Thursday, January 12, 2012

بیوی کی مدد سے شازیہ کا ریپ

میرے کہنے پر میری بیوی عروج نے ہماری زندگی کا یہ سچا واقعہ لکھا ہے جس نے ہماری ازدواجی زندگی کو خوبصورت ترین بنا دیا۔ اس سے آگے کا واقعہ میری بیوی عروج کی زبانی۔۔۔
میری عمر تب 22 سال تھی اور ندیم 25 سال کے تھے۔ ہماری شادی کو دو سال ہونے کو آئے تھے۔ تبھی اسلام آباد کے خوبصورت مقام پر میرے شوہر کا تبادلہ ہوا۔ ہم دونوں ایسی جگہ پر بہت خوش تھے۔ اسلام آباد کی ہری بھری وادیوں کا پر فضا مقام اور جوان دلوں کا سنگم۔۔۔ کس کو نہ لبھا لے؟ ہمیں کمپنی کی طرف سے کوئی گھر نہیں ملا تھا، اس لیے ہم نے ان کے دفتر سے تھوڑی ہی دور ایک مکان کرائے پر لے لیا تھا۔۔۔ جس کا کرایہ ہمیں کمپنی کی طرف سے ہی ملتا تھا۔ گھر میں کام کرنے کے لیے ہم نے ایک نوکرانی رکھ لی تھی۔ اس کا نام شازیہ تھا۔ اس کی عمر لگ بھگ 16 سال ہوگی۔ چڑھتی جوانی، خوبصورت، سندر، سیکسی فگر، گوری دودھیا رنگت، بدن پر نو خیز جوانی کےمخروطی ابھار اور چکنا پن جھلکتا تھا۔

ندیم تو پہلے دن سے ہی اس پر فدا تھا۔ مجھ سے اکثر وہ اس کی تعریفیں کرتا رہتا تھا۔ میں اس کے دل کی بات اچھی طرح سمجھتی تھی۔ ندیم کی نظریں اکثر اس کے بدن کا معائنہ کرتی رہتی تھیں۔۔۔ شاید اندر تک کا نظارا کرتی تھیں۔ اس کے ابھار چھوٹے چھوٹے مگر نکیلے تھے۔ اس کے ہونٹ پتلے لیکن پھول کی پنکھڑیوں جیسے تھے۔ میں بھی اس کی کچی جوانی دیکھ دیکھ کر حیران ہوتی تھی اور سوچتی تھی کہ کون خوش قسمت ہو گا جو اسے پہلی دفعہ چودے گا۔

ایک دن ندیم نے رات کو چدائی کے وقت مجھے اپنے دل کی بات بتا ہی دی۔ اس نے کہا "عروج۔۔۔ شازیہ کتنی سیکسی ہے نا۔۔۔"

"ہوں۔۔۔ آں ہاں۔۔۔ ہے تو سہی۔۔۔۔۔۔ لیکن نوجوانی میں تو تمام لڑکیاں اتنی ہی سیکسی ہوتی ہیں۔۔۔" میں نے اسے کریدنے کے لیے کہا گو کہ میں اس کا مطلب اچھی طرح سمجھ رہی تھی۔

"عروج! اس کا بدن دیکھا ہے۔۔۔ اسے دیکھ کر تو۔۔۔ یار من مچل جاتا ہے۔۔۔۔۔۔" ندیم نے کچھ اپنا مطلب واضح کرتے ہوئے کہا۔

"اچھا جی۔۔۔! اب یہ بھی بتا دو جانو۔۔۔ کہ جی کیا کرتا ہے۔۔۔۔۔۔؟" میں ہنس پڑی۔۔۔ مجھے پتا تھا وہ کیا کہے گا۔۔۔

"سنو عروج۔۔۔! اسے پٹاؤ نا۔۔۔! اسے چودنے کو دل کرتا ہے۔۔۔"

"ہائے ہائے۔۔۔ تم نوکرانی کو چودوگے۔۔۔۔۔۔ پر ہاں۔۔۔ وہ چیز تو چودنے جیسی ہی ہے۔۔۔"

"تو بولو۔۔۔ میری مدد کروگی نا۔۔۔"

"چلو یار۔۔۔ تم بھی کیا یاد کروگے۔۔۔ کل سے ہی اسے تیار کرتی ہوں۔۔۔۔۔۔"

