Thursday, November 3, 2011

بھتیجی کومل کو خوب چودا

میں اَپنے بھائی بہنوں میں سبسے چھوٹا ہُوں۔ اُس سمے میری بھتیجی کومل جِسکی اُمر اُس وکت کریب 20 سال ہوگی، اُسکا کد کریب 5 پھُٹ 4 اِںچ ہے، بچپن سے میں اُسے گود میں کھِلاتا آ رہا تھا، وو بچپن سے رات کو وو جیاداتر میرے ساتھ ہی کھیلتے کھیلتے چِپک کر سو جاتی تھی، اُس وکت تو مُجھے کُچھ کھاس مہسُوس نہیں ہوتا تھا۔ لیکِن جب اُسکے بُوبس کریب سںترے کے آکار کے ہو گئے تو رات کو جب وو چِپک کے سوتی تو میری ہالت خراب ہو جاتی۔

ہالاںکِ تب تک میں کئی لڑکِیوں کو چود چُکا تھا، تتھا کئیّوں کی تو سیل بھی میںنے ہی توڑی تھی، کیوکِ ہمارا بِجنیس ہی ایسا تھا، ہمارا ریڈیمیڈ کپڑے بنانے کا کارکھانا ہے اؤر ہمارے یہاں مشینو پر سِرف لڑکِیاں ہی کام کرتی ہیں، ہم جیاداتر کُںواری لڑکِیوں کو ہی کام پر رکھتے ہیں، کیوکِ ایک تو کم پگار پر مِل جاتی تھی تتھا دُوسرے شادی ہونے پر اَپنے آپ سال دو سال میں کام چھوڑ کر چلی جاتی تھی۔ جیاداتر ہمارے یہاں 18-20 سال کی لڑکِیاں کام کرتی تھی۔

کھیر یے کہانِیا میں آپکو باد میں لِکھُوںگا، تو میں بتا رہا تھا کِ رات کو جب میری بھتیجی مُجھے چِپک کے سوتی تو اُسکے بُوبس میرے سینے میں دب جاتے تھے، اُسے اِس بارے میں پتا تھا یا نہیں لیکِن اِس ہرکت سے میرا 7" لںبا ہتھِیار کھڑا ہو جاتا اؤر مُجھے ڈر رہتا کِ کہیں اُسکا ہاتھ یا پیر میرے لںڈ کو چھُو ن جائے۔

ایک رات کو جب اُسے نیںد آ چُکی تو میںنے دھیرے سے اَپنا ہاتھ اُسکے ایک بُوبس پر رکھ دِیا اُسکے بُوبس کمال کے سکھت تھے۔ مُجھسے رہا نہیں گیا اؤر میںنے دھیرے دھیرے اُسکے بُوبس کو دبانا شُرُو کر دِے۔ تھوڑی دیر باد میںنے اُسکی نائیٹ شرٹ کے بٹن کھول دِئے اؤر شمیج کے اُوپر سے اُسکے بُوبس کو کاپھی دیر تک دباتا رہا، اُسنے کوئی ہرکت نہیں کی۔ اِسّے آگے بڑھنے کی میری ہِمّت نہیں ہُئی آخِر میںنے مُوٹھ مار کر اَپنے کو شاںت کِیا اؤر سو گیا۔

دُوسرے دِن رات کو فِر میں اُسکے سونے کا اِںتجار کرنے لگا کِ اَچانک اُسنے میرا ہاتھ پکڑ کر اَپنے بُوبس پر رکھ لِیا اؤر نیںد میں ہونے کا ناٹک کِئے ہُئے سوتی رہی۔ مُجھے سمجھ میں آ گیا کِ کل رات کو اُسے سب کُچھ مالُوم ہو چُکا تھا، فِر کیا تھا میںنے اُسکے نائیٹ شرٹ کے بٹن کھول دِئے اؤر دیکھ کر ہیران رہ گیا کِ آج اُسنے اَندر شمیج ہی نہیں پہنی تھی۔ میرے ہاتھ سیدھے اُسکے اَنچھُئے بُوبس پر تھے، اُسکے چھوٹے چھوٹے پِںک کلر کے نِپّل دیکھ کر میرے تو ہوش اُڑ گئے۔ اُس رات میںنے اُسکے بُوبس کو کھُوب مسلا اؤر مُںہ میں لیکر چُوسا بھی لیکِن وو سوتی رہی۔

