Monday, January 10, 2011

بڑے بھائی کے ساتھ چدائی کا مزا کِیا

میں ہُوں آپکی اَںجُو شرما ۔میں 25 سال کی ہو چُکی ہُوں ۔میں آج آپکو اَپنی سچّی کہانی بتا رہی ہُوں۔کی میںنے اَپنے بڑے بھائی سے کیسے چُدوایا تھا۔میرے بڑے بھائی کا نام اَجے ہے ۔وہ 27 سال کا ہے ۔اُسکی ایک گرل پھریںڈ بھی ہے ۔جِسکا نام شیلی ہے۔ شیلی میرے ساتھ پڑھ چُکی ہے۔اؤر میرے گھر سے تھوڑی دُور ہی رہتی ہے۔شیلی اَجے کو پسںد کرتی ہے۔لیکِن شیلی کے کئی دوست ہیں۔ شیلی ایک چالُولڑکی ہے فِر بھی اَجے کو شیلی سے اَکیلے میںمِلنے کا کوئی مؤکا نہیں مِل پا رہا تھا۔

ایک دِن میرے پاپا اؤر ممّی دو دِن کے لِئے ایک شادی میں جبلپُر جانے والے تھے۔ہم پڈھائی کا بہانا کرکے گھر میں ہی رُکے رہے۔ویسے اَجے میرا بڑا بھائی ہے لیکِن ہم دوست کی ترہ رہتے ہیں۔ہم ایک دُوسرے سے کوئی بات نہیں چھُپاتے ہیں، اؤر آپس میں ہریک وِشے پر کھُل کر باتیں کرتے ہیں۔یہاں تک سیکس کی بات کرنے سے بھی ہمّیں کوئی شرم نہیں آتی ہے۔اُس دِن اَجے نے مُجھ سے کہا ،اَںجُو دو دِن تک ہم لوگ اَکیلے رہیںگے۔اَگر تُم کِسی ترہ شیلی کو دو دِن کے لِئے اَپنے گھر رہنے کے لِئے تیّار کرا لو،تو میں تُمہاری ہر شرت مان لُوںگا۔میںنے بھی اَپنی شرت رکھی ،کی میں شیلی کو کِسی بھی بہانے اَپنے گھر رُکنے پر راجی کر لُوںگی۔لیکِن تُم شیلی کے ساتھ جو بھی کروگے میرے سامنے کرنا ہوگا ۔

اَجے بولا ،لیکِن اِسکے لِئے تُمہیں میرا پُورا ساتھ دینا پڈیگا۔اِس ترہ ہم دونوں کے بیچ شرتیں تے ہو گیّں۔شام کو مینے شیلی کو پھون کِیا کی مُجھے اَپنا ایک پروجیکٹ بنانے کے لِئے اُسکی مدد چاہِئے۔اؤر دو دِنوں میں پروجیکٹ پُورا کرنا ہے ۔گھر میں اَکیلی ہُوں میرے گھر میں کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔مِل کر پڈھائی اؤر مستی کریںگے۔میںنے کہا کی اَجے بھی ہماری مدد کریگا۔شیلی بھی فؤرن تیّار ہو گیّ۔شیلی کاپھی چالاک ہے وہ سارا ماملا سمجھ گیّ۔اؤر ایک گھںٹے کے باد ہی گھر آگیّ۔وہ کاپھی سجدھج کر آیی تھی ۔دروازے پر اَجے نے ہی اُسکا سواگت کِیا۔شیلی آرام سے سوپھے پر بیٹھ گیی اؤر اِدھر اُدھر کی باتیں کرنے باد اَجے تین وہِسکی کے پیگ بنا کر لایا۔ہم دھیمے دھیمے وہِسکی کی چُسکِیاں لینے لگے ۔اَجے کھڑے کھڑے ہمّری باتیں سُن رہا تھا۔ تبھی اَجے نے جھُک کر شیلی کو چُوم لِیا۔شیلی کھڈی ہو گیّ۔اؤر اَجے کی پیںٹ کی جِپ کھول کر اُسکا لںڈ چُوسنے لگی ۔شیلی نے اَجے کا 10 اِںچی موٹا لںڈ پُورا اَپنے مُںہ میں لے لِیا۔ ۔میں بھی اَجے کے لںڈ کا لال لال سُپارا دیکھ کر دںگ رہ گیّ۔

