Thursday, January 12, 2012

دھکّے والی چدائی


کوئی دس دِن باد میرے پتِ ٹُواَر سے لؤٹے۔ اِس بار بھی وے ترہ ترہ کے پرسادھن لایے تھے، شام کے وکت گھر میں گھُسے تو گھُستے ہی مُجھ پر ٹُوٹ پڑے، اُنہوںنے کپڈے بھی نہیں بدلے اؤر مُجھسے لِپٹ گیے۔ میںنے درواجے کو جب تک لوںک کِیا تب تک وے میرے گاُّن کو ہٹا چُکے تھے اؤر دیکھتے ہی دیکھتے میری برا کو ہٹا ستنوں سے سرکا کر میرے ستنوں کو چُوسنے لگے۔


اوپھپھو ۔۔۔ تُم سارے بھائی بہن ایک جیسے ہو ! گھر میں آکر پانی وانی پینے کے ستھان پر میرے ستنوں پر ٹُوٹ پڑتے ہو ! میںنے اُنکے سِر پر ہاتھ فیر کر کہا۔

وہ چؤںکے اؤر ستن کے نِپّل کو مُںہ سے نِکال کر بولے- کیا متلب ہے تُمہارے کہنے کا؟ تُمنے میرے ساتھ میری بہن کا جِکر کیوں کِیا۔ّ؟

اِسلِیے کِیا کیوںکِ آپکے یہاں سے اُس دِن جاتے ہی آپکی بہن شِلپا آئی تھی، وو بھی درواجا کھُلتے ہی میرے بلاُّج کو کھولنے لگ پڑی تھی ! میںنے ہںستے ہُئے کہا۔

کیا !!!؟؟؟ ۔۔۔ ۔۔کیا شِلپا کو بھی یہ سب پسںد ہے ۔۔۔ ۔؟ اُنہیں آشچرے ہُآ۔

پھِر کیا ہُآ؟۔ّ۔ اُنہوںنے مُجھے اَپنی باجُواوں میں اُٹھا کر بیڈرُوم کی اور چلتے ہُئے پُوچھا۔

میں اُنکی ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کرتی ہُئی بولی- جب وہ یہاں پہُںچی تھی تب میں اَپنے بھائی کے ساتھ باتھرُوم میں تھی، ہم دونوں نہا رہے تھے۔

ساتھ ساتھ نہا رہے تھے ۔۔۔! تب تو بڑا مزا آ رہا ہوگا ! چلو، اَپن بھی ساتھ ساتھ نہاتے ہیں، نہاتے نہاتے سُنیںگے پُورا کِسّا ! اُنہوںنے بیڈرُوم میں پرویش ہوتے ہوتے اَپنے کدم باتھرُوم کی اؤر موڑ کر کہا۔

مجا تو آنا ہی تھا ۔۔۔! میرا بھائی مُجھے سابُن لگا کر مُجھے بُری ترہ گرم چُکا تھا، وہ میری یونِ کو چاٹ ہی رہا تھا کِ تُمہاری بہن نے کال بیل بجا دی، ہم دونوں کا مُوڈ ऑف ہو گیا۔ میں اُسے پیاسا چھوڑ باتھرُوم سے نِکلی اؤر جلدی جلدی ساڑی بلاُّج پہن کر درواجے پر پہُںچی۔ درواجا کھولا تو پایا کِ سامنے گہرے گلے کے ٹاپ اؤر گھُٹنوں تک کی چُست سکرٹ میں اَپنی اُپھنتی جوانی لِیے شِلپا کھڑی تھی۔

میرے اِتنا کہتے کہتے میرے پتِ نے مُجھے باتھرُوم میں لے جاکر مُجھے پھرش پر اُتار دِیا اؤر مُجھے دیوار کے سہارے کھڑا کر دِیا۔ پھِر میرے ہوںٹھوں کو چُومنے کے باد میرے ستنوں کو چُوم کر بولے- پھِر ۔۔۔ پھِر کیا ہُآ ۔۔۔ کہتی رہو اؤر مُجھے اِن جھرنوں سے اَپنی پیاس بُجھانے دو !

اِتنا کہ کر اُنہوںنے پھِر میرے ستن پر مُںہ لگا دِیا۔ میرے شریر میں آگ بھرتی جا رہی تھی، میرے ہاتھوں نے اُنکی ٹائی نِکالنے کے باد اُنکے کوٹ کو بھی اُتار دِیا تھا، اَب شرٹ کے بٹن کھُل رہے تھے۔

