Thursday, January 12, 2012

میری پہلی چُدائی چوت پھٹائی کی داستان

میں اَپنا پہلا سیکس کا اَنُبھو لِکھ رہی ہُوں۔ اُس سمے میں بی ئے کے دُوسرے سال میں پڈھتی تھی۔ سہیلِیوں کی باتوں سے مُجھے بھی لڑکوں سے بات کرنے کی اِچّھا ہونے لگی تھی۔ میں دُوسری لڑکِیوں کی ترہ بنّے سںورنے لگی تھی، میک اَپ بھی کرنے لگی تھی۔ جب میں کولیج میں پینٹ پہن کر جاتی تھی تو اُسمیں سے میرے چُوتڑوں کی گولائیّاں بڑی چِکنی اؤر سُندر اُبھر کر دِکھتی تھی۔ لڑکے چوری چوری تِرچھی نِگاہوں سے میری گانڈ کو نِہارتے تھے۔ جینس میں میرے بدن کے کٹس اُتنے اُبھر کر نہیں آتے تھے۔ لڑکوں کو اِس ترہ اُکسانے میں مُجھے مزا بھی آتا تھا۔ میرے من میں بھی چُدانے کی اِچّھا ہوتی تھی کِ سبھی سہیلِیاں تو مزے لیتی ہیں اؤر میں سِرف سُنتی ہُوں۔

مُجھے کمپیُوٹر ٹیچر بہُت اَچّھے لگتے تھے۔ وو نئے نئے آئے تھے، سُندر تھے۔ اُنکے بال ہوا میں اُڑتے تھے تو میں دیکھتی رہ جاتی تھی۔ میں اُنکے پاس پاس رہنے کی کوشِش کرتی تھی۔ اُنہیں سبھی لوگ راجُو سر کہ کر بُلاتے تھے۔ میری اَداّوں کو راجُو سمجھتا تو تھا، کہتا کُچھ نہیں تھا۔ پر چوری چوری میرے ستنوں کے اُبھار کو اؤر چُوتڑوں کی گولائیّوں کو دیکھتا تھا۔ مُجھے لگا کِ یے سر تو پٹ جاّیںگے…ّتھوڑی کوشِش تو کرنی پڑیگی ہی۔

ایک دِن میںنے اُنسے پُوچھا - سر ! میں آپسے ٹیُوشن پڈھنا چاہتی ہُوں، کیا آپ مُجھے کمپیُوٹر سِکھاّیںگے؟

“ہاں ہاں جرُور ۔۔اَپنے پاپا کو بتا دینا …”

“پاپا نے ہی کہا ہے ۔۔”

“کب سے آاُوں ”

“کل سے ……مورنِںگ 8۔30 پر ”

“ تھیںک یُو سر ”

میں دُوسرے دِن چھوٹی سکرٹ پہن کر اؤر اَندر ایک چھوٹی سی پیںٹی پہن کر بڑی تیّاری کے ساتھ اِںتزار کرنے لگی۔ پیںٹی اِتنی چھوٹی تھی کِ جھُکنے پر پُوری چُوتڈ دِکھ جاتی تھی۔ ٹاپ ڈھیلا سا ۔۔جو ایسا تھا کِ آدھے بُوبس تو جرا سی کوشِش کرنے سے ہی نزر آ جاتے تھے۔ مُجھے لگا راجُو کے لِئے اِتنا بہُت تھا۔

راجُو سر 8۔30 پر آ گئے۔ میرے پاپا نے اُن سے بات کی …۔۔پھِر مُجھے بیٹھک میں بُلا لِیا۔

پاپا ممّی ऑپھِس کی تیّاری کرنے لگے۔ راجُو نے مُجھے دیکھا تو وو دیکھتا ہی رہ گیا۔

اُسے گھُورتے دیکھ کر میں من ہی من مُسکرا اُٹھی۔ تیر نِشانے پر لگا تھا۔

میںنے کہا - “سر ، آج کہاں سے شُرُو کریں …”

“ہاں ہاں بیٹھو ۔۔پہلے بُکس لے آاو ۔۔”

