Monday, January 10, 2011

سیکسی کزن کی مست چودائی

میرا نام وِجے ہے۔ میں دوِتیے ورش کا چھاتر ہُوں۔ میں آپکو جو کہانی بتانے جا رہا ہُوں وہ گت ورش گریشمکال کی ہے۔

میں گرمی کی چھُٹِّیوں میں مُمبئی گیا تھا۔ مُمبئی میں میری چاچی رہتی ہیں۔ وہ وہاں پر چیمبُر میں رہتی ہیں۔ میں جب مُمبئی گیا تھا تب چاچی کے پاس میری چچیری بہن بھی آئی ہُئی تھی۔ اُسکا نام رینا ہے۔ اُسکی شادی ہو چُکی ہے۔ اُسکی اُمر 24 ورش کی ہے۔ وو دِکھنے میں بہُت ہی سیکسی ہے۔ اُسکے کپڑے پہنّے کے ڈھںگ اؤر رہن-سہن بھی بہُت سیکسی ہیں۔ اُسے کوئی بھی دیکھے تو اُسکا لنڈ کھڑا ہونا ہی ہونا ہے۔

ایک دِن چاچی کو گاںو جانا پڑا۔ وہ گاںو چلی گئی۔ گھر پر میں اؤر رینا دیدی، دونوں ہی تھے۔ اُس دِن شام کو میں بور ہو گیا تھا، اِسلِئے میںنے دیدی سے کہا، "کیوں نا پھِلم دیکھنے چلتے ہیں۔" وہ بھی راجی ہو گئی، اؤر ہم پھِلم دیکھنے چلے گئے۔ اُس دِن ہمنے مرڈر پھِلم دیکھی۔ پھِلم میں کاپھی گرم درشے تھے۔ پھِلم دیکھنے کے باد ہم گھر آئے۔ ہمنے رات کا کھانا کھایا۔ رات کافی ہو چُکی تھی۔

آپکو تو پتا ہی ہوگا، مُمبئی میں گھر بہُت چھوٹے ہوتے ہیں۔ اُسپر میری چاچی ایک کمرے کے گھر میں رہتی ہیں۔ وہاں سِرپھ ایک ہی بِستر کے باد، تھوڑی اؤر جگہ بچتی تھی۔ اَب ہمیں سونا تھا۔ سو میںنے اَپنی لُںگی لی، ا
Align Rightؤر دیدی کے سامنے ہی اَپنے کپڑے بدلنے لگا۔ میںنے میری شرٹ کھولی، باد میں پینٹ بھی۔ میرے سامنے اَب بھی مرڈر پھِلم کے درشے گھُوم رہے تھے، اِسلِئے میرے لںڈ کھڑا تھا۔ وو اَنڈروِیر میں تمبُو بنا رہا تھا۔ میرے پینٹ نِکالنے کے باد میرے لنڈ کی ترف دیدی کی نزر گئی، وہ یہ دیکھکر مُسکُرائی۔ میںنے نیچے دیکھا تو میرے اَنڈروِیر میں بہُت بڑا ٹینٹ بنا ہُآ تھا۔ میں شرمایا اؤر میںنے میرا مُںہ دُوسری اور گھُما لِیا، پھِر لُںگی باںدھ لی۔

پر لُںگی کے باوزُود میرے لںڈ کا آکار نزر آ رہا تھا۔ اُس ہالت میں میں کُچھ بھی نہیں کر سکتا تھا۔ پھِر میںنے یہ بھی سوچا کِ دیدی یہ سب دیکھکر مُسکُرا رہی ہے، اُسے شرم نہیں آ رہی ہے، تو پھِر میں کیوں شرماُّوں؟

