Thursday, January 12, 2012

موٹا لنڈ اور بھوکی چوت

سبھی دوستوں کو میرا سادر پرنام اؤر پیاری بھابھِیوں اؤر کُںواری !! چُوت والِیوں کو میرے لںڈ کا پرنام۔ میں آپکو اَپنے جیون کی راس لیلا سُنانے جا رہا ہُوں ۔ دوستوں میں دیو اِںڈِیا کے دِل مدھے پردیش کے ساگر کا رہنے والا ہُوں۔ میری اُمر 38 سال رںگ گورا مجبُوت کد-کاٹھی اؤر 6"4" لمبا ہُوں۔ مُجھے مجلُوم کی مدد کرنے میں بڑی راہت مِلتی ہے اؤر نرم دِل ہُوں۔

جیسا کی اَکسر کہانِیو میں ہوتا ہے کِ کہانی کا کیریکٹر کے اَپھِس کی دوست یا پڑوسن یا رِشتیدار والی کوئی بُر (جِسکو میں پیار سے مُنِیا کہتا ہُوں ) مِل جاتی ہے اُسے تُرنت چودنے لگتا ہے، پر ہکیکت اِسّے کہی اَدھِک جُدا اؤر کڑوی ہوتی ہے ایک چُوت چودنے کے لِئے بہُت میہنت کرنی پڑتی ہے ایسی ایک کوشِش کی یہ کہانی ہے۔

ہمارا شہر ساگر پراکرتِک سُندرتا اؤر ہِلس سے گھِرا ہُآ ہے۔ یہ ایک بہُت ہی سُںدر لیک ہے اؤر یہاں کے لوگ بہُت ہی سںتُشٹ اؤر سیدھے سادے ہیں۔ پر یہاں کی مہِلایّں بہُت چُدکّڑ ہے یہ میںنے بہُت باد میں جانا۔ میں کرِکیٹ اؤر پھُٹبال کا نیشنل پلیّر رہا ہُوں اِس کارن سے اَپنے ایرِیا میں بہُت مشہُور تھا اؤر سُںدر کد کاٹھی اؤر رُوپ رںگ گورا ہونے کے کارن ہیںڈسم بھی دیکھتا تھا۔ لیکِن مُجھے اَپنے لنڈ کی پیاس کِسی ن کِسی کے بارے میں سوچ کر اؤر اَپنی مُٹّھ مار کر یا اَپنا تکِیے کو چودکر بُجھانی پڑتی تھی میں اَپنی ہیلپِںگ ہبِّٹس کے کارن بھی بہُت مشہُور تھا اؤر سبھی مُجھے پیار بھی اِسیلِئے بہُت کرتے تھے۔

میرے گھر کے سامنے گراُّںڈ ہے جہا میں کھیلتے ہُئے بڑا ہُآ اؤر اَپنے سبھی سپنے سنجوئے۔ ایک دِن ہم کُچھ دوست مورنِںگ ایکسرسائیج کرکے آ رہے تھے تبھی سامنے سے آتی ہُئی 3 لڑکِیوں پر نزر پڑی۔ اُنمے سے دو کو میں چیہرے سے تو جانتا تھا کِ وو میرے گھر کے آس پاس رہتی ہے۔ تیسری سے بِلکُل اَنجان تھا اؤر وو کوئی خاس بھی نہیں تھی۔ ہم دوست اَپنی باتوں میں مست دؤڑ لگاتے ہُئے جیسے ہی اُنکے پاس پہُچے تو بیچ والی لڑکی میرے کو بہُت پسںد آئی۔ مے سِرف بنِیان اؤر نیکّر میں تھا تو میرے سارے مسّلس دِکھائی دے رہے تھے جِسّے شاید وو تھوڈی اِمپریس ہُئی اُسنے بھی مُجھے بھرپُور نزر دیکھا۔ میرا دھیان اُس لڑکی پر لگا ہونے سے میں نیچے پتّھر نہی دیکھ پایا اؤر ٹھوکر کھاکر گِر پڑا وو تینو لڑکِیاں بہُت جوروں سے ہںس پڑی اؤر بھاگ گئی۔ مُجھے گھُٹنوں اؤر سر میں بہُت چوٹ لگی تھی کافی کھُون بہا تھا اِس کارن مے کُچھ دِن اَپنی مورنِںگ ایکسرسائیج کے لِئے دوستوں کے پاس نہی جا پایا۔

ٹھںڈوں کا مؤسم چل رہا تھا ہمارے موہلّے میں ایک شادی تھی۔ میری ہر کِسی سے اَچّھی پٹتی تھی اِسلِئے میرے بہُت سارے دوست ہُآ کرتے تھے۔ اُس شادی میں میں اَپنے اُوپر ایک جِمّیدار پڑوسی کی بھُومِکا نِبھاتے ہُئے بہُت کام کر رہا تھا۔ اؤر مے جیاداتر مہِلاّوں کے آس پاس مںڈراتا کِ شاید کوئی پٹ جائے یا کوئی لِںک مِل جائے مُنِیا رانی کو چودنے یا درشن کرنے کے۔ پر کِسمت خراب۔ کوئی نہی مِلی۔ مُجھ سے کِسی کھنکتی آواج نے کہا " سُنِئے آپ تو بہُت اَچّھے لگ رہے ہے آپ اؤر بہُت میہنت بھی کر رہے ہے یہاں "

میںنے جیسے ہی مُڑکر دیکھا تو وو ہی بیچ والی لڑکی جِسکو دیکھکر مے گِرا تھا اؤر جِسکے کارن میرے سر پر اَبھی بھی پٹّی بںدھی ہُئی تھی جِسمے 3 ٹاںکے لگے ہُئے تھے اؤر گھُٹنے کا بھی ہال کُچھ اَچّھا نہی تھا۔ّ۔ میںنے دیکھا وو کھڑی مُسکُرا رہی تھی۔ میںنے کہا "آ آپ ۔۔ّ۔۔ آپنے میرے سے کُچھ کہا"

" نہی یہاں ایسے بہُت سارے لوگ ہے جو میرے کو دیکھ کر روڈ پر گِرکر اَپنا سر فُڑوا بیٹھے" وو اَپنی سہیلِیوں سے گھِری چہکتی ہُئی بولی۔

" آپ لوگ تو ہںس کر بھاگ گئی۔ّ۔۔ میرے سر اؤر پیر دونوں میں بہُت چوٹ لگی تھی" میںنے کہا

میرے ہی موہلّے کی ایک لڑکی جیوتِ جِسے مے پہلے پٹانے کی کوشِش کر چُکا تھا پر وو پٹی نہیں تھی بلکِ میری اُسّے لڈائی ہو گئی تھی۔ جیوتِ نے میرے سے مُہ چِڑاتے ہُئے کہا اِنکو " چچچ چچ چھک ۔۔۔ اَرے!! اَرے!! بیچارا۔ّ۔ّ۔ دیو بھیّا اَبھی تک کوئی مِلی نہی تو اَب لڑکِیوں کو دیکھ کر سڑکوں پر گِرنے لگے " اؤر کھِل کھِلا کر ہںس دی ۔۔ّ۔۔

میںنے جیوتِ کے کئی سپنے دیکھے مے جیوتِ کو اَپنی گاڑی پر بِٹھاکر کہی لے جا رہا ہُوں اُسکے دُودھ میری پیٹھ سے چھُ رہے ہے وو میرے لںڈ کو پکڑ کر موٹرسائیکِل پر پیچھے بیٹھی ہے اُسکے بُوبس ٹچ ہونے سے میرا لںڈ کھڑا ہو جاتا ہے تو مے دھامونی روڈ کے جںگل مے گاڑی لے جاتا ہُوں جہا اُسکو گاڑی سے اُتار کر اَپنے گلے سے لِپٹا لیتا ہُوں اُسکے لِپس، گردن بُوبس پر کِس کر رہا ہُوں اؤر اُسکے ممّے دبا رہا ہُوں ساتھ ہی ساتھ اُسکی مُنِیا(بُر) کو بھی مسل رہا ہُوں وو پہلے تو ن نُکر کرتی ہے لیکِن جب مے اُسکی مُنِیا اؤر بُوبس اُسکے کپڈوں کے اُوپر سے کِس کرتا ہُوں اؤر اُسکی سلوار کھول کر اُسکی پیںٹی کے اُوپر سے ہی اُسکی پیشاب کو چاٹنے لگا جیوتِ بھی سیئی ہیئی ییہ کیا کر رہے ہو۔ّ۔ّ۔ّ۔۔ میں جل رہی ہُوں مُجھے کُچھ ہو رہا ہے ۔۔ّ۔ّ۔۔ کہ رہی ہے اؤر مے جیوتِ کو وہیں جھاڈِیوں میں جمین پر لِٹاکر چودنے لگتا ہُوں۔ پہلے جیوتِ کا پانی چھُوٹتا ہے پھِر میرا۔۔ جب کھواب پُورا ہُآ تو دیکھا لںڈ میرا میرے ہاتھ میں جھڑ چُکا ہے اؤر مُٹّھی مارنے سے لںڈ لال ہو گیا ہے

