Thursday, November 3, 2011

چُوت اؤر گانڈ دونوں کی پیاس بُجھ گئی


کالیج سے آنے کے باد میں روِ کا اِنتزار کرنے لگی۔ اُسکے آتے ہی میں بُکس لے کر اُوپر اُسکے کمرے میں آ گئی۔

اُسنے کِتاب کھولی اؤر کُرسی پر بیٹھ گیا، اُسکی بگل میں میں بھی کُرسی لگا کر ٹیبل پر بیٹھ گئی۔ میرا اِرادا پڑھنے کا نہیں تھا… اُسے پٹانا تھا۔ میں اُسے بیچ-بیچ میں کُچھ چاکلیٹ بھی دیتی جا رہی تھی۔ میںنے دھیرے سے اُسکے پاںو پر پاںو رکھ دِیا۔ پھِر ہٹا دِیا۔ وہ تھوڑا سا چؤںکا… پر پھِر سہج ہو گیا۔ کُچھ دیر باد میںنے پھِر پاںو مارا… اُسنے اِس بار جان کر کُچھ نہیں کِیا۔ میری ہِمّت بڑھی… میںنے اُسکا پاںو
دبایا۔۔

روِ نے مُجھے دیکھا… میں مُسکرا دی۔ اُسکی باںچھیں کھِل اُٹھی۔ ہںسی تو پھںسی مان کر اُسنے بھی ایک کدم آگے بڑھایا۔ اُسنے اَپنا دُوسرا پاںو میرے پاںو پر رگڑا۔ میںنے شانت رہ کر اُسے اؤر آگے کا نِمںترن دِیا۔ اُسنے مُجھے پھِر سے دیکھا… میںنے پھِر مُسکرا دِیا۔

اَچانک وو بولا،”دِویا… تُم مُجھے بہُت اَچّھی لگتی ہو…”

“کیا… کہ رہے ہو… اَچّھے تو تُم بھی ہو…” میںنے اُسے کاںپتے ہوٹھوں سے کہا۔ اُسنے میرا ہاتھ پکڑ لِیا اؤر اَپنی اور کھیںچا۔ میں جان کرکے اُسکے اُوپر گِر سی پڑی۔ اُسنے تُرنت مؤکے کا فایدا اُٹھایا۔ اؤر میری چُوںچِیا دبا دیں۔

“ہاے کیا کرتے ہو…! کوئی دیکھ لیگا نا…!”

“کؤن یار… اُسنے مُجھے کھیںچ کر گودی میں بیٹھا لِیا۔ اُسکا لنڈ کھڑا ہو چُکا تھا۔ وو میری گاںڈ میں چُبھنے لگا تھا۔

“اُفف…نیچے کُچھ چُبھ رہا ہے…”

“میرا لنڈ ہے…” کہ کر اُسنے اؤر چُوتڑ میں چُبھانے لگا۔

“کیا ہے؟”

“میرا لؤڑا…” میں جان کرکے شرما اُٹھی۔ میرے چُوتڑ کی گولائیّوں کے بیچ لنڈ گھُسنے لگا۔ میرے شریر میں سنسنی فیلنے لگی۔

“مار ڈالوگے کیا… پُورا ہی گھُسا دوگے…” میری چُدنے کی سکیم سفل ہوتی نجر آ رہی تھی۔ مُجھے یے سوچ کے ہی کںپکںپی آ گئی۔

“رُکو… میری سکرٹ تو اُوپر کر لو… ” میںنے اَپنے چُوتڑ اُوپر اُٹھا لِیے اؤر سکرٹ اُوپر کرکے پینٹی نیچے کھیںچ دی۔ اُسنے بھی اَپنی پینٹ نیچے کھیںچ لی۔ اُسکا لنڈ پھُںپھکارتا ہُآ باہر آ گیا۔ اُسنے مُجھے دھیرے سے چُوتڑ اُوپر اُٹھا کر لنڈ کو میری چُوت پر رکھ دِیا اؤر پھِر مُجھسے کہا کِ دھیرے سے گھُسا لو۔ اُسکا لنڈ میری چُوت میں فِسلتا ہُآ اَندر بیٹھ گیا۔ میں آنّد سے بھر گئی۔

تبھی نیچے سے پاپا کی آواج آئی۔ میں چِڑھ گئی۔ یے پاپا بھی نا… میںنے لنڈ دھیرے سے باہر نِکالا اؤر کپڑے ٹھیک کِیے۔

“یے درواجا کھول کر رکھنا رات کو… میں یہیں سے آاُوںگی… ! ”

