Thursday, January 12, 2012

سُہاگ رات سے پہلے چدائی


میری سگائی کی تاریکھ پکّی ہو گئی تھی۔ میں جب سُنیل سے پہلی بار مِلی تو میں اُسے دیکھتی رہ گئی۔ وو بڑا ہی ہںسمُکھ ہے۔ مزاک بھی اَچّھی کر لیتا ہے۔ میں 3 دِنوں سے اِندؤر میں ہی تھی۔ وو مُجھے مِلنے روز ہی آتا تھا۔ ہم دونو ایک دِن سِنیما دیکھنے گئے۔ اَںدھیرے کا فایدا اُٹھاتے ہُئے اُنہوںنے میرے ستنوں کا بھی جایزا لے لِیا۔ مُجھے بہُت اَچّھا لگا تھا۔

پاپا نے بتایا کِ اُجّین میں مندِر کی بہُت مانیتا ہے، اَگر تُم دونوں جانا چاہو تو جا سکتے ہو۔ اِس پر ہمنے اُجّین جانے کا کاریکرم بنا لِیا اؤر سُبہ آٹھ بجے ہم کار سے اُجّین کے لِئے نِکل پڑے۔ لگبھگ دو گھنٹے میں 70-75 کِلومیٹر کا سپھر تے کرکے ہم ہوٹل پہُںچ گیے۔

کمرے میں جاکر سُنیل نے کہا-"نیہا پھریش ہو جاّو۔ ۔۔ناشتا کرکے نِکلیںگے۔ ۔"

میں پھریش ہونے چلی گیّ۔ پھِر آکر تھوڑا میک اَپ کِیا۔ اِتنے میں ناشتا آ گیا۔ ناشتے کے بیچ بیچ میں وو میری ترف دیکھتا بھی جا رہا تھا۔ اُسکی نزارے میں بھاںپ گیی تھی۔ وو سیکسی لگ رہا تھا۔

میںنے کہا -"کیا دیکھ رہے ہو۔ ۔۔"

"تُمہے۔ ۔۔ّ۔ اِتنی کھُوبسُورت کبھی نہیں لگی تُم۔ ۔"

"ہٹو۔ ۔۔ّ۔۔" میں شرما گیّ۔

"سچ۔ ۔۔ّ۔۔ تُمہے باںہوں میں لینے کا من کر ہے"

"سُنیل !!! "

"آاو میرے گلے لگ جاّو۔ ۔"

'وو کُرسی سے کھڑا ہو گیا اؤر اَپنی باہیں پھیلا دی۔ میں دھیرے دھیرے آںکھے بںد کرکے سُنیل کی ترف بڈھ گیّ۔ اُسنے مُجھے اَپنے آلِںگن میں کس لِیا۔ اُسکے پیںٹ میں نیچے سے لںڈ کا اُبھار میری ٹاںگوں کے بیچ میں گڑنے لگا۔ میں بھی سُنیل سے اؤر چِپک گیّ۔ اُسنے میرے چیہرے کو پیار سے اُوپر کر لِیا اؤر نِہارنے لگا۔ میری آںکھے بںد تھی۔ ہؤلے سے اُسکے ہوںٹ میرے ہوںٹوں سے چِپک گئے۔ میںنے اَپنے آپکو اُسکے ہوالے کر دِیا۔ وو مُجھے چُومنے لگا۔ اُسنے میرے ہوںٹ دبا لِئے اؤر میرے نیچے کے ہوںٹ کو چُوسنے لگا۔ میں آنںد سے بھر اُٹھی۔ اُسکے نیچے کا اُبھار میری ٹاںگوں کے بیچ اَب جیادا چُبھ رہا تھا۔ میںنے تھوڑا سیٹ کرکے اُسے اَپنی ٹاںگوں کے بیچ میں کر لِیا۔ اَب وو سہی جگہ پر جور مار رہا تھا۔ میں بھی اُس پر نیچے سے جور لگا لگا کر چِپکی جا رہی تھی۔

