Thursday, January 12, 2012

میری چدائی کی رنگین داستان

ہیلّو دوستوں میں آپ سب کے لِئے ایک ہِںدی کہانی لیکر ہاجِر ہُوں کہانی پڑھنے کے باد کمینٹ دینا ن بھُولیں دوستوں ہو سکتا ہے کُچھ دوستوں نے اِس کہانی کو پڑھا ہو پھِر بھی آشا کرتا ہُوں یے کہانی آپ سب کو پسںد آایگی.

میں سمرتِ ہُوں۔ 26 سال کی ایک شادیشُدا مہِلا۔ گورا رںگ اؤر کھُوبسُورت ناک نکش۔ کوئی بھی ایک بار مُجھے دیکھ لیتا تو بس مُجھے پانے کے لِئے تڑپ اُٹھتا تھا۔ میری پھِگر اَبھی 34-28-38۔ میرا پھِگر بہُت سیکسی ہے۔ میری شادی پںکج سے 6 سال پہلے ہُئی تھی۔ پںکج ایک آیِل ریپھائینری مے کافی اَچّچی پوزِشن پر کم کرتا ہے۔ پںکج نِہایت ہی ہیںڈسم اؤر کافی اَچّھے سوابھاو کا آدمی ہے۔ وو مُجھے بہُت ہی پیار کرتا ہے۔ مگر میری کِسمیت مے سِرف ایک آدمی کا پیار نہی لِکھا ہُآ تھا۔ میں آج دو بچّو کی ما ہُوں مگر اُنمے سے کِسکا باپ ہے مُجھے نہی مالُوم۔ کھُون تو شاید اُنہی کی پھیمِلی کا ہے مگر اُنکے ویرے سے پیدا ہُآ یا نہی اِسمے سںدیہ ہے۔

آپکو زیادا بور نہی کرکے میں آپکو پُوری کہانی سُناتی ہُوں۔ کیسے ایک سیدھی سادھی لڑکی جو اَپنی پڑھائی ختم کرکے کِسی کںپنی مے سیکریٹری کے پد پر کام کرنے لگی تھی، ایک سیکس مشین مے تبدیل ہو گیّ۔ شادی سے پہلے مینے کِسی سے جِسمانی تالُّقات نہی رکھے تھے۔ مینے اَپنے سیکسی بدن کو بڑی مُشکِل سے مردوں کی بھُوکھی نِگاہوں سے بچاکر رکھا تھا۔ ایک اَکیلی لڑکی کا اؤر وو بھی اِس پد پر اَپنا کومارے سُرکشِت رکھ پانا اَپنے آپ مے بڑا ہی مُشکِل کا کام تھا۔ لیکِن مینے اِسے سںبھو کر دِکھایا تھا۔ مینے اَپنا کؤماریا اَپنے پتِ کو ہی سمرپِت کِیا تھا۔ لیکِن ایک بار میری یونِ کا بںد دوار پتِ کے لِںگ سے کھُل جانے کے باد تو پتا نہی کِتنے ہی لِںگ دھڑادھڑ گھُستے چلے گیے۔ میں کئی مردوں کے ساتھ ہُمبئیستر ہو چُکی تھی۔ کئی لوگوں نے ترہ ترہ سے مُجھسے سںبھوگ کِیا……………

میں ایک کھُوبسُورت لڑکی تھی جو ایک میڈِیم کلاس پھیمِلی کو بِلاںگ کرتی تھی۔ پڑھائی ختم ہونے کے باد مینے شارٹ ہیںڈ پھیس سیکریٹری کا کورس کِیا۔ کںپلیٹ ہونے پر مینے کئی جگہ اَپلائی کِیا۔ ایک کںپنی سُدرشن اِںڈسٹریس سے پی ئے کے لِئے کال آیا۔ اِںٹرویُو مے سیلیکشن ہو گیا۔ مُجھے اُس کںپنی کے مالِک مِسٹر۔ کھُشی رام کی پیئے کے پوسٹ کے لِئے سیلیکٹ کِیا گیا۔ میں بہُت کھُش ہُئی۔ گھر کی ہالت تھوڑی نازُک تھی۔ میری تنخواہ گرہستھی مے کافی مدد کرنے لگی۔

میں کام من لگا کر کرنے لگی مگر کھُشی رام جی کی نِیت اَچّھِ نہی تھی۔ کھُشِرامجی دیکھنے مے کِسی بھیںسے کی ترہ موٹے اؤر کالے تھے۔ اُنکے پُورے چیہرے پر چیچک کے نِشان اُنکے ویکتِتو کو اؤر بُرا بناتے تھے۔ جب وو بولتے تو اُنکے ہوںٹھوں کے دونو کِناروں سے لار نِکلتی تھی۔ مُجھے اُسکی شکل سے ہی نفرت تھی۔ مگر کیا کرتی مجبُوری مے اُنہے جھیلنا پڑ رہا تھا۔ پھیس مے سلوار کمیز پہن کر جانے لگی جو اُسے ناگوار گُجرنے لگا۔ لںبی آستینو والے ڈھیلے ڈھلے کمیز سے اُنہے میرے بدن کی جھلک نہی مِلتی تھی اؤر نا ہی میرے بدن کے تیکھے کٹاو ڈھںگ سے اُبھرتے۔

"یہاں تُمہے سکرٹ اؤر بلاُّس پہنّا ہوگا۔ یے یہاں کے پیئے کا ڈریس کوڈ ہے۔" اُنہوں نے مُجھے دُوسرے دِن ہی کہا۔ مینے اُنہے کوئی جواب نہی دِیا۔ اُنہوں نے شام تک ایک ٹیلر کو وہی آپھیس مے بُلا کر میرے ڈریس کا آرڈر دے دِیا۔ بلاُّس کا گلا کافی ڈیپ رکھوایا اؤر سکرٹ بس اِتنی لںبی کی میری آدھی جاںگھ ہی ڈھک پائے۔

دو دِن مے میرا ڈریس تیّار ہو کر آگیّا۔ مُجھے شُرُو مے کُچّھ دِن تک تو اُس ڈریس کو پہن کر لوگوں کے سامنے آنے مے بہُت شرم آتی تھی۔ مگر دھیرے دھیرے مُجھے لوگوں کی نزروں کو سہنے کی ہِمّت بنانی پڑی۔ ڈریس تو اِتنی چھہوٹی تھی کِ اَگر میں کِسی کارن جھُکتی تو سامنے والے کو میرے برا مے قید بُوبس اؤر پیچھے والے کو اَپنی پیںٹی کے نزارے کے درشن کرواتی۔

میں گھر سے سلوار کمیز مے آتی اؤر آپھیس آکر اَپنا ڈریس چیںج کرکے اَپھیشِیل سکرٹ بلاُّس پہن لیتی۔ گھر کے لوگ یا موہلّے والے اَگر مُجھے اُس ڈریس مے دیکھ لیتے تو میرا اُسی مُہُورت سے گھر سے نِکلنا ہی بںد کر دِیا جاتا۔ لیکِن میرے پیریںٹس بیکورڈ خیالو کے بھی نہی تھے۔ اُنہوں نے کبھی مُجھسے میرے پرسنل لائیپھ کے بارے مے کُچّھ بھی پُوچھ تاچھ نہی کی تھی۔

ایک دِن کھُشی رام نے اَپنے کیبِن مے مُجھے بُلا کر اِدھر اُدھر کی کافی باتیں کی اؤر دھیرے سے مُجھے اَپنی اور کھیںچا۔ میں کُچّھ ڈِسبیلینس ہُئی تو اُسنے مُجھے اَپنے سینے سے لگا لِیا۔ اُسنے میرے ہوںٹھوں کو اَپنے ہوںٹھوں سے چچھُو لِئے۔ اُسکے مُںہ سے اَجیب ترہ کی بدبُو آ رہی تھی۔ میں ایک دم گھبرا گیّ۔ سمجھ مے ہی نہی آیا کِ ایسے ہالت کا سامنا کِس ترہ سے کرُوں۔ اُنکے ہاتھ میرے دونو چُوچِیو کو بلاُّس کے اُپر سے مسلنے کے باد سکرٹ کے نیچے پیںٹی کے اُپر پھِرنے لگے۔ مئی اُنسے اَلگ ہونے کے لِئے کسمسا رہی تھی۔ مگر اُنہونے نے مُجھے اَپنی باہوں مے بُری ترہ سے جاکڑ رکھا تھا۔ اُنکا ایک ہاتھ ایک جھٹکے سے میری پیںٹی کے اَںدر گھُس کر میری ٹاںگوں کے جوڑ تک پہُںچ گیا۔ مینے اَپنے دونو ٹاںگوں کو سکھتی سے ایک دُوسرے کے ساتھ بھیںچ دِیا لیکِن تب تک تو اُنکی اُںگلِیاں میری یونِ کے دوار تک پہُںچ چُکی تھی۔ دونو اُںگلِیاں ایک میری یونِ مے گھُسنے کے لِئے کسمسا رہی تھی۔

مینے پُوری تاقت لگا کر ایک دھکّا دیکر اُنسے اَپنے کو اَلگ کِیا۔ اؤر وہاں سے بھاگتے ہُئے نِکل گیّ۔ جاتے جاتے اُنکے شبد میرے کانو پر پڑے۔ "تُمہے اِس کںپنی مے کام کرنے کے لِئے میری ہر اِچّچھا کا دھیان رکھنا پڑیگا۔" میں اَپنی ڈیسک پر لگبھگ دؤڑتے ہُئے پہُںچی۔ میری ساںسے تیج تیج چل رہی تھی۔ مینے ایک گلاس ٹھںڈا پانی پِیا۔ بیبسی سے میری آںکھوں مے آںسُو آ گیے۔ نم آںکھوں سے مینے اَپنا ریسِگنیشن لیٹر ٹائیپ کِیا اؤر اُسے وہی پٹک کر آپھیس سے باہر نِکل گیّ۔ پھِر دوبارا کبھی اُس راستے کی اور مینے پاوں نہی رکھے۔

