Thursday, January 12, 2012

شادی شُدا عورتوں کی چوتوں کا شوقین چودو


دوستو مُجھے شُرُو سے ہی شادیشُدا اؤرتو میں دِلچسپی زیادا ہے۔ اُسکا کارن یے ہے کِ شادیشُدا اؤرتوں کا یؤون اؤر اُنکے چیہرے پر شادی کے باد جو چمک نہوتی ہے اُسے دیکھکر میرے شریر میں ایک بِجلی سی دؤڑ جاتی ہے تب مُجھسے اَپنے لِںگ پر کابُو ہی نہیں کِیا جاتا اؤر مُجھے ہستمیتھُن کرکے اِسے شاںت کرنا پڑتا ہے۔

ہالاںکِ کالیج میں ٹاپر ہونے کی وجہ سے کئی لڑکِیاں مُجھسے بڑی اِںپریسڈ ہیں پر اُنکے یؤون میں مُجھے وو بات نزر نہیں آتی جو ایک وِواہِت مہِلا کے یؤون میں ہوتی ہے۔ شادی کے باد نیا نیا سںبھوگ کے باد اُنکے شریر میں ایک اَلگ ہی بدلاو آ جاتا ہے۔ اُنکے نِتںبو میں جو کساو اؤر شریر میں جو بھراو آتا ہے اُسکی بات کُچھ اَلگ ہی ہوتی ہے اَبھی کُچھ ہی سمے کی بات ہے اُس سمے میرے گھر میں نیے کِرایّدار آئے۔ اُنکی شادی کو اَبھی دو ہی سال ہُئے تھے اؤر وو پتِ پتنی دونو ورکِںگ تھے۔ راجیش ایک ملٹِنیشنل کںپنی میں جاب کرتے تھے اؤر ریتا میرے ہی کالیج میں پروپھیسر تھی۔ دونو کُچھ ہی سمے پہلے دِلّی میں آئے تھے اِسلِئے اُنہیں نیے گھر کی تلاش تھی۔ چُوںکِ کلاس میں ہمیشا ٹاپ کرتا تھا تو اَکسر میری ریتا سے سبجیکٹس کو لیکر بات ہوتی تھی۔

ایک دِن اُنہونے مُجھسے کِرائے کا گھر ڈھُوںدنے کے بارے میں پُوچھا تو میںنے اُنہیں اَپنے گھر کو کِرائے پر لینے کے لِئے کہا، اُنہیں گھر پسںد آ گیا، اؤر وو کالیج کے پاس بھی تھا اِسلِئے اُنہوںنے گھر کِرائے پر لے لِیا۔ میںنے اُنسے گھر پر پڑھنا شُرُو کِیا اؤر جب اُنکو کریب بیٹھ کر دیکھا تو میں پاگل ہو گیا۔ ریتا کے شریر میں جو بات تھی کیا کہنے، ایک دم گورا رںگ، بِلکُل سلِم باڈی اؤر کھڑی ہُئی چُچِیاں، کد کریب پاںچ پھُٹ سات اِںچ اؤر کھُوبسُورتی اِتنی کِ کِسی کا بھی جی للچا جائے۔ میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہُآ۔ اَب پڑھائی میں تو دِماغ ہی نہیں لگتا تھا۔

میںنے اَکسر اُنکے کریب جانے کے مؤکے تلاشنے شُرُو کر دِئے۔ ایک بار اُنکے پتِ کِسی کام سے کُچھ سے کُچھ دِنوں کے لِئے باہر گیے تب میںنے ریتا کے کریب جانے کے اؤر مؤکے تلاشنے شُرُو کر دِئے۔ اُنکے بیڈرُوم کی ایک کھِڑکی اُس رات کو کھُلی تھی۔ میںنے کریب آدھی رات کے سمے اُسمیں جھاںک کر دیکھنا شُرُو کِیا کیوںکِ تب تک میرے سب گھر والے سو چُکے تھے۔ ریتا کے کمرے میں جو نزارا تھا اُسے دیکھکر میں پاگل ہو گیا۔ ریتا اَپنے بیڈ پر نگن اَوستھا میں لیتی ہُئی تھی اؤر اَپنی یونِ کو مسل کر کر سِسکِیاں لے رہی تھی۔ مانو ایسا لگ رہا تھا کِ کِتنے دِنوں سںبھوگ ن کِیا ہو۔ میرے ہاتھ میرے لِںگ کا کڑاپن مہسُوس کر رہے تھے اؤر میںنے تبھی وہیں ہستمیتھُن کِیا۔