وو اَلگ ہوتے ہُئے بولا -"نیہا۔۔ ۔ایک بات کہُوں۔ ۔۔۔"

"کہو سُنیل"

"میں تُمہے دیکھنا چاہتا ہُوں۔ ۔۔۔"

میں اُسکا متلب سمجھ گیی ، پر اُسکو تڑپاتے ہُئے مجا لینے لگی۔ ۔۔ّ۔ّ۔۔"تو دیکھو ن۔ ۔۔سامنے تو کھڑی ہُوں۔ ۔۔"

"نہیں۔ ۔۔ایسے نہیں۔ ۔۔ّ۔ّ۔"

"میںنے اِٹھلا کر کہا -"تو پھِر کیسے۔۔ "

"متلب۔ ۔۔کپڈوں میں نہیں۔ ۔۔"

"ہٹو سُنیل۔ ۔۔ّچُپ رہو۔ ۔۔"

"ن۔ ۔نہیں۔ ۔میں تو یُوں ہی کہ رہا تھا۔ ۔۔ چلو۔ ۔۔اَچّھا۔ ۔"

میں اُس سے لِپٹ گیّ۔ ۔" میرے سُنیل۔ ۔۔۔ کیا چاہتے ہو۔ ۔۔ّ۔ سچ بولو۔ ۔

"ک ککک کُچھ نہیں۔ ۔۔ بس۔ ۔"

"مُجھے بِنا کپڈوں کے دیکھنا چاہتے ہو ن۔ ۔۔ّ۔"

اُسنے مُجھے دیکھا۔۔ ۔ پھِر بولا۔ ۔" میری اِچّھا ہو رہی تھی۔ ۔ تُمہے دیکھنے کی۔ ۔۔ّکیا کرُون اَب تُم ہو ہی اِتنی سُںدر۔ ۔۔۔"

"میں دھیرے سے اُسے پیار کرتے ہُئے بولی - " سُنو میں تو تُمہاری ہُوں۔ ۔۔ّ۔ خُد ہی اُتار لو۔ ۔"

"سچ۔ ۔۔ّ۔۔" اُسنے میرے ٹاپ کو اُوپر سے دھیرے سے اُتار دِیا۔ میں سِہر اُٹھی۔

"سُنیل۔ ۔۔ّ۔ آہ۔ ۔۔"

برا میں کسے میرے اُروج اُبھار کر سامنے آ گئے۔ سُنیل نے پیار سے میرے اُروجوں کو ہاتھ سے سہلایا۔ مُجھے تیج بِجلی کا جیسے کرںٹ لگا۔ ۔۔ّپھِر اُسنے میری برا کھول دی۔ اُسکی آںکھے چُںدھِیا گیّ۔ اُسکے مُںہ سے آہ نِکل پڑی۔ میںنے اَپنی آںکھے بںد کرلی۔ وو نزدیک آیا اُسنے میرے اُبھاروں کو سہلا دِیا۔ مُجھے کںپکںپی آ گیّ۔ اُس سے بھی اَب رہا نہیں گیا۔ ۔۔میرے مست اُبھاروں کی نوکوں کو مُںہ میں بھر لِیا۔ ۔اؤر چُوسنے لگا۔ ۔

"سُنیل میں مر جاُّوںگی۔ ۔۔ّ۔ّبس۔ ۔۔کرو۔ ۔" میرے نا میں ہاں اَدھِک تھی۔

اُسنے میری سفید پیںٹ کی چین کھول دی اؤر نیچے بیٹھ کر اُسے اُتارنے لگا۔ میںنے اُسکی مدد کی اؤر خُد ہی اُتار دی۔ اَب وو گھُٹنوں پر بیٹھے بیٹھے ہی میرے گہرے اَںگوں کو نِہار رہا تھا۔ دھیرے سے اُسکے دونو ہاتھ میرے نِتمبوں پر چلے گئے اؤر وو مُجھے اَپنی اؤر کھیںچنے لگا۔۔ میرے آگے کے اُبھار اُسکے مُںہ سے سٹ گئے۔ اُسکی جیبھ اَب میری پھُولوں جیسے دونوں پھاکوں کے بیچ گھُس گیی تھی۔ میںنے تھوڑا اؤر جور لگا کر اُسے اَندر کر دی۔ پھِر پیچھے ہٹ گیّ۔

