Thursday, November 3, 2011

گرم چوت والی گرم لڑکی کی چدائی

میں اَپنا پرِچے دینا چاہتا ہُوں میں وِکرم اُرپھ وِکّی ہُوں میری اُمر 26 سال ہے اؤر میں اُتّر پردیش کا رہنے والا ہُو۔ میرا باڈی پھِگر اَٹریکٹِو تو نہی کہ سکتے پر سمارٹ پھِگر کہ سکتے ہے اؤر میں سمارٹ بھی ہُوں اؤر لکی بھی ہُوں میرے لک (بھاگے) نے ہمیشا میرا ساتھ دِیا۔ اَب جیادا بور نا کرتے ہُئے میں آپسے اَپنی لائیپھ کے کُچھ ایکسپیرِیّنس آپ سے شیّر کرُوںگا۔ جِنہیں سچ مانّا ہے وو ویسی پڈھیں اؤر جِنہیں جھُوٹ لگے وو سِرف سٹوری کا لُتف لے۔

بات اُن دِنو کی ہے جب مینے ہائی سکُول پاس کِیا اؤر اِںٹر میں ایڈمِشن لینے کے لِئے کوشِش کر رہا تھا ہالاکِ میرے مارکس اَچّھے تھے پر میں جِس کالیج مے ایڈمِشن لینا چاہتا تھا اُسکے ہِساب سے کُچھ کم تھے۔ میرے سب دوست ایڈمِشن لے چُکے تھے پر میں اُسی کالیج میں ایڈمِشن لینا چاہتا تھا۔ ایک دِن میں پھارم سبمِٹ کرنے کی کوشِش کر رہا تھا…ّکِ ایک لڑکی میرے پاس آئی۔ اُسنے کہا، ہیلّو! “وِکّی”۔

تبھی میںنے اُدھر پلٹکر دیکھا ووہی آںکھیں ووہی سینا ووہی مُسکرتا چیہرا۔ اَب آپ سوچ رہے ہوںگے یے کؤن ہے اؤر کہاں سے آئی۔ تو یے ہے وو آج کی اِس سٹوری کی ہیروئین۔ جی شِپرا۔ درسل ہم لوگ کلاس تھرڈ سے ایک ساتھ سٹڈی کر رہے تھے ایک ہی سکُول میں۔ پر ہم لوگو میں کبھی بات نہی ہُئی، لیکِن آج اُسنے مُجھے ہیلو بولا، تو کُچھ دیر تک میرے مُہں سے کُچھ نہی نِکلا۔ پھِر اُسنے کہا - پھارم سبمِٹ کرنا ہے؟ مینے کہاں "ہاں"۔ تو اُسنے کہاں پھارم مُجھے دے دو اؤر میرے ساتھ آاو ۔ میں بِنا کُچھ بولے اُسکے پیچھے ہو لِیا۔ تب وو مُجھے سائیںس کے ڈِپارٹمیںٹ مے لے گیی اؤر اَپنے اَںکل سے مِلایا اؤر کہاں میں اِنکو پھارم دے دیتی ہُوں آپکا کام ہو جاّیگا۔ پر مینے کہاں میرے مارکس کُچھ کم ہے تو اَںکل نے کہاں کوئی بات نہی شِپرا تُمہے اَپروچ کر رہی ہے تو تُمہارا کام ہو جاّیگا۔

ہم لوگ ڈِپارٹمیںٹ سے باہر آئے تو میں شِپرا سے بولا شِپرا کو "دھنیواد " اُسنے کہاں کِس بات کے لِئے۔ میںنے کہاں تُمنے ایڈمِشن مے میری ہیلپ کی اِسلِئے۔ اُسنے کہاں ہم لوگ ایک دُوسرے کو کافی ٹائیم سے جانتے ہے۔ تو دوست ہے اؤر سچ پُوچھو میری سبھی پھریںڈس نے ایڈمِشن اَلگ اَلگ کالیج مے لِیا میں اَکیلی تھی یہاں۔ اَںکل کی وجہ سے میں یہاں ایڈمِشن لِیا لیکِن کوئی پرِچِت کا نا ہونے کی وجے سے میں چاہ رہی تھی کوئی ایسا ہو جِسے میں یہاں جانتی ہُون تاکِ کلاس اَٹیںڈ کرنے میں بورِںگ پھیل نا ہو۔ تبھی تُم مُجھے دِکھے اؤر میں آپکے مارکس جانتی تھی اِسلِئے مینے سوچا آپ دوست بھی ہے اؤر جِس تریکے سے آپ ایڈمِشن لے رہے ہیں ویسے تو ایڈمِشن ہونا نہی ہے۔ اِسلِئے میں اؤر آپکو اَپنے اَںکل کے پاس لے گیّ۔ تو ناُّ وی آر پھریںڈس۔ تب مینے اَپنا ہاتھ شیک کرنے کے لِئے اُسکی ترپھ بڈھایا اؤر کہا شیور ………وائی نوٹ۔