پھِر سے مینے کئی جگہ اَپلائی کِیا۔ آخِر ایک جگہ سے اِںٹرویُو کال آیا۔ سیلیکٹ ہونے کے باد مُجھے سیئیاو سے مِلنے کے لِئے لے جایا گیا۔ مُجھے اُنہی کی پیئے کے پوسٹ پر اَپایںٹمیںٹ مِلی تھی۔ میں ایک بار چوٹ کھا چُکی تھی اِس لِئے دِل بڑی تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ مینے سوچ رکھا تھا کِ اَگر میں کہیں کو جاب کرُوںگی تو اَپنی اِچّچھا سے۔ کِسی مجبُوری یا کِسی کی رکھیل بن کر نہی۔ مینے سکُچتے ہُئے اُنکے کمرے مے ناک کِیا اؤر اَںدر گیّ۔

"یُو آر ویلکم ٹُو دِس پھیمِلی" سامنے سے آواز آئی۔ مینے دیکھا سامنے ایک37 سال کا بہُت ہی کھُوبسُورت آدمی کھڑا تھا۔ میں سیئیاو مِسٹر۔ راج شرما کو دیکھتی ہی رہ گیّ۔ وو اُٹھے اؤر میرے پاس آکر ہاتھ بڑھایا لیکِن میں بُت کی ترہ کھڑی رہی۔ یے سبھیتا کے کھِلاپھ تھا میں اَپنے باس کا اِس ترہ سے اَپمان کر رہی تھی۔ لیکِن اُنہوں نے بِنا کُچّھ کہے مُسکُراتے ہُئے میری ہتھیلی کو تھام لِیا۔ میں ہوش مے آئی۔ مینے تپاک سے اُنسے ہاتھ مِلایا۔ وو میرے ہاتھ کو پکڑے ہُئے مُجھے اَپنے سامنے کی چیر تک لے گیے اؤر چیر کو کھیںچ کر مُجھے بیٹھنے کے لِئے کہا۔ جب تک وو گھُوم کر اَپنی سیٹ پر پہُںچے میں تو اُن کے ڈیسینسی پر مر مِٹی۔ اِتنا بڑا آدمی اؤر اِتنا سومے ویکتِتو۔ میں تو کِسی ایسے ہی ایںپلایر کے پاس کام کرنے کا سپنا اِتنے دینو سے سںجوئے تھی۔

کھیر اَگلے دِن سے میں اَپنے کام مے جُٹ گیّ۔ دھیرے دھیرے اُنکی اَچّچھائیّوں سے اَوگت ہوتی گیّ۔ سارے آپھیس کے سٹاپھ اُنہے دِل سے چاہتے تھے۔ میں بھلا اُنسے اَلگ کیسے رہتی۔ مینے اِس کںپنی مے اَپنے باس کے بارے مے اُنسے مِلنے کے پہلے جو دھارنا بنائی تھی اُسکا اُلٹا ہی ہُآ۔ یہاں پر تو میں کھُد اَپنے باس پر مر مِٹی، اُنکے ایک ایک کام کو پُورے من سے کںپلیٹ کرنا اَپنا دھرم مان لِیا۔ مگر باس تھا کِ گھاس ہی نہی ڈالتا تھا۔ یہا میں سلوار کمیز پہن کر ہی آنے لگی۔ مینے اَپنے کمیز کے گلے بڑے کاروالِئے جِسّے اُنہے میرے دُودھِیا رںگ کے بُوبس دیکھیں۔ باکی سارے آپھیس والوں کے سامنے تو اَپنے بدن کو چُنری سے ڈھکے رکھتی تھی۔ مگر اُنکے سامنے جانے سے پہلے اَپنی چھاتِیو پر سے چُنری ہٹا کر اُسے جان بُوجھ کر ٹیبل پر چھچوڑ جاتی تھی۔

میں جان بُوجھ کر اُنکے سامنے جھُک کر کام کرتی تھی جِسّے میرے برا مے کسے ہُئے بُوبس اُنکی آںکھوں کے سامنے جھُولتے رہیں۔ دھیرے دھیرے مینے مہسُوس کِیا کِ اُنکی نزروں مے بھی پرِورتن آنے لگا ہے۔ آخِر وو کوئی سادھُ مہاتما تو تھے نہی ( دوستو آپ تو جانتے ہے میں یانی آپکا دوست راج شرما کیسا بںدا ہُوں یے سب تو چِڑِیا کو جال مے پھاںسنے کے لِئے ایک چارا تھا ) اؤر میں تھی بھی اِتنی سُںدر کی مُجھ سے دُور رہنا ایک نامُمکِن کام تھا۔ میں اَکسر اُنسے سٹنے کی کوشِش کرنے لگی۔ کبھی کبھی مؤکا دیکھ کر اَپنے بُوبس اُنکے بدن سے چچھُآ دیتی

مینے آپھیس کا کام اِتنی نِپُنتا سے سمہال لِیا تھا کِ اَب راجکُمار جی نے کام کی کافی زِمّیدارِیاں مُجھے سونپ دی تھی۔ میرے بِنا وو بہُت اَسہاے پھیل کرتے تھے۔ اِسلِئے میں کبھی چھُٹّی نہی لیتی تھی۔ دھیرے دھیرے ہم کافی اوپن ہو گیے۔ پھری ٹائیم مے میں اُنکے کیبِن مے جاکر اُنسے باتیں کرتی رہتی۔ اُنکی نزر باتیں کرتے ہُئے کبھی میرے چیہرے سے پھِسل کر نیچے جاتی تو میرے نِپلس بُلیٹس کی ترہ تن کر کھڑے ہو جاتے۔ میں اَپنے اُبھاروں کو تھوڈا اؤر تان لیتی تھی

اُنمے گُرُور بِلکُل بھی نہی تھا۔ میں روج گھر سے اُنکے لِئے کُچّھ نا کُچّھ ناشتے مے بناکر لاتی تھی ہم دونو ساتھ بیٹھ کر ناشتا کرتے تھے۔ میں یہاں بھی کُچّھ مہینے باد سکرٹ بلاُّس مے آنے لگی۔ جِس دِن پہلی بار سکرٹ بلاُّس مے آئی، مینے اُنکی آںکھو مے میرے لِئے ایک پرشںسا کی چمک دیکھی۔

مینے بات کو آگے بڑھانے کی سوچ لی۔ کئی بار کام کا بوجھ زیادا ہوتا تو میں اُنہے باتوں باتوں مے کہتی، "سر اَگر آپ کہیں تو پھائیل آپکے گھر لے آتی ہُوں چھُٹّی کے دِن یا آپھیس ٹائیم کے باد رُک جاتی ہُوں۔ مگر اُنکا جواب دُوسروں سے بِلکُل اُلٹا رہتا۔

وو کہتے "سمرتِ میں اَپنی ٹینشن گھر لیجانا پسںد نہی کرتا اؤر چاہتا ہُوں کی تُم بھی چھُٹّی کے باد اَپنی لائیپھ ایںجاے کرو۔ اَپنے گھر والو کے ساتھ اَپنے بایپھریںڈس کے ساتھ شام ایںجاے کرو۔ کیوں کوئی ہے کیا؟" اُنہوں نے مُجھے چھیڑا۔

"آپ جیسا ہیںڈسم اؤر شریپھ لڑکا جِس دِن مُجھے مِل جاّیگا اُسے اَپنا باے پھریںڈ بنا لُوںگی۔ آپ تو کبھی میرے ساتھ گھُومنے جاتے نہیں ہیں۔" اُنہوں نے تُرںت بات کا ٹاپِک بدل دِیا۔

اَب میں اَکسر اُنہے چھُونے لگی۔ ایک بار اُنہوں نے سِردرد کی شِکایت کی۔ مُجھے کوئی ٹیبلیٹ لے کر آنے کو کہا۔

" سر، میں سِر دبا دیتی ہُوں۔ دوائی مت لیجِئے۔" کہکر میں اُنکی چیر کے پیچھے آئی اؤر اُنکے سِر کو اَپنے ہاتھوں مے لیکر دبانے لگی۔ میری اُںگلِیا اُنکے بلوں مے گھُوم رہی تھی۔ میں اَپنی اُںگلِیوں سے اُنکے سِر کو دبانے لگی۔ کُچّھ ہی دیر مے آرام مِلا تو اُنکی آںکھیں اَپنے آپ مُوںڈنے لگی۔ مینے اُنکے سِر کو اَپنے بدن سے سٹا دِیا۔ اَپنے دونو چُچِیو کے بیچ اُنکے سِر کو داب کر اُنکے سِر کو دبانے لگی۔ میرے دونو اُروج اُنکے سِر کے بھار سے دب رہے تھے۔ اُنہوں نے بھی شاید اِسے مہسُوس کِیا ہوگا مگر کُچّھ کہا نہی۔ میرے دونو اُروج سخت ہو گیے اؤر نِپلس تن گیے۔ میرے گال شرم سے لال ہو گیے تھے۔

"بس اَب کاکی آرام ہے کہ کر جب اُنہوں نے اَپنے سِر میری چھاتِیو سے اُٹھایا تو مُجھے اِتنا بُرا لگا کی کُچّھ بیان نہی کر سکتی۔ میں اَپنی نزرے زمین پر گڑائے اُنکے سامنے کُرسی پر آ بیٹھی۔

دھیرے دھیرے ہم بیتاکلُّوپھ ہونے لگے۔ اَبھی سِکس مونتھس ہی ہُئے تھے کِ ایک دِن مُجھے اَپنے کیبِن مے بُلا کر اُنہونے ایک لِفافا دِیا۔ اُسمے سے لیٹر نِکال کر مینے پڑھا تو کھُشی سے بھر اُٹھی۔ مُجھے پرمنیںٹ کر دِیا گیا تھا اؤر میری تنخواہ ڈبل کر دی گیی تھی۔