مُجھے بہُت بُرا لگا جیوتِ کے تانوں سے میری بے-اِجزتی ہُئی تھی وہاں سے میںنے اِن دونوں کو سبک سِکھانے کا ٹھان لِیا۔ میںنے گُلاب جامُن کا شیرا اُسکی بیٹھنے والی سیٹ پر لگا دِیا جِسّے اُسکی سفید ڈریس خراب ہو گئی اؤر وو این مؤکے پر گندی ڈریس پہنے یہاں وہاں گھُومتی رہی اؤر لوگ اُسے کُچھ ن کُچھ کہتے رہے ۔ پر اُسکا چیہرا جیوں کا تیوں تھا ۔۔ میںنے جیوتِ کو اُسکے ہال پر چھوڑ کر اَپنے ٹارگیٹ پر کنسنٹریٹ کرناُّچِت سمجھا

مے اُسّے جان پہچان کرنا چاہتا تھا جب سے اُسکو دیکھا تھا اُسکے بھی نام کی کئی مُوٹھ ماری جا چُکی تھی اؤر تکِیے کا کونا چودا جا چُکا تھا۔۔ میرا تکِیے کے کونے میرے سپیرمس کے کارن کڑک ہونا شُرُو ہو گئی تھے۔ پر کوئی لڑکی اَبھیتک پٹی نہیں تھی۔

اِسبار میںنے ہِمّت کرکے اُسکا نام پُوچھ لِیا۔ جہا وو کھانا کھا رہی تھی وہیں چلا گیا اؤر پُوچھا "آپ کیا لیںگی اؤر۔ّ۔ّ۔ کُچھ لاُّوں سویٹس یا سپیشل آئیٹم آپکے لِئے۔ّ۔

بھیڑ بہُت تھی اُس شادی میں وو میرے پاس آ گئی اؤر چُپچاپ کھڑی ہوکر کھانا کھانے لگی۔ میںنے اُسکو پُوچھا "آپ اِس ڈریس میں بہُت سُںدر لگ رہی ہے۔۔ میرا نام دیو ہے آپکا نام جان سکتا ہُوں۔ّ۔" پھِر بھی چُپ رہی وو اؤر ایک بار بڑے تیکھے نین کرکے دیکھا۔ ہلکے سے مُسکُراتے ہُئے بولی" اَبھی نہی سِرف ہال چال جانّا تھا سو جان لِیا"

میںنے اُسکا نام وہیں اُسکی سہیلِیوں سے پتا کر لِیا اؤر اُسکا ایڈریس بھی پتا کر لِیا تھا۔ اُسکا نام مینُو تھا۔ وو میرے گھر کے ہی پاس رہتی تھی۔ پںجابی پھیمِلی کی لڑکی تھی۔ سِںپل سوبر چھرہری دِکھتی تھی۔ اُسکی لمبائی میرے لایک پھِٹ تھی اُسکے بُوبس تھوڑے چھوٹے 32 کے کریب ہوںگے اؤر پتلا چھرہرا بدن تیکھے نین-نکش تھے اُسکے۔ وو میرے من کو بہُت بھا گئی تھی۔ شادی سے لؤٹ کے میںنے اُس رات مینُو کے نام کے کئی بار مُٹّھ ماری۔ مے اُسکو پٹانے کا بہُت اَوسر کھوجا کرتا تھا وو میرے گھر کے سامنے سے روج نِکلتی تھی پر ہم بات نہی کر پاتے تھے۔ ایسا ہوتے ہوتے کریبن 1 سال بیت گیا۔

ایک بار مے دِلّی جا رہا تھا گوںڈوانا ایکسپریس سے۔ سٹیشن پر گاڑی آنے میں کُچھ دیر باکی تھی شادِیوں کا سیزن چل رہا تھا کافی بھیڑ تھی۔ میرا رِزرویشن سلیپر میں تھا۔ تبھی مُجھے مینُو دِکھی، ساتھ میں اُسکا بھائی اؤر سبھی پھیمِلی میمبیرس بھی تھے۔ اُسکے بھائی سے میری جان پہچان تھی سو ہم دونوں بات کرنے لگے۔ میںنے پُوچھا "کہا جا رہے ہو" تو بولے "مؤسی کے یہاں شادی ہے دِلّی میں وہیں جا رہے ہے"۔

مُجھ سے پُوچھا " دیو جی آپ کہا جا رہے ہو"

میںنے کہا " دِلّی جا رہا ہُوں تھوڑا کام ہے اؤر ایک دوست کی شادی بھی اَٹینڈ کرنی ہے"

اِتنے میں ٹرین آنے کا اَنؤںسمیںٹ ہو چُکا تھا۔ اُنکے ساتھ بہُت سامان تھا، میرے ساتھ سِرف ایک ایّر بیگ تھا اُنہوںنے میرے سے سامان گاڑی میں چڈھانے کی ریکُایسٹ کری گاڑی پلیٹپھورم پر آ چُکی تھی یاتری اِدھر اُدھر اَپنی سیٹ تلاشنے کے لِئے بیتہاشا بھاگ رہے تھے بہُت بھیڑ تھی۔ مینُو کے بھائی نے بتایا کی اِسی کوچ میں چڈھنا ہے تو ہم پھٹاپھٹ اُنکا سامان چڈھانے میں بیجی ہو گئے۔ اُنکا سامان گاڑی کے اَںدر کرکے اُنکی سیٹس پر سامان ایڈجسٹ کرنے لگا میںنے اَپنا بیگ بھی اُنہی کی سیٹ پر رکھ دِیا تھا مُجھے اَپنی سیٹ پر جانے کی کوئی ہڑبڑی نہی تھی کیوںکِ بینا جںکشن تک تو گوںڈوانا ایکسپریس میں اَپنی سیٹ کا رِزرویشن تو بھُول جانا ہی بیہتر ہوتا ہے۔ کیوںکِ ڈیلی پیسینجرس بھی بہُت ٹریول کرتے ہے اِس ٹرین سے سو مے اُنکا سامان ایڈجسٹ کرتا رہا۔

گاڑی ساگر سٹیشن سے روانا ہو چُکی تھی۔ مے پسینے میں تربتر ہو گیا تھا۔ اَب تک گاڑی نے اَچّھی کھاسی سپیڈ پکڑ لی تھی۔ مینُو کی پُوری پھیمِلی سیٹ ہو چُکی تھی اؤر اُنکا سامان بھی۔ گاڑی بینا 9 بجے رات کو پہُچتی تھی اؤر پھِر وہا سے دُوسری گوںڈوانا میں جُڑ کر دِلّی جاتی تھی۔ اِسلِئے بینا میں بھیڑ کم ہو جاتی ہے۔ مے سبکا سامان سیٹ کرکے تھوڑا چین کی ساںس لینے کمپارٹمینٹ کے گیٹ پر آ گیا پھِر ساتھ کھڑے ایک مُساپھِر سے پُوچھا "یہ کؤن سا کوچ ہے " اُسنے گھمںڈی سا رِپلائی کرتے ہُئے کہا ایس 4۔۔ّ۔ تُمہیں کؤن سو چھانے ( آپکو کؤن سا کوچ چاہِئے)" "اَرے گُرُ جوئی چانے تھو ۔۔ّ۔ جؤن میں ہم ٹھاڈے ہے ۔۔ّ۔۔ (بُندیلکھںڈی) (یہی چاہِئے تھا جِسمے ہم کھڑے ہے)"