رات بھر مُجھے نیںد نہیں آئی۔ اَگلے دِن کالیج سے جب میں واپِس آیا تو دیکھا میرے سب گھر والے کہیں باہر گیے ہُئے تھے میںنے گھر کی چابی کے لِیے ریتا سے پُوچھا تو ریتا اَپنے کمرے سے باہر آئی اؤر مُجھے بولی کِ چابی تو نہیں ہے پر تب تک کے لِئے تُم میرے کمرے مے بیٹھ جاّو۔ اُس سمے اُنہوںنے بھی کالیج سے آکر چیںج ہی کِیا تھا تو اُنہوںنے شارٹ نائیٹی ڈالی ہُئی تھی۔ وو میرے سامنے ہی سوپھے پر بیٹھ گیی اؤر مُجھسے باتیں کرنی لگی۔ باتیں کرتے ہُئے مُجھے دھیان آیا کِ جِس ترہ ٹاںگے کھول کر وو بیٹھی تھی اُنکی جاںگھیں دِکھائی دے رہی تھی۔ اؤر دھیان دینے پر میںنے پایا کِ اُنہوںنے اَںدر کُچھ نہیں ڈالا ہُآ تھا۔ میرے لِںگ پر میرا کابُو ن رہا اؤر وو ٹن کر کھڑا ہو گیا۔ تبھی اُنہوںنے مُجھسے کہا کِ رات کو چوروں کی کھِڑکی میں دیکھنا ٹھیک نہیں۔ میں گھبرا گیا کِ اِنہیں کیسے پتا چلا کل رات کے بارے میں۔