جب اِتنی باتیں ہم دونو کے بیچ میں ہو گیی تب مُجھمے کُچھ ہِمّت جاگی اؤر میں کہاں شِپرا کیا تُم میرے ساتھ کاپھی پینے چلوگی۔ اُسنے کہاں اَگر یے رِشوت ہے تو نہی اؤر اَگر ایک دوست دُوسرے دوست سے پُوچھ رہا ہیں تو شیور۔ میںنے کہا رِیلی ایک دوست دُوسرے دوست سے پُوچھ رہا ہے ۔ پھِر ہم لوگ کاپھی پینے گیے اؤر ڈھیر ساری پُرانی باتیں کی کیسے آج تک میں اِتنے سالوں سے اُسّے باتیں کرنا چاہتا تھا پر نا کر سکا۔ اِس پرکار ہم دونو میں دوستی ہُئی۔ جو پِچھلے 8 سالو سے سِرف ایک دُوسرے کو دیکھ رہے ہو باتیں نا کرتے ہو اؤر اَچانک وو اِتنی جلدی دوست بن جاتے ہیں۔ "ہیں نا لک"۔ اِسلِئے میں یے سب رامکتھا سُنائی آپ لوگو کو۔ چلو اَب اَگر آپ بور ہو گیے ہو تو زرا اَٹیںشن ہو جائے کیوںکِ اَب میں شِپرا کی جوانی کے بارے میں بتانے جا رہا ہُوں۔

درسل شِپرا ایک ناٹے کد کی ساولی لڑکی تھی۔ پھیس اُسکا نارمل تھا میرا متلب ایک جنرل گرل آم لڑکی کا۔ اُسکے باوجُود وو گُڈ لُکِںگ پھیس تھی۔ لیکِن اُسمے جو سبسے اَٹریکٹِو تھا وو اُسکے بُوبس (چُچِیا) اُس چھوٹے سے باڈی میں چھوٹی پھُٹبال جِتنے بڑے بُوبس۔ سچ بتاُّوں میں جب سے اُسے جنتا تھا، اُسکو کم، اُسکے بُوبس جیادا دیکھتا تھا۔ یے سِرف میں نہی کرتا تھا ہر وو لڑکا ٹیچر لڑکی کرتے تھے کی پھیس نہی بُوبس دیکھتے تھے۔ کیُوکی اُسکی باڈی میں اَگر کُچھ اَٹریکٹِو تھا تو وو تھے بُوبس۔ یے بُوبس ہی اُسے سیکسی ہاٹ اؤر مزیدار بناتے تھے۔ میں اَکسر کھیالو میں اُسکے بُوبس کو اَپنے ہاںتھو میں لیتا تھا پر کمبکھت آتے ہی نہی تھے۔

ایںٹر کی کلاسس سٹارٹ ہو گیی ہم دونو اَگل-بگل بیٹھتے تھے۔ اؤر سٹڈی کے ساتھ پھن بھی کرتے کیںٹین میں جاتے باتیں بھی کرتے اؤر ایک دُوسرے کے ساتھ مزاک بھی کرتے۔ پھِر میں اُسے کالیج سے اُسکے گھر اؤر گھر سے کالیج لانے لے جانے لگا۔ جب گھر سے وو نِکلتی اَکیلے میں کُچھ دُور پر اُسکا اِںتزار کرتا اؤر وو آکر میری موٹرسائیکل پر بیٹھ جاتی اؤر کالیج گھر جاتے ٹائیم میں اُسے گھر سے پہلے چھوڑ دیتا۔ ایک دِن اُسنے اَپنی جنمدِن میں مُجھے اَپنے گھر بُلایا اؤر سبسے مِلایا۔ مینے اُسکے ممّی اؤر پاپا کے چرن چھُئے اؤر اُسکی ایک بڑی سِسٹر تھی سُنیتا لیکِن اُسّے بِلکُل اَلگ پر ایک چیز سیم تھی مالُوم ہے کیا اُسکے بُوبس۔ شاید شِپرا سے بڑے کیوںکِ وو شِپرا سے دو سال بڑی تھی۔ اُس دِن سے میرا اُسکے گھر آنا جانا شُرُو ہو گیا۔ کُچھ دو یا تین مہینے نِکل گیے اِن سب میں۔ اَب میں کبھی کبھی سٹڈی کرنے بھی اُسکے گھر جانے لگا۔ میرا متلب کلوز ہو گیے ہمدونوں ایک دُوسرے کے۔ ہمنے کبھی "آئی لو یُو " نہی کہا ۔ کیوں ……یے بات پھِر کبھی…۔پر بتاُّوںگا زرُور۔