مینے اُنکو تھیںکس کہا تو وو کہ اُٹھے۔ "سُوکھے سُوکھے تھیںکس سے کام نہی چلیگا۔ بیبی اِسکے لِئے تو مُجھے تُمسے کوئی ٹریٹ مِلنی چاہِئے"

"زرُور سر اَبھی دیتی ہُوں" مینے کہا

"کیا؟" وو چؤںک گیے۔ مینے مؤکے کو ہاتھ سے نہی جانے دینا چاہتی تھی۔ میں جھٹ سے اُنکی گود مے بیٹھ گیی اؤر اُنہے اَپنی باہوں مے بھرتے ہُئے اُنکے لِپس چُوم لِئے۔ وو اِس اَچانک ہُئے ہملے سے گھبرا گیے۔

"سمرتِ کیا کر رہی ہو۔ کںٹرول یُورسیلپھ۔ اِس ترہ بھاوناّوں مے مت بہو۔ " اُنہوں نے مُجھے اُٹھاتے ہُئے کہا "یے اُچِت نہی ہے۔ میں ایک شادی شُدا بال بچّیدار آدمی ہُوں"

"کیا کرُوں سر آپ ہو ہی اِتنے ہیںڈسم کی کںٹرول نہی ہو پایا۔" اؤر وہاں سے شرما کر بھاگ گیّ۔

جب اِتنا ہونے کے باد بھی اُنہوں نے کُچّھ نہی کہا تو میں اُنسے اؤر کھُلنے لگی۔

"راج جی ایک دِن مُجھے گھر لے چلو نا اَپنے" ایک دِن مینے اُنہے باتوں باتوں مے کہا۔ اَب ہمارا سںبںدھ باس اؤر پیئے کا کم دوستوں جیسا اَدھِک ہو گیا تھا۔

"کیوں گھر مے آگ لگانا چاہتی ہو؟" اُنہوں نے مُسکُراتے ہُئے پُوچّھا۔

"کیسے؟"

"اَب تُم جیسی ہسین پیئے کو دیکھ کر کؤن بھلا مُجھ پر شق نہی کریگا۔"

"چلو ایک بات تو آپنے مان ہی لِیا آخِر۔"

"کیا؟" اُنہوں نے پُوچھا۔

"کِ میں ہسین ہُوں اؤر آپ میرے ہُشن سے ڈرتے ہیں۔"

"وو تو ہے ہی۔"

"میں آپکی وائیپھ سے آپکے بچّوں سے ایک بار مِلنا چاہتی ہُوں۔"

"کیوں؟ کیا اِرادا ہے؟"

" ہم*مم کُچّھ خترناک بھی ہو سکتا ہے۔" مینے اَپنے نِچلے ہوںٹھ کو داںت سے کاٹتے ہُئے اُٹھ کر اُنکی گود مے بیٹھ گیّ۔ میں جب بھی بولڈ ہو جاتی تھی وو گھبرا اُٹھتے تھے۔ مُجھے اُنہے اِس ترہ ستانے مے بڑا مزا آتا تھا۔

" دیکھو تُم میرے لڑکے سے مِلو۔ اُسے اَپنا باے فریںڈ بنا لو۔ بہُت ہیںڈسم ہے وو۔ میرا تو اَب سمے چلا گیا ہے تُم جیسی لڑکِیوں سے پھلرٹ کرنے کا۔" اُنہوں نے مُجھے اَپنے گود سے اُٹھاتے ہُئے کہا۔

"دیکھو یے آپھیس ہے۔ کُچّھ تو اِسکی مریادا کا کھیال رکھا کر۔ میں یہا تیرا باس ہُوں۔ کِسی نے دیکھ لِیا تو پتا نہی کیا سوچیگا کِ بُڈّھے کی متِ ماری گیی ہے۔"

اِس ترہ اَکسر میں اُنسے چِپکنے کی کوشِش کرتی تھی مگر وو کِسی مچّلی کی ترہ ہر بار پھِسل جاتے تھے۔

اِس گھٹنا کے باد تو ہم کافی کھُل گیے۔ میں اُنکے ساتھ اُلٹے سیدھے مزاک بھی کرنے لگی۔ لیکِن میں تو اُنکی بنائی ہُئی لکشمن ریکھا کراس کرنا چاہتی تھی۔ مؤکا مِلا ہولی کو۔

ہولی کے دِن ہُمارے آپھیس مے چھُٹّی تھی۔ لیکِن پھیکٹری بںد نہی رکھا جاتا تھا کُچّھ آپھیس سٹاپھ کو اُس دِن بھی آنا پڑتا تھا۔ مِسٹر۔ راج ہر ہولی کو اَپنے سٹاپھ سے سُبہ-سُبہ ہولی کھیلنے آتے تھے۔ مینے بھی ہولی کو اُنکے ساتھ ہُڑدںگ کرنے کے پلان بنا لِیا۔ اُس دِن سُبہ میں آپھیس پہُںچ گیّ۔ آپھیس مے کوئی نہی تھا۔ سب باہر ایک دُوسرے کو گُلال لگاتے تھے۔ میں لوگوں کی نزر بچاکر آپھیس کے اَںدر گھُس گیّ۔ اَںدر ہولی کھیلنا اَلوڈ نہی تھا۔ میں آپھیس مے اَںدر سے درواجا بںد کر کے اُنکا اِںتیزار کرنے لگی۔ کُچّھ ہی دیر مے راج کی کار اَںدر آئی۔ وو کُرتے پایجامے مے تھے۔ لوگ اُنسے گلے مِلنے لگے اؤر گُلال لگانے لگے۔ مینے گُلال نِکال کر ایک پلیٹ مے رکھ لِیا باتھرُوم مے جاکر اَپنے بالوں کو کھول دِیا۔ریشمی جُلپھ کھُل کر پیٹھ پر بِکھر گیے۔

میں ایک پُرانی شرٹ اؤر سکرٹ پہن رکھی تھی۔ سکرٹ کافی چھہوٹی تھی۔ مینے شرٹ کے بٹنس کھول کر اَںدر کی برا اُتار دی اؤر شرٹ کو واپس پہن لی۔ شرٹ کے اُپر کے دو بٹن کھُلے رہنے دِئے جِسّے میرے آدھے بُوبس جھلک رہے تھے۔ شرٹ چُوچِیو کے اُپر سے کُچّھ گھِسی ہُئی تھی اِسلِئے میرے نِپلس اؤر اُنکے بیچ کا کالا گھیرا ساپھ نزر آ رہا تھا۔ اُتّیجنا اؤر ڈر سے میں مارچ کے مؤسم مے بھی پسینے پسینے ہو رہی تھی۔

میں کھِڑکی سے جھاںک رہی تھی اؤر اُنکے پھری ہونے کا اِںتیزار کرنے لگی۔ اُنہے کیا مالُوم تھا میں آپھیس مے اُنکا اِںتیزار کر رہی ہُوں۔ وو پھری ہو کر واپس کار کی ترپھ بڑھ رہے تھے۔ تو مینے اُنکے موبائیل پر رِںگ کِیا۔

"سر، مُجھسے ہولی نہی کھیلیںگے۔"

"کہاں ہو تُم؟ سِم۔ّ۔ اَجاّو میں بھی تُمسے ہولی کھیلنے کے لِئے بیتاب ہُوں" اُنہوں نے چاروں ترپھ دیکھتے ہُئے پُوچّھا۔

" آپھیس مے آپکا اِںتیزار کر رہی ہُوں"

"تو باہر آجا نا۔ آپھیس گںدا ہو جایگا"

نہی سبکے سامنے مُجھے شرم آایگی۔ ہو جانے دو گںدا۔ کل رںدھن ساپھ کر دیگا" مینے کہا

"اَچّچھا تو وو والی ہولی کھیلنے کا پروگرام ہے؟" اُنہوں نے مُسکُراتے ہُئے موبائیل بںد کِیا اؤر آپھیس کی ترپھ بڑھے۔ مینے لاک کھول کر درواجے کے پیچھے چھُپ گیّ۔ جیسے ہی وو اَںدر آئے میں پیچھے سے اُنسے لِپٹ گیی اؤر اَپنے ہاتھوں سے گُلال اُنکے چہرے پر مل دِیا۔ جب تک وو گُلال جھاڑ کر آںکھ کھولتے مینے واپس اَپنی مُتٹھِیوں مے گُلال بھرا اؤر اُنکے کُرتے کے اَںدر ہاتھ ڈال کر اُنکے سینے مے لگا کر اُنکے سینے کو مسل دِیا۔ مینے اُنکے دونو سینے اَپنی مُٹّھی مے بھر کر کِسی اؤرت کی چھاتِیو کی ترہ مسلنے لگی۔ "ئے۔ّئے۔ّ۔کیا کر رہی ہے؟" وو ہڑبڑا اُٹھے۔

"بُرا نا مانو ہولی ہے۔" کہتے ہُئے مینے ایک مُٹّھی گُلال پایجامے کے اَںدر بھی ڈال دی۔ اَںدر ہاتھ ڈالنے مے ایک بار جھِجھک لگی لیکِن پھِر سبکُچّھ سوچنا بںد کرکے اَںدر ہٹ ڈال کر اُنکے لِںگ کو مسل دِیا۔

