Thursday, November 3, 2011

لنڈ کی پیاسی دیدی کی چدائی

رکشابںدھن یا سُہاگراتپریشک : پرمود سِںہمیری دیدی کا نام نیتُو ہے، وو مُجھسے تین سال بڑی ہے، اُنکا رںگ گورا چِٹّا ہے اؤر ہاں اُنکے ہوںٹوں کے نیچے ایک کالا تِل ہے، جِسکی وجہ سے وو بہُت سیکسی لگتی ہے! اُنکی شادی ایک اَنِواسی بھارتیے لڑکے سے یانِ کِ میرے جیجا جی سے ہو گئی، جو کِ دُبئی میں نؤکری کرتے ہیں !

دیدی اُنہیں کے ساتھ رہتی ہے۔ ویسے تو وو دونوں بہُت کھُش رہتے ہیں مگر شادی کے دو سال گُجر جانے کے باد بھی اُنکی کوئی اؤلاد ن ہونے سے دیدی اُداس سی رہتی ہے!میرا نام راج ہے میں بھی ایک اَنِواسی بھارتیے ہُوں اؤر کناڈا میں ایک کمپنی میں جاب کرتا ہُوں۔ یہاں آنے سے پہلے میرے ماں-باپ کا سورگواس ہو گیا تھا اِسلِئے دیدی، جیجاجی کے سِوا میرا اؤر کوئی نہیں ہے!ایک دِن میں اَپنے جیجا جی کے ساتھ فون پر بات کر رہا تھا تو باتوں ہی باتوں میں میںنے جیجا جی کو دیدی کے ساتھ اَپنے پاس گھُومنے آنے کا نِمںترن دے دِیا۔ تبھی جیجاجی نے یہ کہ کر ٹال دِیا کِ اُنکو اَبھی چھُٹّی نہیں مِل سکتی، اُن پر کمپنی کے کام کا بہُت بھار ہے۔تھوڑا رُکنے کے باد جیجا جی نے کہا- میں کُچھ دِنوں کے لِئے تیری دیدی کو تیرے پاس بھیج دیتا ہُوں، اُسکی نؤکری بھی چھُٹ گئی ہے، سارے دِن بھر گھر میں بور ہو جاتی ہے، وو پہلے سے کاپھی اُداس سی رہنے لگی ہے، کُچھ دِن پہلے تُجھے ہی یاد کر رہی تھی، شاید وو تُجھکو دیکھنا-مِلنا چاہتی ہے۔ ویسے بھی راکھی کا تیؤہار نجدیک آ رہا ہے، دونوں بھائی-بہن مِل بھی لینا اؤر اُسکو کہیں گھُما بھی دینا، شاید اِسی بہانے اُسکا من ہی بہل جائے !

میںنے کہا- ٹھیک ہے جیجا جی ! جیسا آپ کہیں !اؤر کُچھ دِن باد وو دِن بھی آ گیا جب دیدی میرے پاس آنے کے لِئے دُبئی سے روانا ہُئی۔ میں بھی دیدی کو لینے کے لِئے ٹھیک سمے پر ایّرپورٹ پہُںچ چُکا تھا۔ کُچھ سمے باد دیدی کی پھلائیٹ لینڈ ہونے کی گھوشنا ہُئی۔ میںنے اَپنی آںکھیں ایگجِٹ-گیٹ پر جما دی۔کُچھ سمے باد میںنے دیدی کو لوگوں کے ساتھ باہر آتے دیکھا تو میں دیدی کو دیکھتا ہی رہ گیا۔ سچ کیا لگ رہی تھی دیدی ! میںنے کبھی بھی دیدی کو اِس رُوپ میں نہیں دیکھا تھا۔ اُنہوںنے اُوںچی ایڑی کی سیںڈل پہنی ہُئی تھی اؤر کالے رںگ کی پھیںسی ساڑی اؤر ہاپھ کٹ والا بلیک بلاُّز پہنا ہُآ تھا۔ بلاُّز کا گلا کاپھی کھُلا اؤر بڑا ہونے سے اُنکے آدھے نںگے ستن اُوپر سے ساپھ دِکھائی دے رہے تھے۔ اُنکے وکش کے اُوپر ایک کالا تِل تھا جو اَلگ ہی چمک رہا تھا جیسے دُودھ میں مکّھی !تبھی دیدی کی نزر مُجھ پر پڑی تو میںنے ہاتھ ہِلا کر اُنکو اَپنے ہونے کا اِشارا کِیا اؤر دیدی نے ایک ہلکی سی مُسکان دیکر میری اور بڑھی اؤر میرے نجدیک آکر میرے گلے لگنے لگی۔