تو شاید اَب آپ لوگ پُوری تریکے سے سمجھ گیے ہوںگے۔ تو اَب میں اُس دِن کی بات بتانے جا رہا ہُوں جِسکے لِئے آپ نے اِتنا سارا پڑا اؤر مُجھے شاید گالی بھی دی ہوںگی۔ تو میرے بیسبر دوستو سبر رکھو۔ کیوںکِ سبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے۔ تو میں سٹارٹ کرتا ہُوں۔

اُس دِن سنڈے تھا جب میں اُسکے گھر گیا مینے کال بیل دبائی اَںدر سے کوئی آواز نہی آئی کُچھ دیر باد میں دُبارا بیل پُش کِیا۔ تبھی اَںدر سے مدھُر سی آواز آئی "کؤن ہے؟"…… میںنے کہا میں۔ّ۔ّ۔ّ۔۔ وِکّی۔ اُسنے کہاں ایک مِنٹ۔ میں دروازے کے باہر اِںتزار کرنے لگا اؤر کُچھ سوچنے جا ہی رہا تھا کی دروازا کھُلنے کی آواز آئی اؤر کھُل گیا پر دروازے پر کوئی نہی…ّ۔میں دیکھ ہی رہا تھا کی پھِر سے ووہی آواز آئی اَرے جلدی اَںدر آاو کیا وہی کھڑے رہوگے۔ میں جھٹ سے اَںدر گھُسا اؤر جیسے اَںدر گھُسا تبھی دروازا بںد ہونے کی آواز آئی اؤر میں پلٹا اؤر پلٹتے ہی دںگ رہ گیا…ّ۔ّوو بھیگے ہُئے بدن ایک گھُٹنو سے بھی اُوپر تک کے گاُّن سے ڈالے ہُئی تھی اؤر جاںگھو کے نیچے سے نںگے پیر…ّ۔وو جو نزارا تھا یا کوئی کیامت تھا وو کوئی اؤر نہی اَپنی پھِلم کی ہِروئین شِپرا تھی۔

اُسنے میری ترپھ دیکھا اؤر کہا تُم 5 مِنٹ ویٹ کرو میں بس اَبھی آتی ہُوں۔ اؤر مُجھے ہتپربھ وہی چھوڑ گیّ۔ میں کُچھ سمے کے باد نارمل ہُآ اؤر سوپھے پر بیٹھ گیا۔ کُچھ دیر باد ایک لو کٹ ٹی-شرٹ اؤر بلُو رںگ کی سکِن ٹائیٹ جینس پہنے ہُئے بھیگے بالوں کو پوچھتے ہُئے وو میرے سامنے آئی اؤر کہاں اَرے! کیا ہُآ ٹھیک سے بیٹھتے کیوں نہی ہو…ّ۔ّمینے اَپنے آپ کو ٹھیک کِیا اؤر نارمل درشانے کے لِئے پُوچھا آج کوئی دِکھ نہی رہا۔ شِپرا نے کہاں دِکھیںگے کیسے جب کوئی ہوگا تب نا۔ ممّی-پاپا اؤر دیدی سیتاپُر گیے ہے شادی اَٹیںڈ کرنے لیٹ نائیٹ آایںگے میرا من نہی تھا اِسلِئے نہی گیّ۔ میں اَںدر اَںدر بہُت کھُش ہُآ اؤر اَپنے اَںدر ہِمّت بھی آ گیّ۔ تو مینے کہاں تو آج تُم اَکیلی ہو۔ اُسنے کہا اَکیلے ؟، نہی تو، کِسنے کہا ؟ میں کہاں ممّی-پاپا اؤر دیدی سب چلے گیے پھِر کؤن ہے تُمہارے ساتھ۔ اُسنے کہاں تُم ہو نا…ّ۔ّمیرے مُہں سے زور سی ہںسی نِکل گیی…ّ۔ّاؤر وو بھی ہںس دی۔ اُسنے تبھی کہاں رِیلی میں اَبھی تُمہے فون کرنے والی تھی میں یہاں اَکیلی ہُوں تُم آ جاّوگے تو ساتھ بھی ہو جاّیگا، سٹڈی بھی ہو جاّیگی اؤر سمے بھی کٹ جاّیگا۔ اَچّھا تُم دو مِنِٹ بیٹھو میں کاپھی لے کے آتی ہُوں۔ میری نزر نا چاہتے ہُئے بھی بار بار اُسکے بُوبس کی ترپھ جا رہی تھی۔ بھیگے بالوں میں وو اِتنی سیکسی لگ رہی تھی کی ایک بری تو میرا لںڈ کھرا ہوتے ہوتے بچا…۔۔