ریتا - یے ٹھیک نہیں ہے کوئی اؤر رات کو تُمہیں ہستمیتھُن کرتے ہُئے دیکھ لیتا تو، میں جو بھی کر رہی تھی اَپنے کمرے میں کر رہی تھی، آگے سے دھیان رکھنا۔
مینے تھوڑا جھُک کر اُنکی ٹاںگوں کے بیچ میں دیکھنا شُرُو کر دِیا۔
ریتا - یے کیا کر رہے ہو۔ کہاں دیکھ رہے ہو؟
میںنے کہا اَب تو میں کمرے کے اَںدر ہُوں۔
ریتا - بڑے سمجھدار بنتے ہو۔ وو میرے مںسُوبے جان گیی تھی۔
میںنے ہِمّت کر کے اُنکی ٹاںگو پر ہاتھ رکھ دِیا۔
ریتا - بس ٹاںگو سے ہی پیار ہے یا آگے بھی بڑھنا ہے۔
وو بولی - اَکسر راجیش تو باہر رہتے ہیں اؤر مُجھے اَکیلے رہنا پڑتا ہے۔ اُنہیں میرے یؤون کی پیاس کی کوئی کدر نہیں ہے۔ اِسلِئے مُجھے اَکیلیپن میں یُوں سِسکنا پڑتا ہے۔ پر تُمہیں کل رات دیکھ کر مُجھے بھی کُچھ ہو گیا۔ کِتنا بڑا لِںگ ہے تُمہارا۔ لگتا ہے بڑی بلُو فِلمیں دیکھتے ہو اؤر ہستمیتھُن کر کر کے ایسا لںبا کر لِیا ہے۔ میں اِسکا سواد چکھنا چاہتی ہُوں اَب تو میرے دِل کی بات اُنہوںنے کہ دی۔ میںنے اَپنے دونو ہاتھوں سے اُنکی جاںگھو کو سہلانا شُرُو کر دِیا۔ ساتھ ہی اُنکے ہوںٹھو کی اور اَپنے ہوںٹھ بڑھا دِئے، ہم ایک دُوسرے کو کافی دیر تک کِس کرتے رہے اؤر پھِر میں اُنکے ساتھ اُنکے بیڈرُوم میں چلا گیا۔
ریتا - میرا یؤون دیکھنا چاہوگے اؤر یے کہتے ہی اُنہوںنے اَپنی نائیٹی اُتار دی۔
سچ میں شادیشُدا اؤرت کے نگن جِسم کو میں پہلی بار دیکھ رہا تھا اؤر بیکابُو ہوکر میںنے اُنکے بُوبس چُوسنے شُرُو کر دِئے۔ اؤر وو اؤر کستے چلے ہو گیے اؤر پُوری ترہ کھڑے ہو گیے۔
ریتا - پہلے کبھی سںبھوگ کِیا ہے۔
میںنے کہا - نہیں۔
تو پھِر تو تُم اَبھی کچّے ہو،ّ، یے کہتے ہُئے اُنہوںنے میری پیںٹ اُتار دی میںنے اَںڈرویر نہیں پہنا تھا اؤر میرا ایک بار سکھلِت بھی ہو گیا تھا۔ گیلی پیںٹ دیکھ کر ریتا بولی۔ ریتا - بس اِتنے میں ہی جھڑ گیا۔ تو تُم کیا کروگے۔
میںنے کہا - پہلی بار کِسی شادیشُدا کو نگن دیکھکر یے جھڑ گیا۔ اَبھی دس بار اؤر جھڑ سکتا ہے۔
تب میںنے کہا - مُجھے آپکی یونِ دیکھنی ہے۔ وو بیڈ پر لیٹ گیی اؤر اَپنی ٹاںگے کھول دی۔ میںنے پہلی بار کِسی چُوت کو دیکھا تھا میںنے سیدھا اُسے چاٹنا شُرُو کر دِیا ۔
ریتا - اَرے بڑے بیکابُو ہو۔ چلو کوئی بات نہیں۔ پہلی بار تو ایسا ہی ہوتا ہے۔
میںنے اَپنی جیبھ اُنکی یونِ میں پھِرانی شُرُو کر دی۔ وو سِسکنے لگی۔
میںنے جیبھ کو اؤر اَںدر ڈالنا شُرُو کر دِیا۔
ریتا - اَرے ایسے چُوسوگے تو میں جھڑ جاُّںگی۔ میںنے سپیڈ تھوڑی کم کر دی اؤر اُنکے اُوپر آکر اُنکے بُوبس دبانے شُرُو کر دِئے۔
ریتا - مُجھے تُمہارے لِںگ کا ٹیسٹ کرنا ہے۔ میںنے کہا تو آ جاّو سِکس نائین کی پوزِشن میں
ریتا - وو کیا ہے۔
میںنے کہا - بلُو پھِلمس نہیں دیکھی کیا کبھی۔
ریتا - وو تو تُم کِڈس دیکھتے ہو۔ ہم تو وو سب اَسلی میں کرتے ہیں۔
اؤر میںنے اُنکو سِکس نائین کی پوزِشن میں لاکر اَپنا لِںگ اُنکے مُںہ میں ڈال دِیا اؤر اُنکی یونِ چاٹنے لگا۔
ہم دونو نے اَپنی سپیڈ بڑھا دی اؤر میںنے دیکھا کِ اُنکی ٹاںگے کستی جا رہی ہیں اؤر ایک دم اُنکی یونِ نے اِتنی زور
سے میرے مُںہ پر اَپنا پانی جھاڑ دِیا کِ میرا پُورا مُںہ گیلا ہو گیا۔ میںنے ایسا پہلے کبھی بلُو پھِلمس میں بھی نہیں دیکھا تھا۔
ریتا - دیکھا لڑکے اِتنا تُمہارا دس بار میں بھی نہیں جھڑ سکتا جِتنا ہم ایک بار میں نِکال دیتے ہیں۔
میں بولا - اِسکے سواد میں تو مزا آ گیا اؤر کہا کِ میرا ویرے بھی تو چکھ کر دیکھو لو
اُنہوںنے کہا - تو آ جاّو - پہلے اُنہوںنے میرا لِںگ اَپنے بُوبس میں دبا کر اُوپر نیچے کرنا شُرُو کر دِیا، مُجھے مزا آنے لگا۔ میرا لِںگ اؤر کڑا ہو گیا۔ تب اُنہونے میرے سُپاڑے کو اَپنے مُںہ میں لے لِیا۔ دھیرے دھیرے وو اُسے پُورا نِگلنے لگی۔