میںنے اَپنی ٹِکیٹ پر سیٹ نمبر اؤر کوچ دیکھا تو یہی کوچ تھا جِسمے مینُو تھی بس میری برتھ گیٹ کے بگل والی سبسے اُوپر کی برتھ تھی۔ بینا میں میںنے ہلکا سا ناشتا کِیا اؤر گھُومنے پھِرنے لگا۔ مُجھے اَپنے بیگ کا بِلکُل بھی کھیال نہی تھا۔ بِنا سے گاڑی چلی تو ٹھنڈ تھوڈی بڈھ گئی تھی مُجھے اَپنے بیگ کا کھیال آیا۔ مے اُنکی سیٹ کے پاس گیا تو میںنے "پُوچھا میرا بیگ کہا رکھ دِیا۔" مینُو کی کجِن بولی " آپ یہاں کوئی بیگ نہی چھوڑ گئے آپ تو ہمارا سامان چڈھوا رہے تھے اُس سمے آپکے پاس کوئی بیگ نہی تھا" جبکِ مُجھے کھیال تھا کی میںنے بیگ مینُو کی سیٹ پر رکھا تھا۔ وو لوگ بولی کی آپکا بیگ ساگر میں ہی چھُوٹ گیا لگتا ہے۔

میںنے کہا کوئی بات نہی۔ اُنہوںنے پُوچھا کِ آپکی کؤن سی برتھ ہے میںنے کہا اِسی کوچ میں لاسٹ والی۔ مینُو کی ممّی بولی "بیٹا اَب جو ہو گیا تو ہو گیا جانے دو ٹھنڈ بہُت ہو رہی ہے ایسا کرو میرے پاس ایک کمبل ایکسٹرا ہے وو تُم لے لو"

میںنے کہا "جی کوئی بات نہیں مے مینیج کر لُوںگا"

" ایسے کیسے منیج کر لوگے یہاں کوئی مارکیٹ یا گھر تھوڑے ہی کِسی کا جو تُمکو مِل جاّیگا ٹھنڈ بہُت ہے لے لو" مینُو کی ممّی نے کہا۔

"مُجھے نیںد ویسے بھی نہیں آنا ہے رات تو ایسے ہی آںکھوں میں ہی کٹ جایّگی۔۔" میںنے مینُو کی اَر دیکھتے ہُئے کہا۔ مینُو بُرا سا مُہ بنکے دُوسرے ترف دیکھنے لگی۔

ٹرین اَپنی پُوری رپھتار پر دؤڈی جا رہی تھی۔ مُجھے ٹھنڈ بھی لگ رہی تھی تبھی مینُو کی ممّی نے کمبل نِکالنا شُرُو کِیا تو مینُو نے پہلی بار بولا۔ رُکو ممّی مے اَپنا کمبل دے دیتی ہُوں اؤر مے وو والا اوڈھ لُوںگی۔ مینُو نے اَپنا کمبل اؤر بِچھا ہُآ چادر دونوں دے دی۔ّ۔ّ۔ مُجھے بِن ماںگے مُراد مِل گئی کیوںکِ مینُو کے شریر کی کھُشبُو اُس کمبل اؤر چادر میں سماں چُکی تھی۔ مے پھٹاپھٹ وو کمبل لیکر اَپنی سیٹ پر آ گیا

۔۔۔ مُجھے نیںد تو آنے والی نہیں تھی آںکھوں میں مینُو کی مُنِیا اؤر اُسکا چیہرا گھُوم رہا تھا۔ مے مینُو کے کمبل اؤر چادر کو سُوںگھ رہا تھا اُسمے سے کاپھی اَچّھی سُںگںدھ آ رہی تھی۔ میں مینُو کا بدن اَپنے شریر سے لِپٹا ہُآ مہسُوس کرنے لگا اؤر اُسکی کلپنوں میں کھونے لگا۔۔ مینُو اؤر مے ایک ہی کمبل مے نںگے لیٹے ہُئے ہے مے مینُو کے بُوبس چُوس رہا ہُوں اؤر وو میرے مست لؤڈے کو کھِلا رہی ہے۔ میرا لںڈ مے جوانی آنے لگی تھی جِسکو مے اَپنے ہاتھ سے سہلاتے ہُئے آںکھے بںد کِئے گوںڈوانا ایکسپریس کی سیٹ پر لیٹا ہُآ مینُو کے شریر کو مہسُوس کر رہا تھا۔

جیسے جیسے میرے لںڈ مے اُتّیجنا بڈھتی جا رہی تھی ویسے ویسے مے مینُو کے شریر کو اَپنے کمبل میں اَپنے ساتھ مہسُوس کر رہا تھا۔ اِدھر ٹرین اَپنی پُوری رپھتار پر تھی مے مینُو کے بُوبس پریس کرتے ہُئے اُسکے کلِٹورِس( چُوت کے دانے) کو مسل رہا تھا اؤر اُسکے لِپس اؤر گردن پر لِک کرتا ہُآ مینُو کے ایک-ایک نِپّل کو باری باری چُوس رہا تھا۔۔ اِدھر مینُو بھی کہ رہی تھی اَہّہ ہہ سیئیئیئی اومّم مم بہُت اَچّھا لگ رہا ہے مے بہُت دِن سے تُمکو چاہتی ہُوں دیو ۔۔ّ۔ّ۔۔ جبسے تُمکو دیکھا ہے مے روج تُمہارے نام سے اَپنی چُوت کو اُوںگلی یا مومبتّی سے ۔۔ّ۔ّ۔ چودتی ہُوں ۔۔ّاُم م ۔۔ّ۔۔ آ اَ اَ اَ ۔۔ّ۔ تُمہارا لںڈ تُمہارے جیسا مست ہے اُم م م م بِلکُل لمبا چوڈا دیو ۔۔ّ۔ اُم م م آ اَاَ اَآ جلدی سے میری چُوت میں اَپنا لنڈ گھُسا دو اَب سہن نہی ہو رہا اُ مم م آیا اَ اَ اَ اؤر مے ایک جھٹکے میں مینُو کی بُر میں لںڈ پیل کر دھکّے مارنے لگا ٹرین کی رپھتار کی ترہ کے دھکّے ۔۔۔ پھٹاپھٹ جیسے مینُو جھڑ رہی ہو اُم مم دیو ۔۔ّ۔ّ۔میری بُر ر ۔۔۔ سی پیشاب۔ّ۔۔ نِکلنے والی ہی تُمہارے لںڈ نے مُجھے مُوتا دِیا میری پہلی چُدائی بڑی جبردست ہُئی اُم م آ اَ اَ جیسے ہی مینُو جھڈی میں بھی جھڑنے لگا مے بھُول گیا کی مے ٹرین مے ہُوں اؤر سپنے مے مینُو کو چؤدتے ہُئے مُٹّھ مار رہا ہُوں اؤر میں بھی آ آیا۔ّ۔۔ ہا ہ مینُو۔ّ۔ اُواُو مجا آ گیا مے کب سے تُمکو چودنا چاہتا تھا کہتے ہُئی جھڑنے لگا اؤر بہُت سارا پانی اَپنے رُمال میں نِکال کُچھ مینُو کے چادر میں بھی گِر گیا۔

جب مے شاںت ہُآ تو میرے ہوش واپِس آئے اؤر میںنے دیکھا کِ مے تو اَکیلا ٹرین مے سپھر کر رہا ہُوں۔۔ شُکر ہے سبھی ساتھی یاتری اَپنی اَپنی بیرتھس پر کمبل اوڈھ کر سو رہے تھی۔ ٹھنڈ بہُت تیز تھی اُس پر گیٹ کے پاس کی برتھ بہُت ٹھںڈی لگتی ہے اَب مُجھے پیشاب جانے کے لِئے اُٹھانا تھا مے ہاپھ پیںٹ میں سپھر کرتا ہُوں تو مُجھے جیادا دِکّت نہی ہُئی۔۔ اَب تک رات کے 1۔30 بج چُکے تھے مے جیسے ہی نیچے اُترا تو مُجھے لگا جیسے مینُو کی سیٹ سے کِسی نے مُجھے رُکنے کا سںکیت کِیا ہو مینُو کی سیٹ کے پاس کوچ کے سبھی یاتری گہری نیںد مے سو رہے تھے اؤر ٹرین اَبھی 1 گھںٹے کہی رُکنے والی نہی تھی۔ میںنے دیکھا مینُو ہاتھ مے کُچھ لِئے آ رہی ہے۔۔ میرے پاس آکر بولی "بُدھُو تُم اَپنا بیگ نہیں دیکھ سکے مُجھے کیا سںبھالوگے" ٹھںڈ میں ٹھِٹھُرتے ہو ۔۔۔"