“پر یے تو باہر سے بند ہے نا…”

“اَرے میں کھول دُوںگی… یے چھت پر کھُلتا ہے…” کہ کر میں نیچے بھاگ آئی۔ میرا کام تو ہو چُکا تھا… بس چُدنا باکی تھا۔ من ہی من میں بہُت کھُش تھی، جیسے میدان-ئے-جںگ جیت لِیا ہو۔ میں رات ہونے کا اِنتزار کرنے لگی۔

میرا کمرا دُوسری مںجِل پر تھا… ممّی-پاپا نیچے بیڈرُوم میں سوتے تھے… میں کھانا کھا کر اَپنے کمرے میں آ گئی۔ لگبھگ 9 بجے جب سب شانت ہو گیا، میں چھت پر آ گئی۔ میںنے تُرنت روِ کا درواجا کھولا تو دِل دھک سے رہ گیا… روِ اؤر کمل دونوں ہی وہاں تھے… بِلکُل نںگے کھڑے تھے اؤر گاںڈ مارنے کی تیّاری میں تھے۔

میں واپس جانے لگی تو روِ نے کہا…”جاّو مت دِویا… ساری ہم ایسی ہالت میں ہیں… مُجھے ایسا لگا کِ تُم نہی آاوگی !”

مُجھے لگا کِ ایک کی جگہ دو دو… میرا من مچل اُٹھا…دو دو سے چُدوانے کو ! میں رُوک گئی۔

“پر دونوں نںگے ہو کر یے کیا کر رہے ہو…” مُجھے پتا تھا پھِر بھی اَنجان بنّے کا ناٹک کِیا پھِر اَندر آ کر جلدی سے درواجا بند کر لِیا۔

“دیکھو کِسی سے کہنا مت… ہم روج ہومو کرتے ہیں… کبھی یے میری گاںڈ مارتا ہے اؤر کبھی میں اِسکی گاںڈ چودتا ہُوں”

“مجا آتا ہے نا…”

“ہاں… پر کُچھ اَلگ سا…”

“کیا بات ہے یار… تُم بھی نا…”

“تھیںکس دِویا… دیکھو تُم یہاں بیٹھو اؤر بس دیکھو… ہم تُمہارے ساتھ کُچھ نہی کریںگے…” روِ اؤر کمل دونو ہی ایک ترہ سے وِنتی کرنے لگے۔

“اَرے تو میں کیا تُمہاری شکل دیکھُوںگی… بس دیکھو!!! … مُجھے بھی تو مزا دو…” سُنتے ہی دونوں ہی کھُش ہو گیے۔ کمل کو تو شاید پہلی لڑکی کو چودنے کا مؤکا مِل رہا تھا۔

دونو نے پیار سے میرے کپڑے اُتار دِیے اؤر اَب ہم تینو نںگے تھے۔ کمل تو مُجھے ایسے دیکھ رہا تھا جیسے اُسے کوئی کھزانا مِل گیا ہو… دونوں کے لنڈ مُجھے دیکھ کر 90 کا نہیں 120 ڈِگری کا ایںگل بنا رہے تھے۔ مُجھے یے جان کر سنسنی اؤر مستی چڑھ رہی تھی کِ مُجھے دو-دو لنڈ کھانے کو مِلیںگے۔

روِ میرے آگے کھڑا ہو گیا اؤر کمل میری گاںڈ سے چِپک گیا۔ روِ بولا،” دِویا دونو اور سے یانِ چُوت اؤر گاںڈ میں لنڈ جھیل لوگی…؟”

میں سِہر اُٹھی۔ میرے من میں کھُشِیاں ہِلوریں مارنے لگیں۔

میںنے کُرسی پر ایک ٹاںگ اُوپر رکھ دی اؤر گاںڈ کا چھید کھول دِیا اؤر اِشارا کِیا- “لگ جاّو میرے ہیرو… کمل تُم میری گاںڈ مارو، روِ یے چُوت تُمہاری ہُئی…!”

