Thursday, January 12, 2012

مستانی چوت والی چکنی چھوٹی بہن

میں ارشد بہار کا رہنے والا ہوں ۔ میری اک پیاری سی چھوٹی بہن سیما ہے سیما مجھہ سے دو سال چھوٹی ہے ہم دونوں اک دوسرے کو بہت پیار کرتے ہے وہ کافی چنچل ہے اور حسین بھی میڑک تک آتے آتے ہم دونوں بھایی بہن نے جوانی کی دیلیز پر قدم رکھہ سیما کی نھنی نھنی چچیاں نکل آیی تھی اور میرے لنڈ کے اس پاس ہلکے ہلکے بال نکلنے تھے
اکثررات میں اماں کو ابا سے اپنی چوت مرواتے دیکھا تھا پتا نہی تھا کہ یہ کون سا کھیل ہے دونوں ننگے ہوتے اماں ابا کا لنڈ چوستی اور ابا اماں کی چوت اور پھر اماں کے حسین ننگے جسم کو پکڑ کر ابا اپنا موصل جیسا لنڈ اماں کی چوت میں پیل دیتے اک دبی سی چیخ سنایی دیتی ہاے بیٹی چوت مار ڈالا میری نازک چوت پھٹ جاےگی لیکن ابا اک بھوکے جانور کی طرح اماں کی مست چوت کا مزا لتے اماں کے منہ سے گالیوں کی بوچھاڑ ہوتی اور ابا مستی میں اماں کی مست چوت میں اور دکھے مارتے مارتے ٹنھڈے ہوجاتے۔

میڑک پاس کرکے مجھے آگے پڑھنے کےلیے شھر جانا پڑا اس بیچ میں چھٹیاں میں گھرآتا سیما کی جوانی میں دن بہ دن نھیکر تا جارہا، سیما کی جوانی مدمست ہوگیی گورے جسم رسیلے ہونٹ سڈول چھاتیاں جیسا کہ حیس گڑیا میں بھی پورا جوان ہو چکا تھا گھر میں چنچل مدہوش حسن کو دیھک کر میرے لنڈ میں کسمسھاٹ ہونے لگتی کثر کام کے دوران اس کی چھاتیاں پر نظر پڑتی دل میں خیال آتا کیوںنا اس جوانی کا مزا لوٹو اور اپنی گڑیا کو بھی لنڈ کا مزا چھکاوں آخر میرے ساے میں اس کی مدہوش جوانی پروان چڑی ہے اس طرح اسکی حسین چوت پر میرا بھی حق بنتا اخر کوی نہ کوی مرد اس کی چوتکو چودے گا پھر کیوںنا میں ہی اس کی مستانی جوانی کا مزا لو گرمیوں کے دن تھے میں اپنے کمرے میں ‎سیما کے مدہموش حسن کے خیال میں ڈوبا اپنے لنڈ کو آ ھستہ آ ھستہ سہلارہا تھا کہ یکا یک کمرے کا دروازہ کھلا جلدی سے میں نے اپنا کھڑا لنڈ لنگی کے اندر ڈال لیا سامنے ‎‌سیما چاے لےکر کھڑی تھی تھوڑا جھجکی اور چاے ٹیبل پر رکھہ کر چلی گی شاید لنگ کے اندر کھڑے لنڈ پر اس کی نظر نہیں پڑی تھی.

خیال آیا کیوں نہ دوسرے دن بھی ایسا کیا جاے اگر اس مست جوانی نے تھوڑا بھی ریسپانس دیا تو بات بن جاےگی دوسرے دن ذیادہ ہمت کی اور میں نے اپنی لنگی اتار کر الگ کردی اور لنڈ کو اپنے ہاتھوںلیکر سہلانے لگا اور جب وہ چاے لیکر کمرے میں آیی تو میں نے جلدی ناھی کی بگل میں پڑیی لنگی سے اپنے ننگے بدن کو ڈھک لیا لیکنلنڈ کھلا ہی رہا اک بار سیما ٹھٹکی اک نطر میری طرف دیکھاپھرترچھی نطر سے کھڑے لنڈ کو دیکھا اور چپ چاپ ٹیبل پر چاے رھکہ کر واپس چلی گی مجھے لگا کی اس کی مست جوانی میں ہلکی سی ہلچل تو ضرور ہویے نہی تو وہ شرماکے الٹے پیروں کمرے سے نکل جاتی اور پھراسے چودنے کی چاہت میںمیرا بدن میں آگ لگا دی اواواواواواو میری پیاری گڑیا سیما اور میں جھڑ گیا