"بس کرو نا اَب۔۔ ۔۔ّ۔" وو کھڑا ہو گیا۔ ایسا لگ رہا تھا کی اُسکا لںڈ پیںٹ کو پھاڑ کر باہر آ جاّیگا

"سُنیل۔ ۔اَب میں بھی تُمہے دیکھنا چاہتی ہُوں۔ ۔۔۔ مُجھے بھی دیکھنے دو۔۔ "

سُنیل نے اَپنے کپڑے بھی اُتار دِئے۔ میں اُسکا تراشا ہُآ شریر دیکھ کر شرما گیّ۔ اَب ہم دونوں ہی نںگے تھے۔ اُسکا کھڑا ہُآ لںڈ دیکھ کر اؤر اُسکی کسرتی باڈی دیکھ کر من آیا کِ۔ ۔۔ّ۔ ہاے۔ ۔۔ّ۔یے تو مست چیز ہے۔ ۔۔ مجا آ جاّیگا۔ ۔۔ّ۔ پر مُجھے کُچھ نہیں کہنا پڑا۔ وو خُد ہی من ہی من میں تڑپ رہا تھا۔ وو میرے پاس آ گیا۔ اُسکا اِتنا کڑک لںڈ دیکھ کر میں اُسکے پاس آکر اُس سے چِپکنے لگی۔ مُجھے گاںڈ کِ چُدائی میں آرںبھ سے ہی مجا آتا تھا۔ مُجھے گاںڈ مرانے میں مجا بھی کھُوب آتا ہے۔ اُسکا کڑک، موٹا اؤر لںبا لںڈ دیکھ کر میری گاںڈ چُدوانے کِ اِچّھا بلوتی ہونے لگی۔

میری چُوت بھی بیہد گیلی ہو گیی تھی۔ اُسکا لںڈ میری چُوت سے ٹکرا گیا تھا۔ وو بہُت اُتّیجِت ہو رہا تھا۔ وو مُجھے بے -تہاشا چُوم رہا تھا۔ "نیہا۔ ۔۔ڈارلِںگ۔ ۔۔ّ۔ کُچھ کریں۔ ۔۔ّ۔۔"

"سُنیل۔ ۔۔ّ۔۔ مت بولو کُچھ۔ ۔۔" میں ऑںکھیں بںد کرکے بولی " میں تُمسے پیار کرتی ہُوں۔ ۔۔میں تُمہاری ہُوں۔ ۔ میرے سُنیل۔ ۔"

اُسنے مُجھے اَپنی بلِشٹھ باںہوں میں کھِلونے کی ترہ اُٹھا لِیا۔ مُجھے بِستر پر سیدھا لیٹا دِیا۔ میرے چُوتڈوں کے نیچے تکِیا لگا دِیا۔ وو میری جاںگھوں کے بیچ میں آکر بیٹھ گیا۔ دھیرے سے کہا -"نیہا میں اَگر دُوسرے چھید کو کام میں لاُّوں تو۔ ۔۔" میں سمجھ گیی کِ یے تو خُد ہی گاںڈ چودنے کو کہ رہا ہے۔ میں بہُت کھُش ہو گیّ۔"چاہے جو کرو میرے راجا۔ ۔۔پر اَب رہا نہیں جاتا ہے۔"