“میں بُک لیکر آیی اؤر سر کے سامنے اُسے گِرا دِیا۔ پھِر اُسے اُٹھانے کے لِئے میںنے چُوتڈ راجُو کی ترف کر دِئے اؤر جھُک گیّ۔ میری گاںڈ کی دونوں گولائیّاں اؤر چھوٹی سی پیںٹی اُسے دِکھنے لگی ہوگی۔ میںنے اُسے تِرچھی نزر سے دیکھا …تو میرے چُوتڈ کی ترف ہی دیکھ رہا تھا …۔۔ اُسے پسینا آ گیا تھا … میرا دِل بھی یے سوچ کر دھڑکنے لگا کِ اُسنے پُورا دیکھ لِیا ہے۔ میںنے ٹیبل پر کِتاب رکھ دی۔

میری نزر اُسکی پیںٹ پر چلی گیی ، جہاں اُسکا لںڈ کھڑا ہو رہا تھا۔ وو اُسے دبا کر چھُپانے لگا۔ اُسنے پڈھانا شُرُو کِیا پھِر مُجھے کںپیُوٹر کے پاس لے گیا۔ اُسنے کہا “اَب کںپیُوٹر پر پریکٹِکل کر کے بتاتا ہُوں … سیٹ پر بیٹھو …”

چھوٹا گول سٹُول رکھا تھا، میں تھوڈی سی گاںڈ پیچھے کِ ترف نِکال کر بیٹھ گیّ۔

وو کںپیُوٹر پر کُچھ کُچھ بتاتا جا رہا تھا، پر میرا دھیان راجُو پر تھا۔ راجُو سمجھ گیا تھا کِ میرا دھیان پڑھائی میں نہیں ہے۔ وو میری اَداّوں سے سمجھ گیا تھا کِ میں اُس سے کُچھ اؤر ہی چاہتی ہُوں۔ وو بھی گرم ہونے لگا تھا۔ اَب اُسکے اِرادے ساف نزر آنے لگے تھے۔ اُسنے اَپنی ٹاںگو سے بار بار میرے چُوتڈوں کو ٹچ کرنا شُرُو کر دِیا۔

میں سِہر اُٹھی …اَب میں جان گیی تھی کِ راجُو مُوڈ میں آ گیا ہے۔ اَب وو میرے ہاتھ کے اُوپر ہاتھ رکھ کر اؤر چھُو کر کی بورڈ اؤر مواُس پر بتانے لگ گیا تھا۔ اَچانک میری نزریں اُسکے چیہرے پر پڑی تو دیکھا کِ وو تو میری ڈھیلی ٹاپ میں سے میرے بُوبس کو جھاںک کر دیکھ رہا تھا۔ میںنے تھوڑا اؤر اَپنا ایںگل ایسا کر دِیا کِ اُسے دیکھنے میں کٹھِنائی ن ہو۔

میںنے اُسکے لںڈ کِ ترف دیکھا تو وو بھی کھڑا ہو چُکا تھا۔ اَب وو کبھی کبھی میرے کںدھے کے پاس اَپنا لںڈ دبا دیتا تھا۔ میں اُسے یے سب کرنے دے رہی تھی۔ اُسکے لںڈ کا موٹاپن اؤر سائیز تک مہسُوس ہونے لگا تھا۔ یے سب جان کر میرے بدن میں کاںٹے کھڑے ہونے لگے۔ میںنے بھی اَپنا کندھا ایسے اُچھالا کِ اُسکا لںڈ میرے کندھوں سے بھِںچ گیا۔ اُسکے مُںہ سے آہ نِکل گئی۔

اِتنے میں پاپا نے آواز لگائی- "ہم جا رہے ہیں…کولیز جاّو تو گھر ٹھیک سے بںد کر دینا۔"

میں اُٹھی اؤر باہر کھِڑکی پر آکر اُنہیں کار میں جاتے دیکھنے لگی۔ اَب گھر میں اؤر کوئی نہیں تھا، یہ سوچ کر میرے دِل کی دھڑکن بڈھ گئی۔ راجُو بھی کھِڑکی پر آ گیا تھا۔ وو مُجھے ہی گہری نزروں سے نِہار رہا تھا۔ اُسکی آںکھوں میں سیکس کے ڈورے نزر آ رہے تھے۔ میںنے سوچا اَبھی یے گرم ہے…مؤکا نہیں چھوڑنا چہِئے۔ پر ہِمّت نہیں ہو رہی تھی۔