اتوار کا دن تھا اماں اورابا شادی میں گيے ہوے تھے اور دوسرے دن لوٹنے کا پروگرام تھا

بھیا میںنے کھانا لگاری ہو آپ ڈاینیگ روم میں آجاو حنا ( نوکرانی) کہا ں ہے میں نے پوچھا وہ پڑوس میں گیی ہے سیما نے کہا میں نے موقع غنیمت سمجا ۔ اپنی پیاری بہن کے کورے بدن کا مزا لوٹنے کا اس سے اچھا موقع اور کہا ں ہوسکتا ۔
سیما تم نے کہانا کھا لیا ۔ ہا ں بھائی جان

میری کھانے کی بھوک ختم ہوچکی تھی اور سیما کی جوانی کی بھوک سے لوڑے میں تناو آنے لگا تھا میں چپکے سے کیچن گیا اور پیچھے سے سیما کو دبوچ لیا
بھائی جان یہ کیا کررہں میںری سیما بس تھوڑا سا میںنے اسے دبوچتے ہوے کہا
بھائی جان میں آپکی اپنی چھوٹی بہن ہوں
بہن ہو تو کیا ہوا اک مست جوانی بھی تو ہو یہ رسیلے ہونٹ کسیی کسی چھاتیاں۔اوریہ مستانی چوت اور میںنے شلوار کے اوپر سے چوت پر ہاتھہ رکھہ دیا ۔

سیما میں تیرے پیارے بھائی جان سے پہلے اک جوان مرد ہوں اور تیری اس حیسن جوان جسم پر میرا بھی حق ہے

حرام ذادے مجھے چھوڑدے
سیما چلایی تو بڑا کمینہ
اور بھائی تو اپنی بہنوں کی عزت بچاتے ہیں۔اورتو ہی اپنی ہی بہن کی عزت پر ہا تھہ ڈال رہا ہے
سالی رنڈی چپ تیرے جیسی مصوم کچی کلی پرہر رشتہ قربان ہے اور جوان لنڈ تو صرف چوت پہچانتا ہے ۔
ماں بھابی بہن کے رشتےکے کیا مطلب اسکےلیے معنہ نہں رکھتے
کتے اچانک غصے میں اسنے میرے منہ پر تھوک دیا اورمجھے تھپڑمارنے لگی سیما میری بانہوںمیں بری طرح جھٹپٹا ری تھی لیکن میری گرفت سے نکلنا آساں نہں تھا
میںحالت کو قابومیں کرنے کے لیے اسکے دونوں ہاتھہ کو جکڑکر گود میں اٹھا کر اماں کے کمرے میں بیڈ پر پٹک دیا یہ وہی بیڈ تھا جس پر میں نے اپنی اماں کو کیی بار چود واتے دیھکا تھا اور آج میں اپنی بہن کی عزت اسی پر لوٹنے جارہا تھا

