Thursday, November 3, 2011

میری ان لمٹیڈ چودائی کی کہانی

میری زندگی میں آنے والا پہلا مرد میرا کلاس فیلو، پڑوسی اور بچپن کا دوست شکیل تھا۔ ہم دسویں جماعت میں ساتھ پڑھتے تھے۔ میں میتھ اور فزکس میں بہت ویک تھی۔ شکیل ہماری کلاس میں میتھ کا ایکسپرٹ تھا۔ امتحان میں چند دن باقی تھے اور میری میتھ کی کچھ تیاری نہیں تھی۔ ایک دن امی نے کہا کہ مجھے شکیل سے ایک دو گھنٹے پڑھ لینا چاہئیے۔ میں نے شکیل سے بات کی اور وہ راضی ہوگیا۔ اگلے دن سے میں اس کے گھر ٹیوشن پڑھنے جانے لگی۔

وہ ہفتے کی شام تھی جب میں شکیل کے گھر پہنچی۔ میں نے کافی دیر تک بیل بچائی تب شکیل نے دروازہ کھولا اسکے چہرے پر گھبراہٹ کے آثار تھے۔ میں اندر ڈرائنگ روم میں جاکر بیٹھ گئی اور شکیل میرے سامنے بیٹھ گیا۔ اس نے کہا سبین ایسا کرو آج چھٹی کرو کل پڑھیں گے تم گھر جاؤ۔ میں نے کہا نہیں شکیل اب امتحان اتنے قریب ہیں اور تم کیوں خواہ مخواہ مجھے بھگارہے ہو۔ شکیل بولا دراصل میرا ایک دوست آیا ہوا ہے اوپر میرے کمرے میں ہے اور تم جانتی ہو دنیا کو اگر کسی نے تمہیں دو جوان لڑکوں کے ساتھ گھر میں اکیلے دیکھ لیا تو باتیں بنیں گی۔

کوئی باتیں واتیں نہیں بنتیں کہاں ہے تمہارا دوست میں بھی ملوں گی اس سے۔ شکیل کہنے لگا وہ اوپر ہے ٹی وی دیکھ رہا ہے۔ تم جاؤ پلیز میں تمہیں بعد میں ملوادوں گا۔ میں ضد کرنے لگی کہ نہیں میں ابھی ملوں گی۔ اور پھر ایسے ہی شکیل کو تنگ کرنے کے لئیے میں اوپر کی طرف بھاگ پڑی شکیل میرے پیچھے دوڑا۔ اس کے کمرے کا بند دروازہ کھولا تو میں دھک سے رہ گئی۔

اس کے ٹی وی پر ایک ٹرپل ایکس فلم پوز ہوئی تھی۔ ایک لڑکا اپنا بڑا سا لنڈ ایک چوت میں ڈال رہا تھا۔ میں پہلے بھی ایک دو ٹرپل ایکس فلمز اہنی ایک سہیلی کے ساتھ دیکھ چکی تھی۔ شکیل بھی پیچھے سے آگیا۔ اس کے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔ اور میرے ذہن میں ایک منصوبہ طے پارہا تھا۔

آئی ایم سوری سبین۔ اس نے کہا۔ کوئی بات نہیں شکیل میں نے کہا۔ اگر تم یہ فلم دیکھ رہے تھے تو مجھے پہلے بتادیتے۔ تم کیا مجھے اتنا بیک وارڈ سمجھتے ہو؟ وہ بولا نہیں یار مگر تم ایک لڑکی ہو اور۔ لڑکی لڑکا کچھ نہیں ہوتا پہلے میں تمہاری دوست ہوں۔ اب میں بھی تمہارے ساتھ بیٹھ کر یہ مووی دیکھوں گی۔ شکیل کے ذہن میں بھی فورا وہ شیطانی خیال آگیا جو میرے ذہن میں تھا۔