میںنے اُسکی بات پر دھیان نہی دِیا اُسنے کیا میسیج دے دِیا مے رِپلائی دِیا " میں تُمہارے کمبل مے تُمہاری کھُشبُو لیکر مست ہو رہا تھا" مے اَپنے لںڈ کے پانی سے بھرا رُمال اَپنے ہاتھ مے لِئے تھا۔ جِسکو دیکھ کر وو بولی "یہ کیا ہے" میںنے کہا " رُمال ہے"۔

"یہ گیلا کیوں ہے" مینُو نے پُوچھا " ایسے ہی۔ّ۔ تُمہارے کارن ۔۔۔ کہ کر میںنے ٹال دِیا۔ّ۔ّ۔

مینُو نے پُوچھا "میرے کارن کیسے۔ّ۔ّ۔۔" پھِر مُجھے دھیان آیا کی اَبھی اَبھی مینُو نے مُجھے کُچھ میسیج دِیا ہے۔ّ۔۔

میںنے مینُو کو گیٹ کے پاس سٹایا اؤر اُسکی آںکھوں مے دیکھتے ہُئے اُسکو کہا مینُو آئی لو یُو اؤر اُسکے لِپس اَپنے لِپس میں بھر لِئے اُسکے ممّے پر اؤر گاںڈ پر ہاتھ پھیرنے لگا۔ مینُو بھی میرا کِس کا جواب دے رہی تھی۔ّ۔ّ۔

مے مینُو کے دُودھوں کی درار مے چُوسنے لگا تھا اؤر بُوبس کو دبا رہا تھا۔ّ۔ میرا لںڈ جو آدھا بیٹھا تھا فِر سے تاکت بھرنے لگا اؤر اُسکے پیٹ سے ٹکرانے لگا۔۔ مینُو میرے سے بولی آئی لو یُو ٹُو۔۔ اِدھر کوئی دیکھ لیگا جلدی سے اِںٹر کنیکٹ کوچ کی اؤر اِشارا کر کے کہنے لگی اُس کوچ کے ٹایلیٹ میں چلو ۔۔ّ۔۔

ہم دونوں ٹایلیٹ میں گھُس گئے۔ّ۔۔ ٹایلیٹ کو لاک کرتے ہی مے اُسکو اَپنے سے لِپٹا لِیا اؤر پاگلوں کی بھاتِ چُومنے لگا۔۔ مینُو مے تُمسے بہُت پیار کرتا ہُوں اؤر تُمکو دِلو جان سے چاہتا ہُوں۔ّ۔ّ۔۔

ہاں! میرے راجا دیو مے بھی تُمہارے بِنا پاگل ہو رہی تھی۔ّ۔ّ۔ جانتے ہو یہ پروگرام کیسے بنا دِلّی جانے کا ۔۔ّ۔ّمیرے آنے کا مے تُمہارے گھر آئی تھی ممّی کے ساتھ تُمہاری ممّی اؤر میری ممّی سںکٹ موچن مندِر پر راماین مںڈل کی میںبر ہے۔۔ تو اُنہوںنے بتایا کی دیو کو پرسوں دِلّی جانا ہی تو وو نہی جا سکتی اُنکے ساتھ۔ تب میںنے بھی ممّی کو پروگرام بنّے کو کہ دِیا میںنے کہا یہ کہانی چھوڑو اَبھی تو مجا لو

میںنے اُسکو کموڈ شیٹ پر بِٹھا دِیا اؤر اُسکے پیر سے لیکر سر تک کپڈوں کے اُوپر سے ہی چُوسنے چُومنے لگا۔ّ۔ّ۔ میںنے اُسکی چُوت پر ہاتھ رکھا وو "سی اِی اِیئی آئی وہاں نہی وہاں کُچھ کُچھ ہوتا ہے جب بھی تُمکو دیکھتی ہُ میری اَںدر سے پیشاب نِکل جاتی ہے وہاں نہی" ایسا کہنے لگی

میںنے کہا "مُجھے وِشواس نہی ہوتا مُجھے دِکھاّو " ایسا کہکر مے سلوار کے اُوپر سے اُسکی اَںدرُونی جاںگھ اؤر بُوبس پر ہاتھ سے مالِش کرنے لگا

" ہٹ بیشرم کبھی دیکھتے ہے لڑکِیوں کی ایسے وو شادی کے باد ہوتا ہے " مینُو بولی

میںنے مینُو کے بُوبس کو سہلاتے ہُئی اؤر اُسکی اَںدرُونی جاںگھ پر چُومتے ہُئے اُسکی چُوت کی ترف بدنے لگا اؤر کہا " ٹھیک ہے جیسا تُم کہو پر مے کپڑے کے اُوپر سے تو چیک کر لُوںگا"'' مینُو بھی اَب گرمانے لگی تھی اُسکی چُوت بھی کافی گرم اؤر گیلی ہونے لگی تھی۔ وو اَپنے دونوں پیرو کو سِکوڑ کر میرے کو چُوت تک پہُچنے سے روک رہی تھی۔ّ۔ " پلیز وہاں نہی میں کںٹرول نہیں کر پاُّوںگی اَپنے آپ، کو کُچھ ہو جایّگا ۔۔ّ۔ میری کجِن کے بھروسے آئی ہُوں اُسکو پٹا رکھا ہے میںنے۔ یدِ کوئی جاگ گیا تو اُسکی بھی مُسیبت ہو جایّگی پلیز مُجھے جانے دو اَب۔ّ۔"

میںنے مینُو کے دونوں پیر اَپنی تاکت سے پھیلایے اؤر اُسکی سلوار کی سِلائی کو پھاڑکر اُسکی پِںک پیںٹی جو کی اُسکے چُوت کے رس میں سرابور تھی اَپنے مُہ میں لے لِیا۔ّ۔ اُسکی پیںٹی سے پیشاب کی مِلیجُلی سمیل کے ساتھ اُسکے پانی کا بھی سواد مِل رہا تھا۔ّ۔ّ۔

میںنے پیںٹی کے اُوپر سے ہی اُسکی چُوت کو جورو سے چُوسنا چالُو کر دِیا۔۔ مینُو کہے جا رہی تھی" پلیز نو ! مُجھے جانے دو اُئی ما میں کںٹرول کھو رہی ہُوں اُم مم مم مُجھے جانے دو۔ّ۔۔ اؤر۔۔ جور سے چاٹو میری پیشاب میں کُچھ ہو رہا ہے بہُت اَچّھا لگ رہا ہے میرے پیٹ میں گُدگُدی ہو رہی ہے مینُو کے نِپّل بھی کھڑے ہو گئے تھی کیوںکِ اُسکی کُرتی مے ہاتھ ڈال کر اُسکے ممّے مسل رہا تھا مینُو میرے سر کو اَپنی چُوت پر دبایے جا رہی تھی ۔۔۔ اُمم مے مینُو کی پینٹی کو چُوت سے سائیڈ میں کھِسکا کے اُسکی چُوت کو چُوت کی لمبائی میں چُوس رہا تھا۔

مینُو اَپنے دونوں پیر ٹایلیٹ کے وِنڈو پر ٹِکایے مُجھسے اَپنی چُوت چٹوا رہی تھی مینُو کی بُر بِلکُل کُںواری تھی میںنے اَپنی اُوںگلی اُسکی بُر میں گھُسیدی بُر بہُت ٹائیٹ اؤر گیلی تھی مینُو ہلکے ہلکے سے کرہ رہی تھی " اُمّم آآ مر گئی" میں مینُو کی بُر کو اُوںگلی سے چود رہا تھا اؤر چُوت کے دانے کو چاٹ اؤر چُوس رہا تھا۔۔ سلوار پہنے ہونے کے کارن چُوت چاٹنے میں بہُت دِکّت ہو رہی تھی۔

مینُو کی چُوت جھڑنے کے کگار پر تھی'' آ آاَ کُچھ کرو میرا شریر اَکڑ رہا ہے پہلے ایسا کبھی نہی ہُآ میری پیشاب نِکلنے والی ہی اَپنا مُہ ہٹاّو اؤر جور سے چُوسو اَپنی اُںگلی اؤر گھُساّو آاَ آ ۔ اُئی ماں آاَ اَ ۔۔ّ۔ اُسکی جوانی کا پہلا جھٹکا کھاکر میرے مُہ کو اَپنے چُوت کے اَمرت سے بھرنے لگی۔ّ۔ّ۔۔ مینُو کے ممّے بہُت کڑک اؤر پھُول کر 32 سے 34 ہوگیے مالُوم ہوتے تھے۔ّ۔ اِدھر میری ہالت جیادا خراب تھی ۔۔۔ میںنے مینُو کو بولا پلیز ایک بار اِسمے ڈال لینے دو مینُو نے کہا ' اَبھی نہی راجا مے تو خُد تڑپ رہی ہُوں تُمہاری پیشاب اَپنی پیشاب میں گھُسوانیکو۔۔ اُمّم سُنا ہی بہُت مجا آتا ہے اؤر درد بھی ہوتا ہے "