میںنے دھیرے سے اُسکے پجامے کے اُوپر سے اُسکی چُوت پر ہاتھ رکھا تو مُجھے لگا جیسے پھُولی ہُئی گدّی پر ہاتھ رکھا ہو، میںنے دھیرے سے اُسکے پجامے کے اَندر ہاتھ ڈالنے کی کوشِش کی تو وو دُوسری ترف کروٹ بدل کر اوڑھ کر سو گئی، آخِر اُس دِن بھی میںنے مُوٹھ مار کر اَپنے کو شاںت کِیا اؤر سو گیا۔

اَگلے دِن سے اُسکا ویوہار میرے ساتھ کُچھ بدل سا گیا اؤر وو بار-بار چاچُو-چاچُو کہکر میرے ساتھ چِپکنے لگی، میں سمجھ گیا کِ اَب اِسکو چودنے میں جیادا وکت نہیں لگیگا لیکِن مؤکا ہاتھ نہیں لگ رہا تھا کیوںکِ اُسی کمرے میں میرے پِتاجی بھی سوتے تھے، اِسلِئے کیول بُوبس دباکر تتھا چُوت اُوپر سے دباکر ہی سںتوش کرنا پڑتا تھا، اَب تک ہم کھُل گئے تھے لیکِن ہر بار وو اِسّے آگے بڑھنے کے لِئے منا کر دیتی۔

آخِر ایک دِن مُجھے مؤکا مِل ہی گیا، بھئیّا و بھابھی شادی میں مُںبئی گئے تھے، پِتاجی کارکھانے میں چلے گئے، گھر پر سِرف میں اؤر کومل ہی تھے۔ سُبہ 10 بجے کا وکت ہوگا، پِتاجی کے جانے کے باد جب وو نہانے جا رہی تھی تو میںنے اُسے پکڑ لِیا اؤر چُومنے لگا۔ تو وو بولی چاچُو مُجھے چھوڑو! مُجھے نہانا ہے! میںنے کہا چلو آج ساتھ نہاتے ہیں، تو وو شرما گئی، کیوںکِ آج تک ہمنے رات میں ہی سب کُچھ کِیا تھا۔ میں اُسکے ساتھ باتھرُوم میں گھُس گیا اؤر اُسکے کپڑے اُتارنے لگا۔ وو ن نا کرتی رہی لیکِن میںنے اُسکی پیںٹی چھوڑ کر سب کپڑے اُتار دِئے اؤر اَپنے بھی اَںڈروِیر چھوڑکر سب کپڑے اُتار دِئے۔
وو شرما رہی تھی لیکِن میںنے اُسکی ایک چُوچی ایک ہاتھ میں تتھا دُوسری مُںہ میں لیکر چُوسنا شُرُو کر دِیا۔ دھیرے دھیرے اُسے بھی مجا آنے لگا۔ میںنے جیسے ہی اُسکی پیںٹی کو ہاتھ لگایا اُسنے کہا چاچُو یے سب نہیں !

لیکِن میں جانتا تھا کِ آج مؤکا ہے، جو کرنا ہے آج ہی کر لینا ہے !

میںنے کہا- کُچھ نہیں ہوگا اؤر جبرن اُسکی پیںٹی میں ہاتھ ڈال دِیا۔ اُسکی چُوت پر نرم نرم رویّں جیسے چھوٹے چھوٹے بال آنا شُرُو ہی ہُئے تھے، میںنے دیکھا اُسکی چُوت پُوری ترہ گیلی ہو رہی تھی۔ میںنے اُسکی پیںٹی اُتار دی تو اُسنے اَپنی آںکھے بںد کرلی۔ میںنے گھُٹنوں کے بل بیٹھ کر اُسکی چُوت کو دیکھا اؤر اَپنی جیبھ سے اُسے چاٹنے لگا وو سِسکارِیاں بھرنے لگی اؤر میرے سر کو جور سے اَپنی چُوت پر دبا لِیا۔

میںنے اُسے کہا- چلو اَندر بیڈرُوم میں چلتے ہیں۔ وو کُچھ نہیں بولی۔ میںنے اُسے اُٹھایا اؤر اَندر کمرے میں بِستر پر لے آیا۔ اُسنے آںکھے بںد کر رکھی تھی، میںنے اَپنا اَںڈروِیر اُتارا اؤر اُسکی بگل میں لیٹ گیا۔ دھیرے دھیرے اُسکی چُوت سہلاتے ہُئے میںنے اُسکا ایک ہاتھ پکڑکر اَپنے لںڈ پر رکھ دِیا، اُسنے اُسے پکڑ لِیا لیکِن کُچھ کر نہیں رہی تھی۔ میںنے اُسے لںڈ مُںہ میں لینے کے لِئے کہا تو اُسنے منا کر دِیا۔ میںنے بھی جیادا جور نہیں دِیا۔