میںنے بھی موکے کا فایدا اُٹھایا اؤر دیدی کی نںگی گوری چِکنی کمر کو اَپنے دونوں ہاتھوں سے سہلاتے ہُئے جکڑ لِیا۔ وہاں کھڑے سارے لوگ شاید یہی سوچ رہے ہوںگے کِ ہم پتِ پتنی ہیں۔ پھِر میںنے دیدی کا سامان اُٹھایا اؤر ہم دونوں گھر کی اور چل دِئے !گھر پہُںچ کر دیدی پھریش ہونے کے لِئے باتھرُوم میں چلی گئی ( کیُوںکِ گرمی کے دِن تھے اؤر میری دیدی کو بہُت پسینا آتا ہے اؤر وو تو اُس دِن پسینے سے بہُت بھیگ چُکی تھی) میںنے دیدی جی کا سامان سیٹ کر دِیا اؤر تھوڑی دیر باد دیدی بھی پھریش ہو کر باتھرُوم سے باہر آ گئی !جیسے ہی میںنے اُنکو دیکھا تو میری آںکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی۔ دیدی سِرپھ پیٹیکوٹ-بلاُّز میں ہی باتھرُوم سے باہر آ گئی تھی۔ کالے پیٹیکوٹ اؤر بلاُّج میں اُنکا گورا-گورا اَںگ ایکدم سونے کی ترہ چمک رہا تھا۔ دیدی کو دیکھ کر میرے اَںدر تھوڑی اَجیب سی گھبراہٹ ہونی شُرُ ہو گئی۔ میں دیدی کو ن چاہ کر بھی دیکھنا چاہتا تھا ! میں کبھی دیدی کے وکش کے اُوپر وِراجمان کالے تِل کو دیکھتا تو کبھی اُنکی نںگی کمر کو، تو کبھی اُنکے ناڑے والے نںگے ہِسّے کو !تبھی دیدی نے میرے پاس آکر میرے سر میں پیار سے ہاتھ پھیر کر پُوچھا- کِیا ہُآ بھئیّا؟ کہاں کھو گئے ؟میں تھوڑا گھبرا کر اؤر شرما کر بولا- کُچھ نہیں دیدی !

بس میں۔ّ۔ّ۔ آپ کالے کپڑوں میں بہُت سُںدر لگتی ہو !دیدی سمجھ گئی کِ میں کیوں ایسے بول رہا ہُوں۔ دیدی شرما کر بولی- بھائی میں کیا کرُوں، بہُت گرمی ہے اؤر ساڑی میں بہُت گھُٹن ہو رہی تھی، اِسلِئے میںنے ساڑی اَلگ نِکال دی!میں بولا- دیدی کوئی بات نہیں، ہم دونوں کے سِوا اؤر کوئی بھی نہیں ہے یہاں پر ! اؤر میں بِلکُل پھریںک لڑکا ہُوں، تُم نِشچِںت رہو، میں تالِبانی جیسا بھی نہیں ہُوں کِ جو اَپنی اِتنی سُندر دیدی کو بُرکے میں پسںد کرے !دیدی ہںس دی اؤر بولی- بھئیّا، تُو تو بہُت شیتان ہو گیا ہے ! چل جلدی سے تُو بھی نہا دھو لے ! آج راکھی ہے راکھی نہیں بںدھوانی کیا !پھِر میں بھی باتھرُوم میں نہانے چلے گیا۔ باتھرُوم میں بہُت ہی اَچّھی کھُشبُو آ رہی تھی۔ آج سے پہلے کبھی ایسی کھُشبُو باتھرُوم میں نہیں تھی ! میں سمجھ گیا کِ یہ کھُشبُو دیدی کے بدن کی ہے!