پھر میں سوچ میں پڑ گئی کہ کیا طریقہ نکالا جائے۔ سیکس تو سبھی کی کمزوری ہوتی ہی ہے۔ مجھے ایک ترکیب سمجھ میں آئی۔

دوسرے دن شازیہ کے آنے کا وقت ہو رہا تھا۔۔۔۔۔۔ میں نے اپنے ٹی وی پر ایک بلیو اردو فلم لگا دی۔ اس فلم میں چدائی کے ساتھ اردو ڈائیلاگ بھی تھے۔ شازیہ کمرے میں صفائی کرنے آئی تو میں باتھ روم میں چلی گئی۔ صفائی کرنے کے لیے جیسے ہی وہ کمرے کے اندر آئی تو اس کی نظر ٹی وی پر پڑی۔۔۔ چدائی کے سین دیکھ کر وہ کھڑی رہ گئی۔ اور سین دیکھتی رہی۔

میں باتھ روم سے سب دیکھ رہی تھی۔ اسے میرا ویڈیو پلیر نظر نہیں آیا کیونکہ وہ لکڑی کے کیس میں تھا۔ وہ دھیرے دھیرے قریب پڑے بیڈ پر بیٹھ گئی۔ اسے مووی دیکھ کر مزا آنے لگ گیا تھا۔ چوت میں لنڈ جاتا دیکھ کر اسے اور بھی زیادہ مزا آ رہا تھا۔ دھیرے دھیرے اس کا ہاتھ اب اس کی چھاتیوں پر آ گیا تھا۔۔۔ وہ گرم ہو رہی تھی۔ میری ترکیب کارگر ثابت ہو رہی تھی ۔ میں نے موقع مناسب جانا اور باتھ روم سے باہر آ گئی۔۔۔

"ارے۔۔۔ ٹی وی پر یہ کیا آنے لگا ہے۔۔۔"

"باجی۔۔۔ بھائی تو ہیں نہیں۔۔۔ چلنے دو نا۔۔۔ ہم ہی تو ہیں۔۔۔"

"ارے نہیں شازیہ۔۔۔ اسے دیکھ کر دل میں کچھ ہونے لگتا ہے۔۔۔" میں مسکرا کر بولی

میں نے چینل بدل دیا۔۔۔ شازیہ کے دل میں ہلچل مچ گئی تھی۔۔۔ اس کے جوان جسم میں شہوت نے جنم لے لیا تھا۔

"باجی۔۔۔ یہ کس چینل سے آتا ہے۔۔۔"اس کی ہوس بڑھ رہی تھی۔

"ارے تمہیں دیکھنا ہے نا تو دن کو فری ہو کر آنا۔۔۔ پھر اپن دونوں دیکھیں گے۔۔۔ ٹھیک ہے نا۔۔۔"

"ہاں باجی۔۔۔ تم کتنی اچھی ہو۔۔۔" اس نے مجھے جوش میں آکر پیار کر لیا۔ میں نڈھال ہو گئی۔۔۔ آج اس کی چمی میں سیکس تھا۔ اس نے اپنا کام جلدی سے نمٹا لیا اور چلی گئی۔ میرا تیر نشانے پر لگ چکا تھا۔

تقریباً دن کے ایک بجے شازیہ واپس آ گئی۔ میں نے اسے پیار سے بیڈ پر بٹھایا اور نیچے سے کیس کھول کر پلیر میں سی ڈی لگا دی اور میں خود بھی بیڈ پر بیٹھ گئی۔ یہ دوسری فلم تھی۔ فلم شروع ہو چکی تھی۔ میں شازیہ کے چہرے کا رنگ بدلتے دیکھ رہی تھی۔ اس کی آنکھوں میں شہوت کے ڈورے تیرنا شروع ہو رہے تھے۔ میں نے تھوڑا اور انتظار کیا۔۔۔ چدائی کے سین چل رہے تھے۔