سیما کا جھٹپٹانا جاری تھا اک ہاتھہ سے میں اسکے رونوں ہاتھہ پکڑہوے تھا اور دوسرے ہاتھہ سے اسکی قمیص پھاڑنے لگا جسےجسے اس کے کپڑے پھٹتے گیے اسکا حسین گورا بدن دیھکہ کر میری چودایی کی پیاس اور بھی تیزہوگی اور اب شلوار کی باری تھی شلوار پھٹتے ہی سیما کی ننگی مست چوت میرے سامنے تھی اک ہاتھہ اسکے چوت پرلگایا اور تیزی سے رگڑنے لگا
بھیا مجھے چھوڑدے میری عزت مت برباد کرو سیما پھر چلای۔
لیکن میں کہاں مانے والا اس کو جکڑے ہوے میںنے پاجامہ کھولا اور موصل سا لنڈ باہرتھا مجھہ پر رحم کر بھیا میں تھمارے ہاتھہ جوڑتی ہوں سیما سیسکنے لگی
چپ بھوسڑی والی آج میں تیری چوت کامزالےکر رہیوں گا کویی مادر چوت تیری مدہوش جوانی کا مزالوٹ نہی سکا وہ نامرد ہے اور میںنے اسے دوچار تھپڑ لگا دیں تھپڑکچھہ زور سے لگ گے جسکی وجہ سے اس کے منھہ سے خون نکلنے لگا مجھے اسکی پروا نہی تھی سیما نے میرےتیوردیھکہ کرجھٹپٹانا کم کر دیا اور سسکنے لگی حرمزادی روتی کیوں ہے چپ چاپ چودنے دے تجھے بھی مزا آے گا میںنے کہا میں نے ہوشیار یی سے اپنےہونٹ اسکی چوت پر رکھہ دیے اور اسکی چوت چا نٹے تھوڑی دیر بعد سیما نے رونا بند کردیاشاید چوت چانٹے میں مزا آنے لگا میں سھمج گیا کے سیما پر بھی جوانی کا نشہ چڑھ رہا ہےمیںاپنےہونٹ اس کی چھاتیاں پر گاڑدیا اوراپنے لنڈ کا سپراچوت کے ہونٹ پرٹکا دیا
بھیا میری عزت مت لوٹوں میں برباد ہو جاو گی سیما چلای یمیں نے دیکھا کے سیما آسانی سے چوت ناہی دے گی زبردستی چودناہوگا
اسے دبوچے ہوے میں تیزی سے لنڈ گھیسڑ دیا پہلے تو نرڈ چوت کے ہونٹوں کو چیرتا ہوا گھستا گیا پھر چوت کی سیل نے اس کا راستہ روک لیا سیما درد سے چیحنح لگی لکین میں کہاں صبر کرنے والاتھا اپنے ہاتھہ اس کے منہ پہ رکھہ کر پورے جسم کا زورلنڈ پر دیےدیا لنڈ اک جھٹکے سے چوت کی جھلی پھاڑتا ہوا اندر چلا گیا
ہ ہ ہ ہ ہ ہاہاہا ای ای ای ایآآآآآآآآآ سیما چیخ آٹھی کوری چوت پھٹ چکی تھی
نکال کمینہ بہت درد ہورہے نہیں تو میری جان نکل جاے گی000000 ااااااااماںمجھے اس حرامی سے بچالے سیما سسکنے لگی اوی

پہلی بارچوادیی میں تو درد ہوتا ہے اور پھر کویی تو تیری چوت پھاڑتا ہی سیما خاموش رہی شاید سمجھہ تھی کہ وہ لوٹ چکی ہے تھوڑی دیر پہلے کی کلی پھول بن آگی ہے
بھیا تھوڑی دیر روک جاوں درد ہو رہا
سیما سسکنے لگی اوہی اویی ااااا آآآآآآ اب مزا آرا ہے توڑا زور سے کرو
سیما کی چوت زورزور سے جھٹکے مارنا شروع کردیے سیما بھی چوت اٹھا کر میرا ساتھہ دینے لگی بھاییاور زور سے چود بڑا مزا ارا ہے آ ا ا ا اآواواواوا اویاویاوایاومیں جنت میں پہچ گی ہوں اااااااا بھیییییاااااااااااااااااااااچودمجھے چود اور زور سے خود سیما دیوانی ہوری تھی
سیما میری رانی اب میں جھڑرہا ہوں ہاہاہاہ میرالنڈ اندر ہی جھڑ گیا میری جان
بھیا میں بھی اب جھڑی ہاے میری چوت اور ہم دونوںجڑ گیےتھوڑی دیر تک یونہی میں سیما کی چھا تیاں منہ میں دباے پڑا رہا اب چھوڑ بھی اپنی بہن کو سالے سب رس پی جاے گا یا بعد کلیےبھی کچھہ چوڑے گا میری گڑیا اک چودای میں بہن چود نبا دیا

میں نے جسے ہی دروازہ کی طرف نظر اٹھی حنا کھڑی مسکرای رہی تھی وہ مسکراتے ہوے ہمارے پاس آیی اور سیما کو پیار کرکے بولی آج تم بہن بھایی نے یہ ثابت کردیا کے دو جوان جسم کا اک ہی رشتہ ہوتا ہے چوت اور لنڈ کا

EMail : PkMasti@aol.com
Yahoo : Jan3y.J4na@yahoo.com

By Taha Gondal with No comments

0 comments:

Post a Comment

EMail : PkMasti@aol.com
Yahoo : Jan3y.J4na@yahoo.com

    • Popular
    • Categories
    • Archives