Monday, January 16, 2012

پیاسی ہے چُوت تُمہارے لنڈ کے لِئے


دوستو، آج میں اَپنی کہانی آپ کو پہلی بار لِکھ رہا ہُوں۔ اُمّید کرتا ہُوں کِ یہ کہانی آپ کو اَچّھی لگیگی کیوںکِ میری یہ کہانی کہانی ن ہو کرکے ایک اَسلِیت ہے جو میرے ساتھ گھٹِت ہُئی ہے۔
میرا نام آشیش ہے ۔ میں ایک مدھیم پرِوار کا شادیشُدا مرد ہُوں، میرا بھی من کرتا تھا کِ میں بھی کِسی کے ساتھ سمبھوگ کرُں۔ کوئی ایسی لڑکی مِل جایے جو مُجھے پیار کرے، جِسکے ساتھ میں کھُل کر باتیں کر سکُوں اؤر اَپنے من کی بات کہ سکُوں۔
دوستو اؤر سہیلِیو، اَب آپ میری کہانی سُنِئے :
میں ایک بہُت ہی شریپھ لڑکا تھا، میری شادی کو بارہ سال ہو چُکے تھے۔ میںنے اَپنی پتنی کے اَلاوا اؤر کِسی بھی لڑکی کی ترپھ کبھی آںکھ اُٹھا کرکے بھی نہیں دیکھا تھا۔ کریب گیارہ سال کے باد میری بھی اِچّھا ہُئی کِ میری بھی کوئی دوست ہوتی جِسے میں بھی آرام سے چود سکتا اؤر وو مُجھسے چُدائی کروا کے کھُش ہو جاتی۔
میری دوستی ایک لڑکی سے ہُئی جو کِ میری ہم-پیشا ہے۔ میں اُسکا نام نہیں بتا سکتا (کرپیا مُجھے ماف کریں) ہم لوگ کریب سال بھر بات ہی کرتے رہے، ن میںنے پہل کی اؤر ن ہی اُسنے کبھی کہا کِ اُسکا من مُجھسے مِلنے کو کر رہا ہے۔
وو بھی شادیشُدا ہے اؤر میں بھی !
ہمیں اَپنی جِمّیداری کا اَہساس بھی ہے، پر پِچھلے سال اَچانک اُسنے مُجھ سے کہا کِ وو مُجھسے اَکیلے میں مِلنا چاہتی ہے۔ میں تو پہلے سے ہی تیّار تھا پر ڈرتا تھا کِ کہیں وو گُسّا ن ہو جایے۔ اُسکے کہنے پر تو جیسے مُجھے من ماںگی مُراد ہی مِل گئی ہو۔
میںنے تُںرت اُسے فون کرکے پُوچھا- بتاّو کہاں چلیں؟
تو اُسنے کہا- جہاں آپکو اَچّھا لگے، وہیں چلتے ہیں، لیکِن جلدی واپِس آنا ہوگا !
میںنے کہا- ٹھیک ہے !
میںنے تُںرت اَپنی کار نِکالی، اُسے جہاں اُسنے کہا تھا، وہاں سے لِیا اؤر چل پڑے ! میں کبھی باہر نہیں گیا تھا، میںنے اَپنے ایک دوست کو فون کِیا (جو ہر ہپھتے اَپنی گرل پھریںڈ کو لیکر جاتا ہے ) اؤر اُسے کہا کِ میرے لِئے ایک کمرا بُک کروا دو !
اُسنے ہوٹل میں فون کِیا، اُسکے دو مِنٹ باد ہی ہم وہاں پہُںچ گئے اؤر مینیجر سے بات کرکے کمرے میں چلے گئے۔ کمرے میں جاتے ہی ہمنے اَندر سے بںد کر لِیا اؤر جور سے جپھپھی ڈالی جیسے دو ساتھی جنم-جنم سے بِچھڈے پتا نہیں کِتنی دیر باد مِلے ہوں !
اِسکے باد ہم دونوں نے آپس میں مُںہ میں مُںہ ڈال کر کِس کِیا اؤر جانے کب تک کرتے رہے۔
فِر اُسنے میرے کپڑے اُتارے اؤر میرے لنڈ کو مُںہ میں لے لِیا۔ میں تو سوچ بھی نہیں سکتا تھا کِ وو مُجھے اِس ترہ کا مزا دیگی۔ اُسنے میرے پُورے کے پُورے لنڈ کو اَپنے مُںہ میں بھر لِیا۔ مُجھے تو بس کُچھ مت پُوچھو کِ کِتنا مزا آیا ! بتا ہی نہیں سکتا !
تھوڑی دیر چُوسنے کے باد اُسنے اَپنی چُوت کی ترپھ اِشارا کرکے کہا- اَب اَپنا لنڈ اِسمیں ڈالو ! پتا نہیں کب سے پیاسی ہے یہ تُمہارے لنڈ کے لِئے !
