Monday, January 10, 2011

چاچی کی پیاس

آج میں ایک اَسلی کہانی سُنانے جا رہا ہُوں۔ یہ گھٹنا میرے ساتھ 1 سال پہلے گھٹی تھی جب میری اُمر 21 سال تھی۔ دراَسل بات میرے بھئیّا کی شادی سے شُرُو ہوتی ہے جو کِ جبلپُر میں تھی۔ ویسے تو میں بھوپال شہر کا رہنے والا ہُوں۔ پر اَپنے بھائی کی شادی ہونے کی وجہ سے میں جبلپُر گیا تھا جہاں ہمارے سارے رِشتیدار آئے تھے۔ جِنمیں سے ایک تھی سپنا چاچی۔ ویسے تو وو میری دُور کی رِشتیدار تھی پر اُنکے ساتھ میں گھُل مِل گیا تھا۔

وو دِلّی کی رہنے والی تھی، پر اُنکے پتِ کا دیہاںت کئی سالوں پہلے ہو ہو چُکا تھا۔ سپنا چاچی کی اُمر کریب 30-32 سال ہے ۔ پر دیکھنے میں وو بلا سی کھُوبسُورت ہیں۔ اُنکا جِسم دیکھ کے سارے شریر میں کںپکپی ہونے لگتی ہے۔ اُنکا پھِگر 36-24-36 ہے۔ اؤر وو ہمیشا تھوڑا پتلے کپڑے کا بلاُّز پہنتی ہیں جِسمیں سے اُنکی برا ساف ساف دِکھتی تھی۔

شادی کو اَبھی 2 دِن باکی تھے اؤر گھر میں بھیڑ ہونے کی وجہ سے کُچھ لوگوں نے تے کِیا کِ وو چھت پے سویّںگے۔ اُن لوگوں میں سے میں بھی ایک تھا۔ چھت پے ہم سِرف 6 لوگ سو رہے تھے۔ جب رات کے 2 بجے میری نیںد کھُلی اؤر میں دُوسری ترف پیشاب کرنے گیا تو میںنے پایا کِ وہاں پلںگ پے کوئی اؤرت سوئی ہُئی تھی جِسکا پیٹیکوٹ اُسکے گھُٹنے کے اُوپر تک آ گیا تھا۔ اُسکو دیکھتے ہی میرا لںڈ کھڑا ہو گیا اؤر میں خُد کو اُس اؤرت کے پاس جانے سے روک نہیں سکا۔ جب میں اُسکے نجدیک پہُںچا تو پایا کِ وو کوئی اؤر نہیں بلکِ سپنا چاچی تھی۔ اُنکو دیکھتے ہی میرا لںڈ میرے پایجامے میں سے باہر آنے لگا تھا۔ میںنے پھیسلا کر لِیا تھا کِ آج تو میں اِنکے بدن کو چھُو کے ہی رہُوںگا۔

میں سبکو دیکھ کر آیا کِ کہیں کوئی اُٹھا تو نہیں ہے۔ پر سب گہری نیںد میں سو رہے تھے۔ شاید سپنا چاچی بھی گہری نیںد میں سو رہی تھی تو میری ہِمّت اؤر بڑھ گئی اؤر میں اُنکے پلںگ کے باجُو میں جاکر بیٹھ گیا اؤر دھیرے دھیرے اُنکے پیٹیکوٹ کو اُوپر کی ترف سرکانے لگا۔ تھوڑی ہی دیر میں اُنکا پیٹیکوٹ بِلکُل اُوپر تک آ چُکا تھا۔ شاید ووہ چڈّی نہی پہنتی تھیں، جِس کارن اُنکی چُوت مُجھے ساف ساف دِکھائی دے رہی تھی جِس پر ہلکے سے بال تھے۔

اُنکی چُوت دیکھکر مُجھسے رہا نہیں گیا اؤر میںنے اُنکی جاںگھ پے دھیرے دھیرے ہاتھ پھیرنا شُرُو کر دِیا اؤر اُنکے جِسم کے بھی روںگٹے کھڑے ہو گئے تھے، تھوڑی ہی دیر میں اُنہوںنے کروٹ لے لی اؤر اَب اُنکی چُوت کے درشن مُجھکو ساف تریکے سے ہونے لگے تھے۔ تو میںنے بھی دیر نا کرتے ہُئے اُنکے گڈّھے میں اَپنی ایک اُوںگلی ڈالنا شُرُو کر دی پر اُنکی چُوت بہُت ہی ٹائیٹ تھی جِس وجہ سے میں اؤر پاگل ہو چُکا تھا اؤر تھوڑی دیر میں میںنے ایک اُوںگلی سے دو اُںگلِیاں اُنکی چُوت میں اَندر باہر کرنا شُرُو کر دی۔