شرٹ کے بٹن کھولتے کھولتے میں بولی- اُپھ ۔۔۔ ۔اُپھ ۔۔۔ شِلپا نے بھیتر آتے ہی رںگین مجاک آرںبھ کر دِیے، میرے مہکتے رُوپ کی تاریف کرنے لگی، میں سمجھ گئی کِ لڑکی پیاسی ہے، میری باتوں کو ۔۔۔ ۔اُپھ ۔۔۔ اُپھ ۔۔۔ آہِستا آہِستا چُوسِیے اِنہیں ۔۔۔ ۔ آپ تو پاگل ہُئے جا رہے ہیں ۔۔۔ اُپھ ۔۔۔ میرے پتِ پاگلوں کی بھاںتِ ہی میرے ستنوں کا دوہن سا کر رہے تھے، میرے ہوںٹھوں سے سِسکارِیاں پھُوٹنے لگی تھی، ایسا لگ رہا تھا جیسے نابھِ میں کوئی تُوفان اَںگڈائی لینے لگا ہے، میںنے اُتّیجنا سے اُتپنن ہونے والی سِسکارِیوں کو اَپنے داںتوں تلے دبا کر ایک لںبی ساںس چھوڑی پھِر کہنا شُرُو کِیا- شِلپا کو میں چاے بنانے کے لِئے اَپنے ساتھ رسوئی میں لے گئی تو اُسنے ۔۔۔ ۔۔اُپھ ۔۔۔ ۔۔ऑپھ ۔۔۔ اوپھپھو ۔۔۔ کیا کر رہے ہیں آپ ۔۔۔ ۔؟ کیا کوئی ٹرینِںگ لیکر آیے ہیں کہیں سے ستنوں کے ساتھ اِس ترہ پیش آنے کی ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔آج تو آپ میرے ستنوں کو جھِںجھوڈے ڈال رہے ہیں آج ۔۔۔ میرے اِس ترہ کہنے سے اُنہوںنے ستن سے مُںہ ہٹا کر میرے ہوںٹھ چُوم کر منموہک ڈھںگ سے کہا- کیا تُمہیں مجا نہیں آ رہا؟ اَگر مجا نہیں آ رہا ہے تو میں اِنہیں آہِستا آہِستا چُوستا ہُوں۔

مجا تو بہُت آ رہا ہے، اِتنا آ رہا ہے کِ ایسا لگتا ہے جیسے میں آج کن کن ہوکر بِکھر رہی ہُوں ۔۔۔ ۔۔۔ ٹھیک ہے تُم ایسے ہی چُوسو !

میںنے اُنکی شرٹ کو اُنکی باجُاوں سے نِکال کر کہا۔

تُم شِلپا والی بات تو بتاّو ۔۔۔ اُنہوںنے یہ کہ کر ستن کے نِپّل کو پھِر مُںہ میں لے لِیا اؤر اَپنے ہاتھوں کو میرے نِتںبوں پر لے جاکر نِتںبوں کی مالِش سی کرنے لگے۔

میں اُنکی بیلٹ کھولتے ہُئے بولی ۔۔۔ پھِر ایک اوہّ۔ّاُپھ ۔۔۔ اُوئی ۔۔۔ پھِر ہاں میں۔ّاُپھ ۔۔۔ ۔میں کہ رہی تھی کِ شِلپا کو میں رسوئی میں لے گئی تو اُسنے وہاں پہُںچتے پہُںچتے ہی میرے بلاُّج میں ہاتھ ڈال دِیا اؤر میرے ستنوں کو چُوسنے کی اِچّھا جاہِر کی اؤر یہ بھی بتایا کِ اَپنی سہیلی کے ساتھ لیسبِین لو کا آنںد لیتی ہے۔ میری ۔۔۔ ۔اُپھ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔اوہ ۔۔۔ اَپنے پتِ کے دوارا اَپنی یونِ میں مؤجُود بھںگاکُر کو مسلے جانے سے میرے کںٹھ سے کراہ نِکل گئی- اُپھ ۔۔۔ یے شاور تو کھول لو ۔۔۔ ۔نہانا بھی ساتھ ساتھ ہو جایّگا !

میں اِتنا کہ کر پُنہ وِشے پر آئی ۔۔۔ میرے شریر میں میرے بھائی نے پہلے ہی کاماگنِ بھڑکا ڈالی تھی، شِلپا دوارا ستنوں کو پکڑنے مسلنے اؤر اُسکی ستن پان کی اِچّھا نے مُجھے اؤر اُتّیجِت کر ڈالا تھا۔ اُسے تبتک پتا نہیں تھا ۔۔۔ اُپھ ۔۔۔ اوہ ۔۔۔ اوپھ ۔۔۔ ۔میرے پتِ اَب میرے ستنوں کو چھوڑ کر نیچے پہُںچ گئے تھے، اُنہوںنے میری یونِ پر مُکھ لگا دِیا تھا، اَب وو میرے بھںگاکُر کو چُوسنے لگے تھے۔

میں اُنکے بالوں میں اَںگُلِیاں پھںسا کر مُٹّھِیاں بھیںچنے لگی، اُنکی اِس کرِیا نے میری نس نس میں بہتے رکت کو اُبال سا دِیا تھا، مُجھے اَپنی اُتّیجنا جوالامُکھی کا سا رُوپ لیتی مہسُوس ہُئی، مُجھے روم روم میں پھُوٹتے کامانّد کے کئی گھُوںٹ بھرنے پڑے۔