میری اُتّیجنا چرم پر جانے لگی اؤر بںدُوک کی ترہ میںنے اُنکے مُںہ کے اَںدر ویرے کی دھار مار دی۔
ریتا - یے تو اَمرت سے بھی زیادا سواد ہے۔ مزا آ گیا۔ پر اَب میری پیاس کؤن شاںت کریگا۔ تُم تو دو بار جھڑ چُکے ہو۔
اَب تو تُمہارا کھڑا نہیں رہیگا زیادا دیر۔
میںنے کہا - میں تو اَبھی پہلے کی ترہ ہی ہُوں اؤر کئی بار اؤر مُوٹھ کی دھار چھوڑ سکتا ہُوں۔ پر آپکا نہیں پتا، اِتنا زیادا جھاڑا ہے آپنے، اَب بھی ہے اُتّیجنا آپمیں باکی؟
ریتا - اؤرت کی پیاس کو مرد کبھی سمجھے ہی نہیں۔ میرا شریر جلدی ہُئی مشال کی ترہ ہے۔ تُم جیسے لڑکو کے تو کئی لںڈ ‍جلا سکتا ہے۔
میںنے کہا - ایسی بات تو آ جاّو ایک بار اؤر میرے لںڈ کی گِرفت میں۔
ریتا - کافی جلدی کافی کُچھ سیکھ رہے ہو
میںنے کہا - آپکا سٹُوڈیںٹ ہُوں نا
ریتا - آاو کِتنے دِنوں سے یے سیل ٹُوٹی نہیں ہے آاو اِسے تار - تار کر دو۔
مینے اَپنا سُوپاڑا اُنکی چُوت پر رکھ دِیا اؤر دھیرے دھیرے اُس پر پھیرنے لگا۔
ریتا - تُم تو مُجھے جلا دوگے۔ پلیز اَب اَںدر ڈال دو۔
میںنے زور لگانا شُرُو کِیا پر میرا اِتنا موٹا اؤر کڑا تھا کِ اَںدر نہیں جا رہا تھا آسانی سے۔ میںنے زور لگایا تو اُنکی چیکھ نِکل گیّ۔ پر لںڈ اَںدر نہیں گیا اؤر چُوت سے کھُون نِکالنے لگا۔
ریتا - سہی میں تُم تو مرد سے کُچھ زیادا ہی ہو۔ کھُون نِکال دِیا میری چُوت سے پر اَںدر نہیں گیا۔ تھوڑی سا جھاگ لگا کر سابُن کا پھِر کوشِش کرو۔
میں باتھرُوم سے سابُن کا جھاگ لے کر آیا اؤر اُسے لیںڈ پر مسل لِیا۔ اَب میںنے زور لگانا شُرُو کِیا۔ ریتا درد سے چِلّانے لگی اؤر میںنے پھِر پُوری تاقت لگا کر ایک زور کا جھٹکا دِیا اؤر میرا لںڈ چُوت سے کھُون کے چھیںٹے میرے مُںہ پر مارتے ہُئے اَںدر چلا گیا۔ ریتا کی ساںس گلے میں ہی اَٹک گیّ۔
ریتا - بڑا درد ہو رہا ہے پر ایسا مزا بھی کبھی نہیں آیا۔ اَب تو میری چُوت کو جلا دو ایک دم۔
میںنے جھٹکے بڑھنے شُرُو کر دِئے۔ اُنکے مُںہ سے اُاُاُوہہ آاَہہ آآّاَہہ کی آوازیں تیج آ گیّ۔
ریتا - اؤر زور سے، اؤر زور سے، پھاڑ دو مُجھے اؤر میری چُوت کو
مینے جھٹکے بڑھانے شُرُو کر دِئے اؤر اُنکی چُوچی چُوسنی شُرُ کر دی۔
اُنکی اُتّیجنا اؤر بڑھنے لگی اؤر تب میںنے دھیان دِیا اُنکے بُوبس اؤر کڑے ہو گیے تب مُجھے لگنے لگا کِ اَب یے جھڑنے والی ہے مینے جھٹکے تیج کر دِئے اؤر تبھی میرا جھڑ گیا پر میںنے جھٹکے دینے چالُو رکھے اؤر وو اِتنی گرم ہو گیی کِ اُنکا بھی جھڑ گیا میںنے اُنکے پانی کو اَپنے مُںہ پر مسل لِیا اؤر ہم دونو ٹھںڈے پڑ گیے۔ میں اُنکے ساتھ ہی اُنکے بِستر پر لیٹا رہا کُچھ دیر تک اُنکے ساتھ چِپک کر۔ اَبھی بھی ہم دونو اَپنے جِسم کی سِرہن مہسُوس کر رہے تھے۔

ریتا - تُمہارا ویرے تو میری چُوت مے اَںدر چلا گیا، اَگر میں پریگنیںٹ ہو گیی تو، میںنے کہا چِںتا مت کرو بازار میں کئی گولِیاں آتی ہے جو ایسا ہونے پر بھی پریگنینسی روک دیتی ہے۔ وو لے لینا اؤر میں پھِر اَپنے کپڑے پہن کر بازار چلا گیا گولِیاں لانے۔ اَب یے سِلسِلا کئی دِنوں تک چلا۔ پھِر اُنکے پتِ کا ٹرانسپھر ہو گیا اؤر میں اَکیلا ہو گیا۔ مُجھے اَبھی بھی دِلچسپی ہے شادیشُدا اؤرتوں میں، اَگر کوئی شادیشُدا مہِلا مُجھ سے اَپنی پیاس بجھانا چاھے تو میں دستیاب ھوں۔ 
EMail : PkMasti@aol.com
Yahoo : Jan3y.J4na@yahoo.com

By Taha Gondal with No comments

0 comments:

Post a Comment

EMail : PkMasti@aol.com
Yahoo : Jan3y.J4na@yahoo.com

    • Popular
    • Categories
    • Archives