"ٹھہر بتاتا ہُوں۔" وو جب تک سںبھالتے تب تک میں کھِل کھِلاتے ہُئے وہاں سے بھاگ کر ٹیبل کے پیچھے ہو گیّ۔ اُنہوں نے مُجھے پکڑنے کے لِئے ٹیبل کے اِدھر اُدھر دؤر لگائی۔ لیکِن میں اُنسے بچ گیّ۔ لیکِن میرا ایم تو پکڑے جانے کا تھا بچنے کا تھوڑی۔ اِسلِئے میں ٹیبل کے پیچھے سے نِکل کر درواجے کی ترپھ دؤڑی۔ اِس بار اُنہوں نے مُجھے پیچّے سے پکڑ کر میرے کمیز کے اَںدر ہاتھ ڈال دِئے۔ میں کھِل کھِلا کر ہںس رہی تھی اؤر کسمسا رہی تھی۔ وو کافی دیر تک میرے بُوبس پر رںگ لگاتے رہے۔ میرے نِپلس کو مسلتے رہے کھیںچتے رہے۔ مئی اُنسے لِپٹ گیّ۔ اؤر پہلی بار اُنہوں نے اَپنے ہوںٹھ میرے ہوںٹھوں پر رکھ دِئے۔

میرے ہوںٹھ تھوڈا کھُلے اؤر اُنکی جیبھ کو اَںدر جانے کا راستا دے دِیا۔ کئی مِنِٹس ہم اِسی ترہ ایک دُوسرے کو چُومتے رہے۔ میرا ایک ہاتھ سرکتے ہُئے اُنکے پایجامے تک پہُںچا پھِر دھیرے سے پایجامے کے اَںدر سرک گیا۔ میں اُنکے لِںگ کی تپِش اَپنے ہاتھوں پر مہسُوس کر رہی تھی۔ مینے اَپنے ہاتھ آگے بڑھا کر اُنکے لِںگ کو تھام لِیا۔ میری اِس ہرکت سے جیسے اُنکے پُورے جِسم مے ایک جھُرجُری سی دؤڑ گیّ۔ اُنہونے نے مُجھ ایک دھکّا دیکر اَپنے سے اَلگ کِیا۔ میں گرمی سے تپ رہی تھی۔ لیکِن اُنہوں نے کہا "نہی سمرتِ …۔۔نہی یے ٹھیک نہی ہے۔"

میں سِر جھُکا کر وہی کھڑی رہی۔

"تُم مُجھسے بہُت چھہوٹی ہو۔" اُنہوں نے اَپنے ہاتھوں سے میرے چیہرے کو اُٹھایا " تُم بہُت اَچّچھو لڑکی ہو اؤر ہم دونو ایک دُوسرے کے بہُت اَچّھے دوست ہیں۔ "

مینے دھیرے سے سِر ہِلایا۔ میں اَپنے آپ کو کوس رہی تھی۔ مُجھے اَپنی ہرکت پر بہُت گلانِ ہو رہی تھی۔ مگر اُنہوں نے میری کسمکس کو سمجھ کر مُجھے واپس اَپنی باہوں مے بھر لِیا اؤر میرے گالّوں پر دو کِس کِئے۔ اِسّے میں واپس نارمل ہو گیّ۔ جب تک میں سمہلتی وو جا چُکے تھے۔

دھیرے دھیرے سمے بیتّا گیا۔ لیکِن اُس دِن کے باد اُنہوں نے ہُمارے اؤر اُنکے بیچ مے ایک دیوار بنا دی۔ میں شاید واپس اُنہے سِڈیُوس کرنے کا پلان بنانے لگتی لیکِن اَچانک میری جِںدگی مے ایک آںدھی سی آئی اؤر سب کُچّھ چیںج ہو گیا۔ میرے سپنو کا سؤداگر مُجھے اِس ترہ مِل جاّیگا مینے کبھی سوچا نا تھا۔

میں ایک دِن اَپنے کام مے بِزی تھی کِ لگا کوئی میری ڈیسک کے پاس آکر رُکا۔

"آئی واںٹ ٹُو میٹ مِسٹر۔ راج شرما"

"اینی اَپایںٹمیںٹ؟ " مینے سِر جھُکائے ہُئے ہی پُوچّھا؟

"نو"

"ساری ہی اِیز بِزی" مینے ٹالتے ہُئے کہا۔

"ٹیل ہِم پںکج ہِز سن واںٹس ٹُو میٹ ہِم۔"

"مینے ایک جھٹکے سے اَپنا سِر اُٹھایا اؤر اُس کھُوبسُورت اؤر ہیںڈسم آدمی کو دیکھتی رہ گیّ۔ وو بھی میری کھُوبسُورتی مے کھو گیا تھا۔

"اوہ مائی گود۔ کیا چیز ہو تُم۔ تبھی ڈیڈ آجکل اِتنا آپھیس مے بِزی رہنے لگے ہیں۔" اُنہوں نے کہا "بائی دا وے آپکا نام جان سکتا ہُوں؟

سمرتِ…۔اَب یے نام میری سمرتِ سے کبھی دُور نہی جاّیگا۔" مینے شرما کر اَپنی آںکھے جھُکا لی۔ وو اَںدر چلے گیے۔ واپسی مے اُنہوں نے مُجھسے شام کی ڈیٹ پھِکس کر لی۔

اِسکے باد تو ہم ڈیلی مِلنے لگے۔ ہم دونو پُوری شام ایک دُوسرے کی باہوں مے بِتانے لگے۔ پںکج بہُت اوپن مائیںڈ کے آدمی تھے۔

ایک دِن راج نے مُجھے اَپنے کیبِن مے بُلایا اؤر ایک لیٹر مُجھے دیتے ہُئے کہا۔

"یے ہے تُمہارا ٹرمِنیشن لیٹر۔ یُو آر بیِّںگ سیکڈ" اُنہوں نے تیج آواز کے ساتھ کہا۔

"ل۔ّلیکِن میری غلتی کیا ہے؟" مینے رُآںسی آواز مے پُوچھا۔

"تُمنے میرے لڑکے کو اَپنے جال مے پھںسا ہے"

"لیکِن سر…"

"کوئی لیکِن ویکین نہی" اُنہوں نے مُجھے بُری ترہ جھِڑکتے ہُئے کہا "ناُّ گیٹ لاسٹ"

میری آںکھوں مے آںسُو آ گیے۔ میں روتی ہُئی وہاں سے جانے لگی۔ جیسے ہی میں درواجے تک پہُںچی اُنکی آواز سُنائی دی۔

"شام کو ہم تُمہارے پیریںٹس سے مِلنے آ رہے ہے۔ پںکج جلدی شادی کرنا چاہتا ہے" میرے کدم ٹھِٹھک گیے۔ میں گھُومی مینے دیکھا مِسٹر۔ راج شرما اَپنی باہیں پھیلائے مُسکُرا رہے ہیں۔ میں آںسُو پوںچھ کر کھِل کھِلا اُٹھی۔ اؤر دؤڑ کر اُنسے لِپٹ گیّ۔

آخِر میں راجکُمار جی کے پرِوار کا ایک ہِسّا بنّے جا رہی تھی۔ پںکج مُجھے بہُت چاہتا تھا۔ شادی سے پہلے ہم ہر شام ساتھ ساتھ گھُومتے پھِرتے۔ کافی باتیں کرتے۔ پںکج نے مُجھسے میرے باے پھریںڈس کے بارے مے پُوچّھا۔ اؤر اُنسے مِلنے سے پہلے کی میری سیکشُیل لائیپھ کے بارے مے پُوچّھا جب مینے کہا اَبھی تک کُںواری ہُوں تو ہںسنے لگے اؤر کہا، کیا کہا دوستو یے تو آپ پارٹ -2 مے ہی جان پاّیںگے تب تک کے لِئے آپکا دوست راج شرما آپسے وِدا چاہتا ہے اَگلیپارٹ مے پھِر میلیںگے سمرتِ کی جوانی سے کھیلنے کے لِئے

"کیا یار تُمہاری جِںدگی تو بہُت بورِںگ ہے۔ یہاں یے سب نہی چلیگا۔ ایک دو تو بھںوروں کو رکھنا ہی چاہِئے۔ تبھی تو تُمہاری مارکیٹ ویلیُو کا پتا چلتا ہے۔ میں اُنکی باتوں سے ہںس پڑی۔

شادی سے پہلے ہی میں پںکج کے ساتھ ہُمبئیستر ہو گیّ۔ ہم دونو نے شادی سے پہلے کھُوب سیکس کِیا۔ آلموسٹ روج ہی کِسی ہوٹیل مے جاکر سیکس ایںجاے کرتے تھے۔ ایک بار میرے پیریںٹس نے شادی سے پہلے رات رات بھر باہر رہنے پر ایتراج جتایا تھا۔ لیکِن جتایا بھی تو کِسے میرے ہونے والے سسُر جی سے جو کھُد اِتنے رںگین مِزاج تھے۔ اُنہوں نے اُنکی چِںتاّوں کو بھاپ بنا کر اُڑا دِیا۔ راجکُمار جی مُجھے پھری چھچوڑ رکھے تھے لیکِن مینے کبھی اَپنے کام سے من نہی چُرایا۔ اَب میں واپس سلوار کمیز مے آپھیس جانے لگی۔

پںکج اؤر اُنکی پھیمِلی کافی کھُلے وِچاروں کی تھی۔ پںکج مُجھے ایکسپوشر کے لِئے زور دیتے تھے۔ وو میرے بدن پر رِویلِںگ کپڑے پسںد کرتے تھے۔ میرا پُورا وارڈروب اُنہوں نے چیںج کروا دِیا تھا۔ اُنہے مِنی سکرٹ اؤر لُوس ٹاپر مُجھ پر پسںد تھے۔ سِرف میرے کپڑے ہی نہی میرے اَںڈرگارمیںٹس تک اُنہوں نے اَپنے پسںد کے کھریدویے۔

