Monday, January 10, 2011

نؤکرانی شبنم کو چودا

ہم نئے نئے اِس گھر میں آئے تھے۔ اِس کالونی میں میرا کوئی دوست نہیں تھا۔ سکُول سے آنے کے باد میں اَکیلا بیٹھ کر بور ہوتا رہتا تھا۔ پاپا سِرپھ سپتاہاںت پر گھر آتے تھے اؤر ممّی شام 6 بجے تک۔ کُچھ ہی دِنوں میں ممّی نے کام کرنے کے لِئے ایک نؤکرانی رکھ لِیا تھا جو کِ پاس ہی کے جھُگّی اِلاکے کی تھی۔ دیکھنے میں وو کُچھ کھاس نہیں تھی پر بہُت ہی سیکسی تھی۔ اُسے دیکھ کر اَچّھے اَچّھے کا دِل ڈول سکتا تھا تو پھِر میں کؤن تھا۔ وو ہمیشا ڈھیلے-ڈھالے کپڑے پہن کر آتی تھی اؤر جب جھُک کر کوئی کام کرتی تھی تو میرا لںڈ تڑپ کر رہ جاتا تھا۔

میںنے اُسے پٹانے کی ٹھانی۔ میرے سکُول سے آنے کے تھوڑی دیر باد ہی وو آ جاتی تھی۔ اَب میں اُس پر کھاس میہربان رہتا تھا۔ میں ہمیشا اُسّے بات کرنے کی کوشِش کرتا رہتا تھا۔ جب بھی میری اؤر اُسکی نزریں مِلتی، میں مُسکُرا دیتا تھا۔ دھیرے دھیرے وو مُجھسے کھُل کر باتیں کرنے لگی۔

ایک دِن میں بیٹھا ٹیوی دیکھ رہا تھا ۔ تبھی وو کام ختم کرکے میرے پاس آئی اؤر بولی- دیکھو تنُ، میں جا رہی ہُوں۔

میںنے کہا- اَبھی تو ممّی آئی بھی نہیں ہیں، تھوڑی دیر بیٹھو اؤر ٹیوی دیکھو۔

وو وہیں بیٹھ گئی اؤر ٹیوی دیکھنے لگی ۔ وو بہُت مہین کپڑے پہنے ہُئے تھی اؤر گؤر سے دیکھنے پر اُسکی چُوچِیاں دِکھائی پر رہی تھی۔ میرا لںڈ پیںٹ کے اَندر ہی کسمسانے لگا۔ میںنے اَپنے پیر پھیلا دِئے اؤر اِس ترہ کر دِیا جِسّے میرے پیر اُسکے پیروں کو چھُونے لگیں۔

تبھی بِجلی چلی گئی، میںنے کہا- چلو شبنم، بالکونی میں سے سڑک پر دیکھتے ہیں۔

پھِر ہم دونوں اُٹھ کر بالکونی میں آ گئے۔ وو ریلِںگ پر ہاتھ رکھ کر کھڑی تھی۔ میںنے بھی اَپنا ہاتھ ہؤلے سے اُسکے ہاتھ پر رکھا اؤر بگل میں کھڑا ہو گیا۔ میرا دِل بڑے جور سے دھڑک رہا تھا لیکِن اُسنے کُچھ نہیں کہا۔

میری ہِمّت بڑھی اؤر میںنے ہلکے سے اُسکے ہاتھ کو دبانا شُرُو کِیا، اُسنے ایک بار میری ترپھ دیکھا اؤر میںنے مُسکُرا دِیا۔ اِس پر اُسنے اَپنی آںکھیں نیچی کر لی۔ میں سمجھ گیا کِ وو بھی تیّار ہے۔

میں اَب اُسّے سٹ کر کھڈا ہو گیا اؤر اَپنا ہاتھ اُسکے کُولہے پر رکھ دِیا۔ دُور سے دیکھنے پر ایسا لگ رہا تھا کِ جیسے ہم سڑک پر کُچھ دیکھ رہے ہیں۔ میںنے اَپنا ہاتھ دھیرے سے اُسکے کمیز کے بھیتر ڈال دِیا اؤر اُسکی چِکنی پیٹھ سہلانے لگا۔