" اِس سے سُرکشا بھی رہیگی۔ ۔کِسی چیج کا کھترا نہیں ہے۔ ۔۔۔"

"سُنیل۔ ۔۔اَب چُپ بھی رہو ن۔ ۔۔ّ۔۔ چالُو کرو ن۔ ۔۔ّ۔" میںنے وِنتی کرتے ہُئے کہا۔

میںنے اَپنی دونوں ٹاںگے اُوںچی کرلی۔ اُسنے اَپنے لںڈ کِ چمڑی اُوپر کھیچ لی اؤر لںڈ کو گاںڈ کے چھید پر رکھ دِیا۔ میں تو گںد چُدوانے کے لِئے ہمیشا اُسمے چِکنائی لگاتی تھی۔ اُسنے اَپنا تھُوک لگایا اؤر۔ ۔۔۔ اؤر اَپنے کڑے لںڈ کی سُپاری پر جور لگایا۔ سُپاری آرام سے اَندر سرک گیّ۔ میں آہ بھر اُٹھی۔

"درد ہو تو بتا دینا۔ ۔نیہا۔ ۔"

"سُنیل۔ ۔۔ّ۔۔ چلو ن۔ ۔۔ّ۔آگے بڈھو۔ ۔۔۔ اَب۔ ۔" میں بیہال ہو اُٹھی تھی۔ پر اُسے کیا پتا تھا کی میں تو گاںڈ چُدوانے اؤر چُدائی کرانے میں اَبھیست ہُوں۔ اُسنے دھیرے دھیرے دھکّے مارنا چالُو کِیا۔

"تکلیف تو نہیں ہُئی۔ّ۔نیہا۔ ۔۔"

"اَرے چلو ن۔ ۔۔ّجور سے کرو نا۔ ۔۔کیا بیلگاڈی کی ترہ چل رہے ہو۔ ۔۔" مُجھسے رہا نہیں گیا۔ مُجھے تیجی چاہِئے تھی۔

سُنتے ہی ایک جوردار دھکّا مارا اُسنے۔ ۔۔۔ اَب میری چیکھ نِکل گیّ۔ لںبا لںڈ تھا۔ ۔۔ّ۔ّبہُت اَںدر تک چلا گیا۔ اَپنا لںڈ اَب باہر نِکل کر پھِر اَندر پیل دِیا اُسنے۔ ۔۔ّ۔۔ اَب دھکّے بڈھنے لگے تھے۔ کھُوب تیجی سے اَندر تک گاںڈ چھوڑ رہا تھا۔ ۔ مُجھے بہُت مجا آنے لگا تھا۔ "ہاے۔ ۔میرے۔ ۔راجا۔ ۔۔ّ۔ مجا آ گیا۔ ۔۔۔ اؤر جور سے۔ ۔۔ جور لگا۔ ۔۔جور سے۔ ۔۔۔ ہاے رے۔ ۔۔۔"

اُسکے مُںہ سے بھی سِسکارِیاں پھُوٹ پڑی۔ "نیہا۔ ۔۔ّ۔ او اوہ ہہ ہہّ۔ ۔۔ّ۔ مجا۔ ۔آ رہا ہے۔ ۔۔ تُم کِتنی اَچّھی ہو۔ ۔۔"

"راجا۔ ۔۔ّاؤر کرو۔ ۔۔ّ۔ لگا دو۔ ۔۔ّ۔ّ۔اَندر تک۔ ۔۔گھُسیڈ دو۔ ۔۔ رام رے۔ ۔۔تُم کِتنے اَچّھے ہو۔ ۔۔آ آہ ہہ۔ ۔۔رے۔ ۔"