وو مُجھے مائیکرو سکرٹ اؤر لُوس سلیولے ٹاپر پہنا کر ڈِسکوز مے لے جاتے جہاں ہم کھُوب پھری ہوکر ناچتے اؤر مستی کرتے تھے۔ اَکسر لوپھر لڑکے میرے بدن سے اَپنا بدن رگڑنے لگتے۔ کئی بار میرے بُوبس مسل دیتے۔ وو تو بس مؤکے کی تلاش مے رہتے تھے کِ کوئی مُجھ جیسی سیکسی ہسینا مِل جائے تو ہاتھ سیںک لیں۔ میں کئی بار ناراز ہو جاتی لیکِن پںکج مُجھے چُپ کرا دیتے۔ کئی بار کُچّھ منچلے مُجھسے ڈینس کرنا چاہتے تو پںکج کھُشی کھُشی مُجھے آگے کر دیتے۔ مُجھ سںگ تو ڈینس کا بہانا ہوتا۔ لڑکے میرے بدن سے جوںک کی ترہ چِپک جاتے۔ میرے پُورے بدن کو مسلنے لگتے۔ بُوبس کا تو سبسے بُرا ہال کر دیتے۔ میں اَگر نارازگی جاہِر کرتی تو پںکج اَپنی ٹیبل سے آںکھ مار کر مُجھے شاںت کر دیتے۔ شُرُو شُرُو مے تو اِس ترہ کا اوپنّیس مے میں گھبرا جاتی تھی۔ مُجھے بہُت بُرا لگتا تھا لیکِن دھیرے دھیرے مُجھے اِن سب مے مزا آنے لگا۔ میں پںکج کو اُتّیجِت کرنے کے لِئے کبھی کبھی دُوسرے کِسی مرد کو سِڈیُوس کرنے لگتی۔ اُس شام پںکج مے کُچّھ زیادا ہی جوش آ جاتا

کھیر ہُماری شادی جلدی ہی بڑے دھُوم دھام سے ہو گیّ۔ شادی کے باد جب مینے راجکُمار جی کے چرن چھُیے تو اُنہوں نے مُجھے اَپنے سینے سے لگا لِیا۔ اِتنے مے ہی میں گیلی ہو گیّ۔ تب مینے مہسُوس کِیا کی ہُمارا رِشتا آج سے بدل گیا لیکِن میرے من مے اَبھی ایک چھُپِ سی چِںگاری باکی ہے اَپنے سسُر جی کے لِئے جِسے ہوا لگتے ہی بھڑک اُٹھنے کی سںبھاونا ہے۔

میرے سسُرال والے بہُت اَچّچے کافی اَڈوینسڈ وِچار کے تھے۔ پںکج کے ایک بڑے بھائی ساہِب ہیں کمل اؤر ایک بڑی بہن ہے نیتُو۔ دونو کیتب تک شادی ہو چُکی تھی۔ میرے نںدوئی کا نام ہے وِشال۔ وِشال جی بہُت رںگین مِزاج اِںسان تھے۔ اُنکی نزروں سے ہی کامُکتا ٹپکتی تھی۔

شادی کے باد مینے پایا وِشال مُجھے کامُک نزروں سے گھُورتے رہتے ہیں۔ نیی نیی شادی ہُئی تھی اِسلِئے کِسی سے شِکایت بھی نہی کر سکتی تھی۔ اُنکی پھیمِلی اِتنی اَڈوانس تھی کِ میری اِس ترہکی شِکایت کو ہںسی مے اُڑا دیتے اؤر مُجھے ہی اُلٹا اُنکی ترپھ دھکیل دیتے۔ وِشلجی کی میرے سسُرال مے بہُت اَچّھِ اِمیج بنی ہُئی تھی اِسلِئے میری کِسی بھی کو کوئی توجّو نہی دیتا۔ اَکسر وِشلجی مُجھے چچھُو کر بات کرتے تھے۔ ویسے اِسمے کُچّھ بھی غلت نہی تھا۔ لیکِن نا جانے کیوں مُجھے اُس آدمی سے چِڑھ ہوتی تھی۔ اُنکی آںکھیں ہمیشا میری چھاتِیو پر ریںگتے مہسُوس کرتی تھی۔ کئی بار مُجھسے سٹنے کے بھی کوشِش کرتے تھے۔ کبھی سبکی آںکھ بچا کر میری کمر مے چِکوٹی کاٹتے تو کبھی مُجھے دیکھ کر اَپنی جیبھ کو اَپنے ہوںٹھوں پر پھیرتے۔ میں نزریں گھُما لیتی۔

مینے جب نیتُو سے تھوڑا گھُما کر کہا تو وو ہںستے ہُئے بولی، "دیدو بیچارے کو کُچّھ لِپھٹ۔ آجکل میں تو روج اُنکا پہلُو گرم کر پاتی نہی ہُوں اِسلِئے کھُلا ساںڈ ہو رہے ہیں۔ دیکھنا بہُت بڑا ہے اُنکا۔ اؤر تُم تو بس اَبھی کچّی کلی سے پھُول بنی ہو اُنکا ہتھِیار جھیل پانا اَبھی تیرے بس کا نہی۔"

"دیدی آپ بھی بس۔ّ۔ّآپکو شرم نہی آتی اَپنے بھائی کی نیی دُلہن سے اِس ترہ باتیں کر رہی ہو؟"

"اِسمے بُرائی کیا ہے۔ ہر مرد کا کِسی شادیسُوڈا کی ترپھ اَٹریکشن کا متلب بس ایک ہی ہوتا ہے۔ کِ وو اُسکے شہد کو چکھنا چاہتا ہے۔ اِسّے کوئی گھِس تو جاتی نہی ہے۔" نیتُو دیدی نے ہںسی مے بات کو اُڑا دِیا۔ اُس دِن شام کو جب میں اؤر پںکج اَکیلے تھے نیتُو دیدی نے اَپنے بھائی سے بھی مزاک مے میری شِکایت کی بات کہ دی۔

پںکج ہںسنے لگے، "اَچّچھا لگتا ہے جیجا جی کا آپ سے من بھر گیا ہے اِسلِئے میری بیوی پر نزریں گڑائے رکھے ہُئے ہیں۔" میں تو شرم سے پانی پانی ہو رہی تھی۔ سمجھ ہی نہی آ رہا تھا وہاں بیٹھے رہنا چاہِئے یا وہاں سے اُٹھ کر بھاگ جانا چاہِئے۔ میرا چیہرا شرم سے لال ہو گیا۔

"اَبھی نیی ہے دھیرے دھیرے اِس گھر کی رںگت مے ڈھل جاّیگی۔" پھِر مُجھے کہا، " شِمرِتِ ہمارے گھر مے کِسیسے کوئی لُکاو چچِپاو نہی ہے۔ کِسی ترہ کا کوئی پردا نہی۔ سب ایک دُوسرے سے ہر ترہ کا مزاک چھیڑ چھاڈ کر سکتے ہیں۔ تُم کِسی کی کِسی ہرکت کا بُرا متمانّا"

اَگلے دِن کی ہی بات ہے میں ڈائینِںگ ٹیبل پر بیٹھی سبجی کاٹ رہی تھی۔ وِشلجی اؤر نیتا دیدی سوپھے پر بیٹھے ہُئے تھے۔ مُجھے خیال نا رہا کب میرے ایک ستن سے ساری کا آںچل ہٹ گیا۔ مُجھے کام نِبٹا کر نہانے جانا تھا اِسلِئے بلاُّس کا سِرف ایک بٹن بںد تھا۔ آدھے سے اَدھِک چھاتی باہر نِکلی ہُئی تھی۔ میں اَپنے کام مے تلّین تھی۔ مُجھے نہی مالُوم تھا کِ وِشال جی سوپھے بیٹھ کر نیُوز پیپر کی آڑ مے میرے ستن کو نِہار رہے ہے۔ مُجھے پتا تب چلا جب نیتُو دیدی نے مُجھے بُلا سمرتِ یہاں سوپھے پر آ جاّو۔ اِتنی دُور سے وِشال کو تُمہارا بدن ٹھیک سے دِکھائی نہی دے رہا ہے۔ بہُت دیر سے کوشِش کر رہاہے کِ کاش اُسکی نزروں کے گرمی سے تُمہارے بلاُّس کا اِکلؤتا بٹن پِگھل جائے اؤر بلاُّس سے تُمہاری چھاتِیا نِکل جائے لیکِن اُسے کوئی سپھلتا نہی مِل رہی ہے۔"

مینے جھٹ سے اَپنی چُوچِیو کو دیکھا تو ساری بات سمجھ کر مینے آںچل سہی کر دِیا۔ مئی شرما کر وہاں سے اُٹھنے کو ہُئی۔ تو نیتا دیدی نے آکر مُجھے روک دِیا۔ اؤر ہاتھ پکڑ کر سوپھے تک لے گیّ۔ وِشال جی کے پاس لے جا کر۔ اُنہوں نے میرے آںچل کو چُوچِیو کے اُپر سے ہٹا دِیا۔

"لو دیکھ لو…۔۔ 38 سائیز کے ہیں۔ ناپنے ہیں کیا؟"

میں اُنکی ہرکت سے شرم سے لال ہو گیّ۔ مینے جلدی واپس آںچل سہی کِیا اؤر وہاں سے کھِسک لی۔

ہنِمُون مے ہمنے مسُری جانے کا پروگرام بنایا۔ شام کو بائی کار دیلہی سے نِکل پڑے۔ ہُمارے ساتھ نیتُو اؤر وِشلجی بھی تھے۔ٹھںڈ کے دِن تھے۔ اِسلِئے شام جلدی ہو جاتی تھی۔ سامنے کی سیٹ پر نیتُو دیدی بیٹھی ہُئی تھی۔ وِشال جی کار چلا رہے تھے۔ ہم دونو پیچھے بیٹھے ہُئے تھے۔ دو گھںٹے کںٹِنیُوس ڈرائیو کرنے ک باد ایک ڈھابے پر چائی پی۔ اَب پںکج ڈرائیوِںگ سیٹ پر چلا گیا اؤر وِشلجی پیچھے کی سیٹ پر آ گیے۔ میں سامنے کی سیٹ پر جانے کے لِئے درواجاکھولی کی وِشال نے مُجھے روک دِیا۔