ایسا لگ رہا تھا جیسے گُسّے سے لںڈ کا مُںہ لال ہو گیا ہو۔اؤر چُوت پر ہملا کرنے والا ہو۔شیلی بڑے پیار سے لںڈ چُوس رہی تھی ۔اؤر سارا لںڈ نِگلنا چاہتی تھی۔یہ دیکھ کر میری چُوت بھی گیلی ہو رہی تھی ۔شیلی لںڈ کو اَپنے مُںہ میں اَندر باہر کر رہی تھی ۔اِس سے لںڈ اؤر سکھت اؤر لںبا ہو رہا تھا۔ لںڈ شیلی کے تھُوک سے پُوری ترہ سے سنا تھا۔تبھی شیلی نے اَجے کو بیڈ پر لِٹا دِیا اؤر اُسکے باقی کے سارے کپڑے نِکال دِئے ۔اَجے کا لںڈ کُتُب مینار کی ترہ سیدھا کھڈا تھا۔ایک ایک کر کے شیلی نے اَپنے کپڑے بھی اُتار دِئے۔جب شیلی نے اَپنی پیںٹی بھی اُتار دی ،تو میں اُسکی گوری گوری چُوت دیکھ کر موہِت ہو گیّ۔شیلی نے اَپنی چُوت کے بال اَچّھی ترہ سے ساف کِئے تھے۔چُوت سے سیکسی کھُشبُو آ رہی تھی۔میںنے شیلی کی چُوت کو چُوم لِیا۔آخِر وہ میرے بھائی کا اِتنا لںبا موٹا لںڈ لینے جا رہی تھی۔اؤر کوئی لڑکی ہوتی تو اَجے کے لںڈ سے اُسکی چُوت جرُور پھٹ جاتی۔فِر شیلی اُٹھی اؤر اَجے کے لںڈ کو نِشانا بنا کر اُس پر اَپنی چُوت رکھ دی۔لںڈ کا سُپارا چُوت پر تھا۔شیلی چُوت پر بیٹھ گیّ۔شیلی کے دواب سے لںڈ اَندر گھُسنے لگا ۔جب لںڈ کا سُپارا چُوت میں گھُس گیا تو چُوت میں لںڈ کے لِئے راستا بنتا گیا۔لںڈ چُوت کو چیرتے ہُئے بھیتر جانے لگا۔