میرے جسم میں بھی شہوت جاگ اٹھی تھی۔ شازیہ کا بدن بھی رہ رہ کر جھٹکے کھا اٹھتا تھا۔ میں نے اب دھیرے سے اس کی پیٹھ پر ہاتھ رکھا۔ اس کی دھڑکنیں تک محسوس ہو رہی تھیں۔ میں نے اس کی پیٹھ سہلانی شروع کر دی۔ میں نے اسے آہستگی سے اپنی جانب کھینچنے کی کوشش کی۔۔۔ تو وہ مجھ سے چپک گئی۔ اس کا کسا ہوا بدن۔۔۔ اس کے بدن کی خوشبو۔۔۔ مجھے محسوس ہونے لگی تھی۔ ٹی وی پر شاندار چدائی کا سین چل رہا تھا۔ شازیہ کا دوپٹہ اس کے سینے سے نیچے گر چکا تھا۔۔۔ اس کے پستانوں کا سائز 28 سے زیادہ نہیں ہو گا۔۔۔ میں نے دھیرے سے اس کی چھوٹی چھوٹی مخروطی چھاتیوں پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔۔۔ اس نے میرا ہاتھ اپنے پستانوں کے اوپر ہی دبا دیا اور سسک پڑی۔

"شازیہ! کیسا لگ رہا ہے بیٹی۔۔۔؟"

"باجی۔۔۔ بہت ہی اچھا لگ رہا ہے۔۔۔ کتنا مزا آ رہا ہے۔۔۔" کہتے ہوئے اس نے میری طرف دیکھا۔۔۔ میں نے اس کی چونچیاں سہلانی شروع کر دی۔۔۔ اس نے میرا ہاتھ پکڑ لیا۔۔۔

"بس باجی۔۔۔ اب اور نہیں کریں۔۔۔"

"ارے پگلی! مزے لے لے۔۔۔ ایسے موقعے بار بار نہیں آتے ہیں۔۔۔۔۔۔" اور اسے کچھ بولنے کا موقعہ دیے بغیر میں نے اس کے تھرتھراتے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے۔۔۔ شازیہ ہوس سے بھری ہوئی تھی۔ اب شازیہ نے میری 36 سائز کی تنی ہوئی گول گول چھاتیوں کو اپنے ہاتھوں میں بھر لیا اور دھیرے دھیرے انہیں دبانے لگی۔ مجھے بھی بے حد مزا آ رہا تھا۔ میں نے اس کی شلوار کو آہستگی سے نیچے کی جانب کھینچا تو یہ جان کر بے حد خوشی ہوئی کہ اس نے شلوار میں الاسٹک ڈالا ہوا تھا یعنی میرا کام مزید آسان ہو گیا۔ میں نے کھینچ کر اس کی شلوار نیچے کر دی اور اس کی قمیض کا دامن اوپر اٹھا دیا۔۔۔ آہ اس کی رانیں دودھیا رنگت کی تھیں اور پیٹ بے حد ستواں اور پتلا تھا۔۔۔ میں اس کی چکنی رانوں کو ہاتھ سے آہستہ آہستہ سہلانے لگی۔۔۔ اب میرے ہاتھ دھیرے دھیرے اس کی چوت پر آ چکے تھے جو چکنائی اور پانی چھوڑ رہی تھی۔ میں نے اپنی ایک انگلی آہستگی سے اس کی چوت کے تنگ سوراخ میں سرکائی۔ اس کی چوت کے اندر میری انگلی جاتے ہی شازیہ مجھ سے لپٹ گئی اور مجھے لگا کہ میرا کام ہو گیا۔

"باجی۔۔۔ ہائے۔۔۔ نہیں کرو نا۔۔۔ ماں۔۔۔ رے۔۔۔"

"کیسا لگ رہا ہے شازیہ؟

"آہ ہ ہ ہ ہ باجی بس کریں نا آہ ہ ہ ہ۔۔۔"

میں نے اس کی چوت کے دانے کو ہلکے ہلکے سے ہلانے لگی۔۔۔۔ وہ نیچے جھکتی جا رہی تھی۔۔۔ اس کی آنکھیں نشے میں بند ہو رہی تھی۔

ادھر ندیم لنچ پر آ چکا تھا۔ اس نے اندر کمرے میں جھانک کر دیکھا۔ میں نے اسے اشارہ کیا کہ ابھی رکو۔ میں نے شازیہ کو اور سیکسی کرنے کے لیے اسے کہا - "شازیہ۔۔۔ آؤ گڑیا میں تمہارا بدن سہلا دوں۔۔۔۔۔۔ کپڑے اتار دو۔۔۔ شاباش!"