آج میں اِس کھُشبُو میں سماں جانا چاہتا تھا اؤر میںنے پہلی بار اَپنی دیدی کے بارے میں کر اُنکے نام کی مُٹھ مار دی۔ اِسکا ایک اَلگ ہی آنںد آیا اؤر جب میں باتھرُوم سے نہا دھو کر باہر آیا تو دیدی بولی- کیا بات ہے، بڑی دیر لگا دی تُونے؟میں بولا- کیا کرُوں دیدی جی ! آج میرا تو باتھرُوم سے باہر آنے کا من ہی نہیں کر رہا تھا !دیدی بولی- کیوں ؟میں چُپ رہا اؤر میںنے دیدی کو ایک سمائیل دی ! دیدی بھی شاید میرا اِشارا سمجھ گئی تھی اؤر وو شرماکر بولی- لگتا ہے اَب جلد سے جلد تیرے لِئے ایک لڑکی تلاشنی پڑیگی ! بول میرے راجا بھئیّا، تُجھکو کیسی لڑکی پسںد ہے، میں اَپنے راجا بھئیّا کے لِئے ویسی ہی لڑکی لاُّںگی !میں دیدی سے بولا- سچ !

دیدی ہںس کر بولی- مُچ !میںنے تُںرت ہی دیدی کا ہاتھ پکڑا اؤر اُنکو شیشے کے آگے لے جا کر بولا- مُجھے ایسی لڑکی چاہِئے !دیدی تھوڑی شرما کر بولی- پاگل ایسی لڑکی لایّگا تو سُہاگرات کے بدلے رکشا بںدھن منانا پڑیگا تُجھے !اؤر جور جور سے ہںسنے لگی!میں دیدی کے پیچھے کی ترپھ کھڑا تھا اؤر دیدی میرے آگے تھی۔ ہم دونوں بھائی بہن ایک دُوسرے کو شیشے میں دیکھ کر باتیں کر رہے تھے !میں بولا- دیدی اَگر آپ جیسی سُںدر لڑکی مُجھے مِل جائے تو میں اُسّے راکھی بھی بںدھوانے کے لِئے تیّار ہُوں !دیدی بولی- ایسا کیا ہے مُجھمیں جو تُو اَپنی دیدی کا اِتنا دیوانا ہُآ پڑا ہے ! کیا دیکھا تُونے مُجھمیں ؟میں بولا- دیدی آپ گُسّا تو نہیں ہوںگی نا !دیدی بولی- میں آج تک اَپنے راجا بھئیّا سے گُسّا ہُئی ہُوں جو اَب ہوںاُوگی !میں بولا- دیدی ! میں سچ میں تُمہارا دیوانا ہُوں !جب سے میںنے تُمہیں ایّر پورٹ پر دیکھا ہے، میں تُمہارا دیوانا ہو گیا ہُوں۔ پتا نہیں کیوں میں تُمہیں پانا چاہتا ہُوں، تُمہیں چھُونا چاہتا ہُوں، تُمہیں تُمہارے نازُک ہوٹوں کے نیچے کالے تِل کا اَہساس دِلانا چاہتا ہُوں !

اؤر میںنے آو دیکھا ن تاو ! اؤر دیدی کی گردن کے نیچے پیار سے ایک کِس کر دِیا۔ دیدی مُجھے شیشے میں دیکھ رہی تھی اؤر وو ویسے ہی کھڑے رہ کر میرے گال پر پیار سے ہاتھ پھیرنے لگی ! میںنے بھی دیدی کو اَپنے دونوں ہاتھوں سے آگے سے جکڑ لِیا اؤر دیدی نے اَپنی دونوں آںکھیں بںد کر لی جِسّے میرا تھوڑا اؤر ساہس بڑھا اؤر دیدی کے کان میں میںنے ہلکی سی آواج میں ' آئی لو یُو دیدی ' بول دِیا اؤر بولا- اَگر آپ میری بہن ن ہوتی تو میں آپ کو زرُور پرپوز کرتا ! آپ کِتنی سُںدر ہو ! میںنے آپ سی سُںدر کوئی لڑکی نہیں دیکھی ! ہم بھائی بہن کیوں ہیں ؟