"اَرے کبھی ہُمارے ساتھ بھی بیٹھ لو کھا تو نہی جؤںگا تُمہے۔" وِشال نے کہا۔

"ہاں بیٹھ جاّو اُنکے ساتھ سردی بہُت ہے باہر۔ آج اَبھی تک گلے کے اَںدر ایک بھی گھُوںٹ نہی گیی ہے اِسلِئے ٹھںڈ سے کاںپ رہے ہیں۔تُمسے سیٹ کر بیٹھیںگے تو اُنکا بدن بھی گرم ہو جاّیگا۔" دیدی نے ہںستے ہُئے کہا۔

"اَچّچھا؟ لگتا ہے دیدی اَب تُم اُنہے اؤر گرم نہی کر پاتی ہو۔" پںکج نے نیتُو دیدی کو چھیڑتے ہُئے کہا۔

ہم لوگ باتیں کرتے مزاک کرتے چلے جا رہے تھے۔ تبھی بات کرتے کرتے وِشال نے اَپنا ہاتھ میری جاںگھ پر رکھ دِیا۔ جِسے مینے دھیرے سے پکڑ کر نیچے کر دِیا۔ ٹھںڈ بڑھ گیی تھی۔ پںکج نے ایک شال لے لِیا۔ نیتُو ایک کںبل لے لی تھی۔ ہم دونو پیچھے بیٹھ ٹھںڈ سے کاںپنے لگے۔

"وِشال دیکھو سمرتِ کا ٹھںڈ کے مارے بُرا ہال ہو رہا ہے۔ پیچھے ایک کںبل رکھا ہے اُسّے تُم دونو ڈھک لو۔" نیتُو دیدی نے کہا۔

اَب ایک ہی کںبل باکی تھا جِس سے وِشال نے ہم دونو کو ڈھک دِیا۔ ایک کںبل مے ہونے کے کارن مُجھے وِشال سے سیٹ کر بیٹھنا پڑا۔ پہلے توتھوڑی جھِجھک ہُئی مگر باد مے میں اُنسے ایکدُوم سیٹ کر بیٹھ گیّ۔ وِشالکا ایک ہاتھ اَب میری جاںگھوں پر گھُوم رہا تھا اؤر ساری کے اُوپر سے میریجاںگھوں کو سہلا رہا تھا۔ اَب اُنہوں نے اَپنے ہاتھ کو میرے کںدھے کے اُپر رکھ کر مُجھے اؤر اَپنے سینے پر کھیںچ لِیا۔ میں اَپنے ہاتھوں سے اُنہے روکنے کی ہلکی سی کوشِش کر رہی تھی۔

"کیا بات ہے تُم دونو چُپ کیوں ہو گیے۔ کہیں تُمہارا نںدوئی تُمہے مسل تو نہی رہا ہے؟ سمہل کے رکھنا اَپنے اُن کھُوبسُورت جیوروں کو مرد پیدائیشی بھُوکھے ہوتے ہیں اِنکے۔' کہ کر نیتُو ہںس پڑی۔ میں شرما گیّ۔ مینے وِشال کے بدن سے دُور ہونے کی کوشِش کی تواُنہوں نے میرے کمر کو پکڑ کر اؤر اَپنی ترپھ کھیںچ لِیا۔

"اَب تُم اِتنی دُور بیٹھی ہو تو کِسی کو تو تُمہاری پراکسی دینی پڑیگی نا۔ اؤر نںدوئی کے ساتھ رِشتا تو ویسے ہی جیجا سالی جیسا ہوتا ہے۔ّ۔ّ۔آدھی گھر والی۔ّ۔ّ۔" وِشال نے کہا

"دیکھا۔ّ۔ّ۔دیکھا۔ ۔۔ّ۔ّکیسے اُچّھل رہے ہیں۔ سمرتِ اَب مُجھے مت کہنا کِ مینے تُمہے چیتایا نہی۔ دیکھنا اِنسے دُور ہی رہنا۔ اِنکا سائیز بہُت بڑا ہے۔" نیتُو نے پھِر کہا۔

"کیا دیدی آپ بھی بس…۔"

"کیا ہُآ؟ خٹمل کاٹ گیا؟" نیتا نے پُوچّھا۔ اؤر مُجھے چِڑھاتے ہُئے ہںسنے لگی۔ میں شرم سے مُںہ بھیںچ کر بیٹھی ہُئی تھی۔ کیا بتاتی، ایک نیی دُلہن کے لِئے اِس ترہ کی باتیں کھُلے آم کرنا بڑامُشکِل ہوتا ہے۔ اؤر سپیشلی تب جب کی میرے اَلاوا باکی سب اِس مہال کا مزا لے رہے تھے۔ "کُچّھ نہی میرا پیر پھںس گیا تھا سیٹ کے نیچے۔" مینے بات کو سمہلتے ہُایکہا۔

اَب اُنکے ہاتھ میرے نگن ستن کو سہلانے لگے۔ اُنکے ہاتھ برا کے اَںدر گھُسکر میرے ستنو پر پھِر رہے تھے۔ اُنہوں نے میرے نِپلس کو اَپنی اُںگلِیوں سے چھُتے ہُئے میرے کان مے کہا، "بائی گاڈ بہُت سیکسی ہو۔ اَگر تُمہارا ایک اَںگ ہی اِتنا لاجواب ہے تو جب پُوری نںگی ہوگی تو کیامت آ جاّیگی۔ پںکج کھُوب رگڑتا ہوگا تیری جوانی۔ سالا بہُت کِسمیت والا ہے۔ تُمہے میں اَپنی ٹاںگوں کے بیچ لِٹا کر رہُوںگا۔ "

اُنکے اِس ترہ کھُلی بات کرنے سے میں گھبرا گیّ۔ مینے سامنے دیکھا دونو بھائی بہن اَپنی دھُن مے تھے۔ میں اَپنا نِچلا ہوںٹھ کاٹ کر رہ گیّ۔ مینے چُپ رہنا ہی اُچِت سمجھا جِتنی شِکایت کرتی دونو بھائی بہن مُجھے اؤر زیادا کھیںچتے۔ اُنکی ہرکتوں سے اَب مُجھے بھی مزا آنے لگا۔ میری یونِ گیلی ہونے لگی۔ لیکِن مئی چُپ چاپ اَپنی نزریں جھُکائے بیٹھی رہی۔ سب ہںسی مزاک مے ویست تھے۔ دونو کو اِسکی بِلکُل بھی اُمّید نہی تھی کی اُنکے پیٹھ کے ٹھیک پیچھے کِس ترہ کا کھیل چل رہا تھا۔ میں نئی نویلیدُلہن کُچّھ تو شرم کے مارے اؤر کُچّھ پرِوار والوں کے کھُلے وِچاروں کو دیکھتے ہُئے چُپ تھی۔ ویسے میں بھی اَب کوئی دُودھ کی دھُولِتو تھی نہی۔ سسُر جی کے ساتھ ہُمبئیستر ہوتے ہوتے رہ گیی تھی۔ اِسلِئے مینے مامُولی وِرودھ کے اؤر کسمسنے کے اَلاوا کوئی ہرکت نہی کی۔

اُسنے مُجھے آگے کو جھُکا دِیا اؤر ہاتھ میری پیٹھ پر لے جاکر میری برا کے سٹریپ کھول دِئے۔ بلاُّس مے میرے بُوبس ڈھیلے ہو گیے۔ اَب وو آرام سے بلاُّس کے اَںدر میرے بُوبس کو مسلنے لگے۔ اُسنے میرے بلاُّس کے بٹنس کھول کر میرے بُوبس کو بِلکُل نگن کر دِئے۔ وِشال نے اَپنا سِر کںبل کے اَںدر کرکے میرے نگن ستنو کو چُوم لِیا۔ اُسنے اَپنے ہوںٹھوں کے بیچ ایک ایک کرکے میرے نِپلس لیکر کُچّھ دیر چُوسا۔ میں ڈر کے مارے ایک دم ستبدھ رہ گیّ۔ مئی ساںس بھی روک کر بیٹھی ہُئی تھی۔ ایسا لگ رہا تھا مانو میری ساںسو سے بھی ہماری ہرکتوں کا پتا چل جاّیگا۔ کُچّھ دیر تک میرے نِپلس چُوسنے کے باد واپس اَپنا سِر باہر نِکالا۔ اَب وو اَپنے ہاتھوں سے میریہاتھ کو پکڑ لِیا۔ میری پتلی پتلی اُںگلِیوں کو کُچّھ دیر تک چُاُستے اؤر چُومتے رہے۔ پھِر دھیرے سے اُسے پکڑ کر پیںٹ کے اُپر اَپنے لِںگ پر رکھا۔ کُچّھ دیر تک وہیں پر دبائے رکھنے کے باد مینے اَپنے ہاتھوں سے اُنکے لِںگ کو ایک بار مُٹّھی مے لیکر دبا دِیا۔ وو تب میری گردن پر ہلکے ہلکے سے اَپنے داںت گڑھا رہے تھے۔ میرے کانو کی ایک لؤ اَپنے مُںہ مے لیکر چُوسنے لگے۔

پتا نہی کب اُنہونے اَپنے پیںٹ کی زِپ کھول کر اَپنا لِںگ باہر نِکال لِیا۔ مُجھے تو پتا تب لگا جب میرے ہاتھ اُنکے نگن لِںگ کو چھُو لِئے۔ میں اَپنے ہاتھ کو کھیںچ رہی تھی مگر اُنکی پکڑ سے چچھُدا نہی پا رہی تھی۔