"باجی۔۔۔ اوپر سے ہی میرا بدن دبا دیں نا۔۔۔" وہ بستر پر لیٹ گئی اور میں اس کی ننھی منی چھاتیوں کے ابھاروں کو دباتی رہی۔۔۔ اس کی سسکیاں بڑھتی رہی۔۔۔ میں نے اب اس کی بڑھتی ہوئی ہوس دیکھ کر اس کی قمیض بھی اتار دی۔۔۔ اس نے کچھ نہیں کہا۔۔۔ میں نے بھی یہ دیکھ کر اپنے کپڑے فوراً اتار دیے اور بالکل ننگی ہو گئی۔ اب میں اس کی چوت کو اپنی انگلی سے دبا کر سہلانے لگی۔۔۔ اور دھیرے سے ایک انگلی اس کی چوت میں ڈال دی۔ اس کے منہ سے لذت بھری سسکاریاں نکل پڑیں۔۔۔

"شازیہ۔۔۔ ہائے کتنا مزا آ رہا ہے۔۔۔ ہے نا۔۔۔"

"ہاں باجی۔۔۔ ہائے رے۔۔۔ میں مر گئی۔۔۔"

"شازیہ! لنڈ سے چدواؤ گی؟ بہت مزا آئے گا۔۔۔"

"کیسے باجی۔۔۔؟ لنڈ کہاں سے لاؤ گی۔۔۔؟"

"اگر تم کہو تو ندیم کو بلا لوں۔۔۔ تمہیں چود کر مست کر دے گا"

"نہیں باجی۔۔۔ نہیں۔۔۔ بھائی سے نہیں۔۔۔"

"اچھا تم الٹی لیٹ جاؤ۔۔۔ اب پیچھے سے تمہارے چوتڑ بھی مسل دوں۔۔۔"

وہ الٹی لیٹ گئی۔ میں نے اس کی چوت کے نیچے تکیا لگا دیا۔ اور اس کی گانڈ اوپر کر دی۔ اب میں نے اس کے دونوں پاؤں پھیلا کر ٹانگیں چوڑی کر دیں اور اس کی گانڈ کے چھید پر اور اس کے آس پاس ہولے ہولے سہلانے لگی۔ وہ لذت سے سسکاریاں بھرنے لگی۔

ندیم دروازے کے پاس کھڑا ہوا سب دیکھ رہا تھا۔ اس نے اپنے کپڑے بھی اتار لیے۔ یہ سب کچھ دیکھ کر ندیم کا لمبا لنڈ ایک دم تن چکا تھا اور وہ اپنے لنڈ کو ہاتھ سے اوپر نیچے کر رہا تھا۔ میں شازیہ کی گانڈ اور چوتڑوں کو پیار سے سہلا رہی تھی۔ اس کی ہوس بے حد بڑھ چکی تھی۔ تب میں نے ندیم کہ لوہا گرم ہے۔۔۔۔۔۔ آ جاؤ۔۔۔

ندیم دبے پاؤں اندر آ گیا۔ میں نے کہا کہ بس اب تم اس بچی کو چود ڈالو۔ شازیہ کی پھیلی ہوئی ٹانگوں کے درمیان کھلی ہوئی گوری چٹی ٹائٹ چوت ندیم کو نظر آ رہی تھی۔ یہ دیکھ کر اس کا لنڈ اور بھی تننے لگا۔ تب تک ندیم اس کی ٹانگوں کے بیچ میں آ گیا۔ میں شازیہ کے پیچھے آ گئی۔۔۔ جسے اب تک معلوم ہی نہیں تھا کہ اس کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ ندیم نے شازیہ کے چوتڑوں کے پاس آکر لنڈ کو اس کی چوت پر رکھ دیا۔ شازیہ کو فوراً ہی ہوش آ گیا۔۔۔ لیکن تب تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ ہم میاں بیوی نے مل کر اسے اپنے ہاتھوں میں جکڑ کر قابو کر لیا تھا اور ندیم اس کے چوتڑوں سے نیچے لنڈ اس کی چوت پر ٹکا چکا تھا اور اس کے نازک بازوؤں کو اپنے مضبوط ہاتھوں میں کس لیا تھا اور اس کے نازک جسم کو اپنے ورزشی بدن کے نیچے دبا کر قابو کر چکا تھا۔