فلم دیکھتے ہوئے میں شکیل کی پینٹ میں تنے ہوئے ٹینٹ کو دیکھ کر اسے مشورہ دیا کہ وہ اپنی پینٹ اتار دے۔ وہ بولا میں اتار دوں گا مگر تم بھی اپنی شلوار اتارو۔ میں مان گئی۔ پھر میں نے آہستہ سے اسکے لنڈ کو اپنے ہاتھ میں لیا۔ اس کا لنڈ چھ انچ کے قریب تھا اور جیسا میں نے فلموں میں دیکھا تھا ویسا ہی موٹا تھا۔ شکیل نے مجھے اپنی بانہوں میں دبوچ لیا۔ میرے ممے مسلتے ہوئے وہ مجھے ہونٹوں پر کس کرتا رہا۔ پھر اس نے میری قمیض اتاری میری بریزر کھولی اور میرے مموں کو اپنے منہ سے چوسنے اور کانٹنے لگا۔ میرے جسم میں بجلی کی لہریں دوڑ رہی تھیں اور میری چوت میں آگ لگی ہوئی تھی۔ پھر اس نے میری چوت کو اپنی زبان سے چودا۔ اب بس میری برداشت سے باہر ہوگیا تھا۔ "پلیز شکیل مجھے چودو میری کنواری چوت کو پھاڑ دو مجھے عورت بنادو۔

میں تھوڑا ڈری ہوئی تھی کہ کہیں میں پریگنینٹ نہ ہوجاؤں مگر میرا ڈر تب دور ہوگیا جب شکیل نے اپنی الماری سے کنڈم نکالا۔ اس نے اپنے لنڈ پر کنڈم چڑھا کر مجھے بیڈ پر لٹایا اور اپنا لنڈ میری چوت پر رکھ دیا۔ پھر ہلکے ہلکے اندر ڈالنے لگا اور ایکدم جھٹکا مار کر اندر ڈال دیا جس سے میری ہلکی سی چیخ نکل گئی۔ اس کے بعد اس نے آہستہ آہستہ مجھے چودنا شروع کیا۔ جیسے جیسے اس کے لنڈ آگے پیچھے ہوتا ویسے ویسے میری چوت اور لنڈ کے لئیے آگے بڑھتی اور آہستہ آہستہ اس نے اپنی اسپیڈ بڑھانا شروع کردی۔ ساتھ ہی وہ میری ممے بھی دبارہا تھا اور مجھے کس بھی کر رہا تھا۔ پھر آہستہ آہستہ وہ سلو ہوگیا اور رک گیا میں سمجھ گئی کہ وہ فارغ ہوگیا ہے۔ پھر اسے نے اپنا لنڈ میری چوت میں سے نکالا اور کنڈم اتارا اس میں موجود منی اسنے میرے مموں پر ڈال کر مسلنا شروع کردیا اور اپنی انکلی سے میری چوت بھی چودتا رہا۔ اس سے میں بھی جلد ہی فارغ ہوگئی۔

اس کے بعد کئی مرتبہ شکیل نے مجھے چودا گروپ سیکس
شکیل کے ساتھ ایک بار سیکس کرنے سے تو جیسے آگ بھڑک گئی اب شکیل روز ہی پڑھائی کے دوران میرے ممے دباتا چوت سہلاتا۔ میں بھی اس کے لنڈ پر ہاتھ پھیرتی۔ کبھی اس کے گھر والے کہیں گئے ہوئے ہوتے تو پھر ہم اور سیکس کرتے۔ اسی نے مجھے لنڈ چوسنا سکھایا۔ پہلے تو مجھے بہت گندا لگا مگر بعد میں اچھا لگنے لگا۔ ایک لڑکے کا لنڈ میرے منہ میں۔

ایک دن شکیل کہنے لگا کہ میرے دو دوست ہیں وہ بھی تمہیں چودنا چاہتے ہیں پہلے تو میں غصہ ہوئی مگر بعد میں میں نے سوچا کہ کیوں نہیں؟

پھر ایک دن شکیل مجھے ٹیوشن سینٹر میں داخلہ دلانے کے بہانے گھر سے لے آیا اور ہم اس کے دوست کے گھر پہنچے۔ شکیل کا ایک دوست اسی کی عمر کا تھا سترہ سال کا دوسرا لڑکا تھوڑی بڑی عمر کا تھا کوئی چوبیس سال کا۔ کم عمر لڑکے کا نام کاشف تھا اور بڑے لڑکے نام عمران۔ عمران مجھے بہت اچھا لگا۔ لمبا قد اور چوڑا چکلا باڈی بلڈر ٹائپ کا جسم تھا اس کا اور اس کی شرٹ مین سے سینے کے بال بھی جھانک رہے تھے ۔