آج میں شِپرا کی چُوچِیاں دبا کر ہی مانُوںگا چاہیں جو ہو جائے پر کیسے، کہیں چِلّا دی تو، اَرے نہی اِتنے سالوں سے جانتی ہیں نہی چِلّاّیگی۔ لیکِن اَگر کہیں بُرا مان گیی تو دوستی ٹُوٹ گیی تو…………۔پھِر کیا کِیا جائے کیسے شِپرا کی چُدائی کرُواُواُواُواُ، کُچھ سمجھ میں نہی آ رہا ہیں…ّمیں اِنہی خیالو میں ڈُوبا تھا کی شِپرا کی آواز آئی اَرے وِکّی کیا سوچ رہیں ہو…۔۔مُجھے جھٹکا لگا کیا بولُوں ، بولُوں کِ ن بولُوں۔ تبھی شِپرا کی دُبارا آواز میرے کانو میں پڑی وِکّی تبیّت تو ٹھیک ہیں…ّ۔مینے کہاں تبیّت ……۔۔تبیّت کو کیا ہُآ ٹھیک تو ہے…ّبس کُچھ سوچ رہا تھا۔ کیا سوچ رہے تھے شِپرا نے کہاں۔ میںنے کہاں، کُچھ کھاس نہی اؤر اُسکے ہاتھوں سے بڈھایا ہُآ کاپھی کا میگ لے لِیا اؤر سِپ لگایا۔ واکئی کاپھی بِلکُل شِپرا کی زوانی جیسی کڑک بنی تھی۔ تو مینے کہاں مُجھے نہی پتا تھا کِ تُم اِتنی اَچّھی کاپھی بنا لیتی ہوں۔ وو مُسکرائی اؤر کہاں ہاآّں کبھی-کبھی ورنا دیدی ہی بناتی ہے۔