شازیہ چیخ اٹھی۔۔۔ پر تب تک ندیم کا ہاتھ اس کا منہ دبا چکا تھا۔ ادھر میں نے اپنے ہاتھوں میں لے کر ندیم کا موٹا لمبا لنڈ شازیہ کی چوت کے عین اوپر رکھ دیا تھا۔ ندیم حرکت میں آ گیا۔

اس کا لنڈ اس بچی کی ننھی سی چوت کو چیرتا ہوا اندر تک گھس گیا۔ درد کے مارے شازیہ کے منہ سے غوغیانے کی آوازیں نکل رہی تھیں اور وہ بستر پر تڑپ رہی تھی اور ندیم کے نیچے سے نکل بھاگنے کی کوشش کر رہی تھی۔ اس کی چوت گیلی تھی۔۔۔ چکنی تھی۔۔۔ لیکن ابھی تک چدی نہیں تھی۔ دوسرے ہی دھکے میں لنڈ اندر گہرائی میں اترتا چلا گیا اور شازیہ کی آنکھیں درد کی شدت سے پھٹی جا رہی تھی۔ غو غو کی آوازیں نکل رہی تھی۔ اس نے اپنے ہاتھوں سے زور لگا کر میرا ہاتھ اپنے منہ سے ہٹا لیا اور زور زور سے بلک کر رونے لگی۔۔۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے اور چوت سے خون ٹپک رہا تھا۔

"بھااااااااااااائی۔۔۔ چھوڑ دیں مجھے ےےےےے۔۔۔ آآآآہہہ میرے ساتھ ایسے نہ کریں۔۔۔ ہائے ےےےے میں مر جاؤں گی۔۔۔ باجی! آپ مجھے بچا لیں۔۔۔" اس نے منت بھرے انداز میں روتے ہوئے کہا۔ پر لنڈ اپنا کام کر چکا تھا۔

"بس بیٹی۔۔۔ بس۔۔۔ تھوڑا سا برداشت کر لو۔۔۔ ابھی سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔ رو مت۔۔۔" میں نے اسے پیار سے پچکارتے ہوئے سمجھایا کیونکہ مجھے اندازہ تھا کہ وہ کس قدر درد سے گزر رہی ہو گی۔

"نہیں نہیں بس۔۔۔ بس باجی مجھے چھوڑ دیں اب۔۔۔ میں تو برباد ہو گئی باجی۔۔۔ آپ نے یہ کیا کر دیا۔۔۔" وہ نیچے دبی ہوئی تڑپتی اور روتی جا رہی تھی اور ہماری منتیں کر رہی تھی لیکن ہم دونوں نے مل کر اسے دبوچ رکھا تھا۔ دبی دبی چیخیں اس کے منہ سے نکلتی رہی لیکن ہم پر ان درد بھری چیخوں کا کوئی اثر نہیں ہو رہا تھا۔ ندیم نے اپنے ڈنڈے نما لنڈ کو دھیرے دھیرے اندر باہر کرنا شروع کر دیا۔

"بھائی۔۔۔ بس کریں نا۔۔۔ مجھے چھوڑ دیں نا۔۔۔ میں برباد ہو گئی۔۔۔۔۔۔ ہائے۔۔۔ کوئی مجھے بچا لو۔۔۔ ہائے میں آج مر جاؤں گی۔۔۔ بھائی۔۔۔ بھائی۔۔۔ بسسس۔۔۔ باجی۔۔۔ آہ آہ آہ۔۔۔ آپ روک دیں نا بھائی کو۔۔۔ آہ ہ ہ۔۔۔ میں مر گئی ہائے۔۔۔ " وہ بری طرح روئے جا رہی تھی۔۔۔ اور منتیں کرتی رہی۔ لیکن اس دوران ندیم نے اس کی چونچیاں بھی بھینچ لی۔ وہ ہائے ہائے کرکے روتی رہی۔۔۔ وہ اپنے بدن کو تڑپ تڑپ کر ہلتے ہوئے نیچے سے نکلنے کی کوشش کرتی رہی لیکن ندیم کے جسم اور ہاتھوں میں بری طرح سے دبی ہوئی تھی۔ آخر کار اس نے خواہ مخواہ کی کوششیں ترک کر دیں اور بس نڈھال ہو کر بری طرح چیختی چلّاتی اور روتی رہی۔