راجُو میرے پاس کھڑا ہو کر اَب اِس ترہ باہر جھاںکنے لگا کِ اُسکا ایک ہاتھ میرے چُوتڑوں پر آ گیا تھا۔ اُسنے اَپنا ہاتھ ہٹایا نہیں۔ مُجھے لگنے لگا… ہاے ! میرے چُوتڑ دبا دے ! میں روماںچِت ہونے لگی۔ میںنے سوچا کِ کرنے دو اُسے…راجُو نے شُرُوآت کر دی تھی، اِسلِئے میں چُپ ہی کھڑی رہی۔ میںنے اُسکی ترف مُسکُرا کے دیکھا۔ اُسنے بھی نزریں مِلا دی اؤر لگاتار دیکھتا ہی رہا۔ اُسکی ہِمّت بھی بڈھی۔ اُسنے میری گانڈ کی گولائیّوں کو سہلانا شُرُو کر دِیا۔

مُجھے مزا آنے لگا تھا۔ میری اِچّھا ہو رہی تھی کِ راجُو کس کے میرے چُوتڑ دبا دے۔ ہم دونو کی نزریں ایک دُوسرے میں ڈُوبنے لگی۔ راجُو بھی مُسکُرانے لگا۔

اَچانک اُسنے نیچے سے میری سکرٹ میں ہاتھ ڈال کر میرا ایک چُوتڑ پکڑ لِیا۔

میںنے راجُو کی ترف ایک بار پیار بھری نزر سے دیکھا۔ وو بھی مُجھے دیکھ کر اؤر پاس آنے لگا۔ آںکھوں آںکھوں میں اِشارے ہونے لگے۔ فِر اُسنے مُجھے کھِڑکی سے اَندر کھیںچ لِیا… اؤر میں اُسکی باہوں میں کھِںچتی چلی گئی۔ اُسنے دھیرے سے کہا،" نیہا…اَب مُجھ سے سہا نہیں جا رہا ہے۔"

اُسنے اَپنے ہوںٹھ میرے نرم نرم ہوںٹھوں پر رکھ دِئے۔ اُسکے ہوںٹھ بھی نرم نرم تھے۔ وو میرے ہوںٹھ چُوسنے لگا۔

میںنے اَپنی اَداّیں بھی دِکھانی شُرُو کر دی۔ میںنے کہا، " یہ کیا کر رہیں ہیں سر آپ ! سر ! مُجھے چھوڑو نا…! اَب نہیں کرو۔…شرم آ رہی ہے مُجھے…"

میری بات اَنسُنی کرکے اُسنے اَپنی باہیں میری کمر میں ڈال کر میری گانڈ کی دونو گولائیّوں کو پکڑ لِیا اؤر جور جور سے دبانے لگا۔ "آہ… نہیں… نہیں کرو…بس کرو اَب … سی سس…بس راجُو…!

میں مُڑ کر جانے لگی تو فِر پیچھے سے کھیںچ لِیا… اؤر میری چھوٹی سی سکرٹ اُٹھا کر کمر سے کس لِیا… اُسکے دونوں ہاتھ میرے ستنوں پر آ گئے اؤر اُنکو مسلنے لگے۔ اُسکا کڑک لنڈ میری گانڈ میں گھُسا جا رہا تھا۔ میں کام-پِپاسا سے جل اُٹھی۔ میری پینٹی تو نہیں کے برابر تھی۔

اُسکے لنڈ ک سپرش چُوتڑوں میں بڑا آنّد دے رہا تھا۔

مُجھے پتا چل گیا تھا کِ اَب میں چُدنے والی ہُوں۔ اِسی سمے کے لِئے میں یے سب کر رہی تھی اؤر اِس سمے کا اِنتجار کر رہی تھی۔ اُسکے ہاتھ میرے کٹھور اَنچھُئے ستنوں کو سہلا رہے تھے، بیچ بیچ میں میرے چُوچکوں کو بھی مسل دیتے تھے اؤر کھیںچ دیتے تھے۔

“آہ… سی سی میں مر جاُّوںگی… سر ! ”

“مُجھے سر نہیں راجُو کہو… تُمہارے نِپّل کیسے سیدھے اؤر کڑے ہیں…… ”