بیڈ روم میں پہنچ کر ان تینوں نے مجھے ادھر ادھر سے چومنا چاٹنا شروع کردیا۔ پھر کاشف نے میری قمیض اتاری اور عمران نے میرا بریزر کھول کر میری چوچی منہ میں لے لی۔ اس کی شیو میرے مموں پر چبھ رہی تھی۔ اتنے میں عمران نے میری شلوار اتاری اور میری چوت چاٹنے لگا اب میں بہت گرم ہوچکی تھی۔ عمران بیڈ پر کھڑا ہوگیا اب اس کا لنڈ میرے منہ کے سامنے تھا اور وہ سارے کپڑے اتار چکا تھا۔ اس کا لنڈ بہت بڑا تھا آٹھ انچ لمبا اور بہت موٹا۔ اس نے اپنا لنڈ میرے ہونٹوں پر رکھا اور میں نے خوشی خوشی اس کا لنڈ چوسنا شروع کردیا۔ اس کا لنڈ چونکہ بہت بڑا تھا اسلئیے مجھے چوسنے میں دشواری ہورہی تھی۔ میں آہستہ آہستہ عمران کا لنڈ چوس رہی تھی اور کاشف میری چوچیاں اپنے دانتوں سے کاٹ رہا تھا اور شکیل میری چوت اپنی زبان سے چود رہا تھا۔ زبان سے چودتے چودتے وہ اپنی انگلی میری گانڈ کے سوراخ پر سہلانے لگا اور پھر اس نے اپنی انگلی پر تھوک کر میری گانڈ کے سوراخ پر لگایا۔ اور آہستہ آہستہ مسلنے لگا۔ جیسے ہی اس نے اپنی انگلی میری گانڈ میں ڈالی مجھے درد کا احساس ہوا۔ شکیل رک گیا اور مین اسی طرح عمران کا لنڈ چوستی رہی۔