ندیم نے اپنی چدائی اب تیز کر دی۔۔۔ اس کا کنواراپن دیکھ کر ندیم اور بھی سیکسی ہوتا جا رہا تھا۔ اس کے دھکے وحشیانہ پن پر آ گئے تھے اور شازیہ بے چاری نیچے دبی ہوئی سسکتی بلکتی جا رہی تھی۔ کچھ دیر بعد شازیہ کا رونا اور بلکنا کچھ کم ہو گیا۔۔۔ اور اندر ہی اندر شاید اسے مستی چڑھنے لگی۔۔۔ لیکن وہ سسکتی رہی۔۔۔

"ہائے باجی میں لٹ گئی۔۔۔ میری عزت لٹ گئی۔۔۔ باجی میں برباد ہو گئی۔۔۔ بھائی مجھے چھوڑ دیں۔۔۔ اب بس کر دیں بھائی۔۔۔ ہائے" وہ بس آنکھیں بند کیے یہی بولتی جا رہی تھی۔۔۔ اس کے نیچے پڑا تکیہ خون سے بھیگ چکا تھا۔ اب ندیم نے اس کی چونچیاں پھر سے پکڑ لیں اور انہیں زور زور سے دباتے ہوئے شازیہ کو چودنے لگا۔ شازیہ اب کسی حد تک خاموش ہو گئی تھی۔۔۔ شاید وہ سمجھ چکی تھی کہ اس کی جھلی پھٹ چکی ہے اور اب بچنے کا بھی کوئی راستا نہیں ہے۔ لیکن اب اس کے چہرے سے لگ رہا تھا کہ وہ بھی مزا لے رہی ہے۔ اب میں نے بھی چین کی سانس لی۔

میں نے دیکھا کہ ندیم کا لنڈ خون سے سرخ ہو چکا تھا۔ شازیہ کی کنواری چوت پہلی بار چد رہی تھی اوراس کی ٹائیٹ چوت کے جکڑنے کا اثر یہ ہوا کہ ندیم جلد ہی چھوٹنے والا ہو گیا۔ اچانک نیچے سے شازیہ کی سسکاری نکل پڑی اور وہ جھڑنے لگی۔ ندیم کو لگا کہ شازیہ کو اب مزا آنے لگا تھا اور وہ اسی وجہ کارن سے جھڑ گئی تھی۔

مجھے لگا کہ ندیم اب چھوتا کہ تب چھوٹا تو میں نے ندیم سے کہا "جانو! بچی کے اندر نہ چھوٹ جانا۔۔۔ کوئی مصیبت کھڑی نہ ہو جائے"۔ یہ سن کر ندیم نے اپنا لنڈ باہر نکال لیا اور شازیہ کے چوتڑوں پر پچکاری چھوڑ دی۔ ساری منی شازیہ کے چوتڑوں پر پھیلنے لگی۔ میں نے جلدی سے ساری منی شازیہ کے چوتڑوں پر پھیلا دی۔ ندیم اب پر سکون ہو چکا تھا۔

ندیم بستر سے نیچے اتر آیا۔ شازیہ کو بھی چدوانے کے بعد اب ہوش آیا۔۔۔ وہ ویسے ہی لیٹی ہوئی دوبارہ رونے لگی۔

"بس بیٹی اب تو جو ہونا تھا ہو گیا۔۔۔ چپ ہو جاؤ۔۔۔ دیکھو تمہاری خواہش بھی تو پوری ہو گئی نا۔۔۔"

"باجی۔۔۔ آپ نے میرے ساتھ اچھا نہیں کیا۔۔۔ میں اب کل سے کام پر نہیں آؤں گی۔۔۔" وہ لنگڑاتے ہوئے اٹھنے کی کوشش کرتے ہوئے روتے روتے بولی۔۔۔ اس نے اپنے کپڑے اٹھائے اور دھیرے دھیرے انہیں پہننے لگی۔۔۔ میں نے اسے کپڑے پہننے میں اس کی مدد کی۔ اس دوران ندیم بھی کپڑے پہن چکا تھا۔