جیسے ہی میرے ہاتھ نے اُسکے لِںگ کے چںدے کو سپرش کِیا پُورے بدن مے ایک سِہرن سی دؤڑ گیّ۔ اُنکا لِںگ پُوری ترہ تنا ہُآ تھا۔ لِںگ تو کیا مانو مینے اَپنے ہاتھوں مے کو گرم سلاکھ پکڑ لی ہو۔ میری زُبان تالُو سے چِپک گیّ۔ اؤر مُںہ سُوکھنے لگا۔ میرے ہزبیںڈ اؤر نند سامنے بیٹھے تھے اؤر میں نیی دُلہن ایک گیر مرد کا لِںگ اَپنے ہاتھو مے تھام رکھی تھی۔ میں شرم اؤر ڈر سے گڑھی جا رہی تھی۔ مگر میری زُبان کو تو مانو لکوا مار گیا تھا۔ اَگر کُچّھ بولتی تو پتا نہی سب کیا سوچتے۔ میری چُپّی کو اُسنے میری رزامںدی سمجھا۔ اُسنے میرے ہاتھ کو مجبُوتی سے اَپنے لِںگ پر تھام رکھا تھا۔ مینے دھیرے دھیرے اُسکے لِںگ کو اَپنی مُٹّھی مے لے لِیا۔ اُسنے اَپنے ہاتھ سے میرے ہاتھ کو اُپر نیچے کرکے مُجھے اُسکے لِںگ کو سہلانے کا اِشارا کِیا۔ میں اُسکے لِںگ کو سہلانے لگی۔ جب وو اَسوست ہو گیے تو اُنہونے میرے ہاتھ کو چھچوڑ دِیا اؤر میرے چیہرے کو پکڑ کر اَپنی اور موڑا۔ میرے ہوںٹھوں پر اُنکے ہوںٹھ چِپک گیے۔ میرے ہوںٹھوں کو اَپنی جیبھ سے کھُلوا کر میرے مُںہ مے اَپنی جیبھ گھُسا دی۔ میں ڈر کے مارے کاںپنے لگی۔ جلدی ہی اُنہے دھکّا دیکر اَپنے سے اَلگ کِیا۔ اُنہونے اَپنے ہاتھوں سے میری ساری اُںچی کرنی شُرُو کی اُنکے ہاتھ میری نگن جاںگھوں پر پھِر رہے تھے۔ مینے اَپنی ٹاںگوں کو کس کر دبا رکھا تھا اِسلِئے اُنہے میری یونِ تک پہُںچنے مے سپھلتا نہی مِل رہی تھی۔ میں اُنکے لِںگ پر زور زور سے ہاتھ چلا رہی تھی۔ کُچّھ دیر باد اُنکے مُںہ سے ہلکی ہلکی "آ اُو" جیسی آوازیں نِکلنے لگی جو کِ کار کی آواز مے دب گیی تھی۔ اُنکے لِںگ سے ڈھیر سارا گڑھا گڑھا ویرے نِکل کر میرے ہاتھوں پر پھیل گیا۔ مینے اَپنا ہاتھ باہر نِکل لِیا۔ اُنہونے واپس میرے ہاتھ کو پکڑ کر مُجھے زبردستی اُنکے ویرے کو چاٹ کر ساپھ کرنے لِئے بادھیا کرنے لگے مگر مینے اُنکی چلنے نہی دی۔ مُجھے اِس ترہ کی ہرکت بہُت گںدی اؤر واہِیات لگتی تھی۔ اِسلِئے مینے اُنکی پکڑ سے اَپنا ہاتھ کھیںچ کر اَپنے رُمال سے پوںچّھ دِیا۔ کُچّھ دیر باد میرے ہزبیںڈ کار روک کر پیچھے آ گیے تو مینے راہت کی ساںس لی ہم ہوٹیل مے پہُںچے۔ دو ڈبل رُوم بُک کر رکھے تھے۔ اُس دِن زیاداگھُوم نہی سکے۔ شام کو ہم سب اُنکے کمرے مے بیٹھ کر ہی باتیں کرنے لگے۔ پھِر دیر رات تک تاش کھیلتے رہے۔ جب ہم اُٹھنے لگے تو وِشال جی نے ہُومے روک لِیا۔

"اَرے یہیں سو جاّو" اُنہوں نے گہری نزروں سے مُجھے دیکھتے ہُئے کہا۔

پںکج نے ساری بات مُجھ پر چھچوڑ دی، "مُجھے کیا ہے اِسّے پُوچّھ لو۔"

وِشال میری ترپھ مُسکُراتے ہُئے دیکھ کر کہے "لائیٹ بںد کر دیںگے تو کُچّھ بھی نہی دِکھیگا۔ اؤر ویسے بھی ٹھںڈ کے مارے رزائی تو لینا ہی پڑیگا۔"

"اؤر کیا کوئی کِسی کو پریشان نہی کریگا۔ جِسے اَپنے پارٹنر سے جِتنی مرزی کھیلو" نیتُو دیدی نے کہا

پںکج نے جھِجھکتے ہُئے اُنکی بات مان لی۔ میں چُپ ہی رہی۔ لائیٹ آپھ کرکے ہم چار ایک ہی ڈبل بیڈ پر لیٹ گیے۔ میں اؤر نیتُو بیچ مے سوئے اؤر دونو مرد کِنارے پر۔ جگہ کم تھی اِسلِئے ایک دُوسرے سے سیٹ کر سو رہے تھے۔ ہم چاروں کے وستر بہُت جلدی بدن سے ہٹ گیے۔ ہلکی ہالِک روشنی مے مینے دیکھا کِ وِشال جی نیتُو کو سیدھا کر کے دونو پیر اَپنے کںدھوں پر رکھ دِئے اؤر دھکّے مارنے لگے۔ کںبل، رزائی سب اُنکے بدن سے ہٹے ہُئے تھے۔ مینے ہلکی روشنی مے اُنکے موٹے تگڑے لِںگ کو دیکھا۔ نیتُو لِںگ گھُستے سمے "آہ" کر اُٹھی۔ کںپیرٹِولی پںکج کا لںڈ اُسّے چھہوٹا تھا۔ میں سوچ رہی تھی نیتُو کو کیسا مزا آ رہا ہوگا۔ وِشال نیتُو کو دھکّے مار رہا تھا۔ پںکج مُجھے گھوڑی بنا کر میرے پیچھے سے ٹھوکنے لگا۔ پُورا بِستر ہم دونو کپلس کے دھکّوں سے بُری ترہ ہِل رہا تھا۔ کُچّھ دیر باد وِشال لیٹ گیا اؤر نیتُو کو اَپنے اُپر لے لِیا۔ اَب نیتُو اُنہے چود رہی تھی۔ میرے بُوبس پںکج کے دھکّوں سے بُری ترہ ہِل رہے تھے۔ تھوڑی دیر مے مینے مہسُوس کِیا کِ کوئی ہاتھ میرے ہِلتے ہُئے بُوبس کو مسلنے لگا ہے۔ میں سمجھ گیی کِ وو ہاتھ پںکج کا نہی بلکِ وِشال کا ہے۔ وِشال میرے نِپل کو اَپنی چُٹکِیوں مے بھر کر مسل رہا تھا۔ میں درد سے کراہ اُٹھی۔ پںکج کھُش ہو گیا کِ اُسکے دھکّوں نے میری چیکھ نِکال دی۔ کافی دیر تک یُوںہی اَپنی اَپنی بیوی کو ٹھوک کر دونو نِڈھال ہو گیے

"میری یونِ تپ رہی ہے اِسمے اَپنے ہتھِیار سے رگڑ کر شاںت کرو۔" مینے بھُوکھی شیرنی کی ترہ اُسے کھیںچ کر اَپنے اُوپر لِٹا لِیا اؤر اُسکے لِںگ کو پکڑ کر سہلانے لگی۔ اُسے سوپھے پر دھکّا دے کر اُسکے لِںگ کو اَپنے ہاتھوں سے پکڑ کر اَپنے مُںہ مے لے لِیا۔ مینے کبھی کِسی مرد کے لِںگ کو مُںہ مے لینا تو دُور کبھی ہوںٹھوں سے بھی نہی چھُآ تھا۔ پںکج بہُت زِد کرتے تھے کی میں اُنکے لِںگ کو مُںہ مے ڈال کر چُوسُوں لکِن میں ہر بار اُنکو منا کر دیتی تھی۔ میں اِسے ایک گںدا کام سمجھتی تھی۔ لیکِن آج نا جانے کیا ہُآ کِ میں اِتنی گرم ہو گیی کی کھُد ہی وِشلجی کے لِںگ کو اَپنے ہاتھوں سے پکڑ کر کُچّھ دیر تک کِس کِیا۔ اؤر جب وِشال جی نے مُجھے اُنکے لِںگ کو اَپنے مُںہ مے لینے کا اِشارا کرتے ہُئے میرے سِر کو اَپنے لِںگ پر ہلکے سے دبایا تو مینے کِسی ترہ کا وِرودھ نا کرتے ہُئے اَپنے ہوںٹھوں کو کھول کر اَپنے سِر کو نیچے کی اور جھُکا دِیا۔ اُنکے لِںگ سے ایک اَجیب ترہ کی سمیل آ رہی تھی۔ کُچّھ دیر یُوں ہی مُںہ مے رکھنے کے باد میں اُنکے لِںگ کو چُوسنے لگی۔