دیدی نے اَبھی تک اَپنی آںکھیں بںد کر رکھی تھی کیوںکِ میں اُنکے پیٹ پر، نابھِ پر ہلکا-ہلکا ہاتھ پھیر رہا تھا۔ اَچانک میںنے دیدی کے پیٹیکوٹ کے ناڑے کی ترپھ ہاتھ بڑھایا تو دیدی نے میرا ہاتھ پکڑ لِیا اؤر گردن ہِلا کر منا کرنے لگی اؤر بولی- بھئیّا میں تُمہاری بہن ہُوں !میںنے بولا- میں جانتا ہُوں ! آج میں سارے رِشتوں کو بھُلا دینا چاہتا ہُوں، تُم میری ہو اؤر میں آج اَپنی بہن کی باںہوں میں سما جانا چاہتا ہُوں !دیدی بولی- کِسی کو مالُوم چل گیا تو سماج میں ہماری تھُو-تھُو ہو جایّگی !میںنے کہا- ہمیں سماج دیکھنے تھوڑے نا آ رہا ہے !دیدی چُپ ہو گئی اؤر کُچھ سوچنے کے باد میرے سے لِپٹ گئی اؤر رونے لگی۔میںنے پُوچھا- دیدی کیا ہُآ؟ کیوں رو رہی ہو ؟تو بولی- میں بہُت پیاسی ہُوں ! تیرے جیجاجی سے مُجھے وو کھُشی نہیں مِلی جو ہر اؤرت کو شادی کے باد اَپنے پتِ سے مِلتی ہے !

میں بولا- دیدی ساپھ ساپھ بتاّو نا ! میں سمجھ نہیں پا رہا ہُوں !وو بولی- تیرے جیجا جی مرد نہیں ہیں !یہ سُنکر مُجھے تو پسینا آ گیاّؤر میں اَںدر ہی اَںدر سوچنے لگا- یانِ کِ دیدی اَبھی کُںواری ہیں اؤر اُنکی سیل بھی نہیں ٹُوٹی !میںنے دیدی کے آںسُو کو اَپنی جیبھ سے چاٹ کر ساپھ کِیا اؤر بولا- دیدی ! تُم چِںتا مت کرو میں ہُوں نا ! تُم بس مُجھکو یہ بتاّو کِ تُم مُجھکو پسںد کرتی ہو؟دیدی بولی- جان سے بھی جیادا !کیا تُم مُجھے بھائی کی جگہ اَپنا پتِ مانوگی؟

میں تُمہیں ہر وو کھُشی دُوںگا جو تُم چاہتی ہو !دیدی نے فؤرن میرے ہوٹوں پر کِس کر دِیا اؤر بولی- آج سے تُم ہی میرے پتِ ہو ! میرا تن-من سب تُمہارا ہے ! جو تُم بولوگے، وو میں کرُوںگی !میںنے دیدی کو بولا- آج میں تُمسے شادی کرُوںگا !یہ سُن کر دیدی جلدی سے سِںدُور اؤر اَپنا مںگل سُوتر لے کر میرے پاس آ گئی۔ میںنے اُنکی ماںگ بھر کر مںگل سُوتر اُنکے گلے میں پہنا دِیا۔دیدی بولی- بھئیّا ! میں اَپنے کمرے میں جا رہی ہُوں، تُم تھوڑی دیر باد کمرے کے اَںدر آ جانا !