میںنے کہا "اَپن دونوں کے پیشاب کے اؤر بھی نام ہے " "مُجھے شرم آتی ہے وو بولتے ہُئی" اؤر وو کھڑی ہونے لگی مے کموڈ شیٹ پر بیٹھا اؤر اَپنی نیکّر نیچے کھِسکا دی میرا ہلّابی لںڈ دیکھکر اُسکا مُہ کھُلا کا کھُلا رہ گیا۔

"ہاے رام۔ّ۔ ممم م اِتنا بڑا اؤر موٹا۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّتو میںنے کبھی کِسی کا نہی دیکھا

میںنے پُوچھا "کِسکا دیکھا ہے تُمنے۔ّ۔ بتاّو "

میرے بھیّا جب بھابھی کی چُدائی کرتے ہے تو مے اَپنے کمرے سے جھاںک کر دیکھتی ہُوں۔۔ بھابھی بھئیّا کے اِسّے اَدّھے سے بھی کم سائیز کے پیشاب میں چِلّاتی ہے فِر اِس جیسی پیشاب مے تو میرا کیا ہال کریگی۔ّ۔ مے کبھی نہی گھُسواُّںگی"

میںنے کہا اَچھا "مت گھُسوانا، پر اَبھی تو اِسکو شاںت کرو"

"مے کیسے شاںت کرُو" مینُو نے کہا

میںنے کہا "ٹائیم برباد مت کرو، جلدی سے اِسے ہاتھ میں لو اؤر میری مُٹّھ مارو" میںنے اُسکا ہاتھ پکڑ کر اَپنے لںڈ پر لگایا اؤر آگے پیچھے کروایا۔ پہلے تو مینُو تھوڑا ہِچکی پھِر بولی " تُمہارا لںڈ بہُت شاندار ہے میری چُوت میں فِر سے کھُجلی ہونے لگی ہے۔ّ۔ّ۔ّہیئی سیئیئی میئی اِ اِکیا کرُو اوم مم م پھلِچک ککک " ایک ہی جھٹکے میں میرا سُپاڈا اُسنے کِسی آئیسکریم کون کی ترہ چُوس لِیا مے جیسے سورگ میں پہُچ گیا میںنے اُسکے مُہ میں دھکّے مارے میںنے کہا میرا پانی نِکلنے والا ہے۔

" میری چُوت فِر سے گرم ہو گئی ہے اِسکا کُچھ کرو سی اِی اِ آاَ آ اَ ۔۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔۔" مینُو سِسکارِیاں بھر رہی تھی میںنے مینُو کو پھؤرن کموڈ شیٹ پر بیٹھایا اؤر اُسکی کُرتی کا کپڑا اُسکے مُہ مے بھر دِیا۔ّ۔ّ۔ جِسّے لںڈ گھُسنے پر وو چِلّایے نہی میںنے اُسکو سمجھایا بھی تھوڑا درد ہوگا سہن کرنا ۔۔ میںنے اُسکی دونوں ٹاںگیں پھیلی اؤر چُوت چاٹی دو اُوںگلی اُسکی چُوت مے بھی گھُسی اُسکی چُوت بہُت ٹائیٹ تھی اؤر بہُت گیلی لِسلِسی سی گرم تھی۔ مینُو کسمسا رہی تھی " ہیئی اِ سی اِی اِ اِ اِ اَب جلدی کرو۔۔ میرے بدن میں کروڑوں چیٹِیاں گھُوم رہی ہے میری بُر کو نا جانے کیا ہو گیا ہے" مینُو نے کُرتی مُہ سے نِکال کر کہا۔

میںنے اَپنے لنڈ پر بہُت سارا تھُوک لگایا اؤر کُچھ اُسکی گیلی چُوت مے بھی لگایا جِسّے اُسکی چُوت کے لِسلِسے رس سے میرا تھُوک مِلکر اؤر چُوت کو چِکنا کر دے۔ّ۔۔ میںنے لںڈ ہاتھ میں لیکر سُپاڈا مینُو کی چُوت میں اُوپر نیچے رگڈا ۔۔ مینُو اَپنی گاںڈ اُٹھا کر میرے لںڈ کا سواگت کر رہی تھی اَب وو بِنا لںڈ ڈلوائے نہی رہ سکتی تھی

اُسنے میرے لنڈ کو پکڑا اؤر اَپنی بُر پر ٹِکایا میںنے پہلے تھوڑا سا سُپاڈا اَںدر کر اُسکو اَںدر باہر کر ایڈجسٹ کِیا۔ّ۔۔ مُجھے ایسا لگ رہا تھا کی میرے لنڈ کو کِسی جلتے ہُئے چمڑے کے کلںپ میں کس دِیا ہو۔ اِتنی ٹائیٹ بُر تھی مینُو کی میںنے تھوڈی اؤر لںڈ اَںدر پیلا مینُو کی مُہ مے یدِ کُرتی نا گھُسائی ہوتی تو پُورے کمپارٹمیںٹ کے یاتری ہمیں چُدائی کرتے ہُئے پکڑ لیتے۔ّ۔۔

مینُو میرے موٹے لںڈ کے کارن اَپنا سِر اِدھر اُدھر ہِلاکر اؤر اَپنی آںکھوں سے آںسُو نِکال کر بتا رہی تھی کی اُسکو کِتنا درد ہو رہا ہے۔ّ۔ّ۔ّ۔۔ میں تھوڈی دیر رُک کر پھاٹک سے ایک گہرا اؤر چُوت پھاڑ دھکّا پیلا جِسّے مینُو کی بُر کی جھِلّی پھٹی اؤر لؤڑا اُسکی گہرائی تک سماں گیا مینُو کی تو ہالت خراب ہو گئی تھی۔۔ میںنے تھوڑا رُک کر لںڈ باہر کھیںچا تو اُسکے ساتھ کھُون بھی بہر آیا اؤر پھٹا پھٹ دھکّے مارنے لگا۔ مینُو کی ٹائیٹ چُوت کے کارن میرے گیںدوں مے اُبال آنا شُرُو ہو گیا تھا۔۔ میںنے مؤکے کی نجاکت کو تاڑتے ہُئے پہلے لںڈ باہر نِکالا اؤر گہری ساںس لیکر اَپنی پوسشن کںٹرول کری اؤر مینُو کے مُہ سے کُرتی ہٹی اؤر پھِر دھیرے دھیرے پُورا لںڈ گھُسا کر شُرُو مے ہلکے دھکّے مارے فِر تابڑ توڑ دھکّے لگائے۔

مے اَپنی سپیڈ گوںڈوانا ایکسپریس سے مِلا رہا تھا۔ّ۔" مینُو کی بُر پانی چھوڑنے والی تھی کیوںکِ اُسنے اَپنی کُرتی واپِس اَپنے مُہ میں ڈال لی تھی اؤر مینُو کی بُر میرے لؤڈے کو کسنے لگی تھے مے مینُو کے 32 سے 34 سائیز ہُئے ممّے مسلتا ہُآ چُدائی کر رہا تھا۔۔ مینُو بہُت جورو سے جھڈی تبھی میرے لنڈ نے بھی آکھِری ساںسے لی تو میںنے مینُو کے دونوں ممّے پُوری تاکت سے بھیچتے ہُئے اَپنا لؤڑا مینُو کی ٹائیٹ بُر مے آکھِری جڑ تک پیل دِیا اؤر مینُو کی بُور کو میںنے پہلا ویرے کا سواد دِیا مینُو بھی بہُت کھُش ہو گئی تھی۔ جب ساںس تھمی تو میںنے لنڈ مینُو کی بُر سے باہر نِکال جِسّے مینُو کی بُر سے میرے ویرے کے ساتھ مینُو کی بُر سے جوانی اؤر کُںواراپن کا سبُوت بھی بہکر باہر آ رہا تھا۔