اَب ہم لوگ کھاموش ہوکر کاپھی سِپ کر رہے تھے اؤر میری نزر شِپرا کے بُوبس کی ترپھ جا رہی تھی بار-بار لگاتار۔ میں کاپھی سِپ کرتا جاتا اؤر اُسکے بُوبس دیکھتا جاتا مُجھے یے بھی کھیال نہی رہا کی شِپرا جِسکے بُوبس میں دیکھ رہا ہُوں، وو میرے سامنے بیٹھیں ہی کاپھی سِپ کر رہی ہے۔ دوستو ایک بات بتاُّوں ہم لڑکے چاہیں جِتنی ہوشِیاری کیوں ن آتے ہو، پر لڑکِیوں کی نزروں سے نہی بچ سکتے، کی آپ کیا سوچ رہے ہو کیا دیکھ رہے ہو۔ وو لڑکی جو بچپن سے یے دیکھتی آ رہی ہو کِ لوگو کی نزر میری ترپھ کم میرے بُوبس کی ترف زیادا جاتی ہیں…ّ۔ّتو وو کیا سوچتی ہوگی…۔تبی اُسنے مُجھے ٹوکا وِکّی کیا دیکھ رہے ہو؟ اِس سوال نے میرا پسینا نِکال دِیا اؤر میں بِلکُل ہکلا گیا مینے کہاں کُچھ، کُچھ بھی تو نہی۔ لیکِن شِپرا آج کُچھ اؤر مُوڈ میں تھی تو اُسنے کہاں نہی کُچھ دیکھ رہے تھے………۔۔اُسکے کہنے کے اَںداز نے مُجھے اؤر ڈرا دِیا………۔اُسنے کہاں بولوں…ّ۔کیا دیکھ رہے تھے…ّمینے بری ہِمّت کرکے اُسکے دونو بُوبس کی ترف اِشارا کرتے ہُئے کہاں وُواُواُواُواُو دونو۔ شِپرا نے میری اُںگلِیوں کا اِشارا سمجھتیں ہُئے بھی کہاں میں سمجھی نہی مُہں سے بولوں کیا دیکھ رہے تھے………۔۔اَب مُجھے یے نہی سمجھ میں آیا کی میں کیا بولُوں …۔مینے کہاں سینا…۔دیکھ رہا تھا۔ شِپرا نے کہاں سینا، کیوں…۔۔سینے میں کیا ہے…ّاَب میں چُپ کیا بولُوں اُسنے پھِر کہاں اَرے! بولتے کیوں نہی ہو…۔۔تو مینے کہاں تُمہاری چُوچِیوں کو………………جِس پرکار ڈرتے ہُئے اُسکو مینے یے ورڈ بولا ……۔وو زور سے ہںس دی…ّ۔اؤر کہاں آریئیئیئیئی تو ڈر کیوں رہیں ہو کؤن آج پہلی بار تُم اِنہیں دیکھ رہے ہو یا کؤن سے پہلے تُم ہو جو اِسے دیکھ رہیں ہو دیکھنے والی چیز ہے سب دیکھتے ہیں…ّ۔ّتو تُم دیکھ رہیں ہو تو کیا اَپرادھ کر رہیں ہو…ّجب شِپرا نے یے ورڈس بولیں تب میری جان میں جان آئی اؤر مے مُسکرائے بگیر نہی رہا سکا…۔اؤر اَپنی جھیپ مِٹانے لگا۔

اُسی وکت شِپرا سامنے والے سوپھے سے اُٹھکر میرے بگل میں سٹکر بیٹھ گیی اؤر میرے ہاتھوں سے کاپھی کا میگ لے کر ٹیبل پر رکھ دِیا۔ اؤر میری آکھوں کی ترپھ دیکھنے لگی…ّ۔اؤر کہاں اَب دیکھوں جو دیکھنا ہے…۔۔ میری سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کی میں کیا کرُوں۔ تبھی اُسنے اَپنے ہوںٹھو کو میرے ہوںٹھو پر رکھ دِئے اؤر کہاں شاید اَب تُمکو دیکھنے میں آسانی ہوگی۔ اؤر زور سے میرے ہوںٹھوں کو چُوسنے لگی تھوری دیر میں میں گرما گیا اؤر میرے ہاتھ اُسکی چُوچِیوں کو دبانے لگے۔ اؤر اَب میں بھی اُسکے ہوںٹھوں کو چُوس رہا تھا۔ یے میری لائیپھ کا سبسے بڑا اؤر ہاٹ دِن تھا۔ آج سے پہلے مینے کبھی ایسا مہسُوس نہی کِیا تھا۔ دھیرے-2 ہم دونوں کی ساںسے گرم ہو رہی تھی اؤر میرے ہاتھوں کا دباو اُسکی چُوچِیوں پے بڈھتا ہی جا رہا تھا اؤر وو زور زور سے ساںسے لے رہی تھی۔ تبھی وو میرے بگل سے اُٹھ کر میرے اُوپر دونو گھُٹنوں کو موڑ کر اَپنے ہِپس کو میرے اُوپر رکھ کر میری ترپھ اَپنا سینا دِکھاتے ہُئے بیٹھ گیّ۔ میرے اُوپر چڑھ کر میرے ہوںٹھوں کوں بدستُور دبایے جا رہی تھی۔ مینے بھی اُسے اَپنی باہوں مے کس کر بھر لِیا اؤر اُسیکے رسیلیں ہوںٹھوں کو چُوسنے لگا جِس اَںداز سے وو میرے اُوپر بیٹھی تھی اُسّے اُسیکے ہِپّس کا پریسر میرے لںڈ پر پڑ رہا تھا۔ جِسکی وجہ سے میرا لںڈ ٹائیٹ ہونے لگا اؤر اُسکے ہِپس کو چھُونے لگا۔