راجُو کو اُبھری جوانی مسلنے کو مِل رہی تھی… اؤر وو آنّد سے پاگل ہُآ جا رہا تھا۔

اُسکا لنڈ اؤر جور مارنے لگا اؤر لگبھگ میری گانڈ کے چھید پر پہُںچ چُکا تھا۔ میری چھوٹی سی پینٹی اُسکے لنڈ کو روکنے میں کامیاب نہیں ہو پا رہی تھی۔ میں چُدوانے کو تڑپ اُٹھی۔ وو تو مدمست ہو کر ٹھوکر پر ٹھوکر مارے جا رہا تھا۔ اُسنے میری پینٹی نیچے کھیںچ دی اؤر اَپنی پینٹ بھی اُتار دی اؤر اَپنا لنڈ میری گانڈ کے چھید پر لگا دِیا۔ میںنے اُسکی ترف دیکھا۔ فِر آںکھوں ہی آںکھوں میں اِشارے ہُئے۔ اُسکی اَنکہی بھاشا میں سمجھ گئی۔ میں گھوڑی بن گئی۔ اُسکا لنڈ میری گانڈ کے چھید پر دباو ڈالنے لگا… میں کھُشی میں جھُوم اُٹھی۔ میری گانڈ چُدنے والی تھی۔ اُسکی آںکھیں نشے میں بںد ہو گئی تھی۔ اَب میںنے اَپنے آپ کو اُسکے ہوالے کر دِیا۔ وو میرے بُوبس بھیںچ رہا تھا۔ میں مست ہُئے جا رہی تھی…آںکھیں بںد کر لی اؤر دُوسری دُنِیا میں آ گئی۔

اُسی سمے میری گانڈ پر کُچھ ٹھنڈا ٹھنڈا لگا۔ میں سمجھ گئی کِ اُسنے میری گانڈ میں تھُوک لگایا ہے۔ میں سوچ رہی تھی کِ اَب میری گانڈ پہلی بار چُدیگی… اِتنا سوچا ہی تھا کِ اُسنے جور لگا کر اَپنی سُپاری میرے چھید میں گھُسا دی۔ میرے مُںہ سے آنّد اؤر درد بھری چیکھ نِکل گئی۔اُسنے سُپاری نِکال کر فِر جور سے دھکّا مار دِیا۔ اِس بار اؤر اَندر گیا۔

“راجُو ! درد ہو رہا ہے…۔۔”

اُسنے کُچھ نہیں کہا اؤر تھوڑا سا نِکال کر جور سے دھکّا مارا۔ اُسکا لنڈ پُورا میری گانڈ میں سما گیا۔ میں چیکھ اُٹھی،" راجُو باہر نِکالو… جلدی… بہُت درد ہو رہا ہے… "

پر اُسنے تیجی سے دھکّے مارنے چالُو کر دِئے۔ میں کہتی رہی پر اُسنے میری ایک نا سُنی۔ اَب مُجھے مزا آنے لگا۔ اُسنے اَب لنڈ نِکال کر پیچھے سے کھڑے کھڑے ہی میری گیلی چُوت میں گھُسا دِیا۔ پہلی بار کوئی لنڈ میری چُوت میں گھُسا تھا۔ مُجھے اِسی کا اِنتجار تھا۔ مُجھے سچ میں مزا آنے لگا اؤر میرے مُںہ سے نِکل ہی گیا- راجُو ! آہ… مزا آ رہا ہے… جرا جور سے چودو نا…

"ہاں ہاں مُجھے بھی بہُت مزا آ رہا ہے… یے لو…"

اُسنے ایک دھکّا جوئے سے مارا، میرے مُںہ سے فِر چیکھ نِکل گئی،" ہائی راجُو میں مر گئی"

اؤر جمین پر تھوڑی کھُون کی بُوںدیں ٹپک گئی۔ میں گھبرا گئی…"راجُو یے کیا ہُآ…! یے کھُون…؟"

اُسنے پیار سے میری پیٹھ سہلائی اؤر کہا،" نیہا ! میں تو سمجھا تھا کِ تُمنے پہلے چُدوا رکھا ہے… پر تُم تو پہلی بار چُدی ہو… سوری ! مُجھے پتا ہوتا تو میں دھیرے دھیرے ہی کرتا…"