اتنے میں کاشف نے اپنے کپڑے اتارے اس کا لنڈ شکیل جیسا تھا ساڑھے چھ انچ کا پر بہت موٹا تھا۔ کاشف نے کنڈم چڑھا کر مجھے بیڈ پر لٹا دیا اب عمران میرے منہ پر بیٹھ کر اپنا لنڈ میرے منہ میں دے رہا تھا اور اور میری ٹانگیں کاشف کے کندھوں پر رکھی ہوئی تھیں اور شکیل میری چوچیاں کے بیچ میں اپنا لنڈ رگڑ رہا تھا۔ پھر کاشف نے دھیرے سے اپنا لنڈ میری چوت میں ڈالا اور آہستہ آہستہ جھٹکے مارنے لگا۔ کاشف کے دھکوں سے میری چوچیاں آگے پیچھے ہوتیں تو شکیل کے منہ سے نکل جاتیں۔ میری چوچیوں پر اب شکیل عمران اور کاشف تینوں کے دانتوں کے نشان موجود تھے۔ عمران کا بڑا لنڈ چونکہ میرے منہ میں صحیح فٹ نہیں آراہا تھا اسلئے اس نے شکیل کو موقع دیا اور شکیل نے اپنا لوڑا میرے منہ میں دے دیا۔ میں شکیل کا لوڑا لالی پوپ کی طرح چوس رہی تھی عمران میری گانڈ میں اپنی انگلی ڈال کر آگے پیچھے کرنے لگا اور کاشف مجھے دھواں دار چود رہا تھا۔ اس کے بعد عمران بولا کہ کیا کبھی تم نے تین لنڈ ایک ساتھ لئیے ہیں؟ میں بولی نہیں اس نے کہا لوگی؟ میں نے کہا ہاں۔ وہ جلدی سے ایک بوتل لایا جس میں جیل جیسا کوئی لوشن تھا۔ کاشف نے اپنا لنڈ میری چوت سے نکال لیا۔ عمران نے ڈھیر سارا لوشن میری گانڈ اور چوت پر ڈالا اور میری گانڈ میں آہستہ آہستہ انگلی کرنے لگا۔ پہلے تو تھوڑا درد ہوا بعد میں مزہ آنا لگا۔ پھر اس نے دونوں انگلیاں میری گانڈ میں ڈال دیں۔ جب میرا سوراخ دو انگلیاں برداشت کرنے کا قابل ہوگیا تو اس نے شکیل کو کہا کہ وہ میری گانڈ مارے۔ کیونکہ اس کا لنڈ سب سے چھوٹا ہے۔ شکیل نے ڈوگی پوزیشن میں آہستہ سے اپنا لنڈ میری گانڈ میں ڈالنا شروع کیا۔ جب اس کا ٹوپا اندر پہنچا تو اس نے ایک جھٹکے سے پورا اندر گھسیڑ دیا۔ میں زور سے چیخی اور کاشف نے میرے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور عمران نے میرے ہاتھ مضبوطی سے پکڑ لئیے اور شکیل جلدی جلدی جھٹکے مارنے لگا۔ درد ہوا اور میری آنکھوں سے آنسو نکل گئے۔ لیکن تھوڑی دیر بعد مزہ آنے لگا۔ میرے ممے شکیل کے جھٹکوں سے آگے پیچے ہورہے تھے کہ عمران نے شکیل کو اشارہ کیا اور شکیل سلو ہوگیا اور پھر اپنا لنڈ میری گانڈ میں ڈالے کھڑا رہا عمران میرے نیچے آکر لیٹ گیا اور اس نے اپنے لنڈ سے میری چوت کا نشانہ لیا۔ اس نے میرے کولہوں پر ہاتھ رکھا جن کے بیچ میں پہلے ہی شکیل کا لنڈ تھا اور آہستہ سے مجھے اپنے لنڈ کی طرف گھسیٹا میری چوت سے پہلے ہو جوس بہہ رہے تھے اور لوشن لگا تھا جس کی وجہ سے اس کا آٹھ انچ لمبا لنڈ آرام سے میری چوت میں چلا گیا۔ اس کا لنڈ اتنا بڑا اور موٹا تھا کہ مجھے لگا میری چوت فل پھٹ جائے گی۔ اس اوپر نیچے ہونا شروع کیا اور پھر شکیل نے میری گانڈ مارنا شروع کردی اب شکیل مجھے گانڈ میں جھٹکا مارتا تو میری چوت میں عمران کا لنڈ فل گھس جاتا پھر وہ لنڈ نکالتا تو عمران کا لنڈ بھی پیچھے ہوتا۔ اتنے میں کاشف نے اپنا لنڈ میرے منہ میں دے دیا۔ تین لڑکے ایک ساتھ مجھے چود رہے تھے اور میرے جسم کا فائدہ اٹھا رہے تھے اور میرے جسم میں آگ لگی ہوئی تھی۔ اتنے میں شکیل نے زور پکڑا اور جلدی جلدی میری گانڈ مارنے لگا میں سمجھ گئی کہ وہ فارغ ہونے والا ہے۔ اس کے فارغ ہوتے ہی کاشف نے میری گانڈ ماری اور فارغ ہوگیا جبکہ عمران ابھی تک مجھے چود رہا تھا اور فارغ نہیں ہوا تھا۔ پھر اس نے اپنا لنڈ میری چوت سے نکالا اور ڈوگی پوزیشن میں میری گانڈ ماری۔ آدھے گھنٹے تک گانڈ مارتا رہا یہاں تک کہ کاشف اور شکیل کے لنڈ دوبارہ کھڑے ہوگئے۔ پھر اس نے اپنا لنڈ میری گانڈ سے نکالا اور مجھے بیڈ پر لٹایا اور اپنا ہاتھ چلاتے ہوئے اپنی منی میرے مموں پر ڈال دی۔ اس کے فارغ ہونے کے بعد کاشف نے ایک بار پھر مجھے چودا اور شکیل نے میری گانڈ ماری۔
جس کے بعد ہم سب نے ایک ساتھ شاور لیا جہاں اکیلے عمران نے مجھے بیس منٹ تک لگاتار چودا۔ اتنی چدائی کے بعد مجھے کھڑا نہیں ہوا جارہا تھا اور میں بڑی مشکل سے گھر پہنچی۔

By Taha Gondal with No comments

0 comments:

Post a Comment

EMail : PkMasti@aol.com
Yahoo : Jan3y.J4na@yahoo.com