سُناّو ن آگے کیا ہُآ ۔۔ّ؟ میرے پتِ نے اَپنا مُکھ میری یونِ سے پل بھر کے لِئے ہٹا کر کہا۔

تُم شاور کھولو، میں آگے بتاتی ہُوں ۔۔۔ اَپنی ساںسوں کو سںیت کرنے کا اَسپھل پریاس کرتی ہُئی بولی۔

اوفف ۔۔۔ پھِر شِلپا کے سامنے میرا بھائی آ گیا، وہ رسوئی کے باہر کھڑا ہوکر پہلے سے ہم دونوں کو دیکھ بھی رہا تھا اؤر ہماری باتیں بھی سُن رہا تھا، میرا بھائی سِرپھ اَںڈرویّر میں تھا، وہ بھی پہلے سے اُتّیجِت تھا اِسلِئے اُسکا برہد آکار میں پھیلا لِںگ اَںڈرویّر میں سے بھی اُبھرا اُبھرا دِکھائی دے رہا تھا۔ شِلپا کی درشٹِ اُسکے اَںڈرویّر پر ٹِک گئی، میں سمجھ گئی کِ اُسنے اَبھی تک لِںگ کے درشن نہیں کِئے ہیں، اوہ ۔۔۔ اُپھ آاُچ ۔۔۔ اوہ ۔۔۔

اِتنی کہانی سُنتے سُنتے ہی میرے پتِ نے اَپنے لِںگ کا مُںڈ میری یونِ میں پروِشٹ کرا دِیا، وے شاور وہ کھول چُکے تھے۔

میں اُنکے دوارا ہُئے لِںگ پرویش سے آویشِت ہونے لگی تھی، میرے ہاتھ اُنکے کندھوں سے پیٹھ تک باری باری سے کس رہے تھے، میری ساںسیں تیبر ہو رہی تھی، مادک سِسکِیوں کی اَسپھُٹ دھونِیاں رہ رہ کر میرے کںٹھ سے اُبھر رہی تھی،

میرے پتِ نے لِںگ کا یونِ میں گھرشن کرتے ہُئے کہا ۔۔۔ ۔سٹوری کا کیا بنا ۔۔۔! آگے کیا تُمنے اَپنے بھائی سے شِلپا کی پیاس بُجھوا دی؟ ۔۔۔ اوہ ۔۔۔ کِتنا مجا آ رہا ہے شاور کے نیچے میتھُن کرنے میں ۔۔۔ اُپھ ۔۔۔ وہ لِںگ کو آگے تک ٹھوک کر بولے۔ اُنکے ہاتھوں میں میری پتلی کمر تھی، اُنکی جاںگھیں میری جاںگھوں سے ٹکرا کر وِچِتر سی آواج پیدا کر رہی تھی۔

ہاں ۔۔۔ اُپھ ۔۔۔ ۔اوہ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔اُوئی ماں ۔۔۔ ۔تُم کیا موٹا کر لایے ہو اَپنے لِںگ کو ۔۔۔ اِسّے آج جیادا ہی آنںد مِل رہا ہے ۔۔۔ ۔، مُجھے واکئی پہلے سے جیادا مجا آ رہا تھا، میں پھِر سٹوری پر آئی ۔۔۔ ۔بڑا مجا آیا تھا ۔۔۔ ۔شِلپا کو میرے بھائی نے پُورا مجا دِیا تھا ۔۔۔ کھُوب جور جور کے دھکّے مارے تھے ۔۔۔ میںنے بتایا اؤر لِںگ پرہار سے اُتّپنن آنّدِت کر دینے والی پیڑا سے میرے شریر کے رویّں رویّں میں پُلکن تھی، کںٹھ کھُشک ہو گیا تھا، میری جیبھ بار بار میرے ہوٹھوں پر پھِر رہی تھی۔

تھوڑی دیر میں میرے پتِ نے میری مُدرا بدلوائی۔ اَب میری پیٹھ اُنکی اور ہو گئی، میںنے جرا جھُک کر دیوار میں لگی نل کو پکڑ لی، وہ میری یونِ سے لِںگ نِکال چُکے تھے اؤر اَب میری گُدا(گاںڈ) میں پرویش کرا رہے تھے۔ گُدا میں لِںگ پہلے ہی پرہار میں پرویش ہو گیا، اُنہوںنے میری کمر پکڑ کر کھُوب شکتِ کے ساتھ دھکّے مارے اؤر گُدا میں ہی سکھلِت ہو گئے، میں بھی سکھلِت ہو چُکی تھی۔

پھِر ہم دونوں ایک دُوسرے سے لِپٹ کر دیر تک نہاتے رہے۔

By Taha Gondal with No comments

0 comments:

Post a Comment

EMail : PkMasti@aol.com
Yahoo : Jan3y.J4na@yahoo.com

    • Popular
    • Categories
    • Archives