مُجھے لگا کِ کہیں راجُ مُجھے چودنا بںد نا کر دے، میںنے ایکدم کہا- "نہیں نہیں مزا آ رہا ہے… چود دو نا… ہاے رے…اَب آگے تو بڈھو کُچھ…"

"ہاں درد تو اَبھی ٹھیک ہو جاّیگا۔"

راجُو نے فِر سے اَپنا لنڈ میری چُوت میں ڈال دِیا اؤر ہؤلے ہؤلے دھکّے مارنے لگا۔ مُجھے اَب چُوت میں میٹھی میٹھی گُدگُدی ہونے لگی- میرے مُںہ سے نِکل گیا- راجُو… لگا نا جور سے دھکّا… اؤر جور سے… اَب مزا آ رہا ہے۔

راجُو بھی تیجی سے کرنا چاہتا تھا۔ اُسنے مُجھے گودی میں اُٹھایا اؤر بِستر پر پٹک دِیا اؤر کُود کر میرے اُوپر چڈھ گیا۔ میری چُوت بہُت ہی چِکنی ہو گئی تھی اؤر بہُت سا پانی بھی چھوڑ رہی تھی۔ اُسکا لنڈ فچ سے اَندر گھُس گیا اؤر گھُستا ہی چلا گیا۔ میرے مُںہ سے سِسکاری نِکل گئی - آہ…گھُس گیا سے… س…س… اَب رُوکنا نہیں … چود دو مُجھے…

راجُو نے اَپنی کمر چلانی شُرُو کر دی۔ میں بھی نیچے سے اَپنے چُوتڑوں کو اُچھال اُچھال کر چُدوانے لگی۔

ہاے سے مزا آ رہا ہے… لگا … جور سے لگا… اوئی اُ اُئیئی

ہاں …۔میری رانی ……یے لے …۔یّس …۔۔یّس …۔۔پُورا لے لے … سی …سی …۔”

“راجُو …میرے راجُو …۔ہاے …۔۔پھاڑ دے …۔میری چُوت کو …… چود دے …چود ۔۔دے … سی …

سی ……۔آاَئی اِیایئی …۔۔ اُواُو اُواُو اوایئی اِیئی ……۔”

“کیسا مزا آ رہا ہے …… ٹاںگے اؤر اُوپر اُٹھا لو …ہاں …یے ٹھیک ہے …”

اُسنے اَپنے آپ کو اؤر سہی پوسِشن میں لیتے ہُئے دھکّے تیج کر دِئے ……

میرے چُوتڑ اَپنے آپ ہی تیجی سے اُچھل اُچھل کر جواب دے رہے تھے ۔

جوش کے مارے مے اُسکے چُوتڈ ہاتھ سے دبانے لگی ۔ مے اُسے اَپنے سے چِپکا کر تھوڈی دیر کے لِئے اُسکے ہوںٹ چُوسنے لگی ۔ ساتھ ہی مین اَپنی ایک اُںگلی اُسکی گاںڈ کے چھیڑ میں گھُسا دی۔

…دھیرے سے …۔ ڈالنا …۔”وو ہاںپھتا ہُآ بولا …۔۔ میںنے اؤر اُںگلی اَندر گھُسیڈ دی …۔ اؤر اَندر باہر کرنے لگی ۔ میںنے مہسُوس کِیا …کِ اُںگلی گاںڈ میں کرنے سے اُسکی اُتّیجنا بڈھ گیی تھی …۔ مُجھے مہسُوس ہُآ کِ اُسکا لںڈ چُوت کے اَندر ہی اؤر کڑکنے لگا تھا ۔ میںنے دھیرے سے اَپنی چُوت سِکوڑ لی ۔۔اُسکا لںڈ میری چُوت میں بھِںچ گیا

۔ …وو سِسک اُٹھا ……“نیہا …۔۔ ہا …۔میرا نِکل جاّیگا ……”

“تو پھِر چودو نا …۔۔ رُک کیُوں گئے …”

“ پہلے میرا لںڈ تو چھوڈو …۔ہاے ……نِکل جاّیگا ۔۔نا …”