میںنے فِر اُسکی چُوت چاٹتے ہُئے ایک اَںگُلی اُسکی چُوت میں ڈال دی۔ اُسنے دھیرے سے اُف کِیا لیکِن کُچھ بولی نہیں، میں اُسکی چُوت میں اُںگلی کرتا رہا، دھیرے دھیرے اُسے بھی مجا آنے لگا۔ فِر میںنے اُٹھ کر اَپنے لںڈ پر تھوڑا تیل لگایا اؤر اُسکے پیروں کو چؤڑا کرکے بیچ میں بیٹھ گیا۔ وو آںکھے بںد کرکے پڑی رہی۔ میںنے اَپنے 7" لںڈ کا ٹوپا اُسکی چُوت کے مُںہ پر رکھا اؤر تھوڑا سا جور لگایا ہی تھا کِ وو بولی- چاچُو درد ہو رہا ہے، جبکِ لںڈ تو اَبھی پُورا باہر ہی تھا۔

کھیر میںنے تھوڈی دیر اُسکے بُوبس دبایے اؤر فِر تھوڑا جور لگایا وو فِر بولنے لگی کِ درد ہوتا ہے۔ اُسکی چُوت اِتنی ٹائیٹ تھی کِ لںڈ کا ٹوپا بھی اَندر نہی گھُس رہا تھا، میں اُسکے اُوپر لیٹ گیا اؤر اُسے باتوں میں لگایا تتھا اُسے کہا کِ وو جور سے مُجھے باںہوں میں بھر لے۔ جیسے ہی اُسنے مُجھے باںہوں میں لِیا، میںنے پُوری تاکت سے شوٹ مارا اُسکے مُںہ سے چیکھ نِکل گئی میرا آدھا لںڈ اُسکی چُوت میں گھُس چُکا تھا، وو نیچے چھٹپٹانے لگی لیکِن میںنے اُسے جکڑ رکھا تھا، وو رونے لگی اؤر کہنے لگی چاچُو آپ بہُت گںدے ہو، آگے سے میں آپکے پاس کبھی نہیں آاُںگی۔ میںنے اَپنا لںڈ اؤر آگے نہیں دبایا اؤر اُتنے ہی لںڈ سے اُسکو چودتا رہا۔

دھیرے دھیرے اُسے بھی اَچّھا لگنے لگا، اُسکی باہیں فِر میری پیٹھ پر کس گئی، جیسے ہی اُسنے اَپنی پکڑ ٹائیٹ کی، میںنے ایک جوردار شوٹ پُورا لںڈ باہر نِکال کر لگا دِیا۔ اُسکے مُںہ سے ہِچکی سی نِکلی اؤر وو فِر رونے لگی لیکِن اَب میں رُکنے والا نہیں تھا۔ میں اُسکو پُوری تاکت سے چودے جا رہا تھا۔ کریب 10 مِنٹ باد اُسنے مُجھے فِر باںہوں میں بھر لِیا اؤر اَپنی ٹاںگے اؤر چؤڑی کر لی۔

اَچانک اُسکی چُوت میرے لںڈ کو بھیںچنے لگی اؤر وو مُجھسے بُری ترہ سے چِپک گئی۔ میں بھی آنے والا تھا، میںنے جھٹکے سے اَپنا لںڈ باہر نِکالا اؤر اُسکے پیٹ پر اَپنا سارا مال اُڑیل دِیا۔ میرا لںڈ بُری ترہ درد کر رہا تھا تتھا کھُون سے لال ہو رہا تھا۔ 5 مِنٹ تک ہم ویسے ہی بیڈ پر پڑے رہے۔ جب اُٹھنے لگے تو کومل اُٹھ نہیں پا رہی تھی۔

جب ہمنے بیڈ کی ترف دیکھا تو ہمارے ہوش اُڑ گئے پُوری بیڈشیٹ لال ہو چُکی تھی، یہ دیکھ کومل گھبرا گئی اؤر فِر رونے لگی، میںنے اُسے سمجھایا اؤر چدّر بدلی، میںنے اُسکی چُوت پر نہانے کے باد رُئی لگائی اُسّے چلا نہیں جا رہا تھا، میںنے اُسے پینکِلر گولی دی، شام تک کاپھی آرام ہو گیا، اُسکے باد 4 دِن تک اُسنے مُجھے ہاتھ بھی نہیں لگانے دِیا، لیکِن پاںچوے دِن کے باد ہمارا کھیل فِر شُرُو ہو گیا جو کریب 7 سال تک اُسکی شادی تک چلا۔

By Taha Gondal with No comments

0 comments:

Post a Comment

EMail : PkMasti@aol.com
Yahoo : Jan3y.J4na@yahoo.com