شِپرا نے پُوچھا وِکّی یے میرے نیچے کڑا کڑا کیا لگ رہا ہیں مینے کہاں شِپرا یے میرا لںڈ ہیں۔ کیا مے اِسے دیکھ سکتی ہُوں، مینے کہا- ڈارلِںگ یے سِرف تُمہارے لِئے ہی ہے۔ اؤر وو سوپھے سے اُتّر کر نیچے زمین پر گھُٹنے کے بل بیٹھ گیی اؤر اَپنے ہاتھوں سے میری پیںٹ کے اُوپر سے ہی لںڈ پکڑ لِیا اؤر وو میری ترف دیکھتے ہُئے میرا لںڈ مسلنے لگی اؤر مینے بڑکر اُسکے ہوںٹھوں کو چُوم لِیا اؤر ہاتھوں سے میں اَب اُسکی ٹی-شرٹ اُتارنے لگا تو اُسنے اَپنے دونو ہاتھوں کو اُوپر کر دِیا اؤر مینے اُسکی ٹی-شرٹ اُتار دی۔ وو اَںدر برا میں اَپنے مِنی پھُوٹبال جِتنی چُوچِیاں چھُپا رکھی تھی۔ وو بِنا پرواہ کِئے میرے لںڈ کو پیںٹ کے اُوپر سے مل رہی تھی۔ مینے برا کے اُوپر سے اُن ہِمالے جِتنی وِشال چوٹِیا دیکھ کر دںگ ہو گیا جو کل تک میرے سپنا تھا آج ہقیقت بنکر میرے سامنے کھڑا تھا، جِنہیں دبانے کی میں کلپنا کِیا کرتا تھا آج میں اُنہیں رِیل میں دبا رہا ہُوں ۔۔ّ۔ّ۔ّ۔اؤر مینے اُنہیں کھُوب جمکر دبایا اُسکے باد اُسکی برا کھول دی دو اُچھالتی ہُئی گیںدے باہر آ گیی اُن چُوچِیوں کو میںنے قید سے آزاد کر دِیا اؤر وو اَب میرے سامنے سینا تانے کھڑی تھی۔ مینے شِپرا کو اَپنی گود میں بیٹھا لِیا اؤر اُسکی چُوچِیوں کو اَپنے مُںہ میں بھر لِیا اؤر دُوسری کو اَپنے ہاتھوں سے دبانے لگا۔ اَب شِپرا کے مُںہ سے سِسکارِیا نِکالنے لگی۔ّ۔ّ۔ّآّآّآآ اِیئیئیئیئیئیئی۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّاُسکا بدن اَںگاروں کی ترہ تپ رہا تھا۔

میرا لںڈ پیںٹ سے نِکلنے کے لِئے بیتاب ہو رہا تھا۔ مینے شِپرا سے کہا- جانُو اَب میرا ہتھِیار اَپنے ہوںٹھوں سے چُوسو اُسنے تُرںت میری پیںٹ کی زِپ کھول کر لںڈ باہر نِکال لِیا اؤر اُسے دیکھ کر میری ترف مُسکرائی اؤر اُسے چُوسنے لگی۔ میں سوپھے پر سے اُتر گیا اؤر پیںٹ پُوری اُتار دی اَب میرا پُورا لںڈ شِپرا کے سامنے تھا اؤر وو مزے سے چُوس رہی تھی۔ اَب مینے اَپنے بچے کپڈے اُتار دِئے اؤر شِپرا میرا لںڈ چُوسنے میں مست تھی اَب میںنے اُسکو کھڑا کرکے اُسے اَںپنی باںہوں میں بھر لِیا اؤر اُسکی جیںس اُتار دی وو بِلکُل نںگی میرے سامنے کھڑی تھی اؤرے میں اُس نںگے بدن کو نِہار رہا تھا۔