اَب سارے ڈر ساری شرم سے میں پرے تھی۔ جِںدگی مے مُجھے اَب کِسی کی چِںتا نہی تھی۔ بس ایک جُنُون تھا ایک گرمی تھی جو مُجھے جھُلسائے دے رہی تھی۔ میں اُنکے لِںگ کو مُںہ مے لیکر چُوس رہی تھی۔ اَب مُجھے کوئی چِںتا نہی تھی کِ وِشال میری ہرکتوں کے بارے مے کیا سوچیگا۔ بس مُجھے ایک بھُوکھ پریشان کر رہی تھی جو ہر ہالت مے مُجھے مِٹانی تھی۔ وو میرے سِر کو اَپنے لِںگ پر داب کر اَپنی کمر کو اُںچا کرنے لگا۔ کُچّھ دیر باد اُسنے میرے سِر کو پُوری تاقت سے اَپنے لِںگ پر دبا دِیا۔ میرا دم گھُٹ رہا تھا۔ اُسکے لِںگ سے اُنکے ویرے کی ایک تیج دھار سیدھے گلے کے بھیتر گِرنے لگی۔ اُنکے لِںگ کے آسپاس کے بال میرے ناک مے گھُس رہے تھے۔ پُورا رس میرے پیٹ مے چلے جانے کے باد ہی اُنہونے مُجھے چھچوڑا۔ میں وہیں زمین پر بھر بھرا کر گِر گیی اؤر تیج تیج ساںسے لینے لگی۔

وو سوپھے پر اَب بھی پیروں کو پھیلا کر بیٹھے ہُئے تھے۔ اُنکے سامنے میں اَپنے گلے کو سہلاتے ہُئے زور زور سے ساںسیں لے رہی تھی۔ اُنہونے اَپنے پیر کو آگے بڑھا کر اَپنے اَںگُوٹھے کو میری یونِ مے ڈال دِیا۔ پھِر اَپنے پیر کو آگے پیچھے چلا کر میری یونِ مے اَپنے اَںگُوٹھے کو اَںدر باہر کرنے لگا۔ بہُت جلدی اُنکے لِںگ مے واپس ہرکت ہونے لگی۔ وو آگے کی اور جھُک کر میرے نِپلس پکڑ کر اَپنی اور کھیںچے میں درد سے بچنے کے لِئے اُٹھ کر اُنکے پاس آ گیّ۔ اَب اُنہونے مُجھے سوپھے پر ہاتھوں کیبل جھُکا دِیا۔ پیر کارپیٹ پر ہی تھے۔ اَب میری ٹاںگوں کو چؤڑا کرکے پیچھے سے میری یونِ پر اَپنا لِںگ سٹا کر ایک جوردار دھکّا مارا۔ اُنکا موٹا لِںگ میری یونِ کے اَںدر راستا بناتا ہُآ گھُس گیا۔ یونِ بُری ترہ گیلی ہونے کے کارن زیادا پریشانی نہی ہُئی۔ بس مُںہ سے ایک دبی دبی کراہ نِکلی "آآّہہ" اُنکے لِںگ کا سائیز اِتنا بڑا تھا کِ مُجھے لگا کی میرے بدن کو چیرتا ہُآ گلے تک پہُںچ جاّیگا۔

اَب وو پیچھے سے میری یونِ مے اَپنے لِںگ سے دھکّے مارنے لگے۔ اُسںکے ہر دھکّے سے میرے موٹے موٹے بُوبس اُچّھل اُچّھل جاتے۔ میری گردین کو ٹیڑھا کر کے میرے ہوںٹھوں کو چُومنے لگے اؤر اَپنے ہاتھوں سے میرے دونو ستنو کو مسلنے لگے۔ کافی دیر تک اِس ترہ مُجھے چودنے کے باد مُجھے سوپھے پر لِٹا کر اُوپر سے ٹھوکنے لگے۔ میری یونِ مے سِہرن ہونے لگی اؤر دوبارا میرا ویرے نِکل کر اُنکے لِںگ کو بھِگونے لگا۔ کُچّھ ہی دیر مے اُنکا بھی ویرے میری یونِ مے پھیل گیا۔ ہم دونو زور زور سے ساںسے لے رہ تھے۔ وو میرے بدن پر پسر گیا۔ ہم دونو ایک دُوسرے کو چُومنے لگے۔ تبھی گجب ہو گیا۔

پںکج کی نیںد کھُل گیّ۔ وو پیشاب کرنے اُٹھا تھا۔ ہم دونو کی ہالت تو ایسی ہو گیی مانو سامنے شیر دِکھ گیا ہو۔ وِشال سوپھے کے پیچھے چھِپ گیا۔ میں کہیں اؤر چھِپنے کی جگہ نا پا کر بیڈ کی ترپھ بڑھی۔ کِسمیٹ اَچّھِ تھی کِ پںکج کو پتا نہی چل پایا۔ نیںد مے ہونے کی وجہ سے اُسکا دِماغ زیادا کام نہی کر پایا ہوگا۔ اُسنے سوچا کِ میں باتھرُوم سے ہوکر آ رہی ہُوں۔ جیسے ہی وو باتھرُوم مے گھُسا وِشال جلدی سے آکر بِستر مے گھُس گیا۔

"کل سُبہ کوئی بہانا بنا کر ہوٹیل مے ہی پڑے رہنا" اُسنے میری کان مے دھیرے سے کہا اؤر نیتُو کی دُوسری اور جا کر لیٹ گیا۔

کُچّھ دیر باد پںکج آیا اؤر میرے سے لِپٹ کر سو گیا۔ میری یونِ سے اَبھی بھی وِشال کا رس ٹپک رہا تھا۔ میرے ستنو کا مسل مسل کر تو اؤر بھی بُرا ہال کر رکھا تھا۔ مُجھے اَب بہُت پاسچتاپ ہو رہی تھی۔ "کیوں مئی شریر کی گرمی کے آگے جھُک گیّ؟ کیوں کِسی گیر مرد سے مینے سںبںدھ بنا لِئے۔ اَب میں ایک گرت مے گِرتی جا رہی تھی جِسکا کوئی اَںت نہی تھا۔مینے اَپنی بھاوناّوں کو کںٹرول کرنے کی ٹھن لی۔ اَگلے دِن مینے وِشال کو کوئی مؤکا ہی نہی دِیا۔ میں پُورے سمے سبکے ساتھ ہی رہی جِسّے وِشال کو مؤکا نا مِل سکے۔

اُنہوں نے کئی بار مُجھ سے اَکیلے مے مِلنے کی کوشِش کی مگر میں چُپ چاپ وہاں سے کھِسک جاتی۔ ویسے اُنہے زیادا مؤکا بھی نہی مِلپایا تھا۔ ہم تین دِن وہاں ایںجاے کرکے واپس لؤٹ آئے۔ ہنِمُون مے مینے اؤر کوئی مؤکا اُنہے نہی دِیا۔ کئی بار میرے بدن کو مسل زرُور دِیا تھا اُنہوں نے لیکِن جہاں تک سںبھوگ کی بات ہے مینے اُنکی کوئی پلینِںگ نہی چلنے دی نِمُون کے دؤران ہم مسُوری مے کھُوب مزے کِئے۔ پںکج تو بس ہر سمے اَپنا ہتھِیار کھڑا ہی رکھتا تھا۔ وِشال جی اَکسر مُجھسے مِلنے کے لِئے ایکاںت کی کھوج مے رہتے تھے جِسّے میرے ساتھ بیڈماسی کر سکے لیکِن میں اَکسر اُنکی چالوں کو سمجھ کے اَپنا پہلے سے ہی بچاو کر لیتی تھی۔

اِتنا پرِکاشن رکھنے کے باد بھی کئی بار مُجھے اَکیلے مے پکڑ کر چُوم لیتے یا میرے کانو مے پھُسپھُسا کر اَگلے پروگرام کے بارے مے پُوچھتے۔ اُنہے شاید میرے بُوبس سبسے زیادا پسںد تھے۔ اَکسر مُجھے پیچھے سے پکڑ کر میری چُوچِیو کو اَپنے ہاتھوں سے مسلتے رہتے تھے جب تک نا میں درد کے مارے اُنسے چھِتک کر اَلگ نا ہو جاُّ۔

پںکج تو اِتنا شیتانی کرتا تھا کی پُوچّھو مت کافی سارے سنیپس بھی لِئے۔ اَپنے اؤر میرے کُچّھ اَںترںگ سنیپس بھی کھِںچوائے۔ کھیںچنے والیوِشال جی ہی رہتے تھے۔ اُنکے سامنے ہی پںکج مُجھے چُومتے ہُئے۔ بِستر پر لِٹا کر میرے بُوبس کو بلاُّس کے اُپر سے داںتوں سے کاٹتے ہُئے اؤر مُجھے اَپنے سامنے بِٹھا کر میرے بلاُّس کے اَںدر ہاتھ ڈال کرمیرے ستانو کو مسلتے ہُئے کئی پھوٹو کھیںچے۔

ایک بار پتا نہی کیا مُوڈ آیا میں جب نہا رہی تھی تو باتھرُوم مے گھُس آئے۔ میں تب سِرف ایک چھہوٹی سی پیںٹی مے تھی۔ وو کھُد بھی ایک پیںٹیپہن رکھے تھے۔

"اِس پوز مے ایک پھوٹو لیتے ہیں۔" اُنہوں نے میرے نگن بُوبس کو مسلتے ہُئے کہا۔

"نن میں وِشلجی کے سامنے اِس ہالت مے؟…۔۔بِلکُل نہیں…۔۔پاگل ہو رہے ہو کیا؟" مینے اُسے ساپھ منا کر دِیا۔

"اَرے اِسمے شرم کی کیا بات ہے۔ وِشال بھیّا تو گھر کے ہی آدمی ہیں۔ کِسی کو بتاّیںگے تھوڑے ہی۔ ایک بار دیکھ لیںگے تو کیا ہو جاّیگا۔ تُمہے کھا تھوڑی جاّیںگے۔"

EMail : PkMasti@aol.com
Yahoo : Jan3y.J4na@yahoo.com

By Taha Gondal with No comments

0 comments:

Post a Comment

EMail : PkMasti@aol.com
Yahoo : Jan3y.J4na@yahoo.com

    • Popular
    • Categories
    • Archives