میری گاںڈ چِکنی تھی۔ ۔۔اُسے چُوت کو چودنے جیسا آنںد آ رہا تھا۔ ۔۔۔ میری دونوں جاںگھوں کو اُسنے کس کے پکڑ رکھا تھا۔ میری چُنچِیوں تک اُسکے ہاتھ نہیں پہُںچ رہے تھے۔ میں ہی اَپنے آپ مسل رہی تھی۔ اؤر سِسکارِیاں بھر رہی تھی۔ میںنے اَب اُسے جیادا مجا دینے کے لِئے اَپنے چُوتڈوں کو تھوڑا سِکوڑ کر دبا لِیا۔ پر ہُآ اُلٹا۔ ۔۔ّ۔ّ۔ّ۔

"نیہا یے کیا کِیا۔ ۔۔ّ۔ آہ۔ ۔۔ّمیرا نِکلا۔ ۔۔ّمیں گیا۔ ۔۔ّ۔ّ۔ّ۔۔ "

"میںنے تُںرت اَپنے چُوتڈوں کو ڈھیلا چھوڑ دِیا۔ ۔۔ّ۔ّ۔ پر تب تک میری گاںڈ کے اَندر لاوا اُگلنے لگا تھا۔

"آ اَہ ہہ نیہا۔ ۔۔ّمیں تو گیا۔ ۔۔ّ۔ اَ آہ ہہّ۔ ۔۔" اُسکا ویرے پُورا نِکل چُکا تھا۔ اُسکا لںڈ اَپنے آپ سِکُڑ کر باہر آ گیا تھا۔ میںنے تولِیے سے اُسکا ویرے ساف کِیا

میں اَبھی تک نہیں جھڑی تھی۔ ۔ میری اِچّھا اَدھُوری رہ گیی تھی۔ پھِر بھی اُسکے ساتھ میں بھی اُٹھ گیّ۔

ہم دونوں ایک بار پھِر سے تیّار ہو کر ہوٹل میں بھوجنالے میں آ گئے۔ دوپہر کے 12 بج رہے تھے۔ کھانا کھا کر ہم اُجّین کی سیر کو نِکل پڑے۔

کریب 4 بجے ہم ہوٹل واپس لؤٹ کر آ گیے۔ میںنے سُنیل سے وو باتیں بھی پُوچھی جِسمے اُسکی دِلچسپی تھی۔ سیکس کے بارے میں اُسنے بتایا کِ اُسے گاںڈ چودنا اَچّھا لگتا ہے۔ چُوت کی چُدائی تو سبکو ہی اَچّھی لگتی ہے۔ ہم دونوں کے بیچ میں سے پردا ہٹ گیا تھا۔ ہوٹل میں آتے ہی ہم ایک دُوسرے سے لِپٹ گئے۔ میری چُوت اَبھی تک شاںت نہیں ہُیی تھی۔ مُجھے سُنیل کو پھِر سے تیّار کرنا تھا۔ آتے ہی میں باتھرُوم میں چلی گیّ۔ اَندر جاکر میںنے کپڑے اُتار دِئے اؤر نںگی ہو کر نہانے لگی۔ سُنیل باتھرُوم میں چُپکے سے آ گیا۔ میںنے شوّیر کھول رکھا تھا۔ مُجھے اَپنی کمر پر سُہانا سا سپرش مہسُوس ہُآ۔ مُجھے پتا چل گیا کِ سُنیل باتھرُوم میں آ گیا ہے۔ میں بھیگی ہُیی تھی۔ میںنے تُرنت کہا -"سُنیل باہر جاّو۔ ۔۔ّ۔ اَندر کیُوں آ گئے۔ ۔"