میں بِستر پر جاکر سو گیا۔ پھِر دیدی نے آلماری سے اَپنی نائیٹی نِکالی اؤر کمرے کا دروازا بند کر لِیا، اؤر اُسنے اُسکی ساڑی اُتاری۔ واُّو۔ّ۔ کیا بد़ن تھا۔ وہ دیکھکر تو میں پاگل ہی ہو گیا اؤر میرا لںڈ اُچھال مارنے لگا۔ اُسنے اَپنی بلاُّوز نِکالی اؤر باد میں اَپنی پیٹیکوٹ بھی نِکال دی۔ وہ میرے سامنے سِرپھ برا اؤر پینٹی میں کھڑی تھی۔ اُسے اُس ہالت میں دیکھکر تو میں پاگل ہی ہو رہا تھا۔ لیکِن وہ میری دیدی تھی، اِسلِئے نِیںترن کر رہا تھا۔ مُجھے ڈر بھی لگ رہا تھا کِ میں کُچھ کر نا بیٹھُوں اؤر دیدی کو گُسّا آ گیا تو میری تو شامت آ جاّیگی۔ اُسنے نائیٹی پہن لی۔ اُسکی نائیٹی پاردرشی تھی، جِسمیں سے اُسکا سارا جِسم نزر آ رہا تھا۔

وہ میرے پاس آکر سو گئی۔ ہم دونوں ایک ہی بِستر پر سوئے تھے۔ لیکِن اُس رات مُجھے نیںد نہیں آ رہی تھی۔ میرے سامنے اُسکا نںگا جِسم گھُوم رہا تھا۔ اؤر اُسکے میرے پاس سونے کے کارن میرا تناو اؤر بڑھا ہُآ تھا۔ لیکِن کُچھ کرنے کی ہِمّت بھی نہیں ہو رہی تھی۔

آدھے گھںٹے تک تو میں ویسے ہی تڑپتا رہا۔ لیکِن باد میں میںنے سوچا کِ ایسا مؤقا بار-بار نہیں آنے والا۔ اَگر تُونے کُچھ نہیں کِیا تو ہاتھ سے نِکل جاّیگا۔ میںنے سوچ لِیا تھوڑا رِسک لینے میں کیا ہرز ہے۔ اؤر میں تھوڑا سا دیدی کی اور سرک گیا۔ دیدی میری وِپریت دِشا میں مُںہ کرکے سوئی تھی۔ میںنے میرا ہاتھ اُنکے بدن پر ڈالا۔ میرا ہاتھ دیدی کے پیٹ پر تھا۔ میںنے دھیرے-دھیرے میرا ہاتھ اُنکے پیٹ پر گھُمانا چالُو کِیا۔ تھوڑی دیر باد میںنے میرا ہاتھ اُنکی چُوچِیوں پر رکھا۔ اُسکی چُوچِیاں کافی بڑی اؤر نرم تھیں۔ میںنے اُسکی چُوچِیاں دھیرے-دھیرے دبانی چالُو کیں۔ اُسنے کُچھ بھی نہیں کہا، نا ہی کوئی ہرقت کی۔ میری ہِمّت کافی بڑھ گئی۔ میںنے اَپنے لںڈ کو اُسکے چُوتڑ پر دبایا اؤر اُسے اَپنی اور کھیںچا اؤر پھِر دھیرے-دھیرے میں اَپنا لںڈ اُسکے دونوں چُوتڑوں کے بیچ کی درار میں دبانے لگا۔ وہ میری اور گھُوم گئی۔ میری تو ڈر کے مارے گاںڑ ہی پھٹ گئی۔

لیکِن وہ بھی میری اور سرکی، تو میرا لںڈ اُسکی چُوت پر دب رہا تھا اؤر اُسکی چُوچِیاں میری چھاتی پر۔ میں سمجھ گیا کِ وہ سو نہیں رہی تھی، بس سونے کا ناٹک کر رہی تھی اؤر وہ بھی چُدوانا چاہتی ہے۔ اَب تو میرے جوش کی کوئی سیما ہی نہیں تھی۔ میںنے اُسے میری اور پھِر سے کھیںچا، تو وہ مُجھسے تھوڑا دُور سرک گئی۔ میں ڈر گیا، اؤر چُپچاپ ویسے ہی پڑا رہا۔

تھوڑی ہی دیر باد اُسنے اَپنا ہاتھ میرے لںڈ پر رکھ دِیا اؤر مسلنے لگی۔ میں بہُت کھُش ہُآ۔ اُسنے اَپنے ہاتھوں سے میری لُںگی نِکال دی اؤر اَنڈروِیر بھی، اؤر میرے لںڈ کو مسلنے لگی۔ پھِر اُسنے میرے کان میں کہا، "ویجُو، تُمہارا لںڈ تو بہُت بڑا ہے۔ تُمہارے جیجُو کا تو بہُت چھوٹا ہے۔"