میں نے ندیم کو اشارہ کیا۔۔۔ وہ سمجھ چکا تھا۔۔۔ جیسے ہی شازیہ جانے کو مڑی میں نے اسے روک لیا۔۔۔"سنو شازیہ۔۔۔ ندیم کیا کہہ رہا ہے۔۔۔"

"شازیہ۔۔۔ مجھے معاف کر دو بیٹی۔۔۔ دیکھو بیٹی تمہیں ننگی لیٹے ہوئے دیکھ کر مجھ سے رہا نہیں گیا۔۔۔ پلیز مجھے معاف کر دو بیٹی۔۔۔"

"نہیں۔۔۔ نہیں بھائی۔۔۔ آپ نے تو مجھے برباد کر دیا ہے۔۔۔ میں آپ کو کبھی معاف نہیں کروں گی۔۔۔" اس کا چہرا آنسوؤں سے بھیگا ہوا تھا۔

ندیم نے اپنی جیب سے سو سو کے پانچ نوٹ نکال کر اسے دیے۔۔۔ پر اس نے دیکھ کر منہ پھیر لیا۔۔۔ اس نے پھر مزید سو سو کے پانچ نوٹ نکال کر اسے دیے۔۔۔ اس کی آنکھوں میں ایک بارگی چمک آ گئی۔۔۔ میں نے فوراً پہچان لیا۔ میں نے ندیم کے ہاتھ سے نوٹ لیے اور اپنے پرس سے سؤ سؤ کے کل دو ہزار روپے نکال کر اس کے ہاتھ میں پکڑا دیے۔ اس کا چہرا کھل اٹھا۔

"دیکھو۔۔۔ تمہارے بھائی نے غلطی کی اور یہ اس کا حرجانہ ہے۔۔۔ ہاں اگر بھائی سے مزید غلطی کروانی ہو تو اتنے ہی نوٹ اور ملیں گے۔۔۔"

"باجی۔۔۔ میں آپ کی آج سے بہن ہوں۔۔۔ پیسوں کی ضرورت کسے نہیں ہوتی ہے۔۔۔"

میں نے اسے شازیہ کو گلے لگا لیا۔۔۔ "شازیہ۔۔۔ بیٹی ہمیں معاف کر دینا۔۔۔ تو سچ میں آج سے میری بہن ہے۔۔۔ آئندہ اگر تمہارا اپنا دل چاہے۔۔۔ بس تبھی یہ کروانا۔۔۔"

شازیہ خوش ہو کر جانے لگی۔۔۔ دروازے سے اس نے ایک بار پھر مڑ کر دیکھا۔۔۔ اور پھر بھاگ کر آئی۔۔۔ اور مجھ سے لپٹ گئی۔۔۔ اور میرے کان میں کہا "باجی۔۔۔ بھائی سے کہنا۔۔۔ شکریہ۔۔۔"

"اب انہیں بھائی نہیں۔۔۔ بلکہ جیجا جی بولو! اور شکریہ کس لیے۔۔۔؟ پیسوں کے لیے۔۔۔"

" نہیں۔۔۔ ہممم مجھے چودنے کے لیے۔۔۔" وہ یہ کہہ کر واپس مڑی اور باہر بھاگ گئی۔۔۔

میں اسے دیکھتی ہی رہ گئی۔۔۔ تو کیا وہ یہ سب کھیل کھیل رہی تھی۔ میری نظر جونہی میز پر پڑی تو دیکھا کہ سارے کے سارے نوٹ وہیں پڑے ہوئے تھے۔۔۔

اس کے بعد میں نے شازیہ کی ماں سے بات کر کے اسے اپنے ہاں مستقل اور فل ٹائم نوکرانی رکھ لیا اور پھر ہم ہر رات ہم تینوں یعنی میں، ندیم اور شازیہ اکٹھے سوتے اور مل کر سیکس کرتے۔
EMail : PkMasti@aol.com
Yahoo : Jan3y.J4na@yahoo.com

By Taha Gondal with No comments

0 comments:

Post a Comment

EMail : PkMasti@aol.com
Yahoo : Jan3y.J4na@yahoo.com

    • Popular
    • Categories
    • Archives