اُسکی گھاٹی پے اُگے چھوٹے چھوٹے بال بِلکُل پھُولو جیسا اَہساس دے رہے تھے مُجھے مینے تبھی ایک ہاتھ سے اُسکی چُوچی پکڑی اؤر دُوسرے ہاتھ کی اُںگلی اُسکی چُوت میں ڈال دِیا اُسکی چُوت بِلکُل گیلی ہو چُکی تھی اُسنے ہلکا ہلکا پانی چھوڑ دِیا تھا میںنے اَچّھی تریکے سے اَپنی اُوںگلی کو اُسکی چُوت میں ڈال دی دھیرے سے میںنے دو اُںگلی اُسکی چُوت میں ڈالی تو وو سِہر اُٹھی جب میری دونوں اُںگلِیاں چُوت کے پانی سے گیلی ہو گیی تو میںنے اُن دونوں اُںگلِیوں کو مُںہ میں ڈال لی پھرسٹ ٹائیم مُجھے جنّت کا اَہساس ہُآ اَب میںنے اُسے سوپھے پر لِٹا دِیا ہم دونوں پُوری تریکے سے نںگے ہو چُکے تھے جلدی کوئی تھی نہیں کیوںکِ اَبھی تو دوپہر تھی اؤر سبکو آنا تھا رات میں۔ میںنے اُسکے پُورے بدن کو اَپنی جیبھ سے چاٹنے لگا اؤر چُوچِیوں کو لگاتار دبا رہا تھا اُسکا بدن پُورے تریکے سے بھبھک رہا تھا وو گرم ہو چُکی تھی پُری تریکے سے میںنے اَپنی اُںگلِیوں سے اُسکی چُوت کو چود رہا تھا۔ اُسکے مُہں سے سِسکرِیا نِکل رہی تھی ہہّہّہّچھ اِیئیئیئیئیئیئیئیئے وِکّی اَب مُجھے چود دو مے برداست نہی کر پا رہی ہُوں۔

اَب میںنے اُسے اَپنے بدن کے اُوپر لیتا ہُآ سوپھے پر لیٹ گیا اؤر 69 کا کون بنا لِیا میںنے بہُت سی بلُو پھِلمس میں ایکٹر اؤر ایکٹریس کو اِس تریکے سے مزا لیتے دیکھا تھا اِسلِئے میںنے شِپرا کو بتایا اُسے کیا کرنا ہے وو میرا لیںڈ لیکر اُسے چُوسنے لگی اؤر میںنے اُسکی چُوت کو چاٹنے لگا میںنے اُسکی چُوت کو کبھی اُںگلِیوں سے تو کبھی جیبھ سے چود رہا تھا اُسّے رہا نہی گیا وو میرے لںڈ کو کھا جانے والی سٹایل سے چُوس رہی تھی اؤر میں اُسکی چُوت کو بڑے پیار سے جیبھ سے چود رہا تھا وو میرا لںڈ چُوسنا چھوڑ کر کہرارنے لگی اؤر میری ترف یاچنا کی نزر سے دیکھنے لگی جیسے کہ رہی ہو بس کرو وِکّی کھیلنا جو باںدھ ٹُوٹنے والا ہے اَب مُجھسے نہی رُک رہا ہے۔ّ۔ّ۔

تو میںنے اُسے اَب سوپھے پر لِٹا دِیا اؤر اَپنے لںڈ کا سُپاڈا اُسکی چُوت کے مُہں پر رکھ دِیا اؤر باہر سے ہی اُسکے اُوپر لںڈ کا لال والا ہِسّا جِسے سُپاڈا کہتے ہے رگڑنے لگا ہم دونوں کو ایک جلن سا اَہساس ہونے لگا جو کبھی تو ٹھںڈا لگتا اؤر کبھی بھٹّی کی ترہ گرم جب مُجھسے بھی رہا نہی گیا تب میںنے اَپنا لںڈ پکڑ کے اُسکی چُوت کے اَندر ڈالا لیکِن چُوت بہُت ٹائیٹ تھی میںنے تھوڑا جور لگایا تو شِپرا چِلّا اُٹھی۔ میںنے اُسکے ہوٹھوں پر اَپنے ہوٹھوں کو رکھ دِیا اؤر چُوسنے لگا کُچھ سیکیںڈ باد میںنے ایک جور کا دھکّا دھیرے سے دِیا تو میرا آدھا لںڈ چُوت میں چلا گیا اُسنے چیکھنا چاہا، پر میرے ہوٹھوں نے اُسکی چیکھ روک دی میںنے اُسکے ہوٹھوں چُوسنا بدستُور جری رکھا جب اُسے تھوڑا آرام مِلا تو ایک جور کا دھکّا اؤر لگایا کی چیکھ کے ساتھ ہی کھُون کی ایک دھارا بھی نِکل پڑی چُوت سے پر میںنے پرواہ نہی کی کیوںکِ یے تو ہوتا ہی جب نئی چُوت پھٹتی ہے۔