میں تُمہارا اِنتجار کرُوںگی !اؤر جب میں تھوڑی دیر باد دیدی کے کمرے میں گیا تو دیدی سج-سںور کے اَپنے شادی کے جوڑے میں گھُوںگھٹ اوڑھے پلںگ پر بیٹھی میرا بیسبری سے اِںتجار کر رہی تھی۔ میں دیدی کے پاس گیا اؤر پیار سے اُنکا گھُوںگھٹ اُٹھایا اؤر اُنکی ٹھُڈی کو اَپنے ہاتھ سے اُوپر اُٹھانے کے ساتھ ہی اُنکے ہوٹوں کا چُمبن لے کر بولا- اوہ دیدی ! آئی لو یُو ! میںنے آج تک تُم جیسی سیکسی لڑکی نہیں دیکھی !اؤر اُنکے ہوٹوں کے نیچے والے کالے تِل کو اَپنے داںتوں میں بُری ترہ دبوچ لِیا اؤر چُوسنے لگا۔ دیدی کو درد ہو رہا تھا مگر دیدی مُجھ سے بھی جیادا پیاسی تھی، اُسے درد میں بھی مزا آ رہا تھا۔تبھی میںنے دیدی کے بلاُّز کو اَپنے دونوں ہاتھوں سے پھاڑ دِیا اؤر اُنکے گورے گورے آم کے جیسے بُوبس باہر آ گیے۔ میں اُنکو چُوسنے لگا۔ تھوڑی دیر باد دیدی نے میری پینٹ کی زِپ کھول کر میرے لںڈ کو باہر نِکالا اؤر اَپنے کومل گورے ہاتھوں سے اُسے سہلانے لگی۔ کُچھ دیر باد جب میرا لںڈ لؤڑا بن گیا تو اُسکو اَپنی جیبھ سے چاٹنے، سہلانے لگی اؤر ہوٹوں سے رگڑ کر اُسے کھڑا کر دِیا !ہم دونوں بھائی بہن نںگے تھے، میںنے دیدی کو بِستر میں لِٹا دِیا اؤر اُنکی چُوت کو اَپنی جیبھ سے چاٹنے لگا۔دیدی اوہ ماے بھئیّا ڈارلِںگ !

آئی لو یُو ! بول رہی تھی۔میںنے اَپنی دیدی کو گیدھ کی ترہ نؤچنا شُرُ کر دِیا۔ کُچھ دیر باد جب میںنے اَپنی بہن کی چُوت میں اَپنا لؤڑا ڈالا تو دیدی نے اُئی ماں ! بول کر مُجھکو جور سے جکڑ لِیا اؤر مُجھکو پھریںچ کِس کرنے لگی اؤر اَپنے دونوں ہاتھوں کو میرے چُوتڑوں پر رکھ کر بھئیّا اؤر جور سے ! اؤر جور سے ! بولنے لگی۔کُچھ دیر باد میںنے دیدی کو ڈؤگی سٹائیل میں چودنا شُرُو کِیا۔ دیدی کے گدّیدار چُوتڑ کو دیکھ میں للچا گیا اؤر اُنکے چُوتڑ چاٹنے لگا۔ دیدی کو میںنے ساری رات چودا !سُبہ جب میں جاگا تو دیدی میرے لںڈ کو چُوس رہی تھی، مُجھکو پیاسی آںکھوں سے دیکھ رہی تھی اؤر میرا لؤڑا کھڑا کرکے اُسکے اُوپر بیٹھ گئی اؤر پھِر دُبارا سے میںنے دیدی کو چودنا شُرُ کر دِیا۔ہم دونوں چار سال بیت جانے کے باد بھی ہمیشا ایک دُوسرے کے ساتھ سیکس میں ڈُوبے رہتے ہیں۔سچ اَپنی بہن کے ساتھ کِتنا مجا آتا ہے، میں کیا بتاُّوں !اَب ہم دونوں بھائی بہن ایک پتِ پتنی کی ترہں جِندگی جی رہے ہیں۔ میری دیدی سے میری ایک لڑکی ہُئی ہے ۔۔ّ۔۔

By Taha Gondal with No comments

0 comments:

Post a Comment

EMail : PkMasti@aol.com
Yahoo : Jan3y.J4na@yahoo.com