میںنے نشے میں اَپنی آںکھے بند کر لیں۔ دونوں ہی میرے آگے-پیچھے چِپک گیے… مُجھے دونوں کا چِکنا شریر مدمست کِیے دے رہا تھا… میری ایک ٹاںگ کُرسی پر اُوپر تھی اِسلِیے گاںڈ اؤر چُوت دونو ہی کھُلی تھی… پہل کمل نے کی، میری گاںڈ پر تیل لگایا… اؤر چھید میں اَپنا لنڈ جور لگا کر گھُسا دِیا۔
اَب روِ کی باری تھی… اُسنے اَپنا لنڈ میری چِکنی اؤر پنیلی چُوت میں ڈال دِیا۔

دونوں کے موٹے اؤر لمبے لنڈ کا بھاریپن مُجھے مہسُوس ہونے لگا۔ چُوت لپ لپ کر لنڈ نِگلنے کو تیّار ہو گئی تھی۔ اَب دونوں چِپک گیے اؤر ہؤلے-ہؤلے سے کمر ہِلانے لگے۔ دونوں اور سے لنڈ گھُس رہے تھے۔ میرے آنّد کا کوئی پار نہیں تھا۔ میرے شریر میں ترںگیں اُٹھنے لگیں۔ لنڈ میرے دونوں چھیدوں میں سرلتا سے آ جا رہے تھے۔ پہلی بار میں آگے اؤر پیچھے سے ایک ساتھ چُد رہی تھی۔ دونو کے لنڈ پھُپھکار مار-مار کر ڈس رہے
تھے…

میں واسنا کی گُڑِیا بنی جم کر چُدوا رہی تھی۔ مستانی ہو کر جھُوم رہی تھی۔ چُدانے کا پہلے کا تزُربا کام میں آ رہا تھا۔ دونوں اور کی چُدائی کے کارن میں کمر ہِلا نہی پا رہی تھی… پر دھکّے اَب جوردار لگ رہے تھے اؤر میرے چُوت اؤر گاںڈ میں گجب کی مِٹھاس بھر رہے تھے۔ میری گاںڈ اؤر چُوت ایک ساتھ چُدی جا رہی تھی۔

کمل کے دونوں ہاتھ میری چُوچِیوں پر تھے اؤر مسلنے میں کوئی کسر نہی چھوڑ رہے تھے۔ اُسے تو شاید پہلی بار بوبے دابنے کو مِلے تھے… سو جم کر داب رہا تھا… لگ رہی تھی، پر آنّد اَسیم تھا… میری چُوت اؤر گاںڈ میں تیز گُدگُدی اؤر سنسناہٹ ہو رہی تھی… اُن دونوں کے لنڈ اَندر آپس میں ٹکرانے کا اَہساس بھی کرا رہے تھے۔

اَچانک دونوں کی ہی باںہوں نے مُجھے بھیںچ لِیا… دونوں کے لنڈوں کا بھرپُور دباو چُوت پے آنے لگا۔ بھیںچنے کے کارن میری چُوت میں رگڑ لگنے لگی اؤر میں اَپنی سیما توڑ کر جھڑنے لگی… “ہاے رے… میں تو گئی…”

پر دونوں کے باںہوں کی کساوٹ بڑھنے لگی۔ روِ نے اَپنا لنڈ چُوت میں دبایا اؤر اَپنا ویرے چھوڑ دِیا… اؤر زور لگا کر باکی کا ویرے بھی نِکالنے لگا۔ میری چُوت سے ویرے نِکل کر میرے پاںوّں پر بہ چلا۔

اِتنے میں کمل نے بھی اَپنی پِچکاری گاںڑ میں اُگل دی۔ دونوں ہی کُتّے کی ترہ کمر کو جھٹکا دے دیکر ویرے نِکال رہے تھے۔ میری ٹاںگ دونو کے ویرے سے چِکنی ہو اُٹھی۔ دونوں نے مُجھے اَب چھوڑ دِیا۔

دونوں کے مُرجھایے ہُئے لنڈ لٹکنے لگے۔ اَب مُجھے اَپنے بِستر پر لِٹا کر دونوں ہی اَپنے من کی بھڑاس نِکالنے لگے اؤر باکی کی چُوما چاٹی کرنے لگے۔ کافی دیر پیار کرنے کے باد اُن دونوں نے مُجھے چھوڑا۔ میںنے اُن دونو کو اِس ڈبل مزے کے لِیے دھنیواد کہا اؤر کل اؤر چُدانے کا وادا کرکے میںنے اَپنے کپڑے پہنے اؤر کمرے سے نِکل کر چھت پر آ گئی۔ دھیرے سے نیچے آکر اَپنے کمرے میں آ گئی۔
آج میرا من سنتُشٹ تھا۔ آج میری چُوت اؤر گاںڈ دونوں کی پیاس بُجھ گئی تھی۔ میں اَب سونے کی تیّاری کرنے لگی

By Taha Gondal with No comments

0 comments:

Post a Comment

EMail : PkMasti@aol.com
Yahoo : Jan3y.J4na@yahoo.com