میں اِتنا جوش میں آ چُکا تھا کِ میں چاچی کے اُوپر چڑھ گیا اؤر اُنکی چُوچی کو دبانے لگا اُوپر سے ہی۔ پر تب تک وو جاگ چُکی تھی۔ اُنکی آںکھ کھُلی دیکھکر میں ایکدم ڈر سا گیا، چاچی نے مُجھے ایک چاںٹا لگایا اؤر فِر رونے لگی اؤر مُجھسے چِپک گئی، مُجھے بھی ایک دم سے کُچھ سمجھ نہیں آیا تھا پر اُنکے بدن کی گرمی سے میں پاگل ہو گیا اؤر اُنکے ہوںٹھو کو میںنے چُومنا شُرُو کر دِیا۔ دھیرے دھیرے اُنکے دُودھ دبانے لگا اؤر وو بھی میرا برابری سے ساتھ دینے لگی جِسّے ہمارے بیچ سیکس کا مزا دوگُنا ہو گیا۔

اَب میںنے پیٹیکوٹ کو ہٹا دِیا اؤر اُنکی چُوت پر اَپنا مُںہ رکھ دِیا جِسّے چاچی پریشان ہو گئی اؤر چُدنے کے لِئے اَپنی چُوت کو اُچھالنے لگی۔ میں کھیر کو دھیرے دھیرے کھانا چاہتا تھا، اِس وجہ سے میںنے اُنکے چھید میں اَپنی جیبھ ڈال کے اَندر باہر کرنا شُرُو کر دی اؤر اُنکے جھڑنے کا اِںتزار کرنے لگا۔

جیسے ہی چاچی جھڑنے والی تھی میںنے سب کُچھ ایکدم سے روک دِیا جِس وجہ سے چاچی جھڑ نہیں پائی اؤر وو اؤر بھی جیادا گرم ہو گئی اؤر مُجھسے کہنے لگی کِ آج تک اِتنا سُکھد اَنُبھو اُسکو کبھی نہیں ہُآ، اُسکے پتِ کے جانے کے باد سے وو پیاسی تھی، آج میں اُسکی پیاس بُجھاُّوں۔

میںنے بھی دیری نا کرتے ہُئے اَپنے 9 اِںچ کا لںڈ چاچی کے ہاتھ میں دے دِیا اؤر چاچی نے بھی بُدّھِمانی دِکھاتے ہُئے میرے لںڈ کو اَپنے مُںہ میں لے لِیا اؤر اُسے چُوسنا شُرُو کر دِیا اؤر جب میری جھڑنے کی باری آئی تو چاچی نے سب روک دِیا جیسا کِ میںنے اُنکے ساتھ کِیا تھا۔

اَب باری تھی اَسلی مزا کرنے کی۔ میںنے چاچی کے چھید کے اُوپر اَپنا سُپاڑا رکھا اؤر تھوڑا سا دھکّا لگایا اؤر کُچھ ہی دیر میں میرا لںڈ اُنکی چُوت میں سماں چُکا تھا فِر میںنے اَپنی سپیڈ بڑھا دی اؤر اَندر باہر کرنے لگا۔ فِر تھوڑی دیر کے لِئے چاچی میرے اُوپر آئی اؤر اَپنے دُودھ میرے مُںہ کے سامنے رکھ دِئے تو میںنے بھی اُسکی چُچِیوں کو اَپنے داںتوں میں رکھ کے دھیرے دھیرے دبانا شُرُو کر دِیا اؤر اَندر سے اُس پے جیبھ پھیرنا بھی شُرُو کر دِیا۔

چاچی اَب پاگلوں کی ترہ میرے پُورے بدن پے ہاتھ پھیرنے لگی تھی اؤر فِر باری آئی چاچی کو نِڈھال کرنے کی۔ تو اَب میںنے چاچی کو اَپنے اُوپر چڑھایا اؤر دھیرے دھیرے اُسے اُوپر نیچے ہونے کے لِئے کہا۔ اؤر چاچی بھی ایکسپرٹ تھی جیسا کہا بِلکُل ویسا ہی کرتی رہی اؤر کُچھ ہی دیر میں ہم دونوں ساتھ جھڑ گئے اؤر ایک دُوسرے کی باہوں میں کریب 30 مِنٹ تک لِپٹے رہے اؤر میرا پُورا ویرے چاچی کی چُوت میں ہی تھا۔ اَب سُبہ ہونے کو تھی تو میں اَپنے بِستر پے چلا گیا۔

اُسکے باد مُجھکو چاچی کے ساتھ سیکس کرنے کا مؤکا نہیں مِل پایا۔ پر ہماری بات ہوتی رہتی ہے اؤر وو میرے ساتھ اؤر سیکس کرنا چاہتی ہیں۔

اَب میں جُون میں دِلّی جاُّوںگا تب چاچی کو اَپنا اؤر کرِشما دِکھاُّوںگا۔

By Taha Gondal with No comments

0 comments:

Post a Comment

EMail : PkMasti@aol.com
Yahoo : Jan3y.J4na@yahoo.com

    • Popular
    • Categories
    • Archives