وو دھیرے سے بولی- تنُ اَندر چلو یہاں کوئی دیکھ لیگا۔

ہم اَندر آ گیے اؤر ایک سوپھے پر بیٹھ گئے۔ میںنے ایک ہاتھ سے اُسکے سر کو پکڑا اؤر اَپنے ہوںٹھ اُسکے ہوںٹوں پر رکھ دِئے اؤر چُوسنے لگا ۔ کسم سے اُسکے ہوںٹھ اِتنے رسیلے تھے کِ جیسے کوئی لالیپوپ۔

شبنم نے اَپنی آںکھوں کو بںد کر لِیا تھا۔ لگبھگ دس مِنٹ تک میں اُسکے ہوںٹوں کو چُوستا رہا۔ پھِر میںنے اُسکے کپڑے اُتارنا شُرُو کر دِیا۔ اَب وو بِلکُل نںگی تھی اؤر آںکھیں نیچے کِیے کھڑی تھی۔ اُسکی بڑی بڑی چُچِیوں کو دیکھ میں پاگل ہُآ جا رہا تھا۔ میںنے پہلی بار کِسی کی نںگی چُوچِیاں دیکھی تھی۔ میں کِسی بچّے کی ترہ اُسکی چُچِیوں کو چُوسنے لگا تھا۔ کبھی مسل رہا تھا اؤر شبنم اَپنی ہوںٹھوں کو داںتوں سے دبایے سِسکاری لے رہی تھی۔

میںنے اُسے سوپھے پے لِٹایا اؤر اَپنے کپڑے بھی اُتار دِئے۔ میرا لںڈ بِلکُل کھڑا ہو چُکا تھا۔ میںنے اُسکے پیروں کو تھوڑا پھیلایا اؤر لںڈ کے اَگلے موٹے بھاگ کو اُسکی جھاںٹ سے بھری چُوت پر رکھ کر ایک جور کا دھکّا دِیا۔ میرا لںڈ آدھے تک اَندر گھُس گیا۔

شبنم کے مُںہ سے ایک دبی دبی سی سِسکاری نِکلی اؤر اُسنے سوپھے کو کس کر پکڑ لِیا۔ میںنے لںڈ کو دھیرے دھیرے اَندر باہر کرنا شُرُو کِیا اؤر ایک جوردار دھکّا پھِر دِیا اؤر شبنم کے مُںہ سے چیکھ سی نِکل گئی۔ میں اَب تیجی سے دھکّے لگا رہا تھا اؤر شبنم بھی چُوتڑ اُچھال اُچھال کر میرا ساتھ دے رہی تھی اؤر اُسکے مُںہ سے لگاتار اوہ۔ّ۔اوہ۔ّ۔ّ۔آ اَ اَ اَ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّاِئیئیئی ۔۔ّ۔ّ۔ّ۔ کی آوازیں آ رہی تھی۔

میںنے اُسے کریب دس مِنٹ تک چودا اؤر پھِر اُسکی چُوت میں ہی جھڑ گیا۔ اُسکی چُوت سے بھی کاپھی پانی نِکلا۔ تھوڑی دیر تک ہم یُوں ہی چُوت میں لںڈ ڈال کر پڑے رہے۔ پھِر اُٹھ کر ہم ساتھ ساتھ باتھرُوم گئے۔ باتھرُوم سے آنے کے باد ہمنے اَپنے کپڑے پہنے اؤر پھِر شبنم اَپنے گھر چلی گئی اؤر میں اَپنے پہلے سیکس سمبندھ کے بارے میں سوچ سوچ کر روماںچِت ہو رہا تھا۔

By Taha Gondal with No comments

0 comments:

Post a Comment

EMail : PkMasti@aol.com
Yahoo : Jan3y.J4na@yahoo.com

    • Popular
    • Categories
    • Archives