میںنے چُوت ڈھیلی چھوڑ دی …میںنے اُسکی گاںڈ سے اُںگلی بھی باہر نِکل دی ۔ اُسنے اَب میل اِںجن کی ترہ اَپنا لںڈ پیلنا شُرُو کر دِیا ۔ مُجھے بھی اَب تیج گُدگُدی اُٹھنے لگی …۔ہاے ۔۔ہاے …۔مر گیی …۔ہاے …چُد گیی …۔۔ میرے رجا …۔۔ چود دے …۔۔ اَرے …اَرے …۔ لگا ۔۔ جور سے …… میرے رجا ۔۔ پھاڑ ڈال ……۔اَآیا …۔۔آ اَ اَ ……ایئی ایئی ایئی …۔۔میں گیی …”

“رُک جاّو …اَبھی نہی …۔۔”

“میں گیی …۔۔ میرا پانی نِکلا ……نِکلا …۔۔نِکلا …۔ہاے ییے ییے …… ہاے رام …۔”میری ساںس پھُول گیی …اؤر میںنے جور سے پانی چھوڑ دِیا …

“اَرے نہی …۔۔یے کیا …۔۔ تُم تو ۔۔ہو گیی …”

اُسنے مُجھے تُںرت اُلٹا کرکے …۔۔میری گاںڈ پر سوار ہو گیا …مُجھے تھوڈی ہی دیر میں لگا کِ اُسکا لںڈ میری گاںڈ کے چھید پر تھا۔ اُسنے جور لگایا اؤر لںڈ گاںڈ کِ گہرائیّوں میں اُترتا چلا گیا۔

میری چیکھ نِکل گیی …“راجُو …۔یے کیا کر رہے ہو ………نِکال لو پلیج ۔۔”

پلیج… کرنے دو… میں جھڑنے والا ہُوں…

نہیں نہیں لنڈ نِکالو…

اُسنے سُنی اَنسُنی کر دی اؤر دھکّے لگاتا ہی گیا۔ میں درد سے چیکھتی ہی رہی“ بس بس چھوڑ دو مُجھے، چھوڑ دو نا… چھوڑ دو…۔”

مُجھے مالُوم تھا…وو مُجھے ایسے نہیں چھوڑنے والا ہے، میں تکِیے میں مُںہ دبا کر ٹاںگیں اؤر کھول کر پڑ گئی۔ وو دھکّے مارتا رہا، میری گانڈ چُدتی رہی۔ فِر۔…۔“ آہ میری … رانی… میں گیا… میں گیا … ہاऽऽऽ سس نِکلا آ آ آہ ممم ہے رئے…ّ۔”

میری گانڈ میں اُسکا گرم گرم لاوا بھرنے لگا۔ وو میری پیٹھ پر نِڈھال ہو کر گِر گیا…میںنے نیچے سے اَپنی گانڈ ہِلا کر اُسکا ڈھیلا ہُآ لنڈ باہر کر دِیا۔ اُسکا سارا مال میری گانڈ کے چھید سے نِکل کر بِستر پر بہنے لگا۔ راجُو کروٹ لیکر بگل میں آ گیا۔میں اُٹھی اؤر دیکھا، اُسکا پُورا لنڈ میرے پانی اؤر اُسکے ویرے سے چِپچِپا ہو گیا تھا… میری گانڈ بھی ویرے سے لتھپتھ تھی …

میں سُستی چھوڑ نہانے چلی گئی۔ جب تک نہا کر آئی تو راجُو جا چُکا تھا۔ ایک کاگج کی سلِپ پر کُچھ لِکھا تھا- “سوری نیہا…۔مُجھے ماف کر دینا…۔میں اَپنے آپ کو روک نہیں پایا… اَگر ماف کر دو تو کولیج میں مُجھے مافی کی منجُوری دے دینا…۔راجُو”

میں مُسکُرا اُٹھی۔ اُسے کیا پتا تھا کِ یے اُسکی گلتی نہیں تھی…

میں کھُد ہی اُس سے چُدوانا چاہتی تھی۔ بس ڈر لگ رہا تھا کِ یے پہلی چُدائی ہے…جانے کیا ہوگا۔۔ پر اَب مُجھے لگ رہا ہے کِ یے تو جِندگی کا لُتف اُٹھانے کا ایک شاندار تریکا ہے۔

پاٹھکو ! یہ کہانی کیسی لگی؟

By Taha Gondal with 1 comment

1 comments:

Post a Comment

EMail : PkMasti@aol.com
Yahoo : Jan3y.J4na@yahoo.com

    • Popular
    • Categories
    • Archives