مُجھے بھی بڑا مجا آ رہا تھا۔میں لگاتار شیلی کو ہِمّت دِلاتی رہی۔اؤر کبھی اُسے چُومتی اؤر کبھی اُسکے بُوبس سہلاتی رہی۔جیسے ہی پُورا لںڈ شیلی کی چُوت میں سما گیا میںنے تالی بجا کر شیلی کو بدھایی دی۔شیلی اَپنی چُوت میں اَجے کا لںڈ اِس ترہ اَندر باہر کرنے لگی جیسے وہ اَجیکو آج ٹھیک سے چُدائی کرے بِنا نہیں مانیگی۔کُچھ دیر باد شیلی کے اُوپر آ گیا۔اؤر اُسکا لںڈ گچ سے شیلی کی چُوت میں دھںس گیا۔اَجے شیلی کو لگاتار چُوم رہاتھا۔اؤر اُسکی چُوت کی بھگ ناسا کو مسل رہا تھا شیلی مستی میں بک رہی تھی اَجے جور جور سے ڈالو ،پھاڑ دو میری چُوت اُف مزا آ رہا ہے ۔جور سے دھکّے مارو ۔میری پُوری چُوت بھر گیی ہے چُوت میں اَب جگہ نہیں ہے۔ چودو لگے رہو۔آج میں جنّت کا مزا لے رہی ہُوں ۔تُمہارا لںڈ کمال۔ ہے۔کریب آدھا گھںٹے کے باد اَجے نے شیلی کو پلںگ پر گھوڈی بناکر اَپنا لںڈ اُسکی چُوت میں پیچھے سے گھُسا دِیا۔اؤر دنادن دھکّے لگانا شُرُو کر دِئے۔اِس جبردست چُدائی سے شیلی ہاے ہاے کرنے لگی۔شیلی ہر دھکّے پر اَپنی چُوت لںڈ کی ترف دھکیل دیتی تھی جِس سے مجا دُگُنا ہو جاتا تھا۔شِلی کی چُوت سے پانی رِس رہا تھا۔فِر بھی وہ لگاتار چُدوا رہی تھی یہ دیکھ کر مُجھے بھی اِسی ترہ چُدوانے کی اِچّھا ہو رہی تھی اؤر میں اَپنی چُوت میں اُںگلی کر رہی تھی۔اِسی ترہ آدھا گھںٹا اؤر چودنے کے باد اَجے نے مُجھے بُلا کر کہا،شیلی کی چُوت کاپھی چُد گیی ہے ۔اَب میں شیلی کی گاںڈ مارُوںگا۔تُم زرا۔پاس آکر شیلی کی کمر جور سے پکڑے رہنا۔اؤر شیلی کی چُوت اؤر بُوبس مسلتے رہنا۔اَگر شیلی کو درد ہو تو اُسکی چُوت چاٹتے رہنا۔اِس سے درد کم ہو جاّیگا۔ورنا وہ میرا اِتنا لںبا موٹا لںڈ سہ نہی پایّگا۔اُسکی گاںڈ بھی پھٹ سکتی ہے تُم اَپنے ہاتھوں سے شیلی کے چُوتڈ پھیلاتے رہنا۔فِر اَجے نے دوبارا شیلی کو گھوڈی بنایا۔میںنے تھوڈا سا تیل شیلی کی گاںڈ اؤر اَجے کے لںڈ پر لگا دِیا۔اؤر اَجے کو گاںڈ جیتنے کا آشیرواد دے دِیا۔اَجے نے اُٹھ کر اَپنے لںڈ کا سُپارا شیلی کی گاںڈ کے چھید پر رکھ کر تھوڈا سا دواب ڈالا۔سُپارا گاںڈ میں گھُس گیا۔شیلا چِلّایی مر گیّ۔

اوہ اوہ اُئی اُئی دھیمے زرا دھیمے سے۔یہ لںڈ کاپھی موٹا ہے ۔میں سہ نہیں پاُّوںگی۔اَجے نے کہا ہِمّت رکھو ہم تُمہاری گاںڈ نہیں پھٹنے دیںگے۔آرامسے ڈالیںگے۔فِر اَجے نے لںڈ چؤتھائی اَندر گھُسا دِیا جو آسانی چلا گیا۔فِر شیلی کے درد کی پرواہ کِئے بِنا آدھا لںڈ جب چلا گیا تو میں نے کہا کی اَب رُکو نہیں باقی لںڈ بھی گھُسا دو۔اَجے نے ایک ایسا جور کا دھکّا مارا کی گاںڈ کو پھاڑتے ہُئے گاںڈ میں سما گیا۔شیلی نے اِتنی جور کی چیکھ ماری کی مُجھے اُسکا مُںہ بںد کرنا پڈا ۔اَجے بولا کی اَب تھوڈا سا درد سہ لو۔گاںڈ میں لںڈ کے لِئے راستا بن چُکا ہے۔کُچھ دیر باد اَجے نے لںڈ کو اَندر باہر کرنا شُرُو کِیا تو لںڈ آسانی سے گھُسنے لگا شیلی نے اَپنی چُوت میرے مُںہ پر رکھ دی سی اُسکا درد گایب ہو چُکا تھا۔مُجھے تاجُّب ہُآ کی لںڈ کیسے پھچا پھچ گاںڈ میں جا رہا ہے اؤر شیلی مجے سے گاںڈ مروا رہی ہے۔