سُنیل تو پہلے ہی نںگا ہو کر آیا تھا۔ اُسکے اِرادے تو میں سمجھ ہی گیی تھی۔ اُسکا نںگا شریر میری پیٹھ سے چِپک گیا وو بھی بھیگنے لگا۔ "مُجھے بھی تو نہانا ہے۔ ۔۔" اُسکا لںڈ میرے چُوتڈ میں گھُسنے لگا۔ میں تُںرت گھُوم گیّ۔ اؤر شوّیر کے نیچے ہی اُس سے لِپٹ گیّ۔ اُسکا لںڈ اَب میری چُوت سے ٹکرا گیا۔ میں پھِر سے اُتّیجِت ہونے لگی۔ میری چُوت میں بھی لںڈ ڈالنے کی اِچّھا تیج ہونے لگی۔ ہم دونوں مستی میں ایک دُوسرے کو سہلا اؤر دبا رہے تھے۔ اَپنے گال ایک دُوسرے پر گھِس رہے تھے۔ اُسکا لںڈ کڑک ہو کر میری چُوت پر ٹھوکریں مار رہا تھا۔ اُسنے مُجھے سامنے سٹیل کی روڈ پکڑ کر جھُکنے کو کہا۔ شوّیر اُوپر کھُلا تھا۔ میرے اؤر سُنیل پر پانی کی بؤچھار پڑ رہی تھی۔ میںنے سٹیل روڈ پکڑ کر میری گاںڈ کو اِس ترہ نِکال لِیا کِ میری چُوت کی فاںکیں اُسے دِکھنے لگی۔

اُسنے اَپنا لنڈ پیچھے سے چُوت کی فاںکوں پر رگڑ دِیا۔ میرا دانا بھی رگڑ کھا گیا۔ مُجھے میٹھی سی گُدگُدی ہُئی۔ دُوسرے ہی پل میں اُسکا لنڈ میری چُوت کو چیرتا ہُآ اَندر تک گھُس گیا۔ میں آنّد کے مارے سِسک اُٹھی،"ہاے رے۔ ۔۔ مار ڈالا۔ ۔۔۔"

"ہاں نیہا۔ ۔۔۔ تُمہیں سُبہ تو مجا نہیں آیا ہوگا۔ ۔۔ّاَب لو مجا۔ ۔۔"

اُسے کؤن سمجھائے کِ وو تو اؤر بھی مجیدار تھا۔ ۔۔ّ۔۔ پر ہاں۔ ۔۔ّسُبہ چُدائی تو نہیں ہو پائی تھی۔

"ہاں۔ ۔۔۔ اَب مت چھوڑنا مُجھے۔ ۔۔۔ پانی نِکال ہی دینا۔ ۔۔" میں سِسکّتے ہُئے بولی۔

"تو یے لو۔ ۔۔یّس۔ ۔۔یّس۔ ۔۔ّ۔۔ کِتنی چِکنی ہے تُمہاری۔ ۔"اُسکے دھکّے تیج ہو گئے تھے۔ اُوپر سے شوّیر سے ٹھںڈے پانی کی برسات ہو رہی تھی۔ ۔۔ّپر آگ بدتی جا رہی تھی۔ مُجھے بہُت آنںد آنے لگا تھا۔

"سُنیل۔ ۔۔۔ تیج اؤر۔ ۔۔ تیج۔ ۔۔ّ۔ کس کے لگاّو۔ ۔۔ ہاے رے مجا آ رہا ہے۔۔ ۔"

"ہا۔ ۔۔ّ۔یے۔ ۔لو۔ ۔۔ّاؤر۔ ۔۔لو۔ ۔۔ّاُو اواُو ایئی ایئی۔ ۔۔ّ۔"

میںنے اَپنی ٹاںگے اؤر کھول دی۔ اُسکا لںڈ سٹاسٹ اَندر باہر جا رہا تھا۔ ہاں۔ ۔۔ّاَب لگ رہا تھا کِ شتابدی ایکسپریس ہے۔ میرے تن میں میٹھی میٹھی سی جلن بڈھتی جا رہی تھی ۔اُسکے دھکّے رفتار سے چل رہے تھے۔ پھچ پھچ کی آواجیں تیج ہو گیّ۔ "ہاے رے مار دو مُجھے۔ ۔۔ّ۔اؤر تیج دھکّے لگاّو۔ ۔۔ّ۔ّہاے۔ ۔۔آ آہ ہہّ۔۔ ۔۔آ آ ہہ ہہ۔ ۔۔۔"