میںنے اُسے سیدھا لِٹایا اؤر اُسکی چُوت پر لنڈ رکھا اؤر اَندر ڈالنے لگا تو ایسے لگا تھوڑی ٹائیٹ ہے، میںنے اُسّے پُوچھا- کیا بات ہے؟ چُوت بہُت ٹائیٹ ہے؟ (اُسکے دو بچّے ہیں)
تو اُسنے کہا- بہُت دِنوں سے پیاسی ہے چُوت تُمہارے لنڈ کے لِئے ! جلدی ڈالو ! لیکِن آرام سے ! نہیں تو درد ہوگا !
میرے پُوچھنے پر اُسنے بتایا کِ اُسکا پتِ اُسے سںتُشٹ نہیں کر پاتا اِسلِئے اُسے میرے لنڈ کی بہُت جرُرت ہے۔ میںنے اَپنے لنڈ کو اُسکی چُوت میں ڈالا۔ میرا لنڈ بہُت ہی ٹائیٹ جا رہا تھا اُسکی چُوت میں ! میرا لنڈ 7″ کا ہے اؤر 3″ موٹا ہے،
اُسنے کہا- تُمہارا تو بہُت موٹا ہے !
تو میںنے کہا- کوئی بات نہیں ! تُمہارے اَندر پھِٹ ہو جایّگا !
میںنے جیسے ہی اُسکی چُوت میں اَپنا لنڈ ڈالا، وو چِلّانے لگی- تھوڑا آرام سے کرو ن ! بہُت درد ہو رہا ہے !
میںنے کہا- کوئی بات نہیں میری جان ! چِںتا مت کرو ! سب ٹھیک ہو جایّگا !
اؤر اُسکے ہوںٹھ چُوسنے لگا۔ تھوڑی دیر لنڈ اُسکی چُوت میں رہا تو وو کہنے لگی- اَب کرو ن پلیز !
تو میںنے اُسّے پُوچھا- اَب درد کیسا ہے؟
تو اُسنے کہا- پلیز جلدی کرو ! میری چُوت کو پھاڑ ڈالو ! جلدی کرو ! میری چُوت کو مسل ڈالو !
تو میںنے اَپنا کام شُرُو کر دِیا۔ تھوڑی دیر میں ہی وو جھڑ گئی لیکِن میرا اَبھی تک نہیں ہُآ تھا۔ (دوستوں میں آپ کو بات بتا دُوں کِ میرا تب تک نہیں ہوتا جب تک میں نہیں چاہتا، یہ میرا اَنُبھو ہے)
پھِر میںنے اُسے جور-جور سے چودنا شُرُو کر دِیا۔
وو بولی- آپ بہُت جور سے کرتے ہو اؤر بہُت جیادا کرتے ہو ! کیا کھاتے ہو ؟
تو میںنے کہا- میں تو سِرپھ دُودھ ہی پیتا ہُوں ! اؤر وو بھی دو تھن والی گؤ کا !
وو بولی- دھتت ! بیشرم ! چلو اَب جلدی کرو !
مُجھے بھی جلدی تھی کیوںکِ اِس بیچ میرے پاس دو تین فون آ گئے تھے کِ کہاں ہو ؟
تو میںنے جلدی-جلدی جوردار شاٹ لگایے اؤر 40-50 شاٹ لگا کے میں بھی جھڑ گیا۔ میںنے اَپنا سارا رس اُسکی چُوت میں ہی ڈال دِیا اؤر 5 مِنٹ اُسکے اُوپر ہی لیٹا رہا۔ میں پسینے سے نہا گیا تھا۔ اُسنے میرے بدن سے پسینا پؤںچھا اؤر کھڑی ہو گئی۔
میںنے اُسّے پُوچھا- کیسے لگا؟
تو اُسنے کہا- آپ بہُت جور سے کرتے ہو اؤر بہُت سمے لگاتے ہو !
میںنے پُوچھا- مزا آیا یا نہیں ؟
تو اُسنے کہا- مزا تو بہُت آیا ! میں پُوری تُمہاری ہو گئی ہُوں۔
اَب تک ہم بہُت بار مِل چُکے ہیں، ایک دو بار وو گربھوتی بھی ہو گئی تو اُسنے وو گربھ گِرا دِیا کیوںکِ وو اؤر بچّا نہیں چاہتی تھی اؤر ن ہی میں چاہتا تھا۔ اَب ہم جب بھی مِلتے ہیں تو کںڈوم اِستیمال کرتے ہیں تاکِ کوئی کھترا ن رہے۔
ایک بات میں آپ کو بتا دُوں یہ کوئی کہانی نہیں، میری لو سٹوری ہے۔ دُوسری بار کُچھ لِکھ پاُّوںگا یا نہیں یہ سب آپکے جواب آنے پر ! 
EMail : PkMasti@aol.com
Yahoo : Jan3y.J4na@yahoo.com

By Taha Gondal with No comments

0 comments:

Post a Comment

EMail : PkMasti@aol.com
Yahoo : Jan3y.J4na@yahoo.com

    • Popular
    • Categories
    • Archives