مُجھے شیلی کی میں شیلی کی ہِمّت کی داد دینے لگی۔میں بولی کی تُمہیں تو گاںڈ مروانّے کا اولمپِک میڈل مِلنا چاہِئے۔یہ سُن کر اَجے نے اَپنی سپیڈ تیج کر دی ۔جب اُسکا لںڈ سے باہر آتا تو تو ایسا لگتا تھا کی لںڈ کے ساتھ پُوری گاںڈ باہر آ جایّگی۔کیوںکِ لںڈ گاںڈ میں پُوری ترہ سے کسا ہُآ تھا۔سشیلی کبھی مُجھے اؤر کبھی اَجیکو چُوم لیتی تھی۔آدھہ گھںٹے کی گاںڈ مرایی کے باد اَجے نے اَپنا گرم گرم ویرے شیلی کی گاںڈ میں چھوڑ دِیا۔جو گاںڈ سے باہر بنے لگا۔اَجے کے لںڈ سے شیلی کی گاںڈ کاپھی چؤڈی ہو گیی تھی۔لںڈ نِکلنے کے باد گاںڈ کا گُلابی چؤدا چھید ساف دِکھایی دے رہا تھا،شیلی نے اَجے کے لںڈ کو چاٹ چاٹ کر ساف کر دِیا اؤر ایک ترف لیٹ کر ساںس لینے لگی ۔میںنے پُوچھا کیسا لگا اَجے کا لںڈ ۔شیلی نے لںڈ کو چُوم لِیا اؤر اُسے پیار سے سہلانے لگی۔

اِس سے لںڈ فِر سے پھڑکنے لگا۔اؤر کڑک ہوکر کھڑا ہو گیا۔تبھی شیلی نے مُجھے اَپنے پاس پلںگ پر گِرا لِیا۔اؤر میرے منا کرنے کے باوجُود میریکپڑے اُتار دِئے ۔اؤر اَجے کا لیںڈ میری چُوت پر رکھ دِیا۔شیلی نے کہا کی اَںجُو چُدایی کُدرت کا وردان ہے ۔دُنِیا کے سبھی پرانی چُدایی کرتے ہیں۔ایک بار لیںڈ کِسی کی چُوت میں گھُس جاتاتا ہے تو سارے رِشتے ختم ہو جاتے ہیں ۔سِرف چُوت اؤر لںڈ کا رِشتا باقی رہ جاتا ہے۔اِسلِئے کِسی لںڈ کا اَپمان نہی کرنا چاہِئے۔جوبھی مِلے جیسا بھی مِلے جہاں بھی مِلے لںڈ کا مجا جرُور لینا چاہِئے تُو تو کِسمت والی ہے کی گھر میں ہی اِتنا مجیدار لںڈ مؤجُود ہے۔فِر بھی پُرانے وِچاروں میں اَپنا مجا برباد کر رہی ہے۔ہریک چُوت کو ہریک لںڈ سے مجا مِلتا ہے۔دیکھ میںنے اِسی سُکھ کے لِئے اَجے کے گھوڈے جیسے لںڈ سے تیر سامنے چُدا لِیا اؤر گاںڈ بھی مراوایّ۔ یہ ایسا مجا ہے جِسمے کوئی کھرچا نہیں لگتا۔سِرف ہِمّت چاہِئے۔چل اُٹھ اؤر میرّے سامنے ہی اَجے سے چُدا لے ۔فِر تُجھے بھی پتا چل جاّیگا کی ایسے لںڈ سے چُدانے میں کِتنا مجا آتا ہے۔تُو فِر روج چُدوانے لگیگی ۔اؤر مُجھے یاد کریگی۔

اُس دِن سے اَجے سے کیی بار لںڈ کا مجا لے چُکی ہُوں،شیلی کی بات سچ ہے،آج رات میں فِر چُدوانے والی ہُوں ۔آپ رات کو کیا کرنے والے ہیں ؟

By Taha Gondal with No comments

0 comments:

Post a Comment

EMail : PkMasti@aol.com
Yahoo : Jan3y.J4na@yahoo.com

    • Popular
    • Categories
    • Archives