

میرے من کا ڈر کب جایّگا، شاید کبھی نہی۔ میں ڈر کے مارے کبھی بھی نہیں چُد پاُّوںگی۔ شادی کے باد ہی یے ڈر جایّگا، پر ہاے رے جانے کب ہوگی میری شادی ۔۔۔ ۔۔

By Taha Gondal with No comments

0 comments:

Post a Comment

EMail : PkMasti@aol.com
Yahoo : Jan3y.J4na@yahoo.com

    • Popular
    • Categories
    • Archives