میںنے دھیرے دھیرے اَپنے لںڈ کو اَندر باہر کرنا شُرُ کِیا پہلے تو اُسکے مُہں سے آواجیں آتی رہی پھِر کُچھ دیر باد وو بھی اَپنی کمر اُٹھا اُٹھا کے میرا ساتھ دینے لگی۔ اَب ہمدونوں ہوا میں اُوڈ رہے تھے کمر ایک تال میں چل رہی تھی جب میںنے دیکھا شِپرا کو اَب کوئی درد نہی ہے تو ہمنے اَپنی سٹایل کو بدل کر کے ڈاگ سٹائیل میں آ گئے میںنے اُسے پیچھے سے کھڑا کرکے چود رہا تھا اؤر ایک ہاںتھ سے اُسکے بال پکڈے ہُئے اؤر ایک ہاتھ سے اُسکی چُوچی دبا رہا تھا اؤر اَپنے لںڈ سے شِپرا کی چُوت چود رہا تھا اؤر شِپرا کے مُہں سے آواجیں آ رہی تھی اُسے لںڈ پہلی بار کھا رہی تھی اِسلِئے شور مچا رہی تھی پر میںنے پرواہ کِئے بگیر اُسے چود رہا تھا۔ تبھی شِپرا کو بدن میں جھٹکا لگا اؤر وو ڈھیلی ہو گئی میںنے دُبارا اُسے جلدی سے تیّار کِیا اؤر اَبکی اُسے اَپنی گود میں لیکر چودا اُس دِن ہمنے ایک دُوسرے کو کئی بار چودا وو دِن میری لائیپھ کا سبسے ہسیں پل تھا۔ مُجھے میری جوانی کا اَہساس شِپرا نے ہی کرایا تھا۔ّ۔ّ۔ّ۔ّہم دونوں نے پھرسٹ ٹائیم جنّت کی سیر کی۔ اُسکے باد ہم دونوں ایک ساتھ باتھرُوم میں شاور لِیا اؤر کافی پینے بیٹھ گئے۔ میںنے شِپرا کو آج کے لِئے تھیںکس کہا تو شِپرا نے مُسکرایا اؤر کہا نہی وِکّی تُم نہی جانتے آج میںنے تُمسے کیا پایا اِسکا اَگر تُمہے اَہساس ہوتا تو تُم مُجھے تھیںکس ن کہتے بلکِ مُجھے تُمہے تھیںکس کہنا چاہِئے پھِر تھوڈی دیر ہم لوگو نے نورمل ہونے کے لِئے کُچھ اِدھر اُدھر کی باتیں کی اؤر دُبارا اِسی تریکے سے مؤکا مِلنے پر ایک دُوسرے کو چودنے کا وادا کِیا!

اُسکے باد تو ہم لوگو کو کئی مؤکے مِلے اؤر ہمنے بھرپُور پھایدا اُٹھایا۔ ہم لوگ آپس میں اِتنے پاس آ گئے تھے تو آپس میں اَشلیل ہرقت کرنے سے نہی چُکتے اؤر شاید شِپرا کی بڑی سِسٹر کو ہماری ہرقتو کی بھنک لگ گئی تھی اُسے کُچھ ڈاُّٹ رہتا تھا اِسلِئے ن جانے کیوں وو ہمدونو کو اَلگ نہی چھوڑتی تھی۔ یے سٹوری آگے بتاُّوںگا۔ّ۔ّ۔ّتو دوستوں آپکو میرا پھرسٹ ایکسپیرِیّںس کیسا لگا؟ اَگر اَچّھا لگا تو مُجھے جرُور لِکھیں اؤر ہاں پاٹھک چاہے میل ہو یا پھیمیل- کمیںٹس لِکھنا جرُوری ہے ۔اِس سٹوری میں کُچھ گلتی یا کمی ہو تو جرُور لِکھیں۔ آپنے میری سٹوری پڑی اِسکے لِئے شُکرِیا مے جلدی اَپنا ایک دُوسرا ایکسپیرِیّںس آپ لوگو کے بیچ جلدی لے کر آاُوںگا

By Taha Gondal with 1 comment

1 comments:

Boht Hi Zaberdest Hai :)

Call Me On My Number :) 03015194008

Email :) pkMasti@aol.com

Post a Comment

EMail : PkMasti@aol.com
Yahoo : Jan3y.J4na@yahoo.com