میںنے مینُو کو ہٹایا اؤر کموڈ میں پیشاب کری مینُو بڑے گؤر سے میرے لںڈ سے پیشاب نِکلتے دیکھتے رہی اؤر ایک بار تو اُسنے مُہ بھی لگا دِیا۔ اُسکا پُورا مُہ میرے پیشاب سے گیلا ہو گیا کُچھ ہی اُسکے مُہ میں جا پایا میںنے اَپنا لںڈ دھویا نہی اُس پر مینُو کی بُر کا پانی اؤر جوانی کی سیل لگی رہنے دِیا اؤر نیکّر کے اَںدر کِیا مینُو کی بُر مے سُجن آ گئی تھی مے اِںتزار کر رہا تھا کی اَب مینُو بھی اَپنی بُر ساف کریگی تو نںگی ہوگی تو اُسنے مُجھے باہر جانے کو بولا۔ مے اُسکی بات مانکر اُسکو اَپنا رُمال بتاکر آ گیا۔ میںنے اَپنی گھڑی مے ٹائیم دیکھا تو ہم لوگو کے سوا گھںٹا گُجر گیا تھا ٹایلیٹ میں۔ّ۔ شُکر ہے بھگون کا کِ ٹھںڈ کے کارن کوئی نہی جاگا تھا اؤر ٹرین بھی نہی رُکی تھی۔ تھوڈی دیر باد مینُو اَپنی بُر پر ہاتھ پھیرتی ہُئی کُچھ لڑکھڑاتے ہُئے باہر آئی میںنے پُوچھا کیا ہال ہے جانیمن تُمہاری بُر کے " سُجن آ گئی ہے پر چُدوانے مے بہُت مجا آیا فِر سے چُدوانے کا من کر رہا ہے

" یے لو یہ رُومال تُم وہاں چھوڑ آئے تھے۔ س پھکس۔ّ۔ّاِسمے یہ کیا لگا ہے لِسلِسا" یہ ووہی رُمال تھا جِسمے میںنے مینُو کے نام کی مُٹّھ ماری تھی اَپنی سیٹ پر لیتے ہُئے ووہی مُجھے دینے لگی۔ "اِسمے ووہی لِسلِسا ہے تو اَبھی تُمہاری مُنِیا مے میرے لںڈ نے اُڈیلا ہے۔ّ۔۔ اؤر تُم کیا لِئے ہو" میںنے مینُو کو کہا۔ّ۔ اُسنے پہلے سُوںگھا پھُولے کہنے لگی " یے میری پیںٹی ہی۔ّ۔ خراب ہو گئی تھی تو میںنے نِکال لی۔۔ اؤر تُمہارا رُمال مے لے جا رہی ہُوں اِسے اَپنے ساتھ رکھُوںگی اؤر تُمہارے پانی کا سواد لیکر اِسے سُوںگھکر سو جاُّںگی۔۔ تُم دِلّی میں کہاں رُکوگے۔۔ اؤر کِس کام سے جا رہے ہو" مینُو نے میرے سے پُوچھا ۔ تُم اَپنی پیںٹی مُجھے دو میںنے مینُو سے کہا پھِر بتاُّںگا کِ میں کہاں اؤر کیوں جا رہا ہُوں۔ پہلے تو مینُو مُجھے گھُڑکی "تُم کیا کروگے میری گندی پیںٹی کا" میںنے کہا " ووہی جو تُم میرے رُمال کے ساتھ کروگی اؤر مے تُمہاری پیںٹی اَپنے لںڈ پر لپیٹ کر مُٹّھ بھی مارُوںگا" اُسنے میرے کو چُمّا دیتے ہُئے کہا "پاگل" اؤر اَپنی پیںٹی مُجھے دے دی میںنے وہاں جہاں اُسکی بُر رہتی ہے اُسکو اَپنی ناک سے لگایا اؤر جیبھ سے چاٹا تو مینُو شرما گئی

میںنے مینُو کو بتایا کی مُجھے دِلّی میں تھوڑا کام ہے اؤر ایک دوست کی شادی بھی ہے اِتنا سُنکر وو کُچھ آشوست ہُئی۔ میںنے کہا تُم میرا سیل نمبر لے لو میرے کو فون کر لینا مے بتا دُوںگا کی کہا پر رُکُںگا اؤر ہم کیسے اؤر کب مِلیںگے یہ بھی بتا دیںگے۔

مینُو میرا رُمال لیکر اَپنی سیٹ پر آ گئی اؤر مے اَپنی سیٹ پر۔ اَب میرا بیگ بھی آ گیا تھا سو میںنے بیگ مے سے ایّر پِلّو نِکال اؤر اَپنے سِراہنے رکھ کر مینُو کو یاد کرنے لگا میرا میرا لںڈ فِر سے کھڈا ہونے لگا سو میںنے سیٹ پر لیٹکر مینُو کی پیںٹی سُوںگھنے لگا اُسمے سے مینُو کی پیشاب اؤر اُسکے پانی کی سمیل آ رہی تھی۔ اُس سمیل نے کمال ہی کر دِیا میرا لںڈ پھںپھناکر بہُت کڑک ہو گیا میںنے مینُو کی پیںٹی کا وو ہِسّا جو کِ اُسکی چُوت سے چِپکا رہتا تھا میںنے پھاڑ لِیا اؤر باکی کی پیںٹی لیٹے لیٹے ہی لںڈ پر لپیٹ لی نیکّر کے اَںدر میںنے مینُو کو سپنے میں چودتے ہُئے اؤر اُسکی بُر کی کھُسبُو سُوںگھتے ہُئے اُسکی پیشاب بھری پیںٹی کو چاٹتے ہُئے مُٹھ مارنے لگا میںنے اَپنا سارا پانی مینُو کی پھٹی ہُئی پیںٹی اؤر اَپنی چڈّی مے نِکال دِیا 3 بار جھڑنے کے کارن پتا ہی نہی چلا کی کب مے سو گیا"

سُبہ مُجھے ایہساس ہُآ کی کوئی مُجھے جگا رہا ہے۔۔ تو میںنے آںکھ کھولتے ہُئے پُچھا کؤن ہے گاڑی کؤن سے سٹیشن پر کھڑی ہے ۔۔ّ۔ مُجھے جگانے والا میرا سالا مینُو کا بھائی تھا بولا " دیو جی اُٹھِئے نِجامُدّین پر گاڑی کھڑی ہے پِچھلے 15 مِنِٹ سے سبھی آپنے گھر پہُچ گئے آپ اَبھی تک سویے ہُئے ہُوں" مے پھٹاپھٹ اُٹھا اؤر اَپنا سامان بٹورا ویسے ہی ہاتھ میں لِیا اؤر پلیٹپھورم پر اُتر آیا۔ وہا سبسے پہلے میری نزر میری نئی چُدیل جانیمن مینُو پر پڑی وو بِلکُل پھریش لگ رہی تھی۔ اُسکے چیہرے سے کتئی ایسا نہی لگ رہا تھی کل رات کو میںنے اِسی ٹرین مے مینُو کی بُر کا اَپنے ہلّابی لںڈ سے اُدگھاٹن کِیا تھا اؤر اُسکی سیل توڈی تھی

پلیٹپھارم پر بہُت ٹھنڈ تھی۔ سُنہری دھُوپ کھِلی تھی مے ٹیشرٹ اؤر نیکّر مے کھڑا تھا۔ میںنے مینُو کا کمبل اؤر چادر تہ کر کے اُنکو سؤںپے اؤر اُنکا دھنیواد دِیا مے اَپنے ایّر پِلّو کی ہوا ایسے نِکال رہا تھا جیسے مینُو کے دُودھ دبا رہا ہُوں اؤر یہ مینُو کو اؤر اُسکی کجِن کو دِکھا بھی رہا تھا۔

میںنے اُن لوگوں سے پُوچھا کِ آپ کہا جایّںگے مینُو کا بھائی بولا ہمکو سروجِنی نگر جانا ہے اؤر آپکو کہا جانا ہے۔ مُجھے بھی سروجِنی نگر جانا تھا وہا پر میرے دوست کی شادی ہے۔ّ۔ میںنے اُن لوگوں کو جواب دِیا۔

میںنے کہا میرے ساتھ چلِئے۔ّ۔۔ مُجھے لینے گاڑی آئی ہوگی باہر۔ّ۔ّوو لوگ بولے نہی نہیں آپ چلِئے ہم بہُت سارے لوگ ہے اؤر اِتنا سارا سمان ہے، آپ کیوں تکلیپھ کرتے ہے۔ّ۔۔