مُجھسے اَب رہا نہیں جا رہا تھا۔ میں جھڑنے والی تھی۔ میںنے سُنیل کی اور دیکھا۔ اُسکی آںکھے بںد تھی۔ اُسکی کمر تیجی سے چل رہی تھی۔ اُسکے چُوتڈ میری چُوت پر پُورے جور سے دھکّا مار رہے تھے۔ میری چُوت بھی نیچے سے لںڈ کی رپھتار سے چُدا رہی تھی۔ "سُنیل۔ ۔۔ّاَ آہ۔۔ ۔۔ہاے۔ ۔۔ّ۔آ آیا ائے اِی اِی اِی۔ ۔۔ّ۔ میں گیّ۔ ۔۔ّ۔ّ۔ّ۔۔ ہاے رے۔ ۔۔ّ۔ّ۔سی اِی سی ایئی اِی۔ ۔۔۔ نِکل گیا میرا پانی۔ ۔۔ّ۔ اَب چھوڑ دے مُجھے۔ ۔۔ بس کر۔ ۔۔۔"میں جور سے جھڑ گیّ۔ میری چُوت نے پانی چھوڑ دِیا۔ پر وو تو دھکّے مارتا ہی گیا۔ میںنے کہا۔ ۔"اَب بس کرو۔ ۔۔ّلگ رہی ہے۔ ۔۔ّ۔۔ ہاے۔ ۔چھوڑ دو نا۔ ۔۔۔"

سُنیل کو ہوش آیا۔ ۔۔ّ۔ اُسنے اَپنا لںڈ باہر نِکل لِیا۔ اُسکا بیہد اُپھنتا لںڈ اَب باہر آ گیا تھا۔ میںنے تُںرت اُسے اَپنے ہاتھ میں کس کے بھر لِیا۔ اور تیجی سے مُٹھ مارنے لگی۔ کس کس کے مُٹھ مارتے ہی اُسکا رس نِکل پڑا۔ "نیہا۔ ۔۔آ آہ ہہ۔ ۔۔ّآ اَہہ ہہّ۔ ۔۔ّ۔ ہو گیا۔۔ ۔۔بس۔ ۔۔ّ۔ّ۔ بس۔ ۔۔ّ۔یے آیا۔ ۔۔آیا۔ ۔۔ّ۔ّ۔ّ۔"

اِتنے میں اُسکا ویرے باہر چھلک پڑا۔ میں سُنیل سے لِپٹ گیّ۔ اُسکا لںڈ رُک رُک کر پِچکارِیاں اُگلتا رہا۔ اؤر میں اُسکا لںڈ کھیںچ کھیںچ کر دُودھ کی ترہ رس نِکالتی رہی۔ جب پُورا رس نِکل گیا تو میںنے اُسکا لںڈ پانی سے اَچّھی ترہ دھو دِیا۔ کُچھ دیر ہم ویسے ہی لِپٹے کھڑے رہے۔ پھِر ایک دُوسرے کو پیار کرتے رہے اؤر شوّر کے نیچے سے ہٹ گئے۔ ہم دونوں ایک دُوسرے کو پیار سے دیکھ رہے تھے۔ اِسکے باد ہم ایک دُوسرے کے ساتھ دِل سے جُڑ گئے۔ ہمارا پیار اَب بدنے لگا تھا۔

شام کے 6 بجے ہم اُجّین سے روانا ہو گئے۔ ۔۔ّ۔۔ من میں اُجّین کی یادیں سمیٹے ہُئے اِںدؤر کی اؤر کُوچ کر گئے۔

By Taha Gondal with No comments

0 comments:

Post a Comment

EMail : PkMasti@aol.com
Yahoo : Jan3y.J4na@yahoo.com

    • Popular
    • Categories
    • Archives