میںنے بھی دیدی کی نائیٹی نِکال دی اؤر اُنکو پُورا نںگا کر دِیا۔ پھِر میں اُنکے اُوپر سوکر اُنہیں چُومنے لگا۔ میں اُنکے پُورے بدن کو چُوم رہا تھا۔ وہ سِسکِیاں بھر رہی تھی۔ میں اُسے چُومتے-چُومتے اُسکی چُوت تک چلا گیا اؤر اُسکی چُوت پر اَپنے ہوںٹھ رکھ دِئے۔ اُسکے مُںہ سے سیتکار نِکل گئی۔ پھِر میںنے اُسکی چُوت میں اَپنی جیبھ ڈالنی شُرُ کی، وہ اَپنی چُوتڑ اُٹھاکر مُجھے پرتِکرِیا دے رہی تھی۔

میرا لںڈ اَب لوہے جیسا گرم ہو گیا تھا۔ میں اُٹھا اؤر اُسکی چھاتی پر بیٹھ گیا اؤر میںنے میرا لںڈ اُسکے مُںہ میں ڈال دِیا۔ وہ بھی میرا لںڈ بڑے مزے سے چُوسنے لگی۔ مُجھے بہُت مزا آ رہا تھا۔ میںنے باد میں میرا لنڈ اُسکی دونوں چُوچِیوں کے بیچ میں ڈالا اؤر اُسے آگے-پیچھے کرنے لگا۔ واُّو۔ّ۔ کیا چُوچِیاں تھیں اُسکی، میں تو پاگل ہُآ جا رہا تھا۔ تھوڑی دیر باد اُسنے کہا، "ویجُو، پلیز اَب رہا نہیں جاتا، تُمہارا لںڈ میری چُوت میں ڈال دو، اؤر مُجھے چودو۔" میں اُسکے اُوپر پھِر سے سو گیا اؤر میںنے میرا لںڈ ہاتھ میں پکڑ کر اُسکی چُوت کے اُوپر رکا اؤر ایک زور کا جھٹکا دِیا تو میرا آدھا لنڈ اُسکی چُوت میں گھُس گیا۔ میںنے دیدی سے پُوچھا، "دیدی، تُم تو کہ رہی تھی کِ جیجُو کا لنڈ میرے لنڈ سے کاپھی چھوٹا ہے، تو تُمہاری چُوت اِتنی ڈھیلی؟ ایک ہی جھٹکے میں آدھا لنڈ اَندر چلا گیا۔"

اِسپر وہ مُسکُرائی اؤر بولی، "اَرے ویجُو، تُمہارے جیجُو کا لنڈ چھوٹا تو ہے، پر میری چُوت نے اَب تک بہُت سے لنڈ کا پانی چکھا ہے۔"

پھِر میںنے دُوسرا جھٹکا دِیا اؤر میرا پُورا لنڈ اُسکی چُوت میں چلا گیا۔ پھِر میںنے اُسکی چُدائی شُرُ کر دی۔ وہ بھی اَپنی کمر اُٹھاکر میرا ساتھ دے رہی تھی۔ اُسکے مُںہ سے آوازیں نِکل رہیں تھیں۔ وہ کہ رہی تی، "ویجُو۔ّ۔ چودواواواو۔ّ۔ اؤر زور سے چودواواواواو۔ّ۔ اَپنی دیدی کی چُوت آج پھاآّآڑ ڈالو۔ّ۔ اوہ۔۔ ویجُو۔ّ۔ ڈالو اؤر زور سے اؤر اَندر ڈالو۔ّ۔ بہُت مزا آ رہا ہے۔"

اُسکی یے باتیں سُنکر میرا جوش اؤر بھی بڑھ جاتا اؤر میری رفتار بھی بڑھتی جا رہی تھی۔ پھِر میں جھڑ گیا اؤر ویسے ہی اُسکے بدن پر سو گیا اؤر اُسکی چُوچِیوں کے ساتھ کھیلنے لگا۔ اُس رات میںنے دیدی کی خُوب چُدائی کی۔

یہ میری پہلی کہانی ہے، آپکو کیسی لگی، کرپیا میل بھیجکر بتاّیں۔

By Taha Gondal with No comments

0 comments:

Post a Comment

EMail : PkMasti@aol.com
Yahoo : Jan3y.J4na@yahoo.com

    • Popular
    • Categories
    • Archives