میںنے کہا اِسمے تکلیپھ جیسے کوئی بات نہی ہم آکھِر ایک ہی موہلّے کے لوگ ہے اِسمے تکلیپھ کیوں اؤر کِسے ہونے لگی فِر گاڑی میں اَکیلا ہی تو جاُّںگا یہ مُجھے اَچّھا نہی لگیگا۔ مینُو کی کجِن دھیمے سے بولی رات کی میہنت سُبہ رںگ لا رہی ہے۔ّ۔ اؤر مُجھے مینُو کو دیکھکر ہلکے سے مُسکُرا پڑی۔ ہم سبھی باہر آئے تو دیکھا کِ ایک ٹاٹا سُومو پر میرے نام کی سلِپ لگی ہُئی تھی میںنے مینُو کے بھائی اؤر ممّی سے کہا کی دیکھِیے کِسمت سے میرے دوست نے بھی بڑی گاڑی بھیجی ہے۔ اِسمے ہم سب اؤر پُورا سامان بھی آ جاّیگا۔

گاڑی میں سارا سامان لوڈ کر سبھی کو بیٹھا کر گاڑی رِںگ روڈ پر نِکلتے ہی میںنے گاڑی سائیڈ مے رُکوائی اؤر ایک پی سی او میں گھُس گیا وہا سے اَپنے دوست کو فون کِیا کِ یار میرے لِئے ایک رُوم کا اَلگ اَریںجمینٹ ہو سکتا ہے کیا۔ّ۔ اُسنے پُوچھا کیوں۔ّ۔۔ میںنے کہا دیکھا تیرے لؤڈے کا اِنتیجام تو کل ہو گیا تُو کل ہی چُوت ماریگا مے اَپنے لِئے اَپنی چُوت کا اِنتیجام ساگر سے ہی کر کے لایا ہُوں۔ّ۔ رات میں ٹرین میں ماری تھی چُوت پر مجا نہی آیا۔ تسلّی سے مارنا چاہتا ہُوں۔

میرا دوست بولا " دیو بھائی تُمسے تو کوئی لڑکی پٹتی نہی تھی یہ ایک ہی رات میں تُمنے کیسے تیر مار لِئے اؤر تُمنے اُسے چود بھی ڈالا!

میںنے کہا بول تُو کر سکتا ہے تو ٹھیک نہی تو مے ہوٹل جا رہا ہُوں۔ مُجھے میرے دوست نے آشوست کرا دِیا کِ وو ایسا اِنتیجام کر دیگا۔

مے فون کا بِل دیکر گاڑی مے بیٹھا اؤر اِںتزار کرانے کے لِئے سبھی کو ساری بولا اؤر ڈرائیور کو چلنے کا ہُکُم دِیا ۔۔ّمیںنے پُوچھا آپ لوگ سروجِنی نگر مے کِسکے یہاں جایّںگے۔ّ۔مینُو کی ممّی بولی " بیٹا میری بہِن کے لڑکے کی شادی ہے۔ّ۔ کل کی مِسٹر کپُور۔ّ۔ روہن کپُور۔ّ۔ّ۔

" اوہ فِر تو مجا ہی آ گیا بھائی" مے اُچھلتا ہُآ بولا۔۔ سب میرے کو آشچرے بھری نِگاہوں سے دیکھنے لگے سو مے آگے بولا " وو۔۔ وو۔۔ کیا ہے کی مُجھے بھی کپُور ساہب کے بیٹے یانِ سُمِت کی شادی مے جانا ہے۔۔

باتوں باتوں میں کب سُمِت کا گھر آ گیا پتا ہی نہی چلا۔ّ۔۔ پر مے سُمِت سے آںکھ نہی مِلا پا رہا تھا۔۔ جب سب گھر کے اَںدر چلے گئے تو میںنے ڈرائیور کو رُکنے کو بولا اؤر اَپنا بیگ گاڑی مے چھوڑ کر سُمِت کو بُلانے اُسکے گھر مے گیا۔ّ۔ سُمِت آکر میرے سے لِپٹ گیا۔۔ بہُت کھُش تھا سُمِت پر مے اُسّے آںکھ نہی مِلا پا رہا تھا میںنے سُمِت کو ایک ترف لے جاکر بولا " دیکھ یارا بُرا مت مانِیو ۔۔ تُمہارے یہاں میہمان بہُت ہے مے ایسا کرتا ہُوں کِ مے اؤر سُدھیر میرا ایک اؤر دوست دونوں ہوٹل مے رُک جاتے ہے۔۔"

میرا اِتنا کہتے ہی سُمیت کے چیہرے کے بھاو بدل گئے۔۔ سُمِت نے کہا " دیکھ بھائی دیو مے جانتا ہُوں کی تُم ہوٹل کیوں جا رہے ہو یار کوئی بات نہی تُمنے ریکھا (مینُو کی کجِن) کو چود دِیا تو کیا ہُآ۔۔ اِسّے کوئی پھرک نہی پڑتا۔۔ یدِ تُم مینُو کو بھی چود دیتے تو اِسمے کوئی دِکّت نہی تھی مے بھی اُسکو چودنا چاہتا تھا پر مؤکا نہی مِلا یا میری ہِمّت نہی ہُئی۔۔ اِسے دِل پے مت لے یار" مؤج کر یارا میںنے تیرے لِئے سپیشل رُوم کا اَریںجمینٹ کِیا ہے وو بھی تُمہاری ڈارلِںگ کے ساتھ والے رُوم میں۔

یہ سُنکر میری جان میں جان آئی۔ مے سُمِت کو کلیّر کر دینا چاہتا تھا کی مے ریکھا نہی مینُو کو چودنا چاہتا ہُوں۔" سو میںنے کہا میںنے مینُو کو چودا ہے ٹرین میں۔ّ۔۔ اؤر اُسکو ہی تسلّی سے چودنا چاہتا ہُوں۔۔

سُمِت بولا " سیکسی تو ریکھا تھی پر تُمنے مینُو کو کیسے چود لِیا۔۔ وو بدھائی ہو مائی بوے۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔ّ۔تبھی مینُو تھوڑا لںگڈا کے چل رہی تھی۔ تُمنے تو اَپھِس میں اَپنی میڈم کو بھی تگڑا چودا تھا جبکِ وو شادی شُدا تھی وو تو 2 دِن چل فِر بھی نہی سکی تھی"

" تُم دونوں درواجے پر ہی باتیں کرتے رہوگے کیا؟ سُمِت اِسے اِسکے کمرے میں پہُںچا دو ۔۔ کیسے ہو دیو بیٹا" کہتے ہُئے سُمِت کے پاپا آ رہے تھے۔ّ۔ّ۔

میںنے اُنکے پیر چھُئے اؤر اُنسے تھوڈی باتیں کری۔ فِر سُمیت میرے کو اَپنے رُوم میں لے گیا۔۔ سُمیت کے پِتا بہُت بڑے بِزنس میںن تھے۔ بہُت بڑا بںگلا تھا اُنکا سُمیت نے مُجھے سیکںڈ فلُور پر جہا سِرف 3 ہی کمرے تھے اؤر مینُو وگیرہ بھی وہیں رُکے تھے رُوم پھِکس کِئے تھے۔۔ رُوم بہُت شاندار تھا ایک ڈبل بیڈ، ٹی وی، وی سی ڈی پلیّر، فون سب کُچھ تھا۔

سُمِت بولا " کیوں دیو کیسا لگا میرا اِنتیجام تُمہاری چُوت بھی تُمہارے بگل میں ہے اؤر ایک کھاس بات بتاُّو میں- مینُو کی باتھرُوم تُمہاری باتھرُوم سے اَٹیچڈ ہے بیچ میں درواجا ہے آاو میں تُمکو دِکھا دُو اُسنے میرے کو وو دُور دِکھا دِیا اؤر کیسے کھُلتا ہے وو بھی دِکھا دِیا میں وہاں سے مینُو کے باتھرُوم میں پہُچ سکتا تھا اؤر وہاں سے اُسکے رُوم مے۔ اَچّھا چل تیّار ہوجا اؤر پھٹاپھٹ نیچے آجا ساتھ ناشتا کریںگے ۔۔

میں سُمِت کو بولا " سُمِت تو مینُو کی چُوت کی کھُشبُو لینا چاہیگا ؟"

سُمِت نے کہا کیسے میںنے مینُو کی پیںٹی کا وو پھٹا ہِسّا اُسکو دِکھایا اؤر اُسکو سُوںگھنے کو دے دِیا۔۔ میں اؤر سُمِت پہلے بھی کئی لڑکِیاں ساتھ مِلکر چود چُکے تھے اُسکو چُوت کی سمیل کے بارے میں پتا تھا بہُت اَچّھی ہے رے دیو مینُو کی بُر تو میں تو اُسکی بُر کے نام پر مُٹّھ ہی مارتا رہ گیا پر تُنے میرے لنڈ کا بدلا لے لِیا۔۔ یہ سب باتیں بات باتھرُوم میں ہی ہو رہی تھی۔ّ۔ سُمِت میرے رُوم سے چلا گیا

گھر میں کافی ہو ہلّا ہو رہا تھا سو میںنے رُوم لاک کرکے ٹیوی اوں کر دِیا اؤر نںگا ہوکر پھریش ہونے اؤر نہانے باتھرُوم میں گھُس گیا۔ بڑھِیا گرم پانی سے نہانے لگا تبھی مُجھے دیوار پر کُچھ ٹکرانے کی آواج آئی۔ میںنے شوّیر بںد کِیا تو اُس ترف مینُو نہا رہی لگتا مہسُوس ہو رہی تھی۔ّ۔۔ میںنے …دھیرے سے درواجا کھِسکایا جو کی بِنا کِسی آواج کے سرکتا تھا تو دیکھا ایک بِلکُل جوان نںگا جِسم شوّیر میں میری ترف پیٹھ کِیا اَپنی بُر میں سابُن لگا رہا تھا میں بھی مادرجات نںگا تھا میرے لںڈ کو چُوت کا ٹھِکانا کا ایہساس ہوتے ہی اُچھال بھرنے لگا میںنے آو دیکھا نا تاو سیدھا جاکر اُسکے مُہ پر ہاتھ رکھا جِسّے وو ڈرکر نا چِلّا پائے اؤر اُسکی گاںڈ کے بیچ میں اَپنا ہلّابی لؤدا ٹِکتے ہُئے اُسکی پیٹھ سے چِپک گیا۔

میری پکڑ جبردست تھی اِسلِئے وو ہِل بھی نہی پائی میںنے شوّیر کے نیچے ہی اُسکے کانو میں کہا کہو جانیمن اَب کیا اِرادا ہے چلو ایک بار پھِر سے چُدائی ہو جائے اؤر میں اُسکی چُوت پر ہاتھ پھِرنے لگا اُسنے اَپنی بُر میں سابُن گھُسا رکھا تھا وو سابُن سے اَپنی چُوت چود رہی تھی میںنے کہا یہ جگہ سابُن رکھنے کی نہی لنڈ رکھوانے کی ہے اؤر میں اُسکے چُوت کے دانے کو مسلنے لگا۔

پہلے تو اُسنے ٹاںگے سِکوڈی پر دانے کو مسلنے سے وو گرما گئی تھی اُسنے اَپنی ٹاںگے ڈھیلے چھوڑ دی میںنے اَبھی تک اُسکا مُہ تاکت سے بںد کر رکھا تھا میںنے کُچھ دیر اِسکی پوسِشن میں اُسکی بُر کا دانا مسلا اؤر فِر میںنے اَپنی بیچ والی اُوںگلی اُسکی بُر کے ہؤلے میں گھُسا دی ۔۔۔ بہُت گرم اؤر ٹائیٹ چُوت تھی۔۔ میںنے اَپنی اُوںگلی سے اُسکی بُر کو چودنے لگا تھا، وو مستانے لگی تھی تھی اؤر اُسکی بُر پنِیانے لگی وو ہِل رہی تھی اَپنی گاںڈ بھی جورو سے ہِلا رہی تھی۔

میںنے اَپنی اُوںگلی کو اُسکی بُر میں تیزی سے پیلنا شُرُو کر دِیا یانِ کی سپیڈ بڑا دی اِدھر میرا ہلّابی لؤڑا جو کی اُسکی مدماتی گاںڈ میں پھسا ہُآ تھا پھنپھنا رہا تھا اُسکی بھی بُر گرما گئی تھی۔۔ تبھی اُسنے اَپنے ایک ہاتھ میری اُس ہتھیلی پر رکھا جِسّے میں اُسکی بُر کو چود رہا تھا فِر اُسنے اَپنا ہاتھ میرے لؤڈے کو چھُونے کے لِئے نیچے لگایا وو سِرف میرے سُپاڈے کو ہی ٹچ کر پائی وو چھٹپٹا رہی تھی

بہُت گرم اؤر ٹائیٹ چُوت تھی۔۔ تبھی وو اَپنے دونوں ہاتھو سے میرا ہاتھ اَپنے مُہ سے ہٹانے کی ناکام کوشِش کرنے لگی۔ مُجھے اُسکی یہ ہرکت ٹھیک نہی لگی تو مے اُسے باتھرُوم سے کھیچ کر اَپنے بیڈرُوم مے لے آیا اؤر اُسکو اُلٹا ہی بیڈ پر پٹک دِیا جیسے ہی وو پلٹی میرے ہوش فاکھتا ہو گئے وو ریکھا تھی۔ّ۔

میںنے اُسکو چُپ رہنے کا اِشارا کِیا اؤر اَپنے ٹیوی کی آواج تھوڈی اؤر بڈھا دی۔ ریکھا کا بدن بہُت سیکسی تھا اُسکے کڑک بِلکُل گولاکار 36 سائیز کے ممّے سُراہیدار گردن، 2 اِںچ گہری نابھِ ہلکا سا ساںولا رںگ۔ ریکھا کی چُوت ڈبلروٹی کی ترہ پھُولی ہُئی تھی ریکھا نے اَپنی جھاںٹے بڑی ہی کُشلتا سے سجا رکھی تھی مے تو ریکھا کو نںگی دیکھ کر بیکابُو ہو رہا تھا

ریکھا اَپنی چُوت دونوں ہاتھوں سے ڈھک رہی تھی اؤر میرے سے کہنے لگی پلیز مُجھے جانے دو ۔۔ مینُو نہاکر آجایّگی تو مُجھے دِکّت ہو جایّگی۔۔ میںنے پُوچھا تُمہارا رُوم اَںدر سے تو لاک ہے با۔۔ بولی ہاں ہے میںنے کہا تو فِر کیا پھِکر تُم جیسے سیکسی لڑکی کو نہانے مے ٹائیم تو لگیگا ہی۔ ریکھا تُم بہُت سیکسی اؤر کھُوبُسُورت اؤر تُمہاری چُوت تو بہُت گجب کی ہے اِسمے جبردست رس بھرا ہُآ ہے مُجھے یہ رس پِلا دو پلیز اؤر مے ریکھا کے اُوپر ٹُوٹ پڑا۔

ریکھا کے ہوںٹھ بہُت ہی رس بھرے تھے میںنے اُسکے ہوںٹھوں کو اَپنے اوٹھوں میں کس لِئے اؤر اُسکے لِپس کو چُوسنے لگا مے ایک ہاتھ سے ریکھا کی مست جوانی کے ممّے بھی مسل رہا تھا اؤر اَپنا لؤڑا اُسکی بُر کے اُوپر ٹِکا کر رگڑ رہا تھا پہلے تو ریکھا چھٹپٹاتی رہی پر جیسے ہی میںنے اُسکے شریر پر اَپنے شریر کے ہِسّوں کا دباب بڈھایا تو وو بھی کُچھ ڈھیلی پڑنے لگی۔ اَب ریکھا نے اَپنی چُوت سے اَپنے ہاتھ ہٹا لِئے تھے میںنے ریکھا کے شریر کو سہلانا شُرُو کِیا مے اُسکی اَںدرُونی جاںگھوں اؤر چُوت پر جیادا دھیان دے رہا تھا۔

ریکھا بھی اَب جواب دینے لگی تھی اؤر سِسِیانی لگی تھی ریکھا کا بدن بڑا ہی گُداز بدن تھا اؤر ایسے ہی پھُدّی والی اُسی بُر تھی مے اَب ریکھا کے نِپّل کو چُوسنے کے لِئے اُسکے ہوںٹھوں کو چُومتے اؤر چاٹتے ہُئے نیچے ممّو کی گھاٹی کی اور چل پڑا ریکھا بہُت جورو سے سِسِیانے لگی تھی۔۔ ۔۔ّ۔ّ۔

By Taha Gondal with No comments

0 comments:

Post a Comment

EMail : PkMasti@aol.com
Yahoo : Jan3y.J4na@yahoo.com

    